سفر آخرت (حصہ دوم)

نوٹ: اس کہانی کے متعلق آخر میں بتاؤں گا کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟یہاں ہم میں سے ہر بھائی یہ تصور کرے کہ جو کچھ اس کہانی میں ہو رہا ہے، خود اس کے ساتھ ہو رہا ہے، کیونکہ عنقریب ہم سب کو اس سے ملتے جلتے حالات سے سابقہ پیش آنا ہے۔
 


اس کے بعد لوگوں کی آوازیں آنی بند ہوگئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے مکمل تاریکی چھا گئی اور میں ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے میرے جسم کو چھریوں سے کاٹا جا رہا ہو۔ اتنے میں مجھے ایک سفید ریش آدمی نظر آیا۔ اس نے مجھے کہا:بیٹے یہ تمھاری زندگی کی آخری گھڑی ہے، میں تمھیں نصیحت کرنا چاہتا ہوں ،کیونکہ اللہ نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ میں پوچھا:کیا ہے نصیحت؟ اس نے جواب دیا:عیسائیت قبول کر لو! خدا کی قسم اسی میں تمھاری نجات ہے۔ اگر تم عیسائیت پر ایمان لائے تو تمھیں واپس تمھارے گھر والوںتک پہنچا دوں گا اور تمھاری روح واپس دنیا میں لے آؤں گا۔ جلدی سے بولو، وقت ختم ہوا جا رہا ہے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ یہ شیطان ہے۔ ہرچند کہ میں اس وقت سخت تکلیف عالم میں تھا اور شدید اذیت سے دوچار تھا لیکن اس کے باوجود میرااللہ اور اس کے رسولﷺ پر پکا ایمان تھا۔ میں نے اسے کہا: دفع ہو جا اللہ کے دشمن ! میں نے اسلام کی حالت میں زندگی گزاری ہے اور میں مسلمان رہ کر ہی مرونگا۔ یہ سن کر اس کا رنگ زرد پڑ گیا اور کہنے لگا: تمھاری نجات اسی میں ہے کہ تم یہودی یا نصرانی مر جاؤ ورنہ میں تمھاری تکلیف بڑھا دونگا اور تمھاری روح قبض کر لوں گا۔ میں نے کہا: موت تمھارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ کچھ بھی ہوجائے، میں اسلام کی حالت ہی میں مروں گا۔ اتنے میں اس نے اوپر دیکھا اور دیکھتے ہی بھاگ نکلا۔ مجھے لگا کہ جیسے کسی نے اسے ڈرایا ہو۔

 اچانک میں نے عجیب و غریب قسم کے چہروں والے اور بڑے بڑے جسموں والے لوگ دیکھے۔ وہ آسمان کی طرف سے آئے اور کہا:   السلام علیکم! میں نے کہا: وعلیکم السلام۔ اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے اور ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ ان کے پاس کفن تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میری زندگی ختم ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک بہت بڑا فرشتہ میری طرف آیا اور کہنے لگا: ایتہا النفس المطمئنہ اخرجی الی مغفرتہ من اللہ و رضوان (اے نیک روح اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طرف نکل آ)۔ یہ سن کر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ میں نے کہا: اللہ کے فرشتے! میں حاضر ہوں۔

اس نے میری روح کھینچ لی۔ مجھے اب ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں نیند اور حقیقت کے مابین ہوں۔ ایسا لگا کہ مجھے میرے جسم سے اوپر آسمان کی طرف اٹھایا جا رہا ہے۔ میں نے نیچے دیکھا تو پتہ چلا کہ لوگ میرے جسم کے ارد گرد کھڑے ہیں اور انھوں نے میرے جسم کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا۔ ان میں سے کسی نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون۔
میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ مجھے وصول کر رہے ہیں اور مجھے کفن میں لپیٹ کر اوپر کی طرف لے جا رہے ہیں۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے افق کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا۔ مجھے بلندی سے بلندی کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ ہم بادلوں کو چیرتے چلے گئے جیسے کہ میں ایک جہاز میں بیٹھا ہوں۔ یہاں تک کہ پوری زمین مجھے ایک گیند کی طرح نظر آ رہی تھی۔ میں نے ان دو فرشتوں سے پوچھا: کیا اللہ مجھے جنت میں داخل کرے گا؟ انھوں نے کہا: اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ ہمیں صرف تمھاری روح لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور ہم صرف مسلمانوں پر مامور ہیں۔ ہمارے قریب سے کچھ اور فرشتے گزر گئے، جن کے پاس ایک روح تھی اور اس سے ایسی خوشبو آرہی تھی کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی زبردست خوشبو کبھی نہیں سونگھی تھی۔ میں نے حیرانی کے عالم میں فرشتوں سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اگر مجھے معلوم نہ ہوتا کہ اللہ  کے رسولﷺ بہت پہلے دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں تو میں کہتا کہ یہ ان کی روح ہوگی۔ فرشتوں نے بتایا کہ یہ ایک فلسطینی کی روح ہے جسے یہودیوں نے تھوڑی دیر پہلے قتل کیا جبکہ وہ اپنے دین اور وطن کی مدافعت کر رہا تھا۔ اس کا نام ابو العبد ہے۔میں نے سوچا کہ کاش میں شہید ہو کر مرتا۔

اس کے بعد کچھ اور فرشتے  ہمارے قریب سے گزرے ۔ ان کے پاس بھی ایک روح تھی جس سے سخت بدبو آرہی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا: یہ بتوں اور گائے کو پوجنے والا ایک ہندو ہے ،جسے تھوڑی دیر پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب سے ہلاک کر دیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں کم از کم مسلمان مرا ہوں۔ میں نے ان سے  کہا : میں نے آخرت کے سفر کے حوالے سے بہت پڑھا ہے لیکن جو کچھ میرے ساتھ پیش آ رہا ہے، میں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ فرشتوں نے کہا : شکر ادا کرو کہ مسلمان مرے ہو لیکن ابھی تمھارے سامنےسفر بہت لمبا ہے اور آگےبے شمار مراحل پیش آئیں گے۔

اس کے بعد ہم فرشتوں کے ایک بہت بڑے گروہ کے پاس سے گزر گئے اور ہم نے انھیں سلام کیا۔انھوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میرے ساتھ والے دو فرشتوں نے جواب دیا کہ یہ ایک مسلمان ہے، جو تھوڑی دیر پہلے حادثے کا شکار ہوگیا اور اللہ نے ہمیں اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیا۔ انھوں نے کہا: مسلمانوں کے لیے بشارت ہے کیونکہ یہ اچھے لوگ ہیں۔ میں نے فرشتوں سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے بتایا: یہ وہ فرشتے ہیں جو آسمان کی حفاظت کرتے ہیں اور یہاں سے شیطانوں پر شہاب پھینکتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو اللہ کی بہت عظیم مخلوق ہیں۔ انھوں نے کہا: ان سے بھی زیادہ عظیم فرشتے ہیں۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.