2013

کس نے بنایا؟ (بچوں کی نظم)

ہم سب کو کس نے بنایا؟

 بچوں کی معصومانہ اردو نظم جو اردو کے چاہنے والے "بڑے" بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ میٹھی حمد باری تعالیٰ اس اُمید کے ساتھ پیش ِ خدمت ہے کہ آپ کو ضرور پسند آئے گی۔ انشاءاللہ!۔۔۔

اپنی رائے سے آگاہ کرنا ہرگز نہ بھولیے گا!۔۔۔شکریہ






نظم کے بول متن کی صورت میں پیش خدمت ہیں۔۔

کس نے بنایا پھولوں کو؟
اللہ نے بنایا پھولوں کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا تتلی کو؟
اللہ نے بنایا تتلی کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا مچھلی کو؟
اللہ نے بنایا مچھلی کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا سورج کو؟
اللہ نے بنایا سورج کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا چاند کو
اللہ نے بنایا چاند کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا ہم سب کو؟
اللہ نے بنایا ہم سب کو
ہم سب کے لیے

اللہ تعالیٰ کا ذکر بڑا اچھا کام ہے

(ترجمہ) "اور اللہ کا ذکر بڑا اچھا کام ہے۔"

اللہ کے ذکر سے بہتر اور کوئی کام نہیں ہے اور ذکر سے مقصد اللہ کی یاد ہے۔ اس کو یاد کرتے رہنا اور ہر وقت اللہ کا خیال رکھنا تاکہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ جس قدر ہم اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیں گے، اسی قدر گناہوں سے بچیں گے اور گمراہ نہیں ہو سکیں گے۔

ہم اپنے گھروں میں مجلسیں آباد کرتے ہیں مگر اپنے دل کی بستی کی کچھ بھی خبر نہیں۔ چراغاں کرتے ہیں مگر دل کی اندھیاری کو دُور کرنے کے لیے کوئی چراغ روشن نہیں کرتے!...... پھولوں کے ہار اور گلدستے سجاتے ہیں لیکن ہمارے اعمالِ حسنہ کے پھول جو مُرجھا رہے ہیں، ان کی فکر نہیں کرتے!.....عرقِ گلاب اور عطر سے دیواروں اور کپڑوں کو معطر کرتے ہیں مگر دینِ اسلام کی عطر بیری سے روح محروم ہے۔

اللہ کا ارشاد ہے:

(ترجمہ) "اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔"  (سورہ القصص)

(ترجمہ) "اور اس خدائے زندہ پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔"

(ترجمہ)"اللہ پر بھروسہ رکھو، تم تو حقِ صریح پر ہو۔"

اور حقِ صریح پر رہنے والے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کے لیے یہ آیت اللہ نے نازل کی۔ اس لیے شمعِ ہدایت کی اتباع ہی "حقِ صریح" اور "صراطِ حق" ہے۔

"صراطِ حق" مصنفہ: عرشیہ علوی

چند مجرب نسخے

قوت ِ دل، دمہ و سانس کے مرض، شوگر، بواسیر، بلڈ پریشر اور ہر قسم کے درد کے لیے چند مُجرب دعائیں ۔۔۔۔ 

 
 *******




اے میرے نکتہ چینو!

(خلیل جبران ۔۔۔۔۔ بیسویں صدی کا عظیم شاعر اور فلسفی۔ روح کی وہ آواز جو لبنان کی سرزمین سے اُبھری اور ہر انسان کی روح تک جا پہنچی۔ ایک فکر جس نے ہر ذی حس انسان کو جھنجھوڑ کے جگا دیا اور جس کا فن روح کے اندر جذب ہو کر امر ہوگیا۔

زیر نظر اقتباسات خلیل جبران کے شہہ پاروں سے ماخوذ ہیں جو ایک طرف تو ہمیں متعدد حقائق سے آگاہی بخشتے ہیں اور دوسری طرف خلیل جبران کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔ بلاشبہ "تخلیقاتِ خلیل جبران" دنیائے ادب میں بے مثال ہے ) ۔

٭------٭

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ تمھیں اس محبت کی قسم جو تمھاری روح کو تمھارے محبوب سے ملا دیتی ہے۔ اس جذبہ کی قسم جو ماں کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے اور تمھارے دلوں کو ایک مقدس پیار عطا کرتا ہے۔ مجھے چھوڑ دو میرے حال پر۔ مجھے تنگ نہ کرو۔ مجھے میرے روتے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑ دو۔ مجھے میرے خوابوں کے سمندر میں تیرنے دو۔ کل کا انتظار کرو۔ اس لیے کہ کل میرے ساتھ جو وہ چاہے کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔ تمھاری عیب جوئی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ یہ تمھارے ذہنی تضاد کا نتیجہ ہے اور اس کا انجام خرابی کے سوا کچھ نہیں۔ 


میں اپنے پہلو کے اندر ایک چھوٹا سا دل رکھتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے اس کے قید خانہ سے باہر نکال کر اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھوں تاکہ اس کا گہرا مطالعہ کر سکوں اور اس کے راز معلوم کر سکوں۔ اس پر اپنے اعتراضات کے تیر مت چلاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ڈر کر غائب ہو جائے، قبل اس کے کہ وہ اپنے رازوں کو عیاں کر دے جو اسے حسن اور محبت نے عطا کیے ہیں۔ سورج نکل رہا ہے اور بلبل گا رہا ہے اور فضا میں مستی بکھر گئی ہے۔ میں مصنوعی ضابطوں اور اُصولوں کے جھمیلوں سے بھاگنا چاہتا ہوں۔

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔مجھے اس کام سے روکنے کی کوشش مت کرو۔ مجھے جنگل کے شیروں اور وادی کے سانپوں کا خوف نہ دلاؤ، کیونکہ میری روح اس زمین پر خوف کے نام سے بھی آشنا نہیں اور کسی برائی کے سلسلہ میں کوئی تنبیہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک کہ واقعی برائی کا خطرہ موجود نہ ہو۔ مجھے کوئی ہدایت مت کرو۔ اس لیے کہ مصائب نے میرے دل کو کھول دیا ہے اور آنسوؤں نے میری آنکھیں صاف کر دی ہیں اور غلطیوں نے مجھے دل کی زبان سکھا دی ہے۔

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔پابندیوں کا کوئی تذکرہ نہ کرو۔ اس لیے کہ ضمیر میرا منصف ہے۔ اگر میں صحیح راستہ پر ہوں تو وہ میرے فعل کو جائز قرار دے گا اور میری حفاظت کرے گا۔ اور اگر میں مجرم ہوں تو مجھے سزا دے گا۔ 

محبت کا جلوس چل رہا ہے۔ حسن اپنے جھنڈے لہرا رہا ہے۔ جوانی مسرت کے ڈھول پیٹ رہی ہے۔ میرے نکتہ چین!۔۔۔۔میں اس نظارے میں محو ہوں۔ مجھے چھیڑ کر میری یکسوئی کا خاتمہ نہ کرو۔ مجھے چلنے دو کیونکہ یہ راستہ پھولوں سے سجا ہوا ہے اور صاف ہوا سے معطر ہے۔ 

مجھے دولت اور عظمت کی کہانیاں مت سناؤ، کیونکہ میرا دل قناعت اور سکون کی دولت سے مالا مال ہے اور خدا کی عظمت سے میرا دل بھی فیضیاب ہے۔

میرے سامنے قوموں کی داستانیں بیان مت کرو۔ مجھے اُصول اور قانون کی باتیں مت سناؤ۔ میرے سامنے حکومتوں کا تذکرہ نہ کرو کیونکہ سارا جہان میرا وطن ہے اور تمام انسان میرے بھائی ہیں۔

 آؤ اس انسانیت کی بات کریں جو انسان کو جنم دے کر بانجھ ہوگئی ہے۔ جو دور پھٹے چیتھڑوں میں ملبوس اپنے بچوں کو پکار رہی ہے۔ وہ بچے جو انسان سے زیادہ قوم بن گئے ہیں۔

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔میرے پاس سے چلے جاؤ۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں۔ تم مجھ سے میری حیات کے لوازمات چھین لینا چاہتے ہو اور مجھے  بے فائدہ باتوں میں اُلجھانا چاہتے ہو۔ اس لیے اے میرے نکتہ چین۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو!۔۔۔!۔

تخلیقات خلیل جبران

بے چاری آنکھ

ایک دن آنکھ نے کہا۔
"مجھے ان وادیوں کے پرے نیلگوں دھند سے ڈھکے ہوئے پہاڑ نظر آ رہے ہیں۔ کیا وہ خوب صورت نہیں؟"
کان نے اس بات کو سنا اور تھوڑی دیر تک غور کرنے کے بعد بولا۔
"لیکن پہاڑ کہاں ہے؟۔۔۔۔۔ مجھے تو اس کی آواز سنائی نہیں دیتی؟"
ہاتھ نے کان کی تائید کی۔
"یہاں کوئی پہاڑ نہیں ہے۔ میں اسے چھونے اور محسوس کرنے کی کوشش کر چکا ہوں لیکن یہاں کوئی پہاڑ نہیں۔"
ناک کہنے لگی۔
"یہاں کوئی پہاڑ نہیں۔ میں اس کی بو نہیں سونگھ سکتی۔"
آنکھ یہ سن کر دوسری طرف متوجہ ہوگئی۔ باقی تینوں کان، ناک اور ہاتھ آنکھ کی کم عقلی کا ماتم کرنے لگے۔
انھوں نے کہا.
"بے چاری آنکھ دیوانی ہوگئی ہے۔“

تخلیقات خلیل جبران

جغرافیہ بطور کیریئر

جوں جوں انسان تعلیم کے مدارج طے کرتا جاتا ہے توں توں معلومات کا سیلاب بھی اس کا تعاقب شروع کر دیتا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس سیلاب سے اپنے آپ کو کتنا بچاتا ہے اور کس قدر فائد ہ اُٹھاتا ہے ۔ اسے اس بات کا خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اُسے کس چیز کا کتنا مطالعہ کرنا ہے، جو اس کے رجحان کے ساتھ ساتھ اس کے کیریئر میں بھی مدد دے سکے ۔ اسی طرح اسے یہ بھی فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اسے کون سی چیزیں زیرمطالعہ لانی ہی نہیں چاہیئیں جو اس کے رجحان یا کیریئر سے متعلق غیر ضروری ہوں ۔تاکہ اس کا وقت ضائع نہ ہو۔ یہ سب فیصلے انسان کو اپنے حالات، رجحانات، پوزیشن اور ذمہ داریوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کرنے چاہیئیں۔کیریئر گائڈینس کے سلسلے میں ہم اس مضمون میں ایسے شعبے کا تذکرہ کریں گے جو کہ نہایت اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود عام لوگوں کی نالج میں بہت کم ہے اور وہ شعبہ ہے جغرافیہ۔۔۔۔!۔۔  

جغرافیہ کیا ہے؟                                                                                            
جغرافیہ ایک ایسی سائنس ہے جو بعض لوگوں کو تذبذب میں مبتلا کر دیتی ہے، کیونکہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جغرافیہ دان کون سی تعلیم حاصل کرتا ہے اور کیا کام کرتا ہے، جبکہ جغرافیہ دانوں کی معلومات کے شعبے اتنے ہمہ گیر ہیں کہ کوئی بھی ان کے مطالعہ سے بوریت محسوس نہیں کرتا۔ اسی سائنس کے ذریعے کرئہ ارض کی سطح کی بدلتی ہوئی خصوصیات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ 
                                          
قدرتی آثار کا مطالعہ طبعی جغرافیہ کہلاتا ہے۔ جبکہ انسانی تخلیقات کا مطالعہ ہیومن جغرافیہ کہلاتا ہے۔ ان دونوں شعبوں میں اسپیشلائزیشن کی اہمیت اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ بعض مغربی ممالک کی ہونیورسٹیاں طبعی اور ہیومن جغرافیہ میں علیحدہ علیحدہ ڈگریاں جاری کرتی ہیں۔ اس کے باوجود جغرافیہ ایک واحد مضمون ہے جو طبیعی ، بایولوجیکل اور سوشل سائنسز کے درمیان ایک پل کا کام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیز میں اس علم کی اہمیت کے پیش  ِ نظر جغرافیہ کے لیے علیحدہ ڈیپارمنٹس یا شعبے قائم ہیں۔جغرافیہ کی بہت سی شاخیں اور شعبے وجود میں آچکے ہیں جیسے ارتھ سائنس، جیومورفولوجی (کرئہ ارض کی بناوٹ کا علم)، کلائمو ٹولوجی (موسم کی تبدیلیوں کے کرئہ ارض پر اثرات کا علم)، کارٹوگرافی (نقشہ بنانے کی ٹیکنیک )وغیرہ ۔ اس کے علاوہ سوشل سائنسز سے متعلق بھی جغرافیہ کے کئی شعبے موجود ہیں جیسے شہری جغرافیہ (شہری جغرافیہ سے متعلق مسائل کا علم)، آبادی کا جغرافیہ ، زراعتی جغرافیہ ، سیاسی جغرافیہ وغیرہ۔                  
             
اگر آپ جغرافیہ دان بننے کا فیصلہ کریں تو آپ کے انتخاب کے لیے بہت سے شعبے موجود ہیں اور جغرافیہ کی تعلیم کی تکمیل کے بعد مختلف النوع مواقع پرائیویٹ سیکٹر اور گورنمنٹ کے اداروں میں آپ کے منتظر ہیں۔ ہمارے ملک میں بہت سے ادارے ہیں جہاں جغرافیہ دان اپنے آپ کو کامیابی کے ساتھ فٹ کر سکتا ہے۔                  

گورنمنٹ کی ملازمت میں جغرافیہ دان کو پی بی ایس 14 سے اسکیل 22 تک مل سکتا ہے۔ پرائیویٹ اداروں میں تنخواہوں کے اسکیل مختلف ہیں۔ 

تعلیمی ملازمت
اسکول ، کالج اور یونی ورسٹی کی سطح پر گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں میں ،ٹریننگ اکیڈمی کے علاوہ مسلح افواج میں ملازمت مل سکتی 
ہے۔    
                                                                                                                 
ریسرچ اسسٹنٹ /کو آرڈینیٹر 
این جی اوز اور کنسلٹنٹ اداروں میں ملازمت مل سکتی ہے۔ لوکل باڈیز کے پلاننگ اور ڈویلیپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں جیسے کے ڈی اے ، سی ڈی اے ، ایچ ڈی اے ، ایل ڈی اے۔ خصوصی طور پر ماسٹر پلان اور انوائرومینٹل کنٹرول ڈپارٹمنٹ میں۔                                                                                                      
لینڈ سرورئیرز
کے ڈی اے ، ایل ڈی اے ، سی ڈی اے کے علاوہ پرائیویٹ سروے آرگنائزیشن میں۔

ٹرانسپورٹ پلانرز
 ٹریفک انجینئرنگ بیورو یا ٹریفک کنٹرول ادارے  میں۔

کارٹو گرافرز
 سروے آف پاکستان، جیوگرافیکل سروے آف پاکستان، سول ایوی ایشن ، میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ ، سپارکو۔

 سرورئیرزاِن آئل  کمپنی
آئل  کمپنیز میں جیولوجیکل سرورئیرز کی اسامی کے لیے۔ 

جغرافیہ کی تعلیم کا حصول

ہمارے ملک میں 100 سے زائد کالجوں میں انٹر اور بیچلر کی سطح پر جغرافیہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی مختلف یونی ورسٹیوں میں بھی جغرافیہ کے شعبے موجود ہیں۔                                                                                              
جغرافیہ میں دی جانے والی ڈگری
 بی اے آنرز،ایم اے، ایم ایس سی، ایم فل ، پی ایچ ڈی۔

کم سے کم تعلیمی قابلیت
 بی اے آنرز  اور بی ایس سی کے لیے انٹرمیڈیٹ ، ایم اے / ایم ایس سی کے لیے بیچلر کی ڈگری ، ایم فل/ پی ایچ ڈی کے لیے ایم اے، ایم ایس سی ۔     
                                                                                                          
تعلیم کا دورانیہ
بی اے /بی ایس سی آنرز 3 سال…ایم اے /ایم ایس سی 2سال …ایم فل 2 سے  5برس …پی ایچ ڈی 3 سے 7 برس۔    

سر ٹیفکیٹ اور مختلف ٹریننگ کورسز ان مقامات سے کیے جا سکتے ہیں، سپارکو، سروے آف پاکستان وغیرہ۔
یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے مضامین کی تفصیلات کچھ یوں ہیں.....

٭…کارٹوگرافی اور کمپیوٹر کارٹوگرافی
٭…میپ ورک اینڈ سروے
٭…فزیکل جغرافیہ
٭…کلائموٹولوجی ، جیو مورفولوجی

 آخر میں ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ہر انسان کو دن اور رات میں 1440 منٹ ملتے ہیں۔ عزم کی صبح اور احتساب کی رات کے انہی 1440 منٹوں میں ہمیں اپنے اور اپنی زندگی کے  بارے میں سوچنا اور فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہی دولت اور وسائل کی وہ مقدار ہے جو ہر زندہ شخص کو بلاتفریق ملتی ہے ۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ اس دولت سے ہم کس قدر فائدہ اُٹھا کر کامیاب ہو پاتے ہیں۔     
                      
٭…٭

کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا!

Pak Urdu Installerہمارے یہاں کے فیس بکی کالے پاکستانی انگریز احساس کمتری کا شکار ہیں۔ اردو بولنے یا لکھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ حالانکہ انگریزی بھی ٹھیک سے لکھ اور بول نہیں سکتے۔ گرامر اور اسپیلنگ کی ہزاروں غلطیاں کریں گے مگر انگریزی لکھنے سے باز نہیں آئیں گے!

خدا کے بندو!۔۔۔۔۔۔۔۔انگریزی نہیں لکھنی آتی تو اردو لکھو اور بولو۔۔۔۔اردو لکھنے سے کوئی آپ کو ان پڑھ نہیں سمجھے گا!۔۔۔۔۔۔

ایک بات واضح کر دوں کہ میں انگریزی زبان کا مخالف نہیں ہوں۔ مجھے بھی انگریزی لکھنے کا بہت شوق ہے یہ الگ بات ہے کہ میری انگریزی بھی آنٹی میرا جیسی ہی ہے۔

میری انگریزی کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں۔ میں اپنی ہر بات انگریزی میں بیان نہیں کر سکتا۔ مگر یہ بات الحمداللہ میں پورے اعتماد سے لکھ رہا ہوں کہ میں نے کبھی بھی اپنی اس "کم زوری" کو احساس کم تری نہیں بننے دیا۔ جو بات میں انگریزی میں بیان کر سکتا ہوں، صرف وہی انگریزی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں خوامخواہ شیکسپیئر بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ ویسے بھی اردو کو میں انگریزی زبان سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ اردو خوبصورت زبان ہے۔ کچھ اپنی اپنی لگتی ہے۔ 

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ انگریزی بھی لکھیں مگر بخدا زبردستی لکھنے کی کوشش نہ کریں۔ اردو کو بھی اس کا جائز مقام دیں۔ اس میں آپ کے پیسے خرچ نہیں ہوں گے۔ 

چند بےترتیب خیالات (2)

زندگی بھی عجیب ہے۔ کبھی خوشی تو کبھی غم۔ آدمی جب تک اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوجاتا یعنی عملی زندگی میں قدم نہیں رکھ لیتا، اسے زندگی کی حقیقتوں کا درست اندازہ نہیں ہوتا۔طالب علمی کے دور میں آدمی بے فکر زندگی گزارنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ والدین کس طرح اور کن حالات میں اس کی تعلیم اور طعام کا انتظام کرتے ہیں، اسے ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ ہر طرف اُسے دودھ کی نہریں بہتی دکھائی دیتی ہیں۔ نادان سمجھتا ہے کہ یہ سلسلہ تادیر قائم رہے گا۔ مگر یہی اس کی بھول ہوتی ہے۔

متوسط طبقے کے گھرانوں میں یہ سلسلہ ایک مخصوص وقت تک جاری رہتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے، جب آرام و سکون اور بے فکری کا یہ دور ختم ہو جاتا ہے اور اسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی عملی زندگی میں قدم رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں طالب علم چاہے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو، عملی زندگی میں اسے اپنی تعلیم عبث دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناقص تعلیمی نظام کی تھیوری بیسڈ تعلیم عملی زندگی میں کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ اس کی نام نہاد اعلیٰ ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہوتی ہے، جس میں پکوڑے رکھ کر تو کھائے جا سکتے ہیں مگر اس کے دم پر نوکری کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔

اول تو اچھی نوکری ملتی نہیں اور اگر خوش قسمتی سے مل بھی جائے تو تنخواہ اس قدر قلیل ہوتی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں اس سے گزر بسر کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے اور ایک باعزت اور خوشحال زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کوبا امر مجبوری بیرون ِ ملک کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔

30 مئی 2013ء کو میری ڈائری میں لکھے گئے میرے چند بےترتیب خیالات ۔۔۔۔

عقیدہ

مسجد کے قریب چھوٹی نہر بہتی تھی ، اور اسی نہر  پر بنے پُل نے گاؤں اور مسجد کو آپس میں ملا  رکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اسی پل پر سرمد نے دو آدمیوں کو اپنی پستول سے گھائل کر کے نہر میں بہا  دیا تھا ۔ 
تو فکر نہ کر ماں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان دونوں کا عقیدہ خراب تھا ۔ میں نے انہیں ٹھکانے لگا دیا ہے ۔۔۔ ۔ ۔ 
عبدالکریم چارپائی سے لڑکھڑا کر اٹھا ۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ سرمد کو زناٹے کا تھپڑ مارے کہ اسے تسّلی دے۔ 
تو نے ان کے عقیدے کے متعلق تحقیق کی تھی سرمد؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پوچھ گچھ کر لی تھی ! ؟ 
تحقیق کی کیا ضرورت ہے ؟ لوگ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لوگ کچھ غلط تو نہیں کہتے اماں !۔
لوگ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کی بات کبھی معتبر نہیں ہوتی بیٹا ! اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے غور و خوض کرنا پڑتا ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔اور پھر تجھے کسی کے عقیدے سے کیا ؟ 
یہ اللہ جانے اور اس کے بندے ۔ ۔ ۔ ۔ کون جانے اللہ اور سچے نبی کو روزِ قیامت کس کا عقیدہ پسند آئے ۔ ۔ ۔ ۔بتول گڑگڑائی ۔ 
بتول کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اور وہ دیوار سے لگ کر کھڑی ہو گئی ۔ 
اور جو پولیس کو علم ہو گیا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تو ؟ بتول بولی ۔ 
میں پولیس سے نہیں ڈرتا ماں ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے یہ کام اللہ کی راہ میں کیا ہے ۔ وہ مجھے اجر دے گا ۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کا عقیدہ درست نہ تھا ۔ 
کیا تو نے ان کا عقیدہ درست کرنے کی کوئی تدبیر کی انہیں سمجھایا مالی مدد کی ؟ ان سے میل جول بڑھا کر انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کی ۔  عبدالکریم نے ڈانٹ کر پوچھا ۔ 
نہیں ابا میں نے ان کا ٹنٹا ہی ختم کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔سرمد آہستہ سے بولا ۔
بس تو نے اللہ کے فیصلے کا انتظار نہیں کیا بیٹے ۔ ۔ ۔ ۔  روزِ قیامت وہ ایسے لوگوں سے خود نپٹ لیتا ۔ یا پھر نکل کر ان کی مدد کرتا پورے انہماک سے ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں راہ پر لانے کے لیے کچھ کرتا تو بیٹے ۔ 
کیا اس کا حکم نہیں کہ بد اعتقاد لوگوں کو ختم کر دو ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
اور اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ بد اعتقاد کون ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔بھائی جس نے ایک انسان کو مارا تو سمجھو ساری انسانیت کو ختم کر دیا ۔ 
بانو قدسیہ  دست بستہ صفحہ 42

کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں کیریئر بنانا

کیریئر پلاننگ درحقیقت ذہنی تیاری کا نام ہے۔ مقابلہ کی اس دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ میدان میں اُتریں تو پوری تیاری کے ساتھ اُتریں۔اگر آپ کمتر تیاری اور کنفیوز ذہن کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوگئے تو آپ کے لیے ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ آپ کی تیاری دو پہلوئوں کے اعتبار سے مکمل ہونی چاہئے۔ ایک یہ کہ وہ باقاعدہ ہو، دوسرے یہ کہ وہ زمانے کے تقاضے کے مطابق ہو۔                             
   
                                                                 
جیسے آج کل کمپیوٹر کا ہر طرف شور سنائی دیتا ہے، جسے دیکھو کمپیوٹر کا کوئی نہ کوئی کورس ضرور کرتا نظر آئے گا۔ مگر اکثر نوجوان کمپیوٹر سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے میں بڑی دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں، کیونکہ انھیں کمپیوٹر کے شعبوں سے متعلق جو کورسز کروائے جا رہے ہیں ان کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہیں۔ اس مضمون میں ہم آپ کو کمپیوٹر کے مختلف شعبوں اور کورسز کے متعلق معلومات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔                                                                                                              
کمپیوٹر کیریئر میں اپنا مستقبل بنانے والے نوجوانوں کو یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کمپیوٹر سے متعلق پیشوں میں چار شعبے ہیں جہاں کوئی نوجوان ضروری تعلیم حاصل کر کے اپنا مستقبل تلاش کر سکتا ہے۔ ان چار میں سے تین کا تعلق براہِ راست کمپیوٹر سے ہے۔           
             
سافٹ ویئر انجینئر
 اس شعبے میں سسٹم اینالسٹ اور پروگرامر شامل ہیں۔ ایک پروگرامر اپنے کام کا اچھا خاصہ تجربہ حاصل کر لے تو سسٹم اینالسٹ کے عہدے پر کام کرنے کا موقع حاصل کر سکتا ہے۔ جس طرح سول انجینئر نگ میں ایک آرکیٹکٹ ، عمارت کا تفصیلی نقشہ تیار کرتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کے شعبہ میں سسٹم اینالسٹ ، کسی پروگرام کا تفصیلی خاکہ تیار کرتا ہے کہ یہ پروگرام کس مقصد کے لیے اور کن کن اُمور کی انجام دہی کے لیے مددگار ثابت ہوگا؟۔۔۔۔ پروگرامر ایک ایسے ہنرمند کی مانند ہوتا ہے جو آرکیٹکٹ کے نقشہ کے مطابق عمارت کی تعمیر کرتاہے۔ پروگرامر، سسٹم اینالسٹ کے تیار کردہ خاکے کی تفصیلات کے مطابق پروگرام تیار کرتا ہے۔ پروگرامر کمپیوٹر کی زبان میں ایسے پروگرام یا ایپلی کیشنز ترتیب دیتا ہے جس کے مطابق کمپیوٹر کسی مخصوص کام کو انجام دینے کے قابل ہوپاتا ہے۔
               
کمپیوٹر آپریٹر
 ڈیٹا اینٹری آپریٹر کمپیوٹر کو اطلاعات یا ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ اس کا م کے لیے آپریٹر ذہنی طور پر مستعد ہو اور بڑی خوبی کے ساتھ کام کرتا ہو۔ کمپیوٹر آپریٹر کمپیوٹر میںمعلومات کو ایسی شکل میں ترتیب دیتا ہے جسے کمپیوٹر سمجھ، قبول اور محفوظ کر سکے۔ جوں جوں کمپیوٹر ہماری زندگیوں میں داخل ہوتا جا رہا ہے توں توں ڈیٹا اینٹری آپریٹر یا کمپیوٹر آپریٹر کی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔                      

ہارڈویئر انجینئر
 کمپیوٹر مرمت اور دیکھ بھال کا کام ہارڈ ویئر کے شعبے سے متعلق ہے۔ اس شعبے میں اسامیاں کمپیوٹر بنانے اور  فروخت کرنے والے اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔  

کمپیوٹر سیلر
 کمپیوٹر کی فروخت ایک ایسا شعبہ ہے جو براہِ راست کمپیوٹر کے آپریشن سے تعلق نہیں رکھتا تاہم اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ جو شخص کمپیوٹر فروخت کر رہا ہو وہ کمپیوٹر کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتا ہو۔ مارکیٹنگ کی تربیت اس کام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سے واقفیت اور اس سے متعلق کسی شعبے کا تھوڑا سا تجربہ مفید ہوتا ہے۔                 
      
مندرجہ بالا بنیادی شعبوں کے علاوہ کمپیوٹر کے مزید بے شمار شعبے اور ہیں مگر وہ انہی چار بنیادی شعبوں کی ذیلی شاخیں ہیں۔          
           
کمپیوٹر کی تعلیم
 ہمارے ملک میں مختلف جامعات اور ادارے کمپیوٹر کے ڈگری ، ڈپلومہ اور سر ٹیفکیٹ کورسز کروا رہے ہیں۔نجی شعبے میں بھی کئی کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ قائم ہیں جہاں کمپیوٹر پروگرامنگ اور ڈیٹا اینٹری آپریٹر کے1 سال، 6 ماہ اور3 ماہ کے سر ٹیفکیٹ کورسز کروائے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ انسٹیٹیوٹ متعلقہ صوبے کے بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن سے منظور شدہ ہوتے ہیں۔کمپیوٹر ڈپلومہ اور سر ٹیفکیٹ کورسز کے لیے تعلیمی قابلیت میٹرک ،F.Sc اورF.A. ہے۔ داخلہ لیتے وقت طلباء کو اس چیز کو مد ِنظر رکھنا چاہئے کہ آیا یہ ادارے متعلقہ صوبے کے فنی تعلیمی بورڈ سے منظورشدہ ہیں یا نہیں؟                                    
       
ڈگری پروگرامز

B.S. کمپیوٹر ٹیکنالوجی
 B.S.کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں داخلے کے لیے اُمیدوار کی بنیادی اہلیت پری انجینئرنگ کے ساتھ F.Sc میں کامیابی ضروری ہے۔ داخلہ میرٹ کی بنیاد پر اور مختلف طبقوں کی مخصوص نشستوں پر دیاجاتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں B.S. کی ڈگری کے حامل نوجوان کمپیوٹر ہارڈ ویئر سے متعلق اُمور انجام دیتے ہیں۔ جن میں کمپیوٹر ڈیزائننگ ، آپریشن ، دیکھ بھال اور مرمت ، تنصیب وغیرہ کے اُمور شامل ہیں۔   
                               
اس کے علاوہ مختلف جامعات کمپیوٹر سائنس میں بی ای  یا بی ایس کی ڈگری بھی دیتی ہیں۔ اسکے لیے بھی بنیادی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ (سائنس)ہونا ضروری ہے۔ یہ 3 سالہ کورس ہے جس کے بعد بی سی ایس یا بی ایس کمپیوٹر سائنس کی ڈگری دی جاتی ہے۔
                    
MS کمپیوٹر سائنس
کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس کا نصاب2سال پر مبنی ہے۔ یہ نصاب سافٹ ویئر سے متعلق اُمور پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں کمپیوٹر لینگویج ، ان کی مختلف اقسام ، کمپیوٹر کی زبان ، ان کے پروگرام اورتھیوری و عملی مضامین شامل ہیں۔ ایم ایس کمپیوٹر سائنس میں داخلہ کی بنیادی اہلیت کمپیوٹر سائنس، ریاضی ، شماریات ، طبیعیات میں سے کسی ایک مضمون میںBS ہے۔ دیگر مضامین میں B.A. ، B.Sc کی ڈگری کے حامل اورB.Comکی ڈگری کے حامل ایسے اُمیدوار بھی داخلے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں، جنھوں نے ریاضی میں سر ٹیفکیٹ کورس کیا ہو یا شماریات میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کر رکھا ہو۔B.E. اور B.Tech کے کامیاب اُمیدوار بھی داخلے کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔ داخلہ اہلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

 ملک میں جس تیزی سے کمپیوٹر کا استعمال بڑھ رہا ہے اس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ ذہین اور منطقی سوچ کے حامل نوجوانوں کے لیے اس شعبے میں روزگار کے شاندار مواقع موجود ہیں۔ 

٭…٭

کیا ہم جانور ہیں؟

کسی مہا پُرش نے کہا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔بعض اوقات جب میں مختلف جانوروں کے بارے میں سوچتا ہوں تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔

کبھی کتے کو دیکھا ہے؟۔۔۔۔جب وہ باؤلا ہوتا ہے تو کیسے بھونکتا ہے؟۔۔۔۔آپ کا باس یا کوئی بلند مرتبہ شخص جب آپ پر برس رہا ہوتا ہے ،وہ کیسا محسوس ہوتا ہے؟ ؟؟ ۔۔۔۔وہ مسلسل آپ پر گرج رہا ہوتا ہے اور آپ گردن جھکا کر چپ چاپ سن رہے ہوتے ہیں اور اُسے خود پر حاوی ہونے دیتے ہیں۔ لیکن اگر وہ شخص آپ کے ہم پلہ یا ہم عمر ہو تو آپ اس کی گھن گرج کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ اب ذرا موازنہ کریں!۔۔۔۔ کیا آپ نے کبھی دو کتوں کو آپس میں لڑتے دیکھا ہے؟وہ کس طرح ایک دوسرے پر بھونک رہے ہوتے ہیں؟ ۔۔۔۔اسی طرح دو  وکلاء کی آپس میں تکرار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

اگر کوئی موٹا شخص کسی پر چِلائے تو کیا وہ "بل ڈاگ" کی یاد نہیں دلاتا؟۔۔۔۔اور اس سَمے دوسرا شخص خود کو لینڈی کتا محسوس نہیں کرتا؟

جب ہم کسی موٹے آدمی یا عورت کو دیکھتے ہیں تو کیا وہ گینڈا یا ہتھنی محسوس نہیں ہوتے ؟۔۔۔ بڑی بات ہے اگر وہ خود بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہوں۔ ہم کسی دراز قد آدمی کو زرافہ یا اونٹ کیوں کہتے ہیں؟ ۔۔۔۔اس لیے کہ ہم جانوروں سے مشابہہ ہیں؟


آخر ایک دلیر شخص کو چِیتا یا شیر کیوں کہا جاتا ہے؟۔۔۔۔جب دو عورتیں ایک دوسرے کی غیبتیں یا برائیاں کرتی ہیں یا ساس بہو کی یا بہو ساس کی برائیاں کرتی ہے تو کیا وہ زہریلے سانپوں کی مانند دکھائی نہیں دیتیں؟ ۔۔۔۔۔جب کوئی کسی سے مدد لینے کے لیے یا اپنا کام نکلوانے کے لیے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے  اس کی خوشامد کرتا ہے تو وہ لومڑ محسوس نہیں ہوتا؟۔۔۔۔چالاک لومڑ!۔۔

بارش کے موسم میں برساتی مینڈک اُچھل کود کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کیا وہ گلیوں میں کھیلتے شرارتی بچے معلوم نہیں ہوتے؟ ۔۔۔یا پھر وہ دروازوں پر کھڑی لڑتی جھگڑتی پڑوسنیں معلوم نہیں ہوتیں؟۔۔۔۔۔۔رنگین مینڈک!!!۔۔

آج کل کے بچے ضدی خچروں کی طرح نہیں ہوگئے ہیں؟ ۔۔۔۔جس بات پر اَڑ گئے سو اَڑ گئے!۔۔۔۔۔یوں بھی آپ نے بچوں کو ایک دوسرے کو گدھا یا گدھی کہتے تو سنا ہی ہوگا!۔۔ 

مسابقت کے اس دور میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایسے کہ جیسے گھوڑوں کی ریس ہورہی ہو!۔۔۔

کبھی منحوس بلی دیکھی ہے آپ نے؟۔۔۔۔جب وہ غصے میں ہوتی ہے تو پنجے مارتی ہے۔ بالکل  کسی مظلوم شوہر کی بیوی کی طرح۔۔۔۔!!!۔۔

کچھ آدمی آدم بیزار ہوتے ہیں۔ لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر دیتے ہیں۔ لوگوں میں گھلنے ملنے سے زیادہ اپنی خواب گاہ میں ٹیلی ویژن دیکھنے یا کتابی کیڑابنے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو کس جانور سے تشبیہ دی جا سکتی ہے؟۔۔۔۔ہمم۔۔۔۔۔جی ہاں!۔۔۔۔۔شتر مرغ!!!۔۔

اور یہ چھوٹے چھوٹے شریر بچے تو مجھے بندروں کی یاد تازہ کراتے ہیں۔ ایک جگہ آرام سے بیٹھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ ہر چیز کو ہاتھ لگانا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ ۔۔۔اور الامان و الحفیظ!۔۔۔۔جب کسی چیز کی ضد کرنے لگ جاتے ہیں تو شور مچا مچا کر پورا گھر سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل بندروں کی طرح!!!۔۔

چنانچہ اے پیارے قاری!۔۔۔۔ہم خود کو انسان کہلوانے پر کیوں بضد ہیں؟۔۔۔ جب کہ ہم جانور ہیں!!!۔۔۔

جاتے جاتے یاد آیا!۔۔۔۔ناپسندیدہ شخص کوہم کیا کہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔جی ہاں۔۔۔۔ "الو کا پٹھا"۔۔۔!!!۔۔

(ڈان اخبار کے ایک مضمون کا ترجمہ کچھ مرچ مصالحے اور تڑکے کے بعد)
ترجمہ : شعیب سعید شوبی

چند بےترتیب خیالات (1)

٭.... مشاہدہ  ایک نعمت ہے۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے مشاہدہ بہت ضروری ہے۔ انسان کو ان تلخ حقیقتوں سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیئے۔ ان سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔ 

٭.... بعض لوگوں کو جب تک احساس نہیں دلایا جائے ، انھیں احساس نہیں ہوتا۔

٭.... تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔ جب دوسروں کے رویے اور منفی برتاؤ ایک حد سے تجاوز کر جائیں تو انسان کے اندر کا لاوا قوت برداشت سے باہر نکل ہی آتا ہے۔ ظاہر ہے کوئی انسان فرشتہ نہیں ہوتا۔

2 جون 2013ء کو میری ڈائری میں لکھے گئے میرے چند بےترتیب خیالات ۔۔۔۔

جرنلزم

جرنلزم صرف ایک کیریئر ہی نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ ایسا مشن جو آپ میں تخلیقی صلاحیت بڑھاتا ہے ۔ آپ میں معاشرے کے مسائل حل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ نام و شہرت کے ساتھ آپ میں زندگی کی دشواریوں کو سمجھنے ،اوراُن کے لیے بہتر حل اور متبادل پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔                                                                              
          
پرنٹ میڈیا میں کیریئر کے مواقع
میڈیا کا اولین ذریعہ پرنٹ میڈیا ہے۔ آج بھی یہ میڈیا کا ایک بہت ہی طاقتور اورمؤثر ذریعہ ہے۔ آج بھی ملک بھر میں ہر سال سینکڑوں چھوٹے بڑے اور اوسط درجے کے اخبارات و رسائل ڈی سی او آفس میں ڈیکلیئریشن داخل کرتے ہیں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شعبہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ملازمت و کیریئر کے بہترین مواقع پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔
                                    
رپورٹنگ کے علاوہ اخبارات اور رسائل میں اور بھی بہت سے شعبے ہیں جن کے ذریعے اس فیلڈ میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بحیثیت فوٹوگرافر، آرٹسٹ ایڈیٹر، کمپیوٹر آپریٹر ، لائبریرین، کارٹونسٹ وغیرہ۔ ایسے نوجوا ن جن میں بہتر تحریری صلاحیت، زبان پر مہارت، فوٹو یا گرافک ڈیزائننگ کی صلاحیت ،تجسس اور پختہ ارادی و خود اعتمادی ہو اور تعلیمی اعتبار سے بھی تربیت یافتہ ہوں ، وہ اس شعبہ میں ضرور کامیاب ہو سکتے ہیں۔اس پروفیشن کے چند شعبوں کے حوالے سے مختصر معلومات اس مضمون میں پیش کی جا رہی ہیں۔  
     
ایڈیٹنگ
ایڈیٹنگ کا مطلب شائع ہونے والے تمام مواد کی منصوبہ بندی کرنا اور اس کی تیاری کی نگہبانی کرنا۔ ہر اخبار میں ایڈیٹرز ہوتے ہیںجو اخبار کے قوانین سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ انھیں نئے اور جدید طریقے سے اپنے پورے اسٹاف کی صلاحیت کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔ اپنے اخبار یا میگزین کی منفرد پہچان کے لیے ہمیشہ نئے انداز اور نئی سوچ و فکر کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ ایک کامیاب ایڈیٹر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری ٹیم کا بھروسہ حاصل کرے۔ ان میں بہتر ربط و ضبط پیدا کرے ۔ کاموں کو ٹیم کی صلاحیت کے مطابق تقسیم کرے۔ بڑے اخبارات میں ایسوسی ایٹ یا اسسٹنٹ ایڈیٹرز بھی ہوتے ہیں جو مخصوص شعبوں جیسےاسپورٹس ، بین الاقوامی خبریں، مقامی خبریں یا دیگر مخصوص صفحات کے لیے ایڈیٹنگ کرتے ہیں۔ ایڈیٹر کے انتظامی فرائض میں مضامین جمع کرنا ، بجٹ پلان کرنا، فری لانس مضمون نگار سے مضامین لکھوانا وغیرہ ہوتے ہیں۔     
                                                        
بہت سے اخبارات میں ایڈیٹر کی مدد کے لیے سب ایڈیٹرز ہوتے ہیں ، جن کا خاص کام رپورٹرز کے ذریعے جمع شدہ خبروں کو آخری شکل دینا ہوتا ہے۔ ایک کامیاب اخبار کے لیے بہترین سب ایڈیٹر کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ان کے کام میں مختلف رپورٹس کو ان کے صحیح انداز میں پیش کرنا شامل ہے۔ اس کام کے دوران سب ایڈیٹر کو اپنے اخبار کی نیوز پالیسی کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے۔ ان میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ شک و شبہ والی یا غیر مصدقہ خبروں کی نشاندہی بھی کر سکیں اور تحریری غلطیوں پر بھی نظر رکھ سکیں۔

رپورٹنگ
اخبارات یا میگزین کی رپورٹنگ کا مطلب مقامی، صوبائی ، قومی اور بین الاقوامی واقعات پر رپورٹس تیار کرنا۔ ان رپورٹس کو پیش کرتے وقت مختلف زاویوں اور نظریے سے سوچنا ، حالات  ِ حاضرہ پر کڑی نظر رکھنا ایک اچھے رپورٹرکی خوبی ہے۔ ذمہ دار افراد کے بیانات کو سمجھنا ۔  با اختیار افراد، سیاستداں، سرکاری و غیر سرکاری محکموں کے ذمہ داروں کے اعلانات و بیانات کو واضح کرناوغیرہ…اخبارات مختلف خبروں کو جمع کرنے کے لیے مختلف مقامات بشمول بیرون ملک اپنے نمائندگان بھیجتے ہیں یا انھیں اس کام کے لیے متعین کیا جاتا ہے کہ کسی مخصوص مقام، موضوع یا معاملہ پر خبر بنائیں۔    

فری لانسنگ
 ایک کامیاب مضمون نگار بحیثیت فری لانسر جرنلسٹ کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ یہ جرنلسٹ کسی مخصوص اخبار ، میگزین یا آرگنائزیشن کے باقاعدہ ملازم نہیں ہوتے بلکہ ان کے مختلف مضامین ، اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے ہیں ، جن کے لیے اخبار یا آرگنائزیشن سے انھیں معاوضہ ملتا ہے۔                      
                                                                   
کالم نویس
اخبارات مخصوص کالم نگاروں کو منتخب کرتے ہیں ۔ ان کالم نگاروں سے اخبار کے لیے مخصوص موضوعات پر کالمز لکھوائے جاتے ہیں ۔ ان کے کالمز سہہ روزہ ، ہفتہ واری یا ماہانہ شائع کیے جاتے ہیں۔         
                                                         
کارٹونسٹ
سیاسی معاملات ہوں یا قومی تہوار، بین الاقوامی معاملات ہوں یا حالات حاضرہ کا کوئی مخصوص واقعہ …ان تمام معاملات میں کارٹونسٹ واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کارٹون بناتے ہیں۔ مشہور کارٹونسٹ جاوید اقبال کوتوآپ جانتے ہوں گے۔ جو کارٹونسٹ فری لانسر ہوتے ہیں وہ عام طور پر اپنی فنی صلاحیتوں کے ساتھ مختلف موقعوں پراپنے کارٹونز اخبارات و رسائل میں روانہ کرتے ہیں۔       
                                                                                                        
کمرشل آرٹسٹ
 کمرشل آرٹسٹ اپنے مخصوص چارٹس ، گراف ، تصاویر اور اشکال کے ذریعہ اخبارات و رسائل کو دلچسپ اور دلکش بناتے ہیں۔           
                                                                                                                      
فوٹو جرنلزم
 فوٹو جرنلزم ایسا فن ہے جس میں مختلف تصاویر کے ذریعے واقعات یا خبروں کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایسے نوجوان جنہیں فوٹوگرافی کا شوق ہے اور ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ تصاویر کو خبروں سے جوڑ سکیں ، فوٹو جرنلسٹ بن سکتے ہیں۔                 
          
ایک جرنلسٹ پرنٹ میڈیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا مختلف طریقوں سے منوا سکتا ہے ۔ پرنٹ میڈیا کے کئی ضمنی شعبے ہیں ۔جیسے اخبار، میگزین ، خبر رساں ایجنسیاں نیز انٹرنیٹ کی نیوز پورٹل ویب سائٹس وغیرہ۔پرنٹ میڈیا میں مندرجہ ذیل عہدے ہوتے ہیں۔
 ٹرینی اسٹاف رپورٹر ، رپورٹر ، سینئر رپورٹر ، چیف رپورٹر وغیرہ…

خبر رساں ایجنسیوں میں کام کرنے کے لیے بہت سخت ’’ڈیڈلائن‘‘ ہوتی ہے۔ دن کے ختم ہونے تک نہیں بلکہ دیے گئے گھنٹوں یا منٹوں میں خبر رساں ایجنسیوں میں خبریں یا واقعات بہت صاف ، واضح اور بالکل ’’ ٹو دی پوائنٹ‘‘ تیار کی جاتی ہیں۔ ان خبروں کے بدلنے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی۔ نیوز ایجنسیز میں کام 24 گھنٹے جاری رہتا ہے، ان کے دفاتر کبھی بند نہیں ہوتے خواہ یوم آزادی ، تہوار ، ہڑتال،چھٹیاں یا کوئی بھی معاملہ ہو…اس کے علاوہ اخبارات میںمخصوص اوقات میں کام ہوتا ہے۔

غرض جرنلزم وہ شعبہ ہے جو آپ سے پختہ ارادی اور مستعدی کا تقاضا کرتا ہے اور اگر آپ تخلیقی اور انقلابی ذہن رکھتے ہیں تو جرنلزم سے زیادہ پرکشش شعبہ اور کوئی نہیں…!...
  ٭…٭

کیا آپ صحافی بننا چاہتے ہیں؟

کسی بھی اخبار کے لیے ’’ صحافت ‘‘ کے فرائض انجام دینا ایک دلچسپ مگر بہت زیادہ محنت طلب کا م ہے ۔ اگر آپ صحافی بننا چاہتے ہیں تو آپ کو چند باتیں معلوم ہونا ضروری ہیں۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں۔                                      

صحیح فیصلہ کریں
 سب سے پہلے فیصلہ کریںکہ آپ کس زبان کے اخبار میں صحافت کے فرائض انجام دینا چاہتے ہیں۔ یعنی اخبار انگریزی ہے یا اُردو ، سندھی  وغیرہ … ؟                                           

تعلیمی قابلیت
 بہت سے نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ صحافت کے لیے کوئی خاص تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ غلط سوچ ہے ۔ اس شعبے میں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ تعلیم یافتہ اور باشعور آدمی ہی صحیح طرح صحافت کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ ویسے تو متعدد مضامین کے ساتھ گریجویشن یا ماسٹر ڈگری یافتہ نوجوان اس پیشے کے لیے موزوں تصور کیے جاتے ہیں مگر عصر حاضر میں مقابلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ’’ ابلاغ  ِ عامہ ‘‘ (Mass Communication) میں ڈگری یافتہ نوجوانوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔
                                                                                                          
زبان پر عبور
 زبان پر عبور نہایت ضروری ہے۔ اگر آپ اُردو اخبار میں کام کر رہے ہیں تو اُردو زبان پر عبور ضروری ہے۔ اگر آپ انگریزی اخبار میں کام کر رہے ہیں تو انگریزی زبان میں مہارت بے حد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا انگریزی سے اُردو میں اور اُردو سے انگریزی زبان میں یا دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کے فن سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔      
                                   
سماجی تعلقات 
 اس شعبے میں وہ نوجوان بہت کامیاب رہتے ہیں جن کے سماجی تعلقات ہوں، جن کا حلقہ احباب بہت وسیع ہو ، کیونکہ صحافیوں کو بہت سے لوگوں سے میل جول رکھنا ہوتا ہے، اس طرح بہت سے واقعات یا باتوں کا علم ہو جاتا ہے جس کی خبر بن سکتی ہے۔ تعلقات کی بدولت بہت سے لوگ خبریں فراہم کر دیتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ میل جول رکھنے والے ہوں۔          
         
بہترین یاداشت، مضبوط قوت ِ حافظہ
 اس شعبے میں وہ نوجوان بہت کامیاب رہتے ہیںجو بہترین یاداشت اور مضبوط قوت ِحافظہ کے مالک ہوں کیونکہ اخبار میں ہر وقت خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ روزانہ ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جنھیں خبر کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر حافظہ بہترین ہوگا تو ہی آپ اسے ذہن میں محفوظ رکھ سکیں گے اور وقت ِ ضرورت اس کو بازیافت (Recall) کر سکیں گے۔       
                                                                             
قوت ِ مشاہدہ 
 تیز قوت ِ مشاہدہ کے مالک نوجوان اس شعبے کے لیے موزوں ہیں۔ اس لیے اگر آپ بہترین قوت ِ مشاہدہ رکھتے ہیں تو اس شعبے میں طبع آزمائی ضرور کریں۔   

کام کرنے کا جنون
 ایسے نوجوان جو جنونی انداز سے کام کرنے کے عادی ہوں ، جو اپنے کام کو فوری پایہ تکمیل تک پہنچا دیں، جو ’’موڈ کے غلام ‘‘ نہ ہوں وہ اس شعبے کے لیے بہترین ہیں۔ دیکھنے میںآیا ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوان ’’موڈ کے غلام‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر موڈ ہوگا تو کام کریں گے ، موڈ نہیں ہوگا تو پھر کام کا اللہ ہی حافظ ہے۔اس شعبے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔اس لیے موڈ کو نظر انداز کرنا بے حد ضروری ہے۔       
                                                                                 
احساس  ِ ذمہ داری
اس شعبے کے لیے  احساس  ِ ذمہ داری بہت ضروری ہے ۔ ویسے تو یہ ہر شعبے کے لیے ہی بہت ضروری ہے مگر صحافت میںتو بہت زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اس شعبے میں آپ کو بہت کا م کرنا پڑتا ہے۔جب آپ کو کام سونپا جا رہا ہے تو ذمہ داری کے ساتھ اس کی ادائیگی کریں۔ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ اور غفلت اخبار میں ہر گز برداشت نہیں کی جا سکتی ۔      
                       
ہر قسم کے ماحول میں ڈھلنے والے نوجوان
 جو نوجوان ہر قسم کے ماحول میں ڈھل جاتے ہوں ، ہر قسم کے ماحول میں آرام سے کام کر لیتے ہوں ، ایسے نوجوان اس شعبے میں با آسانی کام کر سکتے ہیں۔   
                                                                      
اس مضمون میں ہم نے ان چند باتوں کا احاطہ کیا ہے ، جو صحافی بننے کے لیے جاننا ضروری ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ یہ کام کر سکتے ہیں تو اس پیشے کو ضرور اختیار کیجئے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس شعبے میں شہرت تو بہت زیادہ ہے مگر محنت اور جدوجہد کی بھی ضرورت ہے ۔ اگر آپ محنت اور جدو جہد سے نہ گھبراتے ہوں اور کام ، کام اور صرف کام کے عادی ہوں تو پھر آپ اچھے صحافی بن سکتے ہیں۔               

اگلے مضمون میں ہم جرنلزم پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالیں گے۔۔۔۔۔

ٹیکسٹائل ڈیزائننگ

کپڑا ہر دوراور ہر زمانے میں زندگی کی بڑی ضرور ت رہا ہے اور دنیا کی ہر بڑی تہذیب کے ارتقاء میں اس کی اہمیت مسلمہ رہی ہے۔ کپڑا تاریخِ بشریت کے ہر دور میں مہذب انسان کی اہم ترین ضرورت رہا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اس کی اہمیت اور افادیت کافی بڑھ گئی ہے کیونکہ آج کا زمانہ نت نئے فیشنوں کا زمانہ ہے، اس لیے اب نت نئے انداز ، ڈیزائننگ ، رنگ سازی، آمیزی اور طرح طرح کی کٹنگ کا بھی چلن ہوگیا ہے۔ بچوں سے لے کر نوجوانوں بلکہ بڑوں تک میں فیشن کا رواج ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کپڑے کی بناوٹ ، میٹیریل ، ڈیزائن ، رنگ اور کٹنگ ہر ایک میں ہنر مندی کامظاہرہ ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ فنکاری اور ہنر مندی اپنے آپ سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ اس کے پیچھے فنکاری ، صنعت کاری ، دماغ سوزی اور صلاحیت کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ یہ سب ٹیکسٹائل انجینئروں کی ہنرمندی اور علم کا ہی کرشمہ ہوتا ہے کہ کپڑوں میں روزانہ نئی نئی نوعیت کی اختراع ہوتی رہتی ہے۔ آج کے فیشن پسند دور میں ہر دم  نت نئے ڈیزائنوں اور نت نئے فیشنوں کی دھوم مچی رہتی ہے۔
                                         
زمانہ قدیم سے ہی برصغیر پاک و ہند میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی شاندار روایت رہی ہے۔آج بھی دنیا بھر میں ٹیکسٹائل انجینئرز اور فیشن ڈیزائنرز غیر ملکی فلم انڈسٹری سے لے کراسپورٹس وغیرہ کے نت نئے ڈھنگ کے کپڑے تیار کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے ہیں۔ ہمارے خطےمیں ٹیکسٹائل انجینئروں اور ڈیزائنروں کی دنیا بھر میں مانگ بڑھتی جارہی ہے۔ اس لیے ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرکے اندرون  ِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون  ِ ملک بھی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں خود روزگاری اور سرکاری و غیر سرکاری ، ملکی و غیر ملکی تجارتی کمپنیوں میں بھی پر کشش ملازمتوں کے امکانات ہوتے ہیں۔


ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم
ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم بڑی اہمیت اور افادیت کی حامل ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کے لیے طلباء کا کم سے کم ہائی اسکول پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ڈگری کورس کے لیے اُمیدوار کا انٹرمیڈیٹ پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ کا ڈپلومہ کورس 3 سالہ ہوتا ہے۔ جبکہ ڈگری کورس کے لیے 4 سال کی مدّت درکار ہوتی ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ یا ڈگری کورس کرنے والے امیدواروں کے لیے کپڑوں سے متعلق باریکیوں جیسے کپڑے کے ریشے ، اس کی بنائی کا طریقہ ، پروسیسنگ ، رنگوں کی پہچان ، رنگ سازی اور رنگ آمیزی کے طریقوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔ کپڑوں کی نت نئی ڈیزائنوں کی اختراع کے لیے طلباء میں تخلیقی صلاحیت اور جدّت پسندی کا بھی ہونا ضروری ہے ۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ ہولڈر ٹیکنیشن کا اصل کام یہ ہے کہ مشینیں بلا رُکاوٹ کام کرتی رہیں ، تمام آلات رواں رہیں اور مشینوں کی وقت پر دیکھ بھال ہوتی رہے۔ مختلف قسم کے کپڑے کی تیاری سے پہلے مشینوں کو کسی خاص قسم کے کپڑے کے لیے ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔اگر دھاگہ یا کپڑا صحیح تیار نہ ہورہا ہو یا مشین بند ہوجائے تو نقص کو تلاش کرنا اور دور کرنا ٹیکنیشن کی ذمہ داری ہے۔ جدید مشینیں کمپیوٹر کی مدد سے کام کرتی ہیں، اس لیے آج کے دور کے ٹیکسٹائل ٹیکنیشن کو کمپیوٹرائزڈ مشینوں اور الیکٹرونک انجینئرنگ سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔  ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈگری ڈپلومہ ہولڈروں کی اس صنعت سے متعلق مختلف عہدوں،ریڈی میڈ ہوزری اور گارمنٹس کی بڑی بڑی کمپنیوں میں فیشن ڈیزائنر ، فیشن کو آرڈینیٹر ، سِلک مینیجر ، مارکیٹنگ اور کنٹرولر کے عہدوں کے لیے اچھی ملازمت کے علاوہ خود روزگاری کے بھی بہتر امکانات ہوتے ہیں۔ کپڑوں کے فیشن میں روز بروز ہونے والی تبدیلی نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں انقلاب آفریں مواقع پیدا کر دیے ہیں۔
٭…٭

ہوٹل مینجمنٹ

کھانا اور کھلانا، مہمانوں کی تواضع کرنا اور مسافروں کے آرام کا بندوبست کرنا ، دنیا کی قدیم ترین روایات میں شامل ہیں۔ جب یہ تمام کام تجارتی بنیاد پر کیے جائیں تو ایک فن اور پیشہ بن جاتے ہیں اور اسی فن اور پیشے کو آج کے جدید دور نے ہوٹل مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ دنیا بھر میں ہوٹلز کی صنعت کے فروغ سے ہر کوئی واقف ہے ۔ اس شعبے میں بہترین اور پرکشش ملازمتوں کے مواقع بھی بے حد وسیع ہیں۔ جن شعبوں میں انسانی وسائل کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، ان میں ہوٹل مینجمنٹ کا شعبہ بھی ایک اہم ترین شعبہ ہے۔

کھانا پکانے میں شیف (خانساماں) کی مدد کرنے والے معاون سے لے کر کسی اعلیٰ درجے کے فائیو اسٹارہوٹل کے منتظم اعلیٰ تک کے عہدے تک سینکڑوں افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم جو ہوٹل کے انتظامات اور مہمانوں کی دیکھ بھال کے لیے مستعد رہتی ہے ، کے لیے ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں…اگر آپ اس جانب ذرا بھی دلچسپی رکھتے ہیں تو یقینا اپنی صلاحیتوں اور قابلیت سے مطابقت رکھنے والا کوئی نہ کوئی شعبہ آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کر ا لے گا۔ اس مضمون سے آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ ہوٹل مینجمنٹ کے شعبے میں کس نوعیت کی ذمہ داریاں لوگوں پر ہوتی ہیں اور اس قسم کے کام کے لیے کس قسم کے افراد کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔
                             
ہوٹل مینیجر: گیسٹ ہائوس، ریسٹورنٹ ، کلب یا ہوٹل وغیرہ میں اس ادارے کی پوری دیکھ بھال کرنے والا شخص مینیجر کہلاتا ہے۔ 

کیٹرنگ مینیجر: کیٹرنگ مینیجر کو مشروبات اور کھانے کی اشیاء سے متعلق اُمور کی نگرانی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے فرائض میں خوردنی اشیاء کی خریداری ، کھانوں کی تیاری اور تیار اشیاء کی فروخت یا انھیں مہمانوں کے سامنے پیش کرنے تک کے کاموں کی دیکھ بھال شامل ہے۔   

                                                                                                                    
ہاؤس کیپر:ہاؤس کیپر کے فرائض میں ہوٹل ، اسپتال ، کلب ، تعلیمی اداروں کے ہوسٹلز یا رہائشی اُمور کی دیکھ بھال ، انتظام و نگرانی شامل ہے۔               
                                                                                                                  
شیف: شیف ، کُک یا باورچی کا کام تو ایک ہی ہے لیکن کام کرنے کے اداروں کی نوعیت کے اعتبار سے انھیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے باورچی خانوں میں کھانا پکانے کے عمل کی نگرانی کرنے والے کو شیف اور ہاسٹلز، اسپتال میں یہی ذمہ داری انجام دینے والے کو کُک کہتے ہیں۔     
                                                                                    
کچن اسسٹنٹ: کچن کا معاون ، کھانا پکانے میں کُک کی مدد کرتا ہے۔ اسے مختلف نوعیت کے بے شمار غیر ہنرمندانہ کام کرنے ہوتے ہیں۔ جن میں کچن کی صفائی، برتنوں کی دُھلائی اور سامان کی دُھلائی سے کُک کی ہدایت کے مطابق کھانا تیار کرنے تک کے کام شامل ہیں۔ یہ معاون پکنے سے پہلے سبزی ترکاری ، گوشت ، اجناس کی صفائی کرتا ہے۔ انھیں کاٹتا ہے اور دھوتا ہے۔   
                           
کاؤنٹر سروس اسسٹنٹ: اسنیک بار، کافی شاپ، سیلف سروس، ریسٹورنٹ اور کینٹین وغیرہ میں کھانا خود کائونٹر سے لینا ہوتا ہے…اس جگہ میں کام کرنے والے کو کاؤنٹر سروس اسسٹنٹ کہتے ہیں۔                

ریسیپشنسٹ: ہوٹل میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے استقبالیہ سے واستہ پڑتا ہے۔ یہ جگہیں عام طور پر ہوٹل کے صدر دروازے کے نزدیک ترین ہوتی ہیں اور ہوٹل میں آنے اور رخصت ہونے والے مہمان سب سے پہلے اور سب سے آخر میں استقبالیہ کے کارکنوں سے ملاقات کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ اس کے لیے خوش شکل، خوش لباس، خوش گفتار اور بااخلاق و متواضع ہونا ضروری ہے۔             
                                                                                 
روم اٹینڈینٹ: یہ کمروں کو صاف کرتے ہیں اور مہمانوں کے بلانے پر انھیں ضرورت کی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ 

پورٹر: ہوٹل پورٹر مہمانوں کے لیے دروازہ کھولنے ، ان کا سامان اُٹھانے ، سامان کمروں تک یا کمروں سے گاڑی تک پہچانے ، ہوٹل کے رجسٹر میں اندراج میں اسقبالیہ کی مدد کرنے ، مہمانوں کے لیے ٹیکسی یا کرائے کی گاڑی فراہم کرنے کے کام سر انجام دیتے ہیں۔   
   
درکار صلاحیتیں:                   
ہوٹل اور ریسٹورینٹ کی صنعت بنیادی طور پر مہمان نوازی اور خدمت کی صنعت ہے۔ اس میں کام کرنے والے افراد کو دوسرے افراد کے آرام اور سہولت کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور انھیں مختلف اشیاء اور خدمات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ ہوٹل مینیجر سے ایک معمولی پورٹر تک ، بیشتر کارکنوں کا مہمانوں سے براہ راست یا بلا واسطہ تعلق رہتا ہے۔ خوش گفتاری، خوش مزاجی ، لوگوں سے میل جول میں دلچسپی ، شائستہ ، مہذب اور با اخلاق ہونا وہ بنیادی خصوصیات ہیں جو اس پیشے میں آنے والے کی اوّلین ضرورت ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف کاموں کی نوعیت کے اعتبار سے انتظامی صلاحیت کے حامل، کام منظم طور پر کرنے والے بہتر منصوبہ ساز اور اپنے کام سے دلچسپی رکھنے والے افراد  اس پیشے میں کامیاب رہتے ہیں۔ پورٹر اور ویٹر کی ذمہ داریاں انجام دینے والے کو جسمانی طور پر بھی مضبوط ہونا چاہیئے۔ 

تربیتی ادار ے:
ہوٹل مینیجمنٹ اور اس کے متعلقہ شعبوں کی باقاعدہ تربیت فراہم کرنے والا ایک ادارہ جو کہ ’’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینیجمنٹ ‘‘ کے نام سے معروف ہے، یہ ادارہ وزارت سیاحت حکومت پاکستان کے زیرِ اہتمام کام کرتا ہے۔اس وقت اس ادارے میں ہوٹل مینیجمنٹ اور ٹورزم کے 17 مختلف شعبوں کے تربیت یافتہ افراد کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ ہوٹل کی صنعت کے حوالے سے پی آئی ٹی ایچ ایم کا اندازہ ہے کہ آئندہ دس سالوں میں اس صنعت میں ہر سال پندرہ سو افراد کی ضرورت ہو گی۔   
                                   
اندرون  ِ ملک ملازمت کے مواقع کے علاوہ اس شعبے میں بیرون ملک ملازمت کے بھی مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر مڈل ایسٹ کے ممالک اس صنعت کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ اس شعبے میں ذاتی کاروبار کے مواقع بھی خاصے ہیں۔ اسنیک بار، فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ اور کیٹرنگ سروس ایسے شعبے ہیں جہاں مناسب سرمائے کے ساتھ اپنا کام کیا جا سکتا ہے۔   
                                        
ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی صنعت میں ہمارے ہاں تنخواہوں کا کوئی بنیادی اسکیل موجود نہیں ۔ عام طور پر تنخواہیں گفتگو کے ذریعے طے کی جاتی ہیں۔                     
                                                                                                         
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینیجمنٹ کے تربیتی پروگرام کے علاوہ مختلف ہوٹل انٹرن شپ کے تحت ہوٹلنگ کے مختلف شعبوں میں اُمیدواروں کو 3 سال کی تربیت دیتے ہیں۔ اس تربیتی پروگرام کے داخلوں کے اشتہار اخبارات میں شائع کیے جاتے ہیں۔ 
رو

پیشے (Professions)

ہم اپنے آس پاس بے شمار لوگ دیکھتے ہیں، جو شکل و صورت، عادت و اطوار اور رہن سہن کے علاوہ اپنے اپنے ذریعہ روزگار میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔لوگوں کے اسی ذریعہ روزگار کو ’’پیشہ‘‘کہا جاتا ہے۔ ’’پیسہ ‘‘ میں ’’سین‘‘ پر تین نقطے لگا دینے سے ’’پیشہ‘‘بن جاتا ہے۔ گویا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’’پیشہ‘‘ سے ’’پیسہ‘‘ ملتا ہے۔ چنانچہ ہم پیشہ کی اس طرح تعریف کر سکتےہیں:-۔۔
"وہ ذریعہ، جس کی مدد سے انسان پیسہ کماتا ہے، پیشہ کہلاتا ہے۔"

"نوٹ کریں کہ" پیشہ پیسہ کے راست متناسب ہوتا ہے۔

 حسابی شکل میں

پیشہ            پیسہ

یا انگریزی میں
Profession is directly proportional to  money


OR
Profession    Money

پیشوں کی اقسام 
(Types of Professions)
 پیشے دو طرح کے ہوتے ہیں، یا ان کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔
الف) منفی پیشے                        (ب)مثبت پیشے)

الف) منفی پیشے) 

اس قسم کے پیشے تعداد میں تو بہت کم ہیں ، مگر انھیں اپنانے سے فائدہ زیادہ اور نقصان کم ہوتا ہے… پاکستان جیسے ملک میں تو فائدہ ہی فائدہ ہے… پیسہ ہی پیسہ ہے۔انھیں ’’ناجائز پیشے‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے…بلکہ سب کچھ کہا جاسکتا ہے۔یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کون سا نام دیتا ہے۔یہ پیشے کئی ایک ہیں۔ہم یہاں چیدہ چیدہ بیان کرتے ہیں۔

الف) اسمگلنگ)
یہ ایک بہت مشہور اور منظّم پیشہ ہے۔ اسمگلنگ کہیں چھُپ چھُپ کر اور کہیں کھلے عام ہوتی ہے۔ اگر کامیابی سے ہوجائے تو اتنا پیسہ ملتا ہے کہ سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس پیشے سے وابستہ شخص کو ’’اسمگلر‘‘ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ لطیفہ ملاحظہ کریں۔

جج(ملزم سے): تم پر اسمگلنگ کا الزام ہے؟
ملزم : جی حضور!
جج: مگر تفتیش اور چھاپے کے دوران تو تمہارے ٹرک سے کچھ برآمد نہ ہوا۔
ملزم: وہ جی میں ٹرک ہی اسمگل کرتا ہوں۔

ب) رہزنی)

رہزنی، چوری،ڈاکہ ، یہ سب ایک ہی نوع کے پیشے ہیں۔اس میں اگر کامیابی سے ’’بڑا ہاتھ‘‘ مارا جائے تو پھر وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔رہزنی کے بعد رقم گننے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اگلے دن کے اخبار ات میں پڑھی جاسکتی ہے۔رہزنی کا پیشہ اپنانے والے کو ’’رہزن‘‘ یا ’’ڈاکو‘‘ کہا جاتا ہے۔ ڈاکوئوں کو بلا وجہ برا بھلا کہا جاتا ہے، جبکہ ایک مصنف نے ڈاکوئوں کے مندرجہ ذیل فائدے گنوائے ہیں۔

گھروں میں عریانی کا خاتمہ، کیونکہ ڈاکو اپنی کا روائی کے ذریعے بطور خاص ٹی وی اور وی سی آر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

روزگار وغیرہ کے حصول کے لیے حکومت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ اپنے لیے خود روزگار حاصل کرتے ہیں۔

کئی سرکاری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گھروں کے چولہے انھی ڈاکوئوں کے وجود سے جل رہے ہیں، جو ان کے خلاف’’تحقیقات‘‘ کرتے ہیں۔

ج) گداگری)

اس پیشے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ مکروفریب سے کام لیا جائے ۔ مثال کے طور پر جعلی لنگڑا لولا بنا جائے یا پھر اندھا بنا جائے۔مشہور ہے کہ ایک آدمی کا ایک ہاتھ نہیں تھا اور وہ بھیک مانگ رہا تھا۔ ایک شخص نے اُسے چند سکے دیے اور آگے چلا گیا۔ کچھ آگے جاکر اس نے پلٹ کر دیکھا تو بھکاری اپنے دونوں ہاتھوں سے سکے گن رہا تھا۔ بھکاریوں کو آواز لگانا یا صدا دینا بھی آنا چاہئے۔ جیسے ایک بھکاری آواز لگاتا تھا۔
"اللہ روٹی کھائے گا …دال روٹی کھائے گا"
اس طرح وہ مانگتا اللہ کے لیے تھا، مگر بعد میں دیکھو تو خود کھا رہا ہوتا تھا۔

ب) مثبت پیشے)

اس قسم کے پیشے ہیں تو بے شمار مگر انھیں اپنانے کے بعد محنت بہت کرنی پڑتی ہے اور پیسے بھی بہت کم ملتے ہیں۔ انھیں ’’جائز پیشے‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔ مگر بعض لوگ اپنی ’’عقلمندی‘‘ اور ’’قابلیت‘‘ سے انھیں بھی ’’ناجائز ‘‘پیشے بنا لیتے ہیں۔ اس کے لیے وہ رشوت، دھاندلی، سود، ذخیرہ اندوزی، کرپشن ،جھوٹ، منافقت وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں۔ اس سے ان کی دنیا تو ضرور سنور جاتی ہے۔ البتہ آخرت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ ان پیشوں میں ڈاکٹری، وکالت، مہندس(انجینئر)،  دمنشی(بینکر)، دکانداری، ٹیچنگ (معلّمی) وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ ان سے سب اچھی طرح واقف ہیں اس لیے ان پر روشنی ہم نہیں ڈالیں گے۔ آپ چاہیں تو آپ ان پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ موم بتی سے ڈالنی ہے یا ٹیوب لائٹ سے ، اس کا فیصلہ بھی آپ نے کرنا ہے۔

مندرجہ بالا موازنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر محتاط رہا جائے تو منفی پیشے زیادہ بہتر اور مفید ہیں۔ آپ بھی اپنی ذمہ داری پر انھیں اپنا سکتے ہیں۔

تحریر: شعیب سعید شوبی

پورا دُکھ او ر آدھا چاند


پورا دُکھ او ر آدھا چاند
ہجر کی شب اور ایسا چاند

دن میں وحشت بہل گئی تھی
رات ہوئی اور نکلا چاند

کس مقتل سے گزرا ہوگا
اِتنا سہما سہما چاند

یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رہا ہے تنہا چاند

میری کروٹ پر جاگ اُٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند

میرے منہ کو کس حیرت سے
دیکھ رہا ہے بھولا چاند

اِتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہوگا چاند

آنسو روکے نور نہائے
دل دریا ، تن صحرا چاند

اِتنے روشن چہرے پر بھی
سورج کا ہے سایا چاند

جب پانی میں چہرا دیکھا
تو نے کس کو سوچا چاند

برگد کی ایک شاخ ہٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند

بادل کے ریشم جھولے میں
بھور سمے تک سویا چاند

رات کے شانوں پر سر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند

سوکھے پتّوں کے جھرمٹ پر
شبنم تھی یا ننّھا چاند

ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
اُس کی صورت ہجر کا چاند

صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق میں سچّا چاند

رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہوگا میرا چاند

(خوشبو۔۔۔ ۔پروین شاکر)​

عیدالاضحیٰ مبارک

بلاگ پر تشریف لانے والے تمام دوستوں کو عیدالاضحیٰ مبارک ہو۔ اللہ کرے یہ عید آپ کے لیے خوشیوں سے بھرپور ہو۔ آمین۔۔۔!۔





کزن

دنیا میں عجب ڈھنگ کا کردار کزن ہے
ہر گام پر ہر سمت پر نمودار کزن ہے

حالانکہ جن بھوت نہ اوتار کزن ہے
اس دور میں ہر موڑ پر درکار کزن ہے

کہتے ہیں سب رشتوں کا سردار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

مانا کہ وہ جن بھوت نہیں بلکہ بشر ہے
پر یہ کیسے معلوم وہ مادہ ہے کہ نر ہے

حوا کی دختر ہے کہ گلنار کا سر ہے
گلفام کی وہ بیوی ہے کہ گلنار کا سر ہے

وہ جنس کہ ہے جنس پر اسرار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

اس جنس کے پردے میں سجن ہے کہ سجنا
پگڑی کہیں چمکے ہے نہ کھنکے ہے کنگنا

بس لفظ کزن بول کہ خود گول ہے دنیا
لیکن کسے معلوم وہ کزن ہے کہ کزنیا

اس راز کے اظہار کا انکار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

ماموں ، چچا، خالہ کا وہ بیٹی ہو کہ بیٹا
سب دور نزدیک کے رشتوں کو لپیٹے

سوتیلے سگے دور کے منہ بول گھسیٹے
رشتوں کے سمندر کو یہ کوزے میں سمیٹے

زنبیل جناب عمرو عیار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

اس رشتے کے پھیلاؤکے پلٹن کا یہ عالم
سالے کا کزن سالے کے سالے کا باہم

ڈھونڈو جو ایک تو سو خود ہوں فراہم
لگتا ہے کہ کزن عرش سے گرتے ہیں دھمادھم

اس رشتے کا ہر تال لگاتار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

رشتہ کسی اپنے کا اگر یاد نہ آئے
یا رشتے کی تفصیل چھپانا کوئی چاہے

بغلیں نہیں جھانکے نہ پسینہ وہ بہائے
اک لفظ کے ہتھیار کو کام میں لائے

ہر موقع پر وہ مارے کہ ہتھیار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

لڑکی جو کوئی بوائے فرینڈ اپنالے
جل جل کر کریں طعنہ زنی دیکھنے والے

وہ شوخ پھر اک نسخہ اکسیر نکالے
یہ کہہ کر وہ طنز کے طوفان کو ٹالے

وہ دوست نہیں میرا خبردار! کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

اس رشتے میں حائل نہیں بچپن یا بڑھاپا
دو سال کا پپو ہو یا دس بچوں کا پاپا

رنڈوا ہو یا بیاہتا کنوارا ہو سراپا
دوشیزہ کنواری ہو یا بیوہ بڑی آپا

شادی کا نہ کچھ عمر کا غم خوار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

اعلی کسی عہدے پر کزن ہو تو بہر حال
گھر بیٹھےعزیزوں کے بنیں کام بچے مال

جھنجٹ نہ شفارش نہ رشوت کا ہی جنجال
اب ڈر ہو بھلا کاہے کا سیاں بنے کوتوال

دن رات مراعات کی پھر برمار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

کہہ کہہ کے کزن دیتے ہو کیوں لوگوں کو چکر
کیا شرم ہے کہنے میں بہن بھائی برادر

انگریزی کے اس لفظ میں دھوکا ہے سراسر
احمق ہی بنانے کے سب انداز ہیں اظہر

اپریل کا فول میرے یار کزن ہے
واللہ عجب رشتہ شاہکار کزن ہے

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.