March 2014

سُرساتھ سویرا

سُر ساتھ سویرا ایک مارننگ شو ہے جو ایکسپریس انٹرٹینمینٹ چینل سے ہر پیر سے جمعہ تک صبح 9 سے 11 بجے تک ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے۔ دیگر مارننگ شوز کے مقابلے میں یہ کافی مختلف ہے۔دوسرے مارننگ شوز میں سوائے شادی اور جادو ٹونے کے اور کوئی موضوع نہیں ہوتا۔ فضول قسم کی بے ہودہ گفتگو اور گلیمر سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سُر ساتھ سویرا میں سادگی ہے اور ہلکا پھلکا طنز و مزاح ہے۔ ہر پروگرام میں کسی خاص موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے اور مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔  اس پروگرام کی میزبان دعا ملک ہیں۔ ان کے علاوہ دو کمیڈینز برکت علی اور عزمی بھی اس پروگرام میں اپنے فن کے ذریعے پروگرام میں بوریت پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ پروگرام کے دوران فیس بک کے ذریعے براہ راست شرکت بھی کی جا سکتی ہے۔ پروگرام کے فیس بک پیچ پر پروگرام کے دوران جو کمنٹس کی جاتی ہیں انھیں پروگرام میں لائیو چلایا جاتا ہے۔ تاہم یہ قسمت کی بات ہے کہ آپ کی رائے پروگرام میں شامل ہوتی ہے یا نہیں۔


جمعرات 27 مارچ 2014ء کو پروگرام کا موضوع "تو تڑاق، طلاق اور پھر" تھا۔ اس پروگرام میں میں نے پروگرام کے فیس بک پیج پر جو کومنٹ کیا اس کا اسکرین شاٹ پیش ہے۔



 اگرچہ میں اس سے پہلے بھی پروگرام کے فیس بک پیج پر کومنٹ کر کے قسمت آزمائی کر چکا تھا مگر کامیابی نہیں ملی۔ خوش قسمتی سے اس پروگرام میں میرے کومنٹ کو انھوں نے پروگرام میں شامل کیا اور پروگرام کے دوران دو دفعہ اسے چلایا گیا۔ اس کی اسکرین شاٹ پیش ہے۔



نیٹ پر تھوڑی سی تلاش کے بعد اس پروگرام کی مکمل ویڈیو بھی مل گئی جسے میں نے ڈاؤن لوڈ کر کے اس میں سے مطلوبہ پورشن کو کاٹ کر اپلوڈ کیا ہے جو پیش خدمت ہے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ :-)





سب کا بھلا سب کی خیر

میں اور ممتاز مفتی ایک بار ایک ایسے سفر پر گئے جب ہمیں ایک صحرا سے گذرنا پڑا ۔ ہمیں وہاں  ایک بڑی مشکل ہو گئی ۔ نہ پانی تھا نہ کھانے کو کچھ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ممتاز مفتی مجھے کوسنے لگا اور میں ان سے کہنے لگا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ یہ راستہ اختیار نہ کرو بہر حال ہم چلتے گئے  اور اس جانب چلے  جہاں دور ایک جھونپڑی دکھائی پڑتی تھی ۔ ہم تھکے ہارے اس جھونپڑی میں پہنچے  تو وہاں ایک سندھی ٹوپی پہنے کندھوں پر شال پہنے ایک بڑی عمر کے شخص بیٹھے تھے ۔ ان کی خستہ حالی تو ہم پر عیاں  ہو رہی تھی مگر ان میں ایک عجیب طرح کا اعتماد تھا ۔ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ دبا دبا کے گلے ملے ۔ کنستر سے پانی کا لوٹا بھرا ہمارے منہ ہاتھ دھلائے ۔ ان کی جھونپڑی میں ایک صف سے بچھی تھی ۔ اس پر ہمیں ایسے بٹھایا کہ جیسے ہمارا انتظار کر رہے ہوں ۔ ہم نے ان سےکہا: بڑے میاں آپ اس بیابان میں کیسے رہ رہے ہیں؟
وہ بولے:کیا خدا نے اپنی مخلوق سے رزق کا وعدہ نہیں کر رکھا؟
ہم نے یک زبان ہو کرکہا: ہاں کر رکھا ہے۔

ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟
وہ کہنے لگےکہ ا  س کے خیال میں اس کا ذریعہ معاش دوسرا آدمی ہے۔
میں ہر نماز کے وقت اٹھتے بیٹھتے اپنے پروردگار سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب مجھے کبھی اس کیفیت میں نہ رکھنا کہ میں اکیلا کسی وقت کھانا کھاؤں ۔ آپ مجھ پر اپنی رحمت کرنا اور جب بھی کھانے کا وقت ہو تو دوسرا تیرا بندہ بھی ہو جس کے ساتھ بیٹھ کر میں کھانا کھاؤں۔
 اس نے بتایا کہ اسے یاد نہیں پڑتا  کہ کبھی اس نے اکیلا کھانا کھایا ہو ۔ کھانے کے وقت کوئی نہ کوئی انسان ضرور آ جاتا ہے ۔ آج کھانے کا وقت نکلا جا رہا تھا اور میں پریشان تھا کہ آج میں اکیلا کھانا کیسے کھاؤں گا ۔ اس نے دو تین سوکھی سی روٹیاں نکالیں گھڑے کا پانی لایا  اور کھانا شروع کر دیا ۔ میں نے ممتاز مفتی کو کہنی ماری کہ اپنا سودا نکالو۔
ہم نے چلتے وقت  بُھنے  ہوئے چنے رکھ  لیے تھے ۔ کہ وہ بوقت ضرورت کام آئیں ۔ اس نے روٹیاں نکالیں ۔ ہم نے چنے نکالے  اور سب نے مزے سے باتیں کرتے ہوئے کھانا کھایا ۔
خواتین و حضرات ! آپ یقین کریں کہ اس کھانے میں ایک روٹی بچ گئی ۔ اور ہمارے چنے بھی کافی سارے بچ گئے ۔ اور ہم سیر شکم ہو گئے ۔ اس شخص نے بتایا کہ یہاں سے شہر زیادہ دور نہیں ہے ۔ چند کوس کے فاصلے پر ہے ۔ یہاں سے اونٹ چرانے والوں کے قافلے گذرتے ہیں  آپ ان کے ساتھ چلے جائیے گا ۔ ہم نے اپنے باقی چنے وہیں چھوڑ دیے اور قافلے کے ساتھ شہر پہنچ گئے ۔
بچو ! یہ بھی دعا تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی دوسرے کے رزق کے باعث اس شخص کو بھی کھانا میسر ہوتا ہو ۔ ممتاز مفتی مجھ سے کہنے لگا کہ یہ شخص بڑا سیانا ہے کسی کے لیے دعا مانگتا ہے اور کھانا خود مزے سے کھاتا ہے ۔  ہم صرف اپنے لیے ہی دعا کرتے ہیں اور پھر بھی بھوکے مرتے ہیں ۔

اشفاق احمد

چڑیا رانی (بچوں کی نظم)

ایک پیاری سی چڑیا کی پیاری سی متحرک (اینی میٹڈ) نظم جو "کام ، کام اور کام" کے مقولے پر یقین رکھتی ہے۔  :-)

ہر وقت کام کرنے کی اسی دُھن کی وجہ سے اس نظم میں چڑیا کو "پرندوں کی رانی" کا خطاب دیا گیا ہے۔


نظم کے بول پیش خدمت ہیں۔۔۔

چڑیا رانی چڑیا رانی
تم پرندوں کی ہو رانی
صبح سویرے اٹھ جاتی ہو
نہ جانے کیا گاتی ہو
کیا تم بھی پڑھنے جاتی ہو؟
یا نوکری کرنے جاتی ہو؟

شام سے پہلے آتی ہو
بچوں کا دانہ لاتی ہو
بھر بھر چونچ کھلاتی دانہ
چوں چوں چہکتی گاتی گانا
چڑیا رانی چڑیا رانی
تم پرندوں کی ہو رانی




چالاک لومڑی (بچوں کی کہانی)

ایک چالاک لومڑی کی دلچسپ اور سبق آموز کہانی جس نے اپنی چالاکی سے ایک مشکل صورتحال سے نجات حاصل کی۔

اس کہانی سے تین سبق ملتے ہیں:

1۔ چوری کرنا جُرم ہے اور بے حد برا فعل ہے۔
2۔ چالاک لوگوں پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ وہ ہمیشہ آپ کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرینگے۔
3۔ لالچ بُری بلا ہے۔




غرور کا انجام (بچوں کی سبق آموز کہانی)

یہ کہانی ہے ایک غریب لکڑہارے کی، جو امیر ہونے کے بعد مغرور ہوگیا تھا۔

یہ کہاوت تو سب نے سنی ہوگی کہ غرور کا سر نیچا۔ غرور یا بے جا فخر کرنا کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنے سے غریب اور مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیئے۔ برا وقت کبھی بتا کر نہیں آتا۔ کیا خبر کہ خدانخواستہ کل ان کی جگہ ہم ہوں اور ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت پڑ جائے؟



<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.