2016

شریف اور شرافت

ایک ڈاکو کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے نے سوچا... 

کہ وہ کوئی ایسا کام کرے کہ لوگ اس کے باپ کو عزت سے یاد کریں.


بہت سوچنے کے بعد اس نے یہ کیا کہ لوگوں کو لوٹنے کے بعد ان کے کپڑے بھی اُتار لیتا.

کچھ ہی دنوں بعد اس علاقے کے لوگ کہنے لگے:

"اللہ بخشے اس کے والد کو، اتنے شریف اور نیک تھے کہ صرف مال و اسباب لوٹا کرتے تھے، اس کی طرح کمینے نہیں تھے !"


*****

نوٹ: یہ محض ایک غیر سیاسی لطیفہ ہے. موجودہ ملکی حالات سے اس کا موازنہ اتفاقیہ ہو سکتا ہے جس کی ذمہ داری مصنف نہیں لیتا.

جنرل راحیل شریف اور ہماری شخصیت پرستی

ہماری قوم شخصیت پرستی کی بیماری میں بری طرح گھری ہوئی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی باتیں ہو رہی ہیں گویا اگر انھیں توسیع نہ دی گئی تو پاکستان پتھروں کے زمانے میں چلا جائے گا اور آنے والا سپہ سالار ان کے تمام اقدامات کو رول بیک کر دے گا۔

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں مسلمانوں میں یہ تاثر عام پیدا ہو گیا تھا کہ حضرت خالد بن ولید ؓ ہر جنگ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انھیں سپہ سالاری کے درجے سے ہٹادیا کہ فتح اللہ تعالٰیٰ کی مدد سے ہوتی ہے نہ کہ کسی خاص شخصیت کی وجہ سے۔ دوسری طرف امیر کی اطاعت حضرت خالد بن ولید ؓ کے کردار کا اہم حصہ تھا اور انھوں نے اس فیصلے کو بخوشی قبول کیا تھا۔

ہم ویسے تو بڑی اسلام کی باتیں کرتے ہیں مگر کبھی اسلام کے سنہرے دور سے سبق سیکھنے کی بھی کوشش کر لیا کریں تو کیا ہی بات ہو!

ایک خوددارپردیسی کی ڈائری

1 جنوری
آج میں نے Resign کر دیا۔ مجھ سے جونیر ایک سعودی کو منیجر بنا دیا گیا۔ یہ میری قابلیت کی توہین ہے۔ ساراکام ہم کریں اور کریڈٹ وہ لے جائیں یہ غلط ہے۔ جس قوم میں ترقی کی بنیاد بجائے تعلیمی قابلیت کے نیشنالٹی یا واسطہ یا کوئی اور چیز دیکھی جائے وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔

5 جنوری
آج شیخ صاحب نے خود بُلا کر سمجھانے کی کوشش کی اور تنخواہ دس ہزار ریال کر دینے کا وعدہ کیا لیکن میں اپنی خود داری اور وقار کو ریالوں کے عوض بیچنا نہیں چاہتا۔

10جنوری
میں نے واپسی کی سیٹ بُک کروا لی۔ انشاء اللہ جاتے ہی کاروبار شروع کر دوں گا۔ الحمدللہ پورے 25 لاکھ روپئے میرے پاس ہوں گے جو کہ کوئی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتا کہ اتنے بڑے سرمائے سے وہ کوئی کاروبار شروع کر سکتا ہے۔ میرے دونوں سالے ساجد اور حمید بزنس میں تجربہ کار ہیں دونوں کی مدد سے انشاء اللہ ایک انڈسٹری یا فیکٹری کا آغاز کروں گا۔ میرے اپنے بڑے بھائی احمد اور نوید بھی دوبئی اور امریکہ میں ہیں وہ بھی مدد کرنے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

2 فروری
آج وطن لوٹا ہوں۔ اِس سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی اور کیا ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنے وطن میں کمائے کھائے اور اپنوں کے درمیان رہے۔ جو محنت لوگ باہر کرتے ہیں اگر یہی اپنے وطن میں رہ کر کریں تو نہ صرف کفیلوں کی غلامی سے آزاد ہو سکتے ہیں بلکہ ملک بھی ترقی کر سکتا ہے۔

15 فروری
ساجد کے مشورے پر میں نے اس کے ساتھ دس لاکھ لگا دئیے۔ اُس نے ایک ایسے علاقے میں پلاٹ خریدا جو ایک سال میں ہی پچیس لاکھ دے جائے گا۔

25 فروری
حمید کنسٹرکشن کے کام میں برسوں سے لگا ہوا ہے میں نے اُس کے کہنے پر پانچ لاکھ اُس کے ساتھ لگا دئیے۔ ایک سال میں دس لاکھ تک وصول ہو جائیں گے۔

2 مارچ
باہر رہ کر اِتنے سال caprice چلائی اب مسلسل اِسکوٹر چلانا عجیب لگ رہا ہے۔ اِس سے image بھی خراب ہو رہا ہے کیونکہ سبھی دوستوں کے پاس کاریں ہیں اِسلئے حمید نے اپنے ایک دوست سے دو لاکھ میں ایک پُرانی corollaکی ڈیل کروا دی۔

15 مارچ
زرینہ کی ہمیشہ سے شکایت رہتی تھی کہ ہماری شادی کے بعد سے آج تک ہم نے کوئی دعوت نہیں کی ہمیشہ دوسروں کی دعوتوں میں جا کر کھا کر آتے ہیں ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم بھی کبھی دوسروں کو بُلائیں۔ اسلئے ہم نے ببلو کی بسم اللہ کر ڈالی۔ ہال کا کرایہ کھانا اسٹیج اور ویڈیو وغیرہ کے مِلا کر کُل ایک لاکھ خرچ ہوئے

20 اپریل
آج ابّا جان نے بُلا کر کہا کہ شہانہ کے لیے ایک اچّھا رشتہ آیا ہے آجکل لڑکوں کے rates بہت زیادہ ہیں لوگ جہیز وغیرہ کا راست مطالبہ نہیں کرتے صرف یہ کہتے ہیں کہ اپنی خوشی سے جو چاہے دے دیجئے یہ ایک مکّاری ہے وہ رشتہ بھیجتے ہی ایسی جگہ ہیں جہاں سے انہیں بغیر مطالبے کے ہی بہت کچھ مل سکتا ہو۔

5 جون
ببلو کو رائل پبلک اسکول میں اڈمیشن کا ایک ذریعہ ملا ہے لیکن پچاس ہزار ڈونیشن کے علاوہ پچیس ہزار تک پرنسپل سمیت درمیان کے لوگوں کو کھلانا ہے۔ بینک میں پیسے ختم ہو چکے ہیں

20 جون
ساجد کو میں نے جو بھی قیمت آئے پلاٹ بیچنے کے لیے کہا لیکن جواب ملا کہ اُس پر جہانگیر پہلوان کے لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے اُلٹا ساجد مجھ سے ہی پولیس کاروائی کے لیے کم از کم ایک لاکھ مانگ رہا ہے ورنہ کیس دو تین سال کھینچ سکتا ہے

25 جون
حمید سے پیسوں کا انتظام کرنے کہا لیکن وہ کہہ رہا ہے کہ بلدیہ والوں نے Illegal construction کا پرچہ پھاڑ دیا ہے کم از کم ایک آدھ لاکھ کھِلانا  پڑے گا ورنہ کوئی گاہک پلاٹ خریدنے نہیں آئے گا اور تعمیر کا کام ایسے ہی رُکا رہے گا۔ بلکہ اسٹیل اور سمنٹ کے بڑھتے ہوئے داموں کی وجہ سے خرچ اور بڑھ جائے گا۔

10 جولائی
ابّا جان کو دل کا دورہ پڑا۔ فوری دوا خانے میں شریک کروانا پڑا ڈاکٹر اِس دور کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں
فوری ایک لاکھ روپیئے جمع کروانے کے لیے کہا۔

25 جولائی
آج بینک سے چھ ہزار ماہانہ شرحِ سود پر ایک لاکھ کا لون لینا پڑا

14 اگست
احمد بھائی نے کہا کہ بھابھی کے آپریشن اور زچگی کی وجہ سے وہ مقروض ہیں اور دوبئی میں مکانوں کے کرائے اندھا دھند بڑھا دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ سخت پریشان ہیں واپس آنے کی سوچ رہے ہیں

25 اگست
نوید بھائی نے کہا کہ انہوں نے امریکہ میں کریڈٹ پر پٹرول پمپ خریدا ہے مالی حالت خراب ہے

20 ستمبر
بینک کے قرضے کی قسط ادا کرنی ہے سوچا تھا زرینہ کا کچھ زیور بیچ دوں گا یوں بھی یہ عورتیں مردوں کی کمائی کو لاکرز میں سڑاتی ہیں۔ لیکن زرینہ کا زیور اُنکی امی جان کے لاکر میں ہے اور وہ اپنے بیٹے کے پاس امریکہ گئی ہوئی ہیں۔

3 اکتوبر
کار فروخت کر دی۔ یہاں کی ٹرافک میں کار یوں بھی ایک حماقت ہے آدمی اسکوٹر پر کہیں زیادہ آرام سے پہنچ جاتا ہے۔ فضول کی شان میں پٹرول کا اصراف صحیح نہیں ہے۔

25 اکتوبر
انڈسٹریل لون کے لیے درمیان کے لوگ اور بینک منیجر ایک لاکھ رشوت مانگ رہے ہیں ادا کرنے پر مکان کے کاغذات رہن رکھ کر پچیس لاکھ دیں گے اور تین سال میں پینتس لاکھ وصول کریں گے پتہ نہیں اِس ملک میں لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں محنت اور ایمانداری سے جینا ناممکن ہے۔

1 نومبر
آج شیخ صاحب سے ویزا کے لیے بات کی انہوں نے ایک مہینے بعد فون کرنے کہا

1 دسمبر
آج پھر شیخ صاحب سے بات کی اُنہوں نے تین ہزار ریال ماہانہ کا آفر دیا۔ میں نے ہاں کہہ دیا۔ عزّت کے ساتھ یہ بھی مِل جائیں تو بڑی نعمت ہے ورنہ اپنے ملک میں آدمی دن رات محنت کر کے دنیا بھر کے جھوٹ اور چکمے بازیاں کر کے بھی اتنا نہیں کما سکتا جب کہ وہاں کم از کم جھوٹ دھوکہ چکمہ یہ سب تو نہیں کرنا پڑتا

15 دسمبر
الحمدللہ آج ویزا آ گیا۔ انشاء اللہ ہفتے دو ہفتے میں اس دوزخ سے نجات مِل جائے گی

31 دسمبر
آج دوبارہ سعودی عرب پہنچ گیا الحمدللہ۔ ایک ڈراؤنا خواب تھا جو ختم ہوا۔ اب سوچ لیا ہے کہ جب تک پورے ایک کروڑ روپئے جمع نہیں ہوتے ہرگز واپس نہیں جاؤں گا۔

٭٭٭

عرصہ ہوا علیم خان فلکی ، ہندوستانی مزاح نگار اور شاعر کی یہ تحریر میری زنبیل میں پڑی تھی ، سوچا آج آپ سب کی تفریح طبع اور سامانِ عبرت کے لیے شئیر کر ہی دوں۔ 

جنگل کا بادشاہ

پاکستانی چڑیا گھر میں ایک شیر بہت پریشان ہو گیا کیونکہ اسے روزانہ کا صرف ایک کلو گوشت دیا جاتا تھا اور مزید طلب کرنے پر اسے کہہ دیا جاتا تھا کہ مہنگائی بہت ہے, اتنے سے ہی کام چلاؤ۔



جب پاکستان اور دبئی کے درمیان جانوروں کے انتقال کا منصوبہ فائنل ہو گیا تو اس شیر کو دبئی ٹرانسفر کرنے کے لیے منتحب کر لیا گیا۔ وہ شیر سمجھا کہ میری دعائیں قبول ہو گئیں ہیں۔ اب صاف ستھرا زو، اے سی اور پیٹ بھر کھانا ملے گا۔

دبئی پہنچنے کے بعد پہلے دن اسے ایک انہتائی خوبصورتی اور مہارت سے سیلڈ تھیلا ملا۔ شیر بہت خوش ہوا اور جلدی سے تھیلا کھول دیا۔ تو اس میں صرف چند کیلے تھے۔ شیر بہت حیران ہوا۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید غلطی سے یہ تھیلا میرے پاس آ گیا ہو تو اس نے کیلے کھائے پانی پیا اور اللہ کا شکر ادا کر کے سو گیا۔

اگلے دن پھر وہی بات ہوئی۔ کھانے کا تھیلا کھولنے پر اندر سے کیلے نکلے شیر کا دماغ کھول گیا۔ اس ڈلیوری بوائے پر انتہائی غصہ آ گیا۔ بولنے لگا کل آ لینے دو اس ڈلیوری بوائے میں اس نے نمٹ لوں گا۔

اگلے دن پھر ڈلیوری بوائے آیا تو شیر نے اسے روک لیا۔ اور اس کے سامنے پیکٹ کھولا۔ اندر سے پھر کیلے نکلے۔ شیر نے ڈلیوری بوائے کو بہت غصے کہا: 

"تم ایسے کام کرتے ہو تمہیں پتہ ہی نہیں کہ شیر کیا کھا تا ہے۔ روز غلط کیلوں کا پیکٹ دے جاتے ہو۔ تمہیں پتہ نہیں کہ میں شیر ہوں جنگل کا بادشاہ ہوں ،اور جنگل کا بادشاہ گوشت کھاتا ہے-"

ڈلیوری بوائے نے بہت اطمینان سے اس کی ساری بات سنی اور بہت نرم اور پرسکون لہجے میں بولا:

"سر میں جانتا ہوں کہ آپ جنگل کے بادشاہ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
معذرت کے ساتھ کہ آپ کو یہاں بندر کے ویزے پر لایا گیا ہے۔"

منقول

کتب بینی اور موبائل

راتوں کو چلتی رہتی ہیں موبائل پر اُنگلیاں
سینے پر کتاب رکھ کر سوئے کافی عرصہ ہو گیا!


مسجد الحرام کے تازہ فضائی مناظر

سعودی پریس ایجنسی نے مسجد الحرام کے تازہ ترین فضائی مناظر شائع کیے ہیں جس سے حرم شریف کی تازہ ترین توسیع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔











رمضان کے روزے آئیں (متحرک نظم)

رمضان کے روزے آئیں
ہم جھوم جھوم جائیں
ہم روزہ رکھنا چاہیں
تو گھر والے فرمائیں
اگلے سال۔۔۔!

رمضان کے روزے آئیں
ہم جھوم جھوم جائیں
ہم شربت پینا چاہیں
تو گھر والے فرمائیں
سب کے ساتھ۔۔۔!

رمضان کے روزے آئیں
ہم جھوم جھوم جائیں
ہم پکوڑے تَلنا چاہیں
تو گھر والے فرمائیں
خطرناک۔۔۔!

Facebook (HD):


Ramzan Ke Rozay (Urdu Poem for Kids)
رمضان کے روزے آئیں ہم جھوم جھوم جائیں ہم روزہ رکھنا چاہیں تو گھر والے فرمائیں اگلے سال۔۔۔! رمضان کے روزے آئیں ہم جھوم جھوم جائیں ہم شربت پینا چاہیں تو گھر والے فرمائیں سب کے ساتھ۔۔۔! رمضان کے روزے آئیں ہم جھوم جھوم جائیں ہم پکوڑے تَلنا چاہیں تو گھر والے فرمائیں خطرناک۔۔۔! #RamadanKareem #RamadanMubarak #رمضان
Posted by Shobi TV on Sunday, June 5, 2016



Dailymotion:



YouTube:



ماہِ رمضان سے متعلق قرآنی آیات (اینی میشن)

رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اول اول نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو حق و باطل کو الگ الگ کرنے والا ہے۔

اس اینی میشن میں سورۃ بقرہ کی آیات 183 سے 185 تک کی (امامِ کعبہ شیخ ماهر المعيقلي  کی آواز میں) تلاوت شامل ہے ۔ ان آیات کا ترجمہ ذیلی ٹائٹل میں دیا گیا ہے اور آخر میں رمضان مبارک کے پیغامات شامل ہیں۔

Facebook (HD): 


Quranic Verses on the Month of Ramadan and Fasting (Surah Al-B...
Ramadan is the (month) in which the Quran was sent down, as a guide to mankind and a clear guidance and judgment (so that mankind will distinguish from right and wrong. This animation includes the recitation of Surah Al-Baqara Ayat 183 to 185 (Recitation by Sheikh Maher al-Muaiqly, the the Imam of the Grand Mosque in Makkah) with Urdu Translation and Ramadan Greetings). #RamadanKareem #RamadanMubarak
Posted by Shobi TV on Monday, May 23, 2016


YouTube (HD):



Dailymotion (HD):




اُمید ہے یہ اینی میشن پسند آئے گی!۔۔۔

خواتین اور رمضان کی تیاری

فون پر آج ان کی گفتگو کا موضوع رمضان کی تیاری تھی میری قریبی عزیزہ ہیں بیمار بھی رہتی ہیں وہ فکرمند تھیں کہ رمضان بس قریب ہی آگیا ہے اور رمضان کی تیاری نہیں کر پا رہی ہیں، بیرون ملک سے بیٹی آگئی ہے لہذا گھر کے معمولات خاصے ڈسٹرب ہیں۔۔۔۔۔۔!



میں نے جاننا چاہا کہ ایسی کیا تیاری ہے جس کے لئے وہ اتنی فکرمند ہیں تو وہ بولیں کہ رمضان سے پہلے کچن سیٹ ہو جاتا ہے تو سہولت رہتی ہے کیونکہ رمضان میں کھانا پکانا نسبتاً زیادہ ہوتا ہے. افطار پارٹی پر بھی دوست احباب آتے ہیں لہذا کچھ نئی کراکری، پریزر کے لئے نئے ڈونگے اور دستر خوان کی ڈشیں وغیرہ۔ اچھی خاصی فکر کرنا ہوتی ہے رمضان سے قبل اور ظاہر ہے یہ مردوں کی فکریں تو ہیں نہیں. رمضان سر پر آگیا اور تیاری کچھ نہیں بس روز سوچتی ہوں بازار نکل جاؤں مگر وقت ہی نہیں مل پا رہا لگ رہا ہے اس بار بغیر تیاری ہی کے رمضان آجائے گا!۔

میں سوچنے لگی رمضان کے استقبال کی فکر کتنی مبارک فکر ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو شعبان میں جمع کر کے رمضان کی تیاری کی طرف متوجہ کرتے تھے لیکن مذکورہ فکر ہی کیا حقیقی فکر ہے؟ اور کیا رمضان کی تیاری میں یہی ایک عنوان ہماری فکر اور پریشانی کا مرکز ہونا چاہئے۔

عام طور پر معاشرے میں استقبال رمضان کی تیاریوں میں گھروں کی اضافی جھاڑ پونچھ اور صفائی ستھرائی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے یہ اپنی جگہ کوئی معیوب بات نہیں لیکن ہماری فکر اور شعور کی یہ انتہا نہیں کہ بس گھر صاف ستھرا ہوجائے؟

کچن کے اضافی برتن اور اضافی راشن آگیا تو بحیثیت خاتون خانہ میری ذمہ داری پوری ہو گئی. اس ساری صفائی اور تیاری میں اہم ترین بات یہ کہ روزے کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔۔۔

” لعلکم تتقون” تاکہ تم تقوٰی حاصل کرو.

 کسی نے پوچھا اللہ کے نبی تقوٰی کا مقام کیا ہے؟ آپ نے دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ” تقوٰی یہاں ہے” تقوٰی جس کا مقام دل ہے اس دل کی صفائی مطلوب نہیں کیا رمضان سے قبل؟ اس شیشہ دل میں بھی تو کتنا گردو غبار آچکا ہے۔ اپنے قریبی عزیزوں سے مراسم کتنی بار شکستہ ہوئے کتنی بار دل ان رشتوں سے ٹوٹ ٹوٹ گیا. شیشہ کو صاف نہ کریں توکب اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں. اس دل پر کتنے جالے لگے ہیں بدگمانیوں کے، نفرتوں کے، حسد کے اور بغض کے. مانا کہ غلطیاں دوسروں کی بھی تھیں لیکن مجھے تو فکر بس اپنے دل کی مطلوب ہے کہ اسکو جھاڑ پونچھ کر صاف ستھرا کرلوں کہ رمضان میں تو اپنے رب کا جلوہ دیکھ سکوں. اس کی معرفت سے فیضیاب ہو جاؤں. بس معاف کر دیں سب کو کہ میں شب قدر کی عظیم راتوں میں کیسے استغفار طلب کروں گی جب میں خود اس کے بندوں کو معاف کرنے پر تیار نہیں تو اسکے سامنے معافی کا دامن کیسے پھیلاؤں یا اس لئے معاف کر دوں تاکہ مجھے بھی اس در سے معافی مل جائے!

ایک فکر کی بات یہ ہے کہ جب عام دنوں میں ہم تین وقت دستر خوان پر بیٹھتے ہیں اور رمضان میں صرف دو وقت تو پھر ہماری مصروفیات اور کچں کے اخراجات اور لوازمات کی فہرست اتنی لمبی کیوں ہوتی ہے؟

رمضان میں بھوکا رکھنے کی پریکٹس کرانے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم اس لذت دنیا سے باہر نکلیں جس نے ہمیں مادہ پرست بنا دیا ہے ۔۔۔۔۔۔!

ہم جسمانی لذتوں کے حصول میں ایسے منہمک ہوئے کہ روحانی تقاضوں کو بھول گئے اسلئے روزہ ہمیں دو اہم ترین جسمانی تقاضوں یعنی نیند اور بھوک پر کاری ضرب لگانا سکھاتا ہے لیکن بظاہر بھوکے رہ کر اگر سارا دن ہم افطار کے لوازمات اور اسکی تیاریوں کی فکر ہی میں لگے رہتے ہیں اور سہ پہر سے ہی کچن کا رخ کرتے ہیں کہ بچوں کی علیحدہ علیحدہ فرمائشیں پوری کرنا ہوتی ہیں تو پھر تو ہم نے روزے کے اصل مقصد کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی، پھر نفس میں کہاں ضبط آیا. پھر جسمانی تقاضوں سے کہاں ناطہ کمزور ہوا؟

ہم تو رمضان میں اپنے نفس کی وہ وہ خواہشات پوری کرتے ہیں اسکے وہ وہ ناز اٹھاتے ہیں جو عام دنوں میں نہیں تو پھر کہاں تزکیہ کا مقصد حاصل ہوا؟ میری چھوٹی بہن کہنے لگی کہ وہ روزے کی حالت میں اور افطار سے گھنٹہ بھر قبل کچن میں جاتی ہے اور افطار اور کھانے سب سے فارغ ہو کر پھر افطار کے فوراً بعد تراویح کی تیاری میں مصروف ہو جاتی ہے اور سب اہل خانہ مسجد میں تراویح کے لئے جاتے ہیں. وہ بولی ہمارے میڈیا نے ہمیں یہ باور کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ رمضان لذت کام و دہن کا مہینہ ہے. طرح طرح کے پکوان، خوش ذائقہ اور مہنگی ڈشیں، کثرت سے تلی ہوئی چیزوں کی جو ترکیبیں نشر کی جاتی ہیں حالانکہ رمضان میں ہمیں سادگی کو فروغ دینا چاہئے “وہ بولی میں ایک دن ماسی کو ساتھ لگا کر مہینہ بھر کا لہسن ادرک اور سرخ پیاز پیس کر فریز کر لیتی ہوں. سبزیاں جو کاٹ کر فریز کی جا سکتی ہیں فریز کرلیتی ہوں اور دستر خوان پر صرف ایک کھانا ہوتا ہے اور فروٹ اور جس دن افطاری بنانی ہوتی ہے اس دن کھانے کی چھٹی کیونکہ پیٹ تو ایک ہی ہے اسے اتنا کیوں بھر لیا جائے کہ تراویح میں ڈکاریں اور نیند آتی رہے. گھر میں سب کو ہدایت ہے کہ اپنی پلیٹ گلاس کپ اور چمچے خود دھو کر رکھیں. میں تو کوشش کرتی ہوں کہ ماسی سے بھی کم مشقت لوں کیونکہ رمضان میں ملازمین سے کم مشقت لینے کا بھی بہت اجر ہے.

حقیقت یہی ہے جو ہم نے اپنا لائف اسٹائل بنایا ہے اسکا تعلق ہمارے مائنڈ سیٹ کے ساتھ ہے. ہم جو سوچتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ میری ایک عزیزہ جن کے کئی بچے ہیں بولیں ” آدھا رمضان تو عید کی تیاری میں اور بازاروں کی نذر ہو جاتا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ رمضان میں عید کا کوئی تذکرہ کوئی تیاری نہیں کرنا کیونکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے رمضان کا اور طاق راتوں کا پورا پورا حق ادا کیا ہو ورنہ تو پھر عید نہیں بلکہ وعید ہے اس لیے میں گھر کے تمام افراد کے عید کے کپڑے شعبان کے آخر میں استری کر کے ہینگ کر دیتی ہوں ‌کہ اس طرف سے کوئی فکر نہ رہے۔ باقی میچنگ وغیرہ بچیوں کی شعبان میں ہی مکمل کرالیتی ہوں کہ رمضان کے بابرکت دن اور طاق راتوں میں ان دنیاوی فکروں سے تو ذہن یکسو ہو جائےکہ ہمارے روزو شب ہماری فکری صلاحیتوں اور ہماری منصوبہ بندی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ ناقص منصوبہ بندی یا منصوبہ بندی کا فقدان ہماری زندگی کے معیار کو خاصہ ڈسٹرب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

ہمیں اس بات کا پورا شعور ہونا چاہئے کہ رمضان کے دن اور رات کا ایک ایک لمحہ اتنا قیمتی ہے کہ ایک پوری زندگی دے کر بھی ہم اسکا نعم البدل حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم میں سے ہر ایک اس پر قادر ہے کہ رمضان کے آغاز میں ہی ایک فہرست بنالیں کہ کون سے کام انتہائی اہم ہیں جو دوراں رمضان انجام دینا ہیں۔ جان رکھئے کہ دنیا میں کامیابی انکو ملتی ہے جنکے پاس اپنی ترجیحات کا درست تعیں موجود ہوتا ہے۔

جہاں ہم سحر و افطار میں بچوں کی غذا کی ضروریات کے لئے حساس ہو جاتے ہیں وہیں رمضان کو اپنے بچوں کی تربیت کا مہینہ بنائیں۔ انکے سامنے ایک مسلمان روزہ دار ماں کا آئیڈیل نمونہ پیش کریں جو کسی کی غیبت نہیں کرتی، جو کسی سے چلا کر بات نہیں کرتی، گھر کی ماسیوں پر غصہ نہیں کرتی، ٹی وی کے سامنے وقت ضائع نہیں کرتی، بچوں پر عام دنوں سے زیادہ شفقت اور مہربانی کرتی ہے۔ ہمارا رویہ ہی بچوں کو رمضان کی عظمت کا احساس دلائے گا اور وہ خود بھی بچنے کی کوشش کریں گے ” لغویات” سے اور روزہ درحقیقت ہمیں “بچانے ” کی پریکٹس کا ہی ذریعہ ہے کیونکہ تقوٰی کے معنی بچنے کے ہیں۔ افطار سے قبل دعا کی قبولیت کا خاص وقت ہوتا ہے جس وقت عام طور پر خاتون خانہ کچن سے گرم پکوڑے و سموسہ دسترخوان پر بھیجنے میں مصروف ہوتی ہے اور گھر میں چیخ و پکار کہ شربت بھی ابھی نہیں بنا اور فروٹ چاٹ بھی ابھی مکس نہیں ہوئی۔ دسترخوان پر پلیٹس اور گلاس بھی کم ہیں وغیرہ۔ ہونا یہ چاہئے کہ افطار سے کم از کم 15 منٹ قبل تیاری مکمل کر کے آپ دستر خوان پر موجود ہوں۔حدیث کی کوئی کتاب، قرآن کا کچھ حصہ اسوقت پڑھا جاسکتا ہے۔ دعاؤں کی بہترین کتابیں موجود ہیں، اجتماعی دعا کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ بہت انمول وقت ہوتا ہے جب سب اہل خانہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسوقت کو ایک ماں سمجھداری سے تذکیر اور تربیت کے لئے بھی استعمال کر سکتی ہے۔ افطار کا وقت قبولیت دعا کا اہم ترین وقت ہوتا ہے، اسکو اسی لئے استعمال ہونا چاہئے۔

رمضان میں نیکیوں کا سالانہ میلہ لگتا ہے جو آپ کے لئے سالانہ امتحان کا درجہ رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ امتحان میں کامیابی صرف خواہشوں سے نہیں بلکہ امتحان کی بروقت اور بہترین تیاری سے مل سکتی ہے۔ وہ تیاری جو میرے اور آپ کے بس میں ہے، تو اٹھئے اور نیکیوں کے اس موسم بہار کے لئے اپنی اور اپنے اہل خانہ کے لئے تیاری کیجئے کہ اللہ نے آپکو ایک بار پھر یہ سعادت عطا فرمائی ہے کہ نیکیوں کا موسم بہار آپ کے دروازے پر دستک دینے کو ہے۔

تحریر: افشاں نوید

میں جانوں میرا خدا جانے

ارے لوگو!۔۔۔۔۔ تمھارا کیا؟
میں جانوں میرا خدا جانے


حصولِ اہداف کے 20 بنیادی اُصول

  1. اپنے کام سے محبت
  2. اَن تھک محنت اور لگاتار کوشش
  3. ناکامیوں سے دل برداشتہ ہونے کی بجائے سبق حاصل کرنا
  4. مثبت سوچ اور رویہ
  5. اپنے آپ سے مخلص ہونا
  6. ضبطِ نفس
  7. مستقل مزاجی
  8. کامیابی کی شدید خواہش
  9. بھرپور لگن
  10. ذمہ داری کا احساس
  11. قوتِ فیصلہ
  12. کامیابی کا تعلق ذہن سے ہے
  13. یقینِ کامل
  14. بہترین بنیں
  15. مسلسل سیکھیں
  16. اپنے مقصد کی اہمیت اور قدر پریقین
  17. کوششوں اور توجہ کا ارتکاز
  18. ریفرنس گروپ
  19. کامیاب لوگوں کی پیروی کریں
  20. وقت کی صحیح تقسیم / ٹائم مینجمنٹ
Dr. Muhammad Arif Siddiqui's Book Goals Targets

ہولی ہے

اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ ہولی ضرور منائیں. ہم اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن انصاف کا تقاضا تو پھر یہ بھی ہے کہ جب بقرعید کے موقع پر آپ گائے کی قربانی کریں تو آپ اس کا گوشت اپنے ہندو دوستوں کو بھی ضرور بھجوائیں اور انھیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے. آخر آپ بھی تو اپنی روشن خیالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے خدا رام چندر جی کی ایودھیا واپسی کی خوشی منا رہے ہیں جو کہ آپ کے مذہب کے مطابق کفریہ عقیدہ ہے.

اور اگر انھیں آپ کے اس عمل پر اعتراض ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے عقائد کی توہین سمجھتے ہیں تو پھر آپ کو ایسی کیا موت پڑی ہے کہ اپنی روشن خیالی ثابت کرنے کے لیے آپ کو اپنے عقیدے کی توہین کرتے ہوئے ہندوؤں کا تہوار منانا پڑ رہا ہے؟ آپ سے اچھے تو پھر ہندو ہوئے جن میں کم از کم دینی حمیّت تو موجود ہے۔
لعنت ہے آپ کی روشن خیالی پر۔۔۔

‪#‎HoliHai‬ ‪#‎Holi‬

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

ایک تو ویسے ہی بم دھماکوں میں ہماری جانیں جا رہی ہیں. اوپر سے ہم نے یہ "تو گستاخ! نہیں تو گستاخ!" کا نیا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے. کوئی نہیں ہے جو اس خونی کھیل کو آگے بڑھ کر روکے. علماء کرام کو اپنی جانوں کے لالے پڑے ہیں. اسی لیے کوئی صاحب جنت کی حسین و جمیل حوروں کے دلکش نقوش بیان کرنے میں مصروف ہیں تو کوئی صاحب "ایک چُپ سو سُکھ اور خاموشی کے فضائل" بتانے میں مشغول ہیں.

آج جب کہ سرزمینِ پاکستان میں ایک طرف خوارج خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف چند نام نہاد عاشقانِ رسول دین کے ٹھیکیدار بن کر ایک دوسرے کو گستاخ قرار دے کر اسلام کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں، ہمارے علماء کرام لمبی تانے سو رہے ہیں۔ اے اللہ کے بندو! اٹھو! کچھ بولو اور کچھ کرو! اب نہیں کچھ کرو گے تو کب کرو گے؟ کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

مقدس مقامات اور سیلفی جنون

اسلام امن اور باہمی رواداری کا مذہب ہےاور ہر رنگ، نسل اور عقیدےکے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اسلام میں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ۔ اسلام کی نظر میں سب انسان برابر اسلام امن اور باہمی رواداری کا مذہب ہےاور ہر رنگ، نسل اور عقیدےکے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اسلام میں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ۔ اسلام کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے یعنی اسلام کی نظر میں صرف وہی شخص عزت اور مرتبہ میں بڑا ہے جو خالص اللہ کی عبادت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول مانتے ہوئے ان کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال میں اسلام پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور ہر رنگ، نسل اور زبان کے لوگ اس میں شامل ہیں اور اسلام کے مرکز حجاز مقدس کے سفر کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور زندگی کی سب سے بڑی خواہش سمجھتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ سفر ہفتوں ، مہینوں یا شاید سالوں پر محیط ہوتا تھا مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر نہایت آسان اور مختصر ہوچکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان زائرین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو اس مقدس مقام کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔

مذہبی رسومات آج بھی اسی طرح انجام دی جا رہی ہیں جس طرح پہلے انجام دی جاتی تھیں۔ ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فونز نے بلاشبہ زائرین کواس سفر میں کئی طرح کی آسانیاں بہم پہنچائی ہیں مگر موجودہ زمانے کے سب سے مشہور فیشن "سیلفیاں" لینےنے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ حجاز مقدس کے متبرک مقامات پر اپنی تصویریں اُتارنے کا "جنون" اب معمول کی بات بنتی جا رہی ہے بلکہ کسی وبائی مرض کی طرح تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔

سیلفی لینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص باور کروا سکے کہ وہ اس مقام پر موجود تھا۔ یہ "مرض" زائرین میں شاید کسی حج سے شروع ہوا تھا مگر اب شاید ہر مقام پراس مرض میں مبتلا مریض دیکھے جا سکتے ہیں۔زائرین کی ایک بڑ ی تعداد اب طوافِ کعبہ کے دوران رُک رُک کر سیلفیاں لیتے دیکھی جا سکتی ہے یہاں تک کہ کئی لوگوں کو کعبہ کے گرد گھومتے ہوئے ویڈیو بناتے اور براہِ راست ویڈیو کال کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔یہ عمل ٹھیک ہے یا غلط اور اس عمل سے زائر کی عبادت متاثر ہوتی ہے یا نہیں، یہ ایک علیحدہ بحث ہےلیکن اس بات سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ اس عمل سے دوسرے زائرین کی عبادات لازمی متاثر ہوتی ہیں یا کم از کم ان کی توجہ ضرور بھٹکتی ہے۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب اسمارٹ فونز یاکیمرے والے موبائل فونز کا وجود نہیں تھا اور حرم شریف کے اندر کیمرہ لے جانا ممنوع تھا۔ حرم شریف کے باہر صحن میں ضرور لوگ چھپ کر چپکے سے تصاویر اُتار لیا کرتے تھے مگر اگر کسی سیکورٹی والے کی نظر پڑ جاتی تھی تو ان کے کیمرے ضبط کر لیے جاتے تھے یا انھیں تنبیہ کر کے چھوڑ دیا جاتا تھا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ "سیلفی جنون" کی وجہ سے نہ صرف طوافِ کعبہ کی روانی متاثر ہوتی ہےبلکہ سیلفی لینے والے کے اچانک رُک جانے کی وجہ سےپیچھے آنے والے زائرین ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں یا انھیں راستہ بدل کر گزرنا پڑتا ہے۔ اس طرح اس عمل سے ناصرف سیلفی لینے والے کی توجہ متاثر ہوتی ہے بلکہ دوسرے زائرین کی عبادت کا بھی خشوع و خضوع رخصت ہو جاتا ہے۔

سیلفیاں لینے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ یہ "بے ضرر" عمل صرف اس زیارت کو محفوظ اور یادگار بنانے کے لیے انجام دیتے ہیں تاکہ واپس جا کر اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ شیئر کر سکیں مگروہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اس عمل سے دوسرے زائرین کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ مقدس مقامات میں ویسے ہی لوگوں کا رش ہوتا ہےاور پھر جب کوئی شخص طواف یا سعی کے دوران سیلفی لینے کے لیے اچانک رُک جاتا ہے تو پیچھے آنے والے افراد کو بھی رُکنا پڑ جاتا ہے اور اس طرح لوگوں کی آمدورفت کی روانی متاثر ہوتی ہے۔بعض لوگ اخلاقیات سے اس قدر عاری ہوتے ہیں کہ گزرنے والے شخص کو ہاتھ سے روک کر اس کا رخ دوسری جانب موڑ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے سیلفی لینے کے"بے ضرر" عمل کو خشوع و خضوع سے انجام دے سکیں۔ یوں بھی سیلفی لینے سے پس منظر میں گزرنے والے غیر محرم خواتین و حضرات بھی تصویر کا حصہ بن جاتے ہیں جو کہ سراسر غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ 

سیلفیاں لینے والے لوگوں کو خود سوچنا چاہیئے کہ کہیں ان کا یہ عمل کسی دوسرے کی عبادت تو متاثر نہیں کر رہا ؟ اگر سیلفی لینا اتنا ہی ضروری ہے تو کم از کم کسی ایسے مقام پر کھڑے ہوکر سیلفی لیں جہاں لوگوں کا رش کم ہو اور ان کے اس عمل سے کسی دوسرے کو کسی قسم کی دشواری یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 
  

ہمارا معیار اور لوگ

لوگوں کو اپنے معیار پر جانچنے سے سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا کیونکہ قدرتی طور پر ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔



شارٹ کٹ

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی بھی گزارتے رہیں، دنیا کے بھرپور مزے بھی لیتے رہیں، دنیاوی مفاد کے لیے حرام کو حلال بھی کرتے رہیں اور اس کی "تلافی" کے لیے ساتھ ہی ساتھ تھوڑی بہت نفل عبادات کا سہارا لیتے رہیں تو انھیں جنّت کا ٹکٹ ترجیحی بنیادوں پر مل جائے گا، وہ درحقیقت احمقوں کی جنّت میں رہتے ہیں!

جنّت محض تسبیح کے دانے گھماتے رہنے اور نفل نمازیں پڑھتے رہنے سے نہیں ملے گی بلکہ پوری زندگی میں پیش آنے والی آزمائشوں پر خنداپیشانی سے پورا اُترنے اور اپنے نفس کو مکمل طور پر اللہ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق ڈھالنے سے ملے گی.

جنّت میں پہنچنے کا کوئی شارٹ کٹ یا آسان راستہ نہیں ہے!

برکت کیا ہے؟

برکت کو بیان نہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی ٹینشن کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وه دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وه کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ ره جاتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وه تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔ وه اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں  (مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیره) نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔

برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔

یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیاده اور نتیجہ خیز کام کر سكيں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

کم کھانا، زیاده افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیاده آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’اسپيشل انعام‘‘ ہے.

برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی ساده لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔

(منقول )

طبیب بندر کی عجیب کہانی

جنگل کے جانوروں نے سوچا کہ ہم میں سے بھی کسی کو طبیب (ڈاکٹر) ہونا چاہیئے۔ مشورہ کرنے کے بعد بندر کو طب (میڈیکل) کی تعلیم حاصل کرنے بھیج دیا گیا۔ بندر جب واپس آیا تو لومڑی بیمار ہوگئی۔ بندرکو اس کا علاج کرنے بلایا گیا۔ چنانچہ وہ آیا اور درختوں کی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگانے لگا۔ تین چار شاخیں ٹاپنے تک لومڑی مر گئی۔

سب بولے: "ڈاکٹر صاحب! مریضہ تو مر گئی!"

بندر نے جواب دیا: ’’دیکھئے!بھاگ دوڑ تو میں نے بہت کی مگر شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔‘‘

🙈🙉🙊

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء کا کردار

زید حامد کی کئی باتوں سے اختلاف کے باوجود اس کے اس مطالبہ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی کہ تبلیغی جماعت اور خصوصاً مولانا طارق جمیل صاحب کو واشگاف انداز میں اور openly ٹی ٹی پی (طالبان) کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے اور ان سے اظہار لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے. جس طرح جنید جمشید کے معاملے میں انھوں نے اظہارِ لاتعلقی ظاہر کیا تھا.

مولانا طارق جمیل صاحب کے بہت سارے فالوورز ہیں  خصوصاً نوجوان نسل ان سے بہت متاثر ہے اور ان کے بیانات بہت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں. نوجوانوں کو مذہب کی طرف راغب کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے. چنانچہ ان جیسے علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس فکری کنفیوژن سے بھی نکالیں کہ تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر "اسلام" کے نام پر جو دہشت گردانہ کاروائیاں ہو رہی ہیں اور معصوم و بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دینِ اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں اور اس قسم کے حملوں میں استعمال ہونے والے کم عمر خودکش حملہ آور ہرگز ہرگز شہادت کا مرتبہ نہیں پار ہے بلکہ حرام موت مر رہے ہیں.

یہ صحیح ہے کہ تبلیغی جماعت ایک غیر سیاسی جماعت ہے مگر یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے سیاسی معاملہ قرار دے کر ٹالا اور نظر انداز کیا جاتا رہے کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے.

اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کس طرح کم عمر اور کچے ذہنوں کو گمراہ کر کے اور ان کی برین واشنگ کر کے خودکش حملوں کو متاثرکن اور  glorify  کر کے اور انھیں جنت اور حوروں کا لالچ دے کر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے بھیجا جاتا ہے.

  اگر مان بھی لیا جائے کہ ہمارے علماء اس قسم کی کوئی برین واشنگ نہیں کرتے بلکہ دہشت گرد ہمیشہ کی طرح عالمی سازش کے تحت بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے تربیت لے کر ایسا کام کرتے ہیں پھر بھی علماء کا فرض بنتا ہے کہ اس کے تدارک کے لیے اگر عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی تقریروں اور بیانات میں تو اس کی مذمت کریں.

تبلیغ کے لیے وقت نکالنا ، نماز و روزہ کی تلقین اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احیاء بہت ضروری کام ہے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن موجودہ صورتحال میں یہ بھی بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کے معاملہ پر چپ نہ رہا جائے اور عوام خصوصاً نوجوانوں کی کاؤنٹر برین واشنگ (دماغ سازی) کی جائے تاکہ کچے ذہن ان گمراہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بے وقوف نہ بنیں جنھوں نے جنت کا حصول اتنا آسان بنا دیا ہے کہ خودکش جیکٹ پہن کر کسی بھی اسکول اور کالج میں گھس جاؤ اور معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے آخر میں خود کو بھی بم سے اُڑا لو!

علماء میں یہ اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ بار بار بلکہ ہر بار دہشت گردی کی سختی کے ساتھ مذمت کریں اور اس عمل کو اسلام کی صریحاً خلاف وردی قرار دیں. صرف فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اکیلے اس ناسور کا خاتمہ نہیں کر سکتے.

تحریر : شعیب سعید شوبی

دھچکے یا setback سے کیسے نکلا جائے؟

آج کل جب بھی کسی سے خیریت پوچھی جائے کہ بھائی کیا حال ہے تو آج کل ہر ایک کا جواب ہوتا ہے کہ “اللہ کا شکر ہے” “مالک کا احسان ہے” وغیرہ وغیرہ. مگر جب کوئی مشکل یا آزمائش سامنے آتی ہے تو بندے کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ واقعی ان الفاظ کی لاج رکھتا ہے یا نہیں؟

بعض دفعہ ہر قسم کی پیشگی منصوبہ بندی اور پلاننگ کے باوجود بھی ایسے دھچکے درپیش آتے ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہوتے ہیں لیکن وہ آزمائش ہی کیا جس میں آزمائش نہ ہو؟ بس یہیں تو بندے کی آزمائش ہوتی ہے کہ وہ اس ناگہانی آزمائش کو اللہ کی رضا کے لیے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرے اور ایک نئی امنگ اور ولولے کے ساتھ ازسرنو اپنی زندگی کا آغاز کرے. یقیناً اللہ اپنے نیک بندوں کی ہی آزمائش کرتا ہے. ویسے بھی کچھ چیزوں کا اجر ہمیں آخرت پر بھی چھوڑ دینا چاہیے.

افتخار اجمل بھوپال صاحب کی تحریر ” میری زندگی کا نچوڑ “ پر تبصرہ کرتے ہوئے  میں نے فرمائش کی تھی:

کسی دن اس پر بھی اپنے تجربات کی روشنی میں ضرور لکھیئے کہ کیریئر کے دوران اچانک آنے والے دھچکے یا set back سے کس طرح نکلا جائے؟ مایوسی کو خود پر حاوی ہونے سے کس طرح بچا جائے؟ بعض اوقات کسی مصلحت کی وجہ سے شاید اللہ تعالٰی کے یہاں بھی فوری شنوائی نہیں ہوتی ۔ عبادت میں بھی دل نہیں لگتا ۔ اس کا کیا حل ہے؟

افتخار اجمل صاحب نے اس پر مندرجہ ذیل جواب مضمون اپنے بلاگ پر پوسٹ کیا. اس مضمون کو ان کے شکریے کے ساتھ اپنے بلاگ پر مفادِ عامہ کے لیے دوبارہ پوسٹ کر رہا ہوں.

کار و بار ہو یا ملازمت ۔ چلتے چلتے اگر کوئی رکاوٹ آ جائے تو دھچکا لگتا ہے ۔ اگر سکون سے کام چل رہا تھا تو دھچکا زیادہ محسوس ہو گا ۔ اگر پہلے دھچکے کا تجربہ نہ ہو تو دھچکے کا دورانیہ بہت طویل محسوس ہو گا ۔ دھچکا لگنا کوئی بڑی بات نہیں ۔ زیادہ تر لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں البتہ کچھ کو کبھی کبھار لگتا ہے اور کچھ کو بار بار ۔ بار بار دھچکا لگنے سے انسان پُختہ یا عادی یا تجربہ کار ہو جاتا ہے اور پھر دھچکے اس پر بُرا اثر نہیں ڈالتے ۔ اصل مُشکل یا مُصیبت دھچکا نہیں بلکہ دھچکے کا اثر محسوس کرنا ہے جو ہر آدمی اپنی اپنی سوچ کے مطابق کرتا ہے ۔ جھٹکے مالی ہو سکتے ہیں اور نفسیاتی بھی

چلتی گاڑی میں سفر کرنے والا یا چلتے کارخانے میں کام کرنے والا یا چلتے کار و بار کو چلانے والا عام طور پر جھٹکوں سے بچا رہتا ہے لیکن وہ کچھ سیکھ نہیں پاتا ۔ ماہر وہی بنتا ہے جس نےکارخانہ بنایا ہو یا کوئی نئی مصنوعات بنا ئی ہوں یا نیا دفتر قائم کر کے چلایا ہو یا نیا کار و بار شروع کیا ہو اور پیش آنے والی مُشکلات کا دلیرانہ مقابلہ کیا ہو ۔ دوسرے معنی میں زندگی کے نشیب و فراز دیکھے ہوں یعنی دھچکے کھائے ہوں

پہلی جماعت سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک بہت سے امتحانات دیئے جاتے ہیں ۔ کسی امتحان کا نتیجہ توقع سے بہتر آتا ہے ۔ کسی کا توقع کے مطابق اور کسی کا توقع سے خراب ۔ وہاں ممتحن انسان ہوتے ہیں تو توقع سے خراب نتیجہ آنے پر ہم اپنی خامیاں تلاش کرتے اور مزید محنت کرتے ہیں ۔ لیکن معاملہ اللہ کا ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں ”اللہ بھی بے کسوں کی نہیں سُنتا“۔

کیا یہ ہمارا انصاف ہے ؟

آجکل جھٹکوں کا سبب زیادہ تر انسان کی تبدیل شدہ اس عادت کا شاخسانہ ہوتا ہے کہ وہ مُستقبل کی مناسب منصوبہ بندی نہیں کرتا ۔

محاورے اور ضرب المثل کسی زمانہ میں تاکید کے ساتھ پڑھائے جاتے تھے ۔ یہ انسان کیلئے مشعلِ راہ بھی ہوتے تھے ۔ جب سے جدیدیت نے ہمں گھیرا ہے ہمارا طریقہءِ تعلیم ہی بدل گیا ہے اور محاوروں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے ۔ ایک ضرب المثل تھی ”اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو اور بُرے وقت کیلئے پس انداز کرو“۔ چیونٹیوں کو کس نے نہیں دیکھا کہ سردیوں اور بارشوں کے موسم سے قبل اپنے بِلوں میں اناج اکٹھا کرتی ہیں ۔ ہم انسان ہوتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اخراجات بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور بُرے وقت کیلئے پس انداز نہیں کرتے ۔ پھر جب تنگی یا کوئی رکاوٹ آئے تو ہمارے ہاتھ پاؤں پھُول جاتے ہیں

اللہ پر یقین کا دَم تو سب ہی بھرتے ہیں لیکن دھچکا لگنے پر اصلیت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ پر کتنا یقین ہے ۔ دھچکے کی شدت کا تناسب اللہ پر یقین سے مُنسلک ہے ۔ اگر اللہ پر یقین کامل ہے تو دھچکا لگنے کے بعد احساس یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے شاید اس میں میرے لئے کوئی بہتری رکھی ہے ۔ اور آدمی اپنی خامیاں تلاش کرتا اور انہیں دُور کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ساتھ ہی محنت جاری رکھتا ہے ۔ ایسا کرنے والا سکون میں رہتا ہے

صرف اس دنیا کا ہی نہیں کُل کائنات کا نظام چلانے والا صرف اللہ ہے ۔ کون ایسا مُسلمان ہے جو سورت اخلاص نہ جانتا ہو ؟ اس کے ترجمہ پر غور کیجئے ” کہو کہ وہ اللہ ایک ہے ‏۔ معبود برحق جو بےنیاز ہے ۔ نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں“۔

‏اللہ نے انسان کیلئے چند اصول وضع کر رکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے ۔ سورت 53 النّجم آیت 39 ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

اللہ اپنے بندوں کو آزماتا بھی ہے ۔ سورت 29 العنکبوت آیت 2 ۔ کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

جب آدمی کسی مُشکل میں گرفتار ہوتا یا اسے جھٹکا لگتا ہے تو یہی وقت ہوتا ہے انسان کے بِدک جانے کا یا درُست راہ کو مضبوطی سے پکڑ لینے کا ہر پریشانی کا سبب ایک طرف مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کا فُقدان یا غلط منصوبہ بندی اور دوسری طرف اللہ پر بھروسے میں فقدان یا نامکمل بھروسہ ہوتا ہے.

(افتخار اجمل بھوپال)

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.