دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء کا کردار

زید حامد کی کئی باتوں سے اختلاف کے باوجود اس کے اس مطالبہ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی کہ تبلیغی جماعت اور خصوصاً مولانا طارق جمیل صاحب کو واشگاف انداز میں اور openly ٹی ٹی پی (طالبان) کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے اور ان سے اظہار لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے. جس طرح جنید جمشید کے معاملے میں انھوں نے اظہارِ لاتعلقی ظاہر کیا تھا.

مولانا طارق جمیل صاحب کے بہت سارے فالوورز ہیں  خصوصاً نوجوان نسل ان سے بہت متاثر ہے اور ان کے بیانات بہت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں. نوجوانوں کو مذہب کی طرف راغب کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے. چنانچہ ان جیسے علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس فکری کنفیوژن سے بھی نکالیں کہ تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر "اسلام" کے نام پر جو دہشت گردانہ کاروائیاں ہو رہی ہیں اور معصوم و بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دینِ اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں اور اس قسم کے حملوں میں استعمال ہونے والے کم عمر خودکش حملہ آور ہرگز ہرگز شہادت کا مرتبہ نہیں پار ہے بلکہ حرام موت مر رہے ہیں.

یہ صحیح ہے کہ تبلیغی جماعت ایک غیر سیاسی جماعت ہے مگر یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے سیاسی معاملہ قرار دے کر ٹالا اور نظر انداز کیا جاتا رہے کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے.

اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کس طرح کم عمر اور کچے ذہنوں کو گمراہ کر کے اور ان کی برین واشنگ کر کے خودکش حملوں کو متاثرکن اور  glorify  کر کے اور انھیں جنت اور حوروں کا لالچ دے کر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے بھیجا جاتا ہے.

  اگر مان بھی لیا جائے کہ ہمارے علماء اس قسم کی کوئی برین واشنگ نہیں کرتے بلکہ دہشت گرد ہمیشہ کی طرح عالمی سازش کے تحت بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے تربیت لے کر ایسا کام کرتے ہیں پھر بھی علماء کا فرض بنتا ہے کہ اس کے تدارک کے لیے اگر عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی تقریروں اور بیانات میں تو اس کی مذمت کریں.

تبلیغ کے لیے وقت نکالنا ، نماز و روزہ کی تلقین اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احیاء بہت ضروری کام ہے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن موجودہ صورتحال میں یہ بھی بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کے معاملہ پر چپ نہ رہا جائے اور عوام خصوصاً نوجوانوں کی کاؤنٹر برین واشنگ (دماغ سازی) کی جائے تاکہ کچے ذہن ان گمراہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بے وقوف نہ بنیں جنھوں نے جنت کا حصول اتنا آسان بنا دیا ہے کہ خودکش جیکٹ پہن کر کسی بھی اسکول اور کالج میں گھس جاؤ اور معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے آخر میں خود کو بھی بم سے اُڑا لو!

علماء میں یہ اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ بار بار بلکہ ہر بار دہشت گردی کی سختی کے ساتھ مذمت کریں اور اس عمل کو اسلام کی صریحاً خلاف وردی قرار دیں. صرف فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اکیلے اس ناسور کا خاتمہ نہیں کر سکتے.

تحریر : شعیب سعید شوبی

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء کا کردار پہ 2 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. جزاک اللہ - یہ اہم ضرورت ہے علماء کو اس پرآواز بلند کرنی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو ان کے سننے والوں کو اس کا باربار سن احساس ہو کہ اسلام امن کا مذہب ہے جہاد کے نام پرجو درندگی کا کھیل رچایا جارہا ہے اس کی اسلام میں کوئی اجازت ہے نہ یہ جنت کی راہ ہے یہ سراسرگمراہی ہے-

    جواب دیںحذف کریں

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.