March 2013

پورے 44 روپے

ایک مالشیایومیہ سات آٹھ سو روپے کمالیتا ہے، پھل فروش کی یومیہ آمدنی پندرہ سو روپے تک ہے،بس کاکنڈیکٹر روز کے ہزار روپے کھرے کرلیتا ہے،کراچی کی بولٹن مارکیٹ میں بوجھ ڈھونے والا بھی گھر میں ہزاربارہ سو روپے لے کرجاتا ہے، رمضان میں پکوڑے بیچنے والا صرف چٹنی کی فروخت سے ہونے والی آمدنی سے عید قرباں کا جانورلے آتا ہے، اب ماہانہ تیس ہزارسے زائد کمانے والے ان غریب لوگوں کا موازنہ آپ خود سے کریں ، میری مانوتو ڈگریاں رکھ کر پکوڑے بیچنا شروع کردو،بابوصیب !یہ سفید کالرکی نوکری بے کارکی عزت دے کر بھوک دیتی ہے، اس میں آرام نہیں ہے۔

ملک میں ایک عام آدمی کی کم ازکم تنخواہ سات ہزارروپے ہے، کیا سات ہزارروپے میں گھر چلاسکتے ہو، بولو، جواب دو، چپ کیوں ہو، بڑے آئے بابوصیب، ہونہہ وہ جیسے آج پھٹ پڑا تھا، اس کی آنکھوں میں تحقیرتھی، اس کے لبوں پر مضحکہ اڑاتی ایک ہنسی تھی، وہ جیسے چیلنج کررہا تھا، اس کے ہاتھوں میں چائے کی چینک لرز رہی تھی، وہ اپنے کاندھے پر پڑے میلے رومال کا کونا مسل رہا تھا، وہ شکل سے تو چائے والا لگتا تھا مگر زبان میں چائے کی چاشنی نہیں تھی،وہ ایک مغرور محنت کش تھا بلکہ کچھ کچھ بدتمیز…نیاز سے یہ کوئی پہلا مباحثہ نہیں تھا، وہ اکثرالٹی سیدھی ہانکتا رہتاتھا، اس دفعہ ایک دوست نے اس کو ابے اوئے بار والے کہہ کرکیا مخاطب کرلیا، بس شامت آگئی، نیاز اب سارے آداب سے بے نیاز ہوچکا تھا۔

بابوصیب تم لوگ سولہ سال پڑھائی کرتے ہو، ڈگری ہاتھ میں آنے کے بعد تم جب نوکری کے لیے نکلتے ہو تو تم سے تجربہ پوچھا جاتا ہے، ہر طالب علم اعزازی نمبروں سے پاس نہیں ہوتا، اکثریت اوسط درجے کے نمبر لے کر پاس ہوتی ہے، ایسے لوگ دردرکی ٹھوکریں کھاتے ہیں ، ان کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ کوئی ان کو نوکری دیگا، ان کے سولہ سال ایک آسیب کی طرح ان کا پیچھا کرتے ہیں اور یہ میری طرح کاندھے پر رومال رکھ کر چائے اس لیے نہیں بیچ سکتے کہ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔

سولہ سال تک ان کے ذہنوں میں بابوبننے کے سپنے بٹھائے گئے ہوتے ہیں،ان کو ڈگریاں تھما کر یہ تو بتادیاجاتا ہے کہ اب تمھیں پیسہ کمانا ہے مگر کیسے کمانا ہے ، یہ کوئی نہیں بتاتا، یہ ہرن کی طرح کلکاریاں مارکر گریجویشن کا کیپ اچھالتے ہیں، شیروں کی طرح کالج کے دروازے سے باہر نکلتے ہیں اور پھر بکریوں کی طرح اس سفاک معاشرے کے قصائیوں کا شکارہو کر تتر بتر ہوجاتے ہیں، کوئی چور بنتا ہے تو کوئی ڈاکواور جن میں ہمت نہ ہو وہ وائٹ کالریئے بن جاتے ہیں اورساری زندگی قربانی دیتے ہوئے گزاردیتے ہیں۔

نیازکے لہجے میں سلاست تھی، روانی تھی، وہ بے تکا ن بول رہاتھا بلکہ شاید برس رہاتھا، ہم سب سن رہے تھے، ایسا نہیں تھا کہ ہم جواب نہیں دے سکتے تھے مگر شاید ماحول پر اس کی گفتگونے ایک کیفیت طاری کردی تھی، اس کی باری تھی اور وہ بول رہاتھا، چینک سے چائے چھلک کر اس کی میلی آستین میں جذب ہورہی تھی۔پرانے زمانے میں غلام ہوتے تھے، اب غلامی کا نام ملازمت رکھ دیاگیاہے، جس طرح دومنٹ میں غلام کو رسوا کردیا جاتا تھا، اسی طرح تمہارے ان خوب صورت دڑبے نما دفاتر میں تمہاری عزت ہے۔

تم سب اپنے سے بڑوں کے ہاتھوں ذلیل ہورہے ہو، تم اپنا فرسٹریشن ایک دوسرے پر نکالتے ہو، جن سولہ برسوں کو تم تعلیمی سال کہتے ہو، ان میں جو سیکھا ہوتا ہے، وہ کچھ بھی تمہاری پریکٹیکل لائف میں کام نہیں آتا، تم الجبرا پڑھ کر فیثاغورث بننے کی کوشش میں کلرک بن جاتے ہو اور ایک فائل سے دوسری فائل میں تمہاری زندگی گزرجاتی ہے، محمد بن قاسم کے سبق کا رٹالگاکرتم کراچی کے باغِ ابن قاسم کی انتظامیہ میں نوکری کے اہل نہیں ہوجاتے، اس کے لیے تجربہ مانگا جاتا ہے، قائداعظم پر لیکچرسن کر تم قائداعظم اکیڈمی کے ملازم نہیں بن سکتے ، تمھیں سفارش چاہیے، مجھے دیکھو،آج میراسیٹھ نوکری سے نکال دے، کہیں بھی جاکر بیٹھ جاؤں گا، میں باروالا ضرور ہوں مگر روز کے بارہ سوروپے کھرے کرکے گھرجاتاہوں، تمہاری طرح مہینے کے آخر میں میرے پیسے ختم نہیں ہوتے ، وہ لال بھبوکا ہو رہاتھا، اس نے چائے کی چینک میز پر پٹخ دی ، شاید اس کو احساس ہوگیاتھا کہ چائے ٹھنڈی ہورہی ہے۔

میں نام نہیں لوں گا، وہ ٹھہرکرگویا ہوا، تمہارے دفترمیں سے زیادہ تر لوگ مجھ سے ادھارکرتے ہیں، ان کے پاس بائیس روپے والی چینک کے پیسے نہیں ہوتے، اکثر مہینے کے آخر میں پیسے دینے کا وعدہ کرنے والے آخر میں بچوں کی فیسوں اور بیوی کی بیماری کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ تم لوگ عیاشیوں کے عادی ہو، تم کو سہولتیں چاہیں، تمہاری تعلیم تم کو نام نہاد اسٹیٹس کا درس دیتی ہے، چارہزاررروپے والے موبائل سے بھی کام چلایا جاسکتاہے، تم کو بلیک بیری چاہیے، آئی فون چاہیے، تمہاری خواہشیں بڑی ہیں۔ اسٹائل لاجواب ہیں مگر جس دن سی این جی بند ہوتمہاری گاڑیاں کھڑی ہوجاتی ہیں،ہزارروپے کی شرٹ پہننے کے لیے تم کو برنس روڈ کی ربڑی کی قربانی دینی پڑتی ہے، تم حقیقی لذتوں سے محروم ہو، کمپلیکس کا شکارہو، تم معاشرے کا محروم طبقہ ہو اور ہنستے ہم پر ہو۔۔۔ہاہاہا۔


نیازبے تحاشاہنس رہاتھا،وہ تھوڑا اوور کانفیڈنٹ ہوگیا تھا، پیلے دانتوں کے ساتھ ہنستے ہوئے وہ عجیب سا لگ رہاتھا،وہ کھل کر ہمارا تمسخر اڑا رہا تھا،اس کے لہجے میں شوخی تھی،وہ طنز کے تیربرسا رہا تھا، جواب تو ملنا تھا، ہم ایک چائے والے کے سامنے کیسے شرمندہ ہوسکتے تھے۔نیاز،تم چائے والے ہو، معمولی انسان ، پوری دنیا میں چھوٹے موٹے کام کرنے والے زیادہ کماتے ہیں، اس کایہ مطلب نہیں کہ ڈگریاں رکھ کر ہر کوئی پکوڑے بیچنا شروع کردے،تمہاری طرح میلا بن جائے، پیر میں ٹوٹی چپل ، بدن پر میلے کچیلے کپڑے ، سرکے کیچڑجیسے بال اور یہ پیلے دانت۔

کہاں ہیں تمہارے بارہ سو روپے، کدھر اڑاتے ہو انھیں، ارے ہم جو تھوڑا بہت کماتے ہیں،وہ نظرتو آتاہے۔نیاز بدستورہنس رہاتھا،اس کی ہنسی کو بریک نہیں لگ رہاتھا، اس نے اپنی میلی آستین سے ناک صاف کی، گلے کوکھنکھارا۔میں بارہ سوروپے میں زنگر برگر نہیں کھاتا، یہ سچ ہے کہ میرے کپڑے میلے ہیں، میں مہنگے ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف نہیں کرتا، منجن سے دانت تھوڑے پیلے رہ جاتے ہیں، میرے بال ضرور الجھے ہوئے ہیں مگر میرے معاملات بہت سلجھے ہوئے ہیں، میں مہینے کے آخر میں کسی سے ادھار نہیں لیتا، میری بیوی مجھ سے خوش ہے، میں اپنے بچوں کی ہرخواہش کو پورا کرتا ہوں، ان کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں، ان کی خوشی کے لیے اگرٹوٹی چپل میں گزاراکرلیا تو کیا ہوا، مجھے اپنی ساس کا گھر آنا برا نہیں لگتا، میں روزانہ مہمانوں کی خاطرداری کرتاہوں، مجھے کھلونے کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے کوئی دھڑکا نہیں ہوتا کہ بچے نے ضدکرلی تو کیا ہوگا، تھوڑاسا میلا ہی تو ہوں، گھر جاکر جب نہاتاہوں، بیوی صاف کپڑے دیتی ہے۔

بچہ گود میں لپکتا ہے اور میں دوستوں کی سنگت میں بیٹھ جاتاہوں تو میلاپن اجلے پن میں بدل جاتا ہے، اس وقت میں بھی تمہاری طرح کا وائٹ کالرانسان بن جاتاہوں، تمہیں پتہ ہے کہ تم پرکون راج کرتا ہے؟نیاز کا اچانک سوال ایسا ہی تھا کہ بات پچھم کی ہورہی ہو اور ذکر پورب کا نکل آئے، اس سوال کے جواب میں نیاز نے ہی پھنسنا تھا۔ہم پر سوائے ہم جیسوں کے کون راج کرسکتا ہے، ہم پڑھے لکھے ہیں اور پڑھے لکھے لوگ ہی ہمارے اوپر ہوتے ہیں، تم جیسے تو ہم پر راج کرنے سے رہے،یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔

جس جگہ تم آج فخر سے برگرکھاتے ہو وہ ماضی کا بن کبابیہ تھا، جس دکان میں تم اپنی جیبیں ہلکی کرتے ہو، اس کا مالک ایک امریکی شہرمیں ٹھیلہ لگا کر برگربیچتا تھا، جاؤ کراچی کے سٹی فوڈ، زاہد نہاری والے سے پوچھو کہ وہ کون تھے،اسی شہر کے تھڑے پرایک حلیم بیچنے والاآج پوری دنیامیں حلیم ایکسپورٹ کرتا ہے، زینب مارکیٹ پر جوتے اور کپڑوں کی بڑی بڑی دکانوں کو تم حسرت سے دیکھتے ہو، جانتے ہوکہ ماضی میں ان کے مالکوں میں کوئی درزی تھا تو کوئی جوتے گانٹھتا تھا،جن فلیٹوں کی قیمتیں سن کر تمہارے ہوش اڑجاتے ہیں، ان بلڈنگ پراجیکٹس کے مالک ماضی میں معمولی پراپرٹی ڈیلرتھے، تم وائٹ کالریئے صرف ہم جیسوں کے لیے پیسہ نکال سکتے ہو، تم بنے ہی اسی لیے ہو، تمہاری تربیت ہی ایسے کی گئی ہے کہ تم مجھ جیسے چائے والے کو ہوٹل کا مالک بناؤ، لاؤچائے کی دوچینک کے چوالیس روپے، اس نے اپنی ہتھیلی کھول کرسامنے کردی۔

پڑھائی کے چند رہنما اُصول

فرحت کیانی اردو محفل کی ایک ذہین ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور علم دوست رکن ہیں۔ اپنے مخاطب کو دلائل سے قائل کرنے کا فن بخوبی جانتی ہیں۔ اردو محفل میں انٹرویو وِد فرحت کیانی میں ان سے راقم نے سوال کیا تھا؛
طالب علمی کے زمانے میں آپ کی اسٹڈی کا کیا طریق کار تھا؟ اسٹڈیز کو کتنا وقت دیتی تھیں؟ کچھ ٹپس عنایت فرمائیں!۔

جس کا انھوں نے نہایت تفصیل سے جواب عنایت فرمایا، جس پر میں ان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ اللہ کریم ان کو خوش و خرم رکھے اور وہ اسی طرح کی مفید تحاریر لکھ کر ہماری رہنمائی کرتی رہیں۔ آمین۔۔!۔

پڑھائی کے چند رہنما اُصول

فرحت کیانی
زمانہ طالبعلمی میں میرا ایک ہی طریقہ تھا کہ روز کا روز پڑھ لوں۔ یعنی جو پڑھایا گیا اور اسی دن گھر آ کر ایک بار ضرور دیکھ لوں۔ لیکن میں کتابی کیڑا یا بالکل پڑھائی میں گم قسم کا بچہ نہیں تھی۔ ہم لوگوں کا ایک قسم کا ٹائم ٹیبل بنایا ہوا تھا گھر والوں نے۔ اسکول ، کالج سے واپسی کے بعد شام تک کا وقت ہمارا ہوتا تھا۔ اس میں ٹیلی ویژن اور کھیل سب شامل تھا۔ پھر کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے ہوم ورک مکمل کرنا۔ اور رات نو سے دس بجے اپنی اضافی پڑھائی۔ اس میں عموماً میرے ابو ہماری انگریزی ، حساب اور اردو چیک کیا کرتے تھے۔ اور کچھ نیا بھی سکھاتے تھے۔ یہ معمول سارا سال رہتا تھا۔ اور امتحان کی تیاری میں ہمیشہ پندرہ دن یا زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ پہلے شروع کرتی تھی اور چونکہ ساتھ ساتھ پڑھا ہوتا تھا تو یہ صرف دہرائی ہی کا وقت ہوتا تھا۔


پڑھائی کے دوران میرا خیال ہے کہ رُول آف تھمب یہ ہوتا ہے کہ بے شک بہت زیادہ نہ پڑھا جائے لیکن روزانہ کی بنیاد پر باقاعدگی سے پڑھائی کو ٹائم دیا جائے۔ اور اس میں کم از کم ایک گھنٹہ دہرائی یا کچھ نیا پڑھنے کے لئے رکھا جائے چاہے روزانہ کی بنیاد پر نہیں تو ہفتہ کی بنیاد پر۔

دوسرا یہ کہ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئیے اور نصابی کتاب تک خود کو محدود نہیں رکھنا چاہئیے۔ اس کے لئے بھی بہت زیادہ کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے لئے ایک اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کو کلاس میں پڑھایا جا رہا ہو تو اس کو غور سے سُنا جائے اور جہاں کوئی چیز واضح نہ ہو وہیں سوال پوچھ لیا جائے اور اگر استاد اتنے خوف ناک ہوں کہ ان کا تعلق کوہِ قاف سے محسوس ہوتا ہو تو اس صورت میں ساتھی طلبہ ، لائبریری اور ان دنوں تو انٹرنیٹ بھی ایک اہم ذیعہ ہے اپنی معلومات کو بہتر بنانے کے لئے۔ اسی طرح اپنے نوٹس لینا بہت اہم ہے۔ استاد کو کوئی جملہ یا نکتہ آپ کو اہم لگے اس کو فوراً نوٹ کر لینا چاہئیے۔ اور بعد میں انہیں نوٹس کو سامنے رکھتے ہوئے اگر کتاب یا ٹیکسٹ کو پڑھا جائے تو چیزوں کا لنک بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ رٹا آپ کو چار سطریں تو یاد کروا دیتا ہے لیکن وہ جتنی آسانی اور تیزی سے یاد ہوتی ہیں اسی رفتار سے بھول بھی جاتی ہیں۔ پھر یہ کہ ہر موضوع کا تعلق عملی زندگی سے ہوتا ہے۔ اگر سمجھ کر پڑھا جائے تو نہ صرف امتحان کارکردگی اچھی ہو گی، عملی زندگی اور خصوصاً اپنے پروفیشن میں یہ چیز بہت مدد دیتی ہے۔

تیسرا : جب آپ کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں ، چاہے وہ نصابی کتاب ہے یا اضافی مطالعے کے لئے پڑھی جا رہی ہے، کو تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں۔ اور اپنی آسانی کے لئے نوٹس لے لیں۔ مطلب ایک پیراگراف پڑھنے کے بعد اس کے مرکزی خیال کو 'ون لائنر' یا ایک 'سرخی' کی شکل میں سائیڈ پر لکھ لیں۔ پیرا کی سرخی عموماً آپ کو پہلی یا دوسری سطر میں مل جاتی ہے اور اس کا نچوڑ (jist) آخری ایک دو جملوں میں ملتا ہے۔ جب ہر حصے کی تلخیص اور مرکزی نکات آپ کے پاس موجود ہیں تو ان کو مزید بیان کرنا یا لکھنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔

چوتھا: جو بھی پڑھیں، اپنی سمجھ اور سکھائی کی جانچ کے لئے اپنے لئے کوئی طریقہ وضع کر لیں۔ جیسے سب سے بہترین طریقہ لکھ کر یاد کرنے کا ہوتا ہے۔ مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ ہم لوگ اردو اور انگریزی کے ہجے لکھ کر یاد کرتے تھے۔ اسی لئے ابھی بھی جب مجھے کسی چیز کے ہجوں میں کوئی شک ہوتا ہے تو میں اس کو لکھتی ہوں اور جو میرا ہاتھ لکھتا ہے مجھے یقین ہوتا ہے کہ وہ درست ہیں اور وہ واقعی کبھی غلط نہیں ہوتے کیونکہ میں نے لکھ لکھ کر یاد کئے تھے۔ اسی طرح اپنے پوائنٹس کو پہلے لکھنا اور پھر اپنی جانچ کے لئے خود سے لکھ کر مرکزی خیال کے لئے ریفرینس بُک (نصابی کتاب یا اضافی مواد) سے ٹیلی کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کہاں تک سمجھ پائے ہیں۔ میرے اس چوتھے پوائنٹ کا تعلق امتحان کی تیاری سے ہے۔ دوسرا لکھنا آپ کی رائٹنگ سپیڈ بھی بڑھاتا ہے اور ٹائم مینیجمنٹ بہتر ہوتی ہے۔

اور فائنلی یہ کہ جس بھی لیول پر پڑھائی کر رہے ہوں چاہے وہ اسکول ہے یا کالج ، یونیورسٹی ، اپنے آپ کو محدود نہیں کرنا چاہئیے۔ جو بھی پڑھ رہے ہیں اس سے متعلقہ مواد کو ضرور پڑھیں۔ جب ہمارے کونسپٹس واضح ہوں تو پڑھائی بہت آسان ہو جاتی ہے۔

اب کچھ ٹپس

1۔ ٹائم ٹیبل: اپنی آسانی اور اپنا معمول مدِ نظر رکھ کر پہلے پورے سال کا ٹائم ٹیبل بنائیں، پھر اس کو مزید بریک ڈاؤن کریں۔ چھ ماہ ، تین ماہ، ہفتہ وار اور روزانہ کی بنیاد پر۔ اس طرح جب ایک ٹارگٹ سامنے ہوتا ہے تو اس کو حاصل کرنے کے لئے کوشش بھی کر لی جاتی ہے اور ہم اپنے آپ کو بالکل آن ٹریک رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ آخر میں کسی مسئلے کی وجہ سے تیاری نہ ہو سکے تو پورا سال باقاعدگی سے پڑھنے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوتا۔

2۔ پڑھائی ۔ کھیل اور ذاتی تفریح کا توازن: خود کو یہ سب کرنے کا موقع دیں۔ کسی ایک چیز کو اپنا لینا اور خود کو دوسرے معمولات سے بالکل الگ کر لینا کبھی بھی اچھا نتیجہ نہیں دیتا۔

3۔ دوسروں سے سیکھنا: ساتھ طلبہ سے ڈسکشن اور مل کر پڑھنا بھی بہت سے کونسپٹس کو کلیئر کر دیتا ہے۔ اگر چار لوگ مل کر پڑھ رہے ہیں تو ایک ایک ٹاپک لے لیں۔ ہر ایک اپنا اپنا ٹاپک تیار کرے اور باقیوں کو پڑھائے۔ اسے ہم 'جِگسا ریڈنگ' کہتے ہیں۔ یوں کم وقت میں زیادہ چیز کوَر ہو جاتی ہے۔

4۔ امتحان ، پریذنٹیشن یا اسائمنٹ کو سر پر سوار نہ کریں۔ تیاری پوری لگن سے کریں اور اس خوف کو پاس بھی نہ پھٹکنے دیں کہ کیا ہو گا ، کیسے ہو گا وغیرہ

5۔ جب کسی امتحان میں شامل ہو رہے ہوں تو آخری وقت تک نہ پڑھیں۔ مثلاً اگر صبح آٹھ بجے امتحان ہے تو آپ کو بہت حد ہوئی تو رات ایک بجے کے بعد پڑھنا بند کر دینا چاہیئے۔ آرام بہت ضروری ہے ورنہ انسان اس قدر تھک جاتا ہے کہ ٹھیک طرح پرفارم نہیں کر پاتا۔ اور صبح اٹھ کر بھی پڑھیں تو امتحانی سنٹر پہنچ کر بھی وقت سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے آنکھیں اور کان بند کر لیں۔ نہ کسی سے ڈسکشن اور نہ ہی کتاب یا کچھ اور۔ اس وقت کو ریلیکس کرنے اور دعا کرنے میں گزاریں۔

اور اب آخر میں سب سے اہم۔ اوپر تو ہم نے دوا کی ، لیکن ساتھ دعا کرنا نہیں بھولنا چاہئیے۔ 'حسبنا للہ و نعم الوکیل' بار بار پڑھیں۔ پھر پریذینٹیشن سے پہلے، اسائمنٹ جمع کرانے سے پہلے اور پیپر ممتحن کو دینے سے پہلے لوحِ قرآنی کے پانچ حروف 'ک ، حا ، یا، عین ، ص ' ایک ایک انگلی پر پڑھتے ہوئے مٹھی بند کریں اور پھر دوبارہ پڑھتے ہوئے مٹھی کو بالترتیب 'حاضرین ، استاد اور ممتحن کی طرف مٹھی کھول دیں۔ زبردست اثر ہو گا :) :angel:۔

یہ اثر کسی پر بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً اماں ابا حتیٰ کہ بیگم سے بھی ڈانٹ کا خدشہ ہو تو اس کو ان پر پھونک دیں۔ اور
phew...سب ٹھیک:party: ۔ آزمودہ نسخہ۔

اپنے پسندیدہ رنگوں سے اپنی شخصیت کو پہچانیں

کہا جاتا ہے کہ رنگ کسی بھی انسان کی شخصیت کے عکاس ہوتے ہیں۔مندرجہ ذیل رنگوں میں سے اگر آپ کا بھی کوئی پسندیدہ رنگ ہے تو اس کے مندرجات کا مطالعہ کر کے اپنی شخصیت کے بارے کچھ دلچسپ باتیں جانیں!۔ ۔ ۔ بعد میں اپنی رائے سے بھی ضرور آگاہ کیجئے گا!اپنی رائے میں اپنے پسندیدہ رنگ کا ذکر کرنا مت بھولیے گا!۔ ۔ ۔ شکریا!۔ ۔ ۔ ارے ہاں!۔ ۔ ۔ میں اپنا پسندیدہ رنگ تو بتانا ہی بھول گیا۔ ۔ ۔ میرا پسندیدہ رنگ سبز یعنی ہرا ہے!۔ ۔ ۔ ویسے آپ کو بتانے کا فائدہ؟۔ ۔ ۔ آپ کو تو اپنے پسندیدہ رنگ سے مطلب ہو گا۔کیوں ٹھیک ہے نا!



سرخ (Red)
خطرے اور محبت کی علامت ہے۔سرخ رنگ پسند کرنے والے شوقین مزاج ہوتے ہیں۔زندہ دل ہوتے ہیں۔یہ لوگ آزادی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ زندگی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرتے ہیں۔


سبز (Green)
امن کی علامت ہے۔ہرا رنگ پسند کرنے والے مہذب اور انسان دوست ہوتے ہیں۔ایسے لوگ دوسروں پر اپنی مرضی تھوپنے کی بجائے دلائل سے انھیں قائل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر کام مستقل مزاجی اور تندہی سے کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ہمارے پیارے وطن پاکستان کے قومی پرچم کا رنگ بھی ہرا ہے۔


زرد (Yellow)
بعض لوگوں کے خیال میں زرد یعنی پیلا رنگ گہرے دُکھ اور مایوسی کی علامت ہے۔جبکہ بعض کے خیال میں یہ بہتر مستقبل کی خوشخبری دیتا ہے۔اس رنگ کو پسند کرنے والے افراد میں مشکل حالات کو برداشت کرنے اور مقابلہ کرنے کی جستجو پائی جاتی ہے۔


سفید (White)
محبت اور امن کی علامت ہے۔سفید رنگ پسند کرنے والے لوگ پاکیزہ خیالات کے مالک ہوتے ہیں۔ان کے مزاج میں دھیماپن اور بُردباری پائی جاتی ہے۔ایسے لوگ دوسروں کے ہمدرد اور خیرخواہ ہوتے ہیں۔


کالا (Black)
سوگ کی علامت ہے۔اس رنگ کو پسند کرنے والے کسی قدر پر اسرار ہوتے ہیں۔بڑے مشکل پسند اور چالاک ہوتے ہیں۔ایسے لوگ آپ کے متعلق تو ہر بات جان جائیں گے لیکن اپنے بارے میں کچھ نہیںبتائیں گے۔ایسے لوگ کھوج لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی لیکن لوگوں پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ بہت پر سکون ہیں۔


نیلا (Blue)
بڑی گہرائی اور وسعت کی علامت ہے۔اس رنگ کو پسند کرنے والے افراد دوسروں پر جلد ہی اعتماد کر لیتے ہیں۔خود بھی دوسروں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتے ۔ایسے لوگوں میں تجسّس خوب پایا جاتا ہے۔یہ لوگ گفتگو بڑی دلچسپ کرتے ہیںاور بڑے گہرے خیالات کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے لباس کا اور خود اپنا بڑا خیال رکھتے ہیں۔

بھٹ شاہ کی سیر

بھٹ شاہ ہالا سے چھ جبکہ حیدر آباد سے تقریباَ پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں سندھ کے مشہور صوفی بزرگ ’’شاہ عبد الطیف بھٹائی‘‘ کا مزار واقع ہے۔

جنوری 2009 میں دادی سے ملنے ٹنڈو آدم گیا تو بھٹ شاہ جانے کا پروگرام بھی بن گیا۔ ٹنڈوآدم سے بھٹ شاہ پہنچنے میں بیس پچیس منٹ لگتے ہیں۔ اس موقع پر اپنے کیمرے سے جو تصویریں کھینچی وہ یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔

[IMG]



[IMG]

[IMG]

[IMG]


[IMG]

[IMG]


یہ بھٹ شاہ جاتے ہوئے راستے کی تصاویر ہیں۔ راستے میں بہت خوب صورت کھیت اور کھلیان ہیں۔ کیلے کے کھیت سے ہم نے کچے کیلے بھی چوری کیے۔

[IMG]
بھٹ شاہ کی جھیل

[IMG]
بھٹ شاہ کی جھیل

[IMG]

شاہ عبد الطیف بھٹائی کا مزار

[IMG]
شاہ عبد الطیف بھٹائی لائبریری 


شاہ عبد الطیف بھٹائی میوزیم
[IMG]

[IMG]

[IMG]

[IMG]

[IMG]

[IMG]
دمبورا شاہ عبدالطیف بھٹائی نے ایک مخصوص انداز میں دمبورا ایجاد کیا۔ اس میں پانچ تاریں ہیں۔ ان پانچ تاروں میں چھتیس سر ہیں، کلیان سے لے کر ماروی تک۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام روحانی فیض ہے۔ انہوں نے واحدانیت کا ذکر کیا ہے خصوصاً انسانی ذات کے لئے محبت کا پیغام، اخوت کا، بھائی چارے کا، در گزر کرنے کا پیغام دیا ہے۔ جس میں شریعت ، معرفت اور حقیقیت تینوں کی بات ہے۔

[IMG]

[IMG]

[IMG]

[IMG]

جو ’’خواتین‘‘ ماڈلز ہیں، وہ شاہ بھٹائی کی تصنیف ’’شاہ جو رسالو‘‘ کی سات ’’ہیروئنز ‘‘ یا کردار ہیں۔ ان سات ہیروئنز کے نام یہ ہیں:

۔ ماروی
۔ مومل
۔ سسی
۔ نوری
۔ سوہنی
۔ ہیر
۔ لیلی

بھٹ شاہ اور اس کی نواحی بستیوں میں فقیروں کے بہت سے گروپ ہیں۔ہر رات کسی ایک گروپ کی باری ہوتی ہے۔ یہ فقیر کلام گانے کے علاوہ مزار پر آنے والوں کے لئے دعا بھی کرتے ہیں اور یہاں تبرک بھی بانٹا جاتا ہے۔ یہ روایت بتائی جاتی ہے کہ اٹل اور اچل نامی دو بھائیوں کو شاہ لطیف نے خواب میں آکر اپنا کلام گانے کا طریقہ سمجھایا اور ہر سُر کا الاپ بھی سمجھایا۔ پھر وہ دونوں بھائی بھٹ شاہ پہنچے سُروں کی موسیقی ترتیب دی۔ مزار کے اندر شاہ کے فقیر شاہ جو رسالو میں سے کسی ایک داستان کی بیت اور وائی گاتے ہیں۔ ہر داستان کو سُر کا نام دیا گیا ہے جیسے سُر سارنگ یا سُر سوہنی۔ ہر سُر کو گانے کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ شاہ کے گنج میں چھتیس سُر ہیں اور تقریباً پانچ ہزار پانچ سو بیت ہیں۔
یہ معلومات بی بی سی اردو کی ویب سائٹ سے حاصل کی گئیں ہیں۔
[IMG]


[IMG]
نوت: یہ تحریر پرانے بلاگ کے بیک اپ سے حاصل کی ہے، جو 2009 میں شوبی نامہ میں شائع ہوئی تھی۔ موجودہ بلاگ میں ایک بار پھر شامل کی جا رہی ہے تاکہ محفوظ ہو جائے۔

چہرہ میرا تھا ، نگاہیں اُس کی

وائٹل سائنز کے اولین البم ’’دل دل پاکستان‘‘ کا یہ گانا بچپن میں جب سمجھ بھی نہیں آتا تھا ، پھر بھی مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ آج بھی جب یہ گانا سنتا ہوں تواچھا لگتا ہے۔ اس گانے کی شاعری ، میوزک اور جنید جمشید کی آواز نے اس گانے کو میری نظر میں ’’سدا بہار‘‘ بنا دیا ہے۔ وائٹل سائنز کے زیادہ ترگانے شعیب منصور لکھا کرتے تھے۔ چنانچہ پہلے پہل اس گانے کی شاعری کو بھی میں شعیب منصور کے کھاتے میں ڈال دیا کرتا تھا۔ مگر جب پروین شاکر کا مجموعہ کلام ’’خوشبو‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو اصل شاعر کا پتا چلا۔ گانے میں غزل کے چار اشعار ہی شامل ہیں۔ مگر پروین شاکر کی یہ پوری غزل ہی لاجواب ہے ۔

یہ گانا ایم پی تھری فارمیٹ میں یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس گانے کی ویڈیو تو وائٹل سائنز نے نہیں بنوائی تھی، تاہم یوٹیوب پر وائٹل سائنز کے مداحوں نے  اس گانے کو اپلوڈ کر رکھا ہے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔



آخر میں پروین شاکر کی مذکورہ غزل بھی ان کے مجموعے سے مکمل نقل کیے دے رہا ہوں۔ اُمید ہے کہ آپ کو بھی پسند آئے گی۔۔
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی



میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہُوئی آنکھیں اُس کی


شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوتی ہُوئی سانسیں اُس کی


ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں، شامیں اُس کی


دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ مہتاب کی، یادیں اُس کی


رنگ جوئندہ وہ، آئے تو سہی!
پُھول تو پُھول ہیں، شاخیں اُس کی


فیصلہ موج ِ ہَوا نے لکھّا!
آندھیاں میری، بہاریں اُس کی


خود پہ بھی کھلتی نہ ہو جس کی نظر
جانتا کون زبانیں اُس کی


نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر
کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی


دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں
مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی
**********

مسلمانوں کی جہالت کا نوحہ

کسی بھی تہذیب کی اصل روح اُس کی فکری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور جب کسی جگہ فکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں یا ماند پڑجائیں تو تمدّن کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور پھر محض بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی مانند ایک ہجوم باقی رہ جاتا ہے، جن کی آنکھوں پر خوش فہمیوں کی سیاہ پٹی بندھی ہوتی ہے اور جن کے شب و روز ایک دوسرے کو نوچنے کھسوٹنے میں گزرتے رہتے ہیں۔

ہمارے مہربان دوست محترم سحر تاب رومانی کا کہنا ہے کہ سچائی اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

دراصل بہت سی باتوں اور روایتوں کے بارے میں ہمارا یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ سچ ہیں اور ان کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت سی دلیلیں بھی موجود ہوتی ہیں۔

لیکن آپ کو ان کی حقیقت کے بارے میں اگر علم ہوجائے یا آپ کے سامنے کوئی ان کی حقیقت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرے تو شاید آپ کو اس حوالے سے حقیقت کو رد کرنا بہت مشکل ہو جائے۔

یہاں ہم دو مثالیں پیش کرنا چاہیں گے۔ ہمارے ایک پڑوسی جن کا نام فرض کرلیں کہ سلیم ہے۔ ایک روز ہم نے دیکھا کہ سلیم صاحب رات کے وقت لڑکھڑاتے ہوئے سامنے سے چلے آرہے ہیں اور اسی طرح ہمارےسامنے سے گزرے، ہم نے انہیں سلام کیا اور خیریت دریافت کی تو اُنہوں نے ہماری طرف ذرا بھی توجہ نہیں دی۔

سلیم صاحب کے حوالےسے پہلے ہی ہمارے دل میں کچھ خدشات موجود تھے، چنانچہ جب نظر ان کے ہاتھ میں ایک بڑے سائز کی سیاہ رنگ کی بوتل پر پڑی تو یہ یقین ہوچلاکہ سلیم صاحب شراب پیتے ہیں اور آج تو ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا تھا۔

ایک اور صاحب جن کا نام فرض کیجیے کہ شاہد ہے، ہمارے پڑوسی ہیں۔ پکے نمازی اور دیگر مذہبی شعائر کی پابندی کرنے والے، مسجد کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہم نے خود انہیں دیکھا تھا کہ مسجد کی تعمیر میں انہوں نے اپنی جیب سے کافی بڑی رقم خرچ کی تھی۔

یہ وہ سچائیاں تھیں، جن کے ہم بذاتِ خودچشم دید گواہ تھے، لیکن ان دونوں کرداروں کے حوالے سے حقائق ان کی سچائیوں کے بالکل برعکس تھے۔

جی ہاں، جو ہم نے دیکھا، وہ سچ ضرور تھا لیکن حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ  سلیم صاحب اس وقت شدید بخار کے عالم میں کلینک سے دوا لے کر آرہے تھے۔ بخار کی شدّت کی وجہ سے انہیں چلنے میں دشواری ہورہی تھی۔ وہ غریب لیکن خوددار انسان ہیں، دوسری بات یہ کہ  وہ مذہبی شعائر کا اس شدت سے اہتمام نہیں کرتے، جس شدت سے شاہد صاحب کرتے ہیں، اور اکثر بہت سے ایسےسوالات اُٹھاتے رہتے ہیں کہ جن سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہوگیا ہے۔ بعض پنج وقتہ نمازیوں کی ان کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ ملحد ہوچکے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ ان کے بارے میں پہلے ہی سے ہمارے ذہن میں منفی رائے موجود تھی اور جو کچھ ہم نے دیکھا، اس میں معنی پہنانے کا کام اسی منفی رائے کی روشنی میں ہی انجام پایا۔

دراصل سلیم صاحب بےاولاد ہیں اور ان کی اہلیہ آئے دن بیمار رہتی ہیں، اس روز خود ان کو بھی بخار تھا، لیکن انہیں اپنی ہی نہیں اپنی اہلیہ کی دوا لینے کے لیے بھی گھر سے نکلنا پڑا۔

یوں ہم نے انہیں لڑکھڑاتے قدموں سے آتے دیکھا اور تاریکی میں دوا کی بوتل ان کے ہاتھ میں دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے ہی ان کی مہ نوشی پر مہر تصدیق ہی ثبت کر ڈالی۔

اب آئیے ان نمازی پرہیزگار شاہد صاحب کی اصل حقیقت کی جانب، ان کی حقیقت یہ ہے کہ مسجد کے برابر میں انہوں نے کافی بڑی زمین گھیر کر اس پر پوری مارکیٹ بنا ڈالی ہے، اتنی بڑی جگہ پر ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ دُکانیں اور دکانوں کے اوپر فلیٹ بنا کر کرائے پر دے رکھے ہیں۔ یہ جگہ سروس روڈ کی تھی جس پر انہوں نے ناجائز قبضہ کر لیا۔ ہمیشہ سے غفلت کی نیند سورہی ہماری حکومت کو اچانک خیال آیا کہ اس شاہراہ پر سروس روڈ تعمیر کی جائے، تو شاہد صاحب کو  اپنی دکانیں اور فلیٹس کے گرائے جانے کا  خدشہ لاحق ہوا۔  چنانچہ اس کا بہترین حل انہوں نے یہ نکالا کہ لاکھوں روپے مسجد کی توسیع کے لیے ہدیہ کردیے اور مسجد کی یہ توسیع سروس روڈ کی زمین پر کی گئی۔ حکومتی اہلکاروں نے جب سروس روڈ کی تعمیر شروع کی، تو وہ تعمیر مسجد کے قریب آکر رُک گئی کہ مسجد کو کیوں کر توڑا جائے؟

پھر مسجد کے مولوی نے بڑے بڑے دارالعلوم کے مفتیوں اور علامہ حضرات سے یہ فتویٰ بھی لے لیا کہ مسجد زمین سے لے کر آسمان تک ہوتی ہے، چنانچہ اس کو گرایا نہیں جا سکتا۔

اب کیا تھا وہی لوگ جو سروس روڈ نہ ہونے کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا تھے، مسجد کو گرائے جانے کے خلاف اکھٹا ہوگئے اور ایسے کسی اقدام کی صورت میں  سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے۔

سروس روڈ مکمل نہیں ہوسکی اور سوسائٹی کے داخلی راستے تک جانے کے لیے بائیک، کار اور دیگر گاڑیوں کو مین شاہراہ  پر اُلٹی سمت چلنا پڑتا ہے۔ اس رانگ سائیڈ ڈرائیو کے نتیجے میں اکثر ایکسیڈنٹ بھی ہوتے ہیں، جن میں کئی مرتبہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن شاہد صاحب کی پارسائی قائم ہے اور شاہد صاحب پر انگلی اُٹھانے والے سلیم صاحب سے صفائی طلب کیے بغیر ان کے بارے میں انتہائی منفی رائے قائم کرلی گئی ہے۔

آپ کو ماننا پڑے گا کہ سچائی اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہوسکتا ہے۔ حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے عدالت کا ذہن درکار ہوتا ہے، لیکن یہ بات اُس معاشرے کے لوگ کس طرح سمجھیں گے، جہاں عموماً عدالت کے پاس بھی عدالت کا ذہن موجود نہیں ہوتا۔ یہاں عدالت کے ذہن سے ہماری مُراد غیر جانبدارانہ طرزفکر ہے۔

یہ طویل تمہید ہم نے اس لیے باندھی ہے کہ اگلی سطور میں ہم جن حقائق کی پردہ کشائی  کرنے جارہے ہیں، اس کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں قائم سچائیوں کے عظیم الشان محلات کی دیواریں منہدم ہو جائیں گی۔

ایسے تمام افراد سے میری گزارش ہوگی کہ وہ خود تحقیق کرلیں، لیکن افسوس مسئلہ یہ ہے کہ تحقیق کے لیے غیر جانبدار ذہن درکار ہوتا ہے۔

جس کا ماضی پرست افراد کے پاس تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا ان کی خدمت میں انتہائی مؤدّبانہ اور نہایت معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بلاوجہ مشتعل ہوکر اپنا خون نہ جلائیں، بلکہ ہماری گزارشات کو محض ایک ‘‘مجذوب کی بڑ’’ سمجھ کر آگے بڑھ جائیں، کہ یہ ساری گزارشات ان لوگوں کے لیے ہیں جو ماضی پرستی، اسلاف پرستی، عقائد پرستی، لفظ پرستی، روایات پرستی، ملت  پرستی اور کتاب پرستی کی زنجیروں کو توڑ چکے ہیں یا توڑنا چاہتے ہیں۔

*********

سورج کا طلوع ہو کر روشنی اور حرارت پہنچانا، چاند کی کرنوں سے تاریک راتوں کا منور ہونا، برسات، زمین کی زرخیزی، سمندر کی تہہ میں پوشیدہ خزانے، سنگلاخ چٹانوں میں چھپی معدنیات، صحراؤں میں سطح زمین کے نیچے سیال سونا یعنی پیٹرولیم کے اُبلتے چشمے، غرضیکہ دنیا کے سارے وسائل نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے موجود ہیں۔ لیکن یہ وسائل اُن کے ہی کام آتے ہیں جو اِن وسائل کے فوائد حاصل کرنے کے لیے عقل و شعور کا استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کرتے ہیں۔

آج سمندر مسلمانوں کے پاس بھی ہے اور ترقی یافتہ اقوام کے پاس بھی، ترقی یافتہ اقوام نے اس کی تہہ کھنگال ڈالی اور سمندر میں موجود غذائی اشیاء، سیپیاں، موتی اور نجانے کن کن قیمتی چیزوں کے ساتھ پیٹرول تک نکال رہے ہیں جبکہ مسلمان سمندر کی بیکراں وسعتوں اور انجانی گہرائیوں سے اپنے بل بوتے پر صرف مچھلیاں  ہی حاصل کرسکتے ہیں، جس کی پیداوار بھی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے۔

زرخیز زمین غیر مسلموں کے پاس ہے  تو مسلمانوں کی دسترس میں بھی کم زرخیززمین نہیں، بلکہ اگر حساب کتاب لگایا جائے تو ممکن ہے یہ بات بھی سامنے آجائے کہ مسلمانوں کی ملکیت میں موجود زمین دیگر اقوام سے زیادہ زرخیز ہے۔

چلیے مان لیتے ہیں  کہ ایسا نہیں ہے تو یہ دیکھنے کی ضرورت تو ہونی چاہیے  کہ اپنی ملکیت میں موجود  زرخیز زمین سے مسلمانوں نے کس قدر فائدہ اُٹھایا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مسلم ممالک میں صرف 5 کروڑ ہیکڑ رقبے پر کاشت ہورہی ہے اور تقریباً  20 کروڑ ہیکڑ رقبے کی زمین بے آباد اور ویران پڑی ہے۔

بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑیں، رقبے کے اعتبار سے ایک بہت چھوٹے ملک اسرائیل کی مثال لے لیجیے، اس ملک میں پانی کی شدید کمی ہے، پانی کی اس کمی کا حل اسرائیل کے سائنسدانوں نے یہ نکالا کہ اپنے کھیتوں کے درمیان ایک سرے سے دوسرے سرے تک بلند و بالا کھمبے  Pole نصب کیے اور اُس میں باریک جال باندھ دیے۔ کُہر آلود ہوا جب اِس جال سے گزرتی، تو ننھے ننھے شبنمی قطرے جال کے باریک تاروں سے ٹکرا کر نیچے گرنے لگتے۔ قطرہ در قطرہ پانی پختہ نالیوں میں جمع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ جب اس کی مقدار بڑھتی ہے تو بہہ کر کھیتیوں کو سیراب کر دیتا ہے۔

اسرائیل اس سسٹم کے ذریعے اتنی وافر مقدار میں سبزیاں پیدا کررہا ہے، جو اُس کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہیں، لہٰذا یہ سبزیاں پڑوس کے اُن  مسلمان عرب ممالک کو برآمد کردی جاتی ہیں، جہاں کی مسجدوں میں ہر جمعہ کی نماز کے بعد اسرائیل کی بربادیوں کے لیے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

یہ تو خیر ایک مثال تھی۔

اگر یہاں ہم اس قسم کی مثالیں بیان کرنا شروع کردیں تو صفحات کے صفحات بھر جائیں گے اور مثالیں ختم نہیں ہوں گی، لیکن ہم یہاں مسلمانوں کی پسماندگی، بے چارگی، قدرتی وسائل کی ناقدری اور جہالت کا محض نوحہ نہیں پڑھنا چاہتے، بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ مسلم قوم  کے زوال کے اسباب پر غیر جانبدار ہوکر  گفتگو کی جائے اور پوشیدہ حقائق تلاش کیے جائیں۔

مسلم اقوام کے زوال کا ایک اہم سبب روشن خیالی کا خاتمہ، علوم و فنون کی اشاعت و ترویج میں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں سے چشم پوشی بھی ہے۔

کسی بھی تہذیب کی اصل روح اُس کی فکری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور جب کسی جگہ فکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں یا ماند پڑجائیں تو تمدّن کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور پھر محض بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی مانند ایک ہجوم باقی رہ جاتا ہے، جن کی آنکھوں پر  خوش فہمیوں کی سیاہ پٹی بندھی ہوتی ہے اور جن کے شب و روز ایک دوسرے کو نوچنے کھسوٹنے میں گزرتے رہتے ہیں۔

غیرجانبدار ہوکر دیکھیے تو آپ کو بھی مغربی اقوام کے بعض دانشوروں کی جانب سے مسلمانوں پر کیا جانے والا یہ اعتراض غلط محسوس نہیں ہوگا کہ مسلمانوں میں تنقید برداشت کرنے کا مادّہ بالکل نہیں ہے، بلکہ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی فکر میں وہ خود مختاری بھی شاید کبھی موجود نہیں رہی کہ وہ زندگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اپنے تجربے اور فکر سے سمجھیں۔ ماضی پرستی کی روایت شاید ہماری بنیادوں میں پیوست ہوچکی ہے۔

ہمارے معاشروں میں تحقیق کرنے والے اذہان کیسے پیدا ہوں گے، جب جائز و ناجائز کا خوف لوگوں کے خون میں رچ بس کر اُن کے جسموں میں دوڑتا ہو؟ یہی وجہ ہے کہ بیشتر حساس موضوعات سوال بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی طرح کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔ بجائے اپنے راستے سے پتھر ہٹانے کے، پتھر کو دیکھ کر اپنا راستہ ہی بدل لیتے ہیں۔

ہمیں تو یہ زعم ہی سر اُٹھانے نہیں دیتا کہ کبھی ہم پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے، لیکن کیا واقعی مسلمانوں نے کبھی اپنے ذہنی افق سے دنیائے علم و ہنر کو زیر نگیں کیا تھا؟

بالفرض یہ بات بھی حقیقت ہو تو آج ہم کیوں اپنی سوچ اور فکر کو ترقی دینے سے گریزاں ہیں؟

جمیل خان(ڈان اردو بلاگ)۔۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.