September 2014

تضاد

سگنل پر جب گاڑی روکی
ننھے روفی نے پوچھا
ابو! آخر ایسا کیوں ہے؟
بازو والی لمبی کار میں دو بیٹھے ہیں
اور اپنی سوزوکی پِک اَپ میں
ہم ہیں بارہ لوگ
بیٹا! تم کو کیا سمجھاؤں؟
جب تم میرے اتنے ہوگے
فرق سمجھ میں آ جائے گا!

(محسن بھوپالی)

سُننے والے کہاں ہیں؟

ہمارے بیشتر مسائل صرف اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم دوسروں کی بات کو توجہ سے نہیں سنتے. انھیں وہ جذباتی گرمجوشی یا سہارا مہیا نہیں کرتے جو دل و دماغ کی صحت کے لیے ضروری ہے. مسائل کا حل تو بعد کی بات ہے، آدھی پریشانیاں تو صرف اپنے جذبات دوسروں سے بانٹ کر یا شیئر کر کے ہی دور ہو جاتی ہیں.

چنانچہ بات سننے کی عادت ڈالیں. دوسروں کی تنہائیوں میں شریک ہوں. اپنے پیاروں کو جذباتی اور اُلفت بھری آکسیجن پہنچائیں.اگر کسی فرد کی بات کو غور سے سن کر، اُسے ہمت و حوصلہ دے کر، آپ اس میں جینے کی اُمنگ اور گرمی بیدار کرتے ہیں تو اس عمل سے پیدا ہونے والے احساس سے آپ کے اپنے اعصاب بھی سکون حاصل کرتے ہیں.

(مسرت جبیں)

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.