September 2012

قدر ان کی کب کی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مر گئے وہ جب کی!

خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا ۔ ۔ ۔
تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔
کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں۔
گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے۔
گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی،

مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔
کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔
ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی۔
کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا۔
فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں۔
ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو، سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا۔ اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟
خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟
بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟
خاوند نے کہا؛ ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں۔
بیوی نے کہا؛ تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔
*****

 پیغام

ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کے کیئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔ زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نا کیجیئے۔ ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجیئے اور بعض اوقات تو صرف آپکی حوصلہ افزائی اور اور قدر شناسی بھی دوسروں کو مہمیز کا کام
دے جایا کرتی ہے۔ دوسروں کو اتنی تنگ نظری سے نا دیکھیئے۔

معاشرے کا ناسور

کوئی وقت تھا جب بھکاری صرف صدا پر اکتفا کرتے تھے، ہم جیسے مڈ ل کلاس لوگ جن کے گھروں کے باہر دربان کا پہرہ نہیں ہوتا، وہ آجکل کےفنکار بھکاریوں کے لئے نہایت آسان ٹارگٹ ہیں،، اور ان بادشاہ لوگوں کے آنے کا کونسا کوئی وقت متعین ہے جب چاہیں آپ کے دروازے پر دستک دیں گے اور ایسی دکھ بھری کہانی سنائیں گے کہ ذہن کچھ کہے نہ کہے دل کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر آدمی جس نے پاکستان میں دس بارہ سال بتائے ہیں اس کی جیب میں بھکاریوں کے عجب دکھ کی غضب کہانیاں ضرور ہوں گی، ایسی ہی ایک غضب کہانی ہمارے انکل کے عہد ایف ایس سی کی یادگار ہے جو انہؤں نے بتائی کہ جب ہم کیمسٹری کے عظیم استاد جناب عزیز الرحمن صاحب کی ٹیوشن پر موجود تھے اور ایک شکل و صورت سے مناسب سا آدمی اندر داخل ہوا، مناسب اس لئے کہ وہ بہت منجھا ہوا بھکاری محسوس نہ ہوتا تھا۔۔۔۔۔اس نے اپنی بپتا جو سنائی کہ اس کا گھر ایک آدھ گلی چھوڑ کر ہے اور اس کی بیوی درد زہ سے بے قرار ہے اور گھر میں کچھ سامان ایسا نہیں جس کو بیچ کر وہ آنے والے مہمان کا استقبال کر سکے۔۔۔ذکر اس پری وش کا اور بیاں اپنا جیسا ماحول بن گیا۔۔۔دکھ بھری کہانی، ضرورت کا اشد ہونا اور ہمارا عہد جوانی جہاں بہک جانے کے لئے دل خود ہی بہانے ڈھونڈتا ہے۔۔۔۔۔سب دوستوں نے دل کھول کر مدد کی اور جو کچھ جیب میں تھا اس کی نذر کر دیا۔۔۔ایسے فراخ دلوں میں عزیز از جان دوست ڈاکٹر جواد بھی موجود تھے۔۔۔۔خیر ابھی خالی جیب اور سخاوت کا یہ گھاوٗ بھرا نہیں تھا کہ ہم ایک دن ملتان کچہری چوک سے گذر رہے تھے کہ وہی سوالی تھا اور وہی سوال۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب اس فنکار کو بس اتنا کہہ پائے کہ اب تو تمہارا بچہ چھ ماہ کا ہو گیا ہو گا۔۔۔۔۔اس بھکاری نے شاید تھوڑی شرمندگی محسوس کی اور وہاں سے غائب ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔۔لیکن آج بارہ سال بعد بھوک اتنی بڑھ چکی ہے یا یوں کہیے کہ پروفیشنلزم اس قدر بڑھ چکا ہے بھکاری حقیقتا جیب سے پیسے نکالنے کی حد تک چلے جاتے ہیں۔

ہر سچ کی طرح یہ بھی سچ ہے کہ آج انفارمیشن کا دور ہے ہر طرف معلومات کا گویا خزانہ لٹایا جارہاہے۔سائنس روز بروز ترقی کرکے حضرت انسان کے لئے کچھ نہ کچھ ایجاد کرتی رہتی ہے۔ کل تک انسان اپنے پیاروں کی آواز کو ترستا تھا ‘ کوسوں دور بلکہ سات سمندر پار کے لوگوں سے رابطہ بہت مشکل وتھکا دینے والا کام تھا اور اس رابطہ ہو جانے پر بھی تسلی نہیں ہوتی تھی پھر فون آیا پھر موبائل فون آگیا اور گویا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب آگیا۔ سائنس کی ہر ایجاد سے ہم متاثر تھے مگر اب یہ جو تبدیلی آئی ہے اس سے توبری طرح سے متاثر ہیں،جتنی جلدی یہ موبائل فون عام ہوا ہے اتنی ہی جلدی اس نے عوام کا ناک میں دم کردیا ہے۔موبائل فون پاکستان کے تقریباًہر شخص نے خریدا ہوا ہے، چاہے اُس کے پاس شام کے کھانے کے پیسے نہیں مگر اس کے پاس موبائل موجود ہے۔
اب تو بھکاری بھی اس ایجاد کو استعمال کررہے ہیں موبائل چونکہ ہر پاکستانی کی طرح ان کے پاس بھی ہیں لہٰذہ وہ بھی اپنی سی کرہے ہیں۔جب سائنس کے اس دور میں سب کچھ ڈیجیٹل ہورہا ہے تو اب یہ بھکاری بھی ڈیجیٹل ہوگئے ہیں اور موبائل کے زریعے بھیک مانگتے ہیں وہ اس طرح کہ یہ بھکاری موبائل کا میسیج بھیج دیتے ہیں کہ میں ایک غریب لڑکا ہوں ماں باپ کا اکلوتا سہارا ہوں لیکن آج کل بے روزگار ہوں برائے مہربانی چند روپے میرے موبائل میں بھیج دیں تاکہ میرا گزارہ ہوسکے۔ اسی طرح کا ایک میسیج ایک صاحب کو آیا کہ میں ایف اے کی طالبہ ہوں میرے والد دمے کے مریض ہیں اور میری تعلیم کے اخراجات نہیں اٹھاسکتے میں ایک لائق طالبہ ہوں کسی سے بھیک نہیں مانگ سکتی مگر آپ بھلے آدمی سے درخواست ہے کہ مجھے کچھ رقم بھیج دیں اتفاق سے وہ صاحب ڈاکٹر تھے انہوں نے اسے جواباًکہا آپ اپنے والد کو میرے کلینک لے آئیں ، میں ان کا علاج بھی مفت کردوں گا اور آپ کی مدد بھی کردوں گا، لیکن نہ وہ لڑکی اور اس کا والد ڈاکٹر کے کلینک آئے اور نہ ہی اس کے بعد کوئی میسیج آیا۔

بسوں اور گاڑیوں میں جو جوان لڑکیاں بھیک مانگتی ہیں یہ دراصل بے حیائی اور بے غیرتی کی اشاعت کرتی ہیں ، ان کے صحت مند بھائی یا باپ یا خاوند گھر میں ہوتے ہیں اور وہ ان جوان لڑکیوں کو مانگنے کے لئے بھیج دیتے ہیں یہ ان کا پیشہ ہے بلکہ اس کی آڑ میں ناگفتہ بہ واقعات کا ارتکاب کیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ تعاون کرنا برائی اور فحش کاری کی اشاعت کرنا ہے ،

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” جس نے سوال کیا حالانکہ اسے سوال کرنے کی ضرورت نہ تھی ، اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی ۔ ( صحیح الترغیب نمبر : 800 )

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میری ایک بات قبول کرے میں اس کے لئے جنت کا ذمہ لیتا ہوں میں نے عرض کیا میں قبول کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا ۔

اس ارشاد نبوی کے بعد حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنی سواری پر سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گر جاتا تو وہ کسی سے یہ نہ کہتے کہ میرا کوڑا مجھے پکڑا دو بلکہ خود سواری سے اتر کر اسے اٹھاتے ۔ ( مستدرک حاکم ص412 ج 1 ) بہرحال بسوں اور گاڑیوں میں پیشہ ور قسم کے بھکاری آتے ہیں خاص طور پر نوجوان لڑکیاں اس سوال کی آڑ میں بے حیائی پھیلاتی ہیں ، ان سے تعاون نہیں کرنا چاہئیے ۔ ان سے تعاون کرنا بے حیائی کو فروغ دینا ہے لہٰذا ایک مسلمان کو اس سے اجتناب کرنا چاہئیے ۔ ( واللہ اعلم )

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.