November 2013

کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا!

Pak Urdu Installerہمارے یہاں کے فیس بکی کالے پاکستانی انگریز احساس کمتری کا شکار ہیں۔ اردو بولنے یا لکھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ حالانکہ انگریزی بھی ٹھیک سے لکھ اور بول نہیں سکتے۔ گرامر اور اسپیلنگ کی ہزاروں غلطیاں کریں گے مگر انگریزی لکھنے سے باز نہیں آئیں گے!

خدا کے بندو!۔۔۔۔۔۔۔۔انگریزی نہیں لکھنی آتی تو اردو لکھو اور بولو۔۔۔۔اردو لکھنے سے کوئی آپ کو ان پڑھ نہیں سمجھے گا!۔۔۔۔۔۔

ایک بات واضح کر دوں کہ میں انگریزی زبان کا مخالف نہیں ہوں۔ مجھے بھی انگریزی لکھنے کا بہت شوق ہے یہ الگ بات ہے کہ میری انگریزی بھی آنٹی میرا جیسی ہی ہے۔

میری انگریزی کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں۔ میں اپنی ہر بات انگریزی میں بیان نہیں کر سکتا۔ مگر یہ بات الحمداللہ میں پورے اعتماد سے لکھ رہا ہوں کہ میں نے کبھی بھی اپنی اس "کم زوری" کو احساس کم تری نہیں بننے دیا۔ جو بات میں انگریزی میں بیان کر سکتا ہوں، صرف وہی انگریزی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں خوامخواہ شیکسپیئر بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ ویسے بھی اردو کو میں انگریزی زبان سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ اردو خوبصورت زبان ہے۔ کچھ اپنی اپنی لگتی ہے۔ 

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ انگریزی بھی لکھیں مگر بخدا زبردستی لکھنے کی کوشش نہ کریں۔ اردو کو بھی اس کا جائز مقام دیں۔ اس میں آپ کے پیسے خرچ نہیں ہوں گے۔ 

چند بےترتیب خیالات (2)

زندگی بھی عجیب ہے۔ کبھی خوشی تو کبھی غم۔ آدمی جب تک اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوجاتا یعنی عملی زندگی میں قدم نہیں رکھ لیتا، اسے زندگی کی حقیقتوں کا درست اندازہ نہیں ہوتا۔طالب علمی کے دور میں آدمی بے فکر زندگی گزارنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ والدین کس طرح اور کن حالات میں اس کی تعلیم اور طعام کا انتظام کرتے ہیں، اسے ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ ہر طرف اُسے دودھ کی نہریں بہتی دکھائی دیتی ہیں۔ نادان سمجھتا ہے کہ یہ سلسلہ تادیر قائم رہے گا۔ مگر یہی اس کی بھول ہوتی ہے۔

متوسط طبقے کے گھرانوں میں یہ سلسلہ ایک مخصوص وقت تک جاری رہتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے، جب آرام و سکون اور بے فکری کا یہ دور ختم ہو جاتا ہے اور اسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی عملی زندگی میں قدم رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں طالب علم چاہے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو، عملی زندگی میں اسے اپنی تعلیم عبث دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناقص تعلیمی نظام کی تھیوری بیسڈ تعلیم عملی زندگی میں کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ اس کی نام نہاد اعلیٰ ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہوتی ہے، جس میں پکوڑے رکھ کر تو کھائے جا سکتے ہیں مگر اس کے دم پر نوکری کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔

اول تو اچھی نوکری ملتی نہیں اور اگر خوش قسمتی سے مل بھی جائے تو تنخواہ اس قدر قلیل ہوتی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں اس سے گزر بسر کرنا نہایت دشوار ہوتا ہے اور ایک باعزت اور خوشحال زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کوبا امر مجبوری بیرون ِ ملک کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔

30 مئی 2013ء کو میری ڈائری میں لکھے گئے میرے چند بےترتیب خیالات ۔۔۔۔

عقیدہ

مسجد کے قریب چھوٹی نہر بہتی تھی ، اور اسی نہر  پر بنے پُل نے گاؤں اور مسجد کو آپس میں ملا  رکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اسی پل پر سرمد نے دو آدمیوں کو اپنی پستول سے گھائل کر کے نہر میں بہا  دیا تھا ۔ 
تو فکر نہ کر ماں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان دونوں کا عقیدہ خراب تھا ۔ میں نے انہیں ٹھکانے لگا دیا ہے ۔۔۔ ۔ ۔ 
عبدالکریم چارپائی سے لڑکھڑا کر اٹھا ۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ سرمد کو زناٹے کا تھپڑ مارے کہ اسے تسّلی دے۔ 
تو نے ان کے عقیدے کے متعلق تحقیق کی تھی سرمد؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پوچھ گچھ کر لی تھی ! ؟ 
تحقیق کی کیا ضرورت ہے ؟ لوگ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لوگ کچھ غلط تو نہیں کہتے اماں !۔
لوگ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کی بات کبھی معتبر نہیں ہوتی بیٹا ! اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے غور و خوض کرنا پڑتا ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔اور پھر تجھے کسی کے عقیدے سے کیا ؟ 
یہ اللہ جانے اور اس کے بندے ۔ ۔ ۔ ۔ کون جانے اللہ اور سچے نبی کو روزِ قیامت کس کا عقیدہ پسند آئے ۔ ۔ ۔ ۔بتول گڑگڑائی ۔ 
بتول کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اور وہ دیوار سے لگ کر کھڑی ہو گئی ۔ 
اور جو پولیس کو علم ہو گیا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تو ؟ بتول بولی ۔ 
میں پولیس سے نہیں ڈرتا ماں ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے یہ کام اللہ کی راہ میں کیا ہے ۔ وہ مجھے اجر دے گا ۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کا عقیدہ درست نہ تھا ۔ 
کیا تو نے ان کا عقیدہ درست کرنے کی کوئی تدبیر کی انہیں سمجھایا مالی مدد کی ؟ ان سے میل جول بڑھا کر انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کی ۔  عبدالکریم نے ڈانٹ کر پوچھا ۔ 
نہیں ابا میں نے ان کا ٹنٹا ہی ختم کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔سرمد آہستہ سے بولا ۔
بس تو نے اللہ کے فیصلے کا انتظار نہیں کیا بیٹے ۔ ۔ ۔ ۔  روزِ قیامت وہ ایسے لوگوں سے خود نپٹ لیتا ۔ یا پھر نکل کر ان کی مدد کرتا پورے انہماک سے ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں راہ پر لانے کے لیے کچھ کرتا تو بیٹے ۔ 
کیا اس کا حکم نہیں کہ بد اعتقاد لوگوں کو ختم کر دو ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
اور اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ بد اعتقاد کون ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔بھائی جس نے ایک انسان کو مارا تو سمجھو ساری انسانیت کو ختم کر دیا ۔ 
بانو قدسیہ  دست بستہ صفحہ 42

کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں کیریئر بنانا

کیریئر پلاننگ درحقیقت ذہنی تیاری کا نام ہے۔ مقابلہ کی اس دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ میدان میں اُتریں تو پوری تیاری کے ساتھ اُتریں۔اگر آپ کمتر تیاری اور کنفیوز ذہن کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوگئے تو آپ کے لیے ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ آپ کی تیاری دو پہلوئوں کے اعتبار سے مکمل ہونی چاہئے۔ ایک یہ کہ وہ باقاعدہ ہو، دوسرے یہ کہ وہ زمانے کے تقاضے کے مطابق ہو۔                             
   
                                                                 
جیسے آج کل کمپیوٹر کا ہر طرف شور سنائی دیتا ہے، جسے دیکھو کمپیوٹر کا کوئی نہ کوئی کورس ضرور کرتا نظر آئے گا۔ مگر اکثر نوجوان کمپیوٹر سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے میں بڑی دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں، کیونکہ انھیں کمپیوٹر کے شعبوں سے متعلق جو کورسز کروائے جا رہے ہیں ان کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہیں۔ اس مضمون میں ہم آپ کو کمپیوٹر کے مختلف شعبوں اور کورسز کے متعلق معلومات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔                                                                                                              
کمپیوٹر کیریئر میں اپنا مستقبل بنانے والے نوجوانوں کو یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کمپیوٹر سے متعلق پیشوں میں چار شعبے ہیں جہاں کوئی نوجوان ضروری تعلیم حاصل کر کے اپنا مستقبل تلاش کر سکتا ہے۔ ان چار میں سے تین کا تعلق براہِ راست کمپیوٹر سے ہے۔           
             
سافٹ ویئر انجینئر
 اس شعبے میں سسٹم اینالسٹ اور پروگرامر شامل ہیں۔ ایک پروگرامر اپنے کام کا اچھا خاصہ تجربہ حاصل کر لے تو سسٹم اینالسٹ کے عہدے پر کام کرنے کا موقع حاصل کر سکتا ہے۔ جس طرح سول انجینئر نگ میں ایک آرکیٹکٹ ، عمارت کا تفصیلی نقشہ تیار کرتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کے شعبہ میں سسٹم اینالسٹ ، کسی پروگرام کا تفصیلی خاکہ تیار کرتا ہے کہ یہ پروگرام کس مقصد کے لیے اور کن کن اُمور کی انجام دہی کے لیے مددگار ثابت ہوگا؟۔۔۔۔ پروگرامر ایک ایسے ہنرمند کی مانند ہوتا ہے جو آرکیٹکٹ کے نقشہ کے مطابق عمارت کی تعمیر کرتاہے۔ پروگرامر، سسٹم اینالسٹ کے تیار کردہ خاکے کی تفصیلات کے مطابق پروگرام تیار کرتا ہے۔ پروگرامر کمپیوٹر کی زبان میں ایسے پروگرام یا ایپلی کیشنز ترتیب دیتا ہے جس کے مطابق کمپیوٹر کسی مخصوص کام کو انجام دینے کے قابل ہوپاتا ہے۔
               
کمپیوٹر آپریٹر
 ڈیٹا اینٹری آپریٹر کمپیوٹر کو اطلاعات یا ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ اس کا م کے لیے آپریٹر ذہنی طور پر مستعد ہو اور بڑی خوبی کے ساتھ کام کرتا ہو۔ کمپیوٹر آپریٹر کمپیوٹر میںمعلومات کو ایسی شکل میں ترتیب دیتا ہے جسے کمپیوٹر سمجھ، قبول اور محفوظ کر سکے۔ جوں جوں کمپیوٹر ہماری زندگیوں میں داخل ہوتا جا رہا ہے توں توں ڈیٹا اینٹری آپریٹر یا کمپیوٹر آپریٹر کی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔                      

ہارڈویئر انجینئر
 کمپیوٹر مرمت اور دیکھ بھال کا کام ہارڈ ویئر کے شعبے سے متعلق ہے۔ اس شعبے میں اسامیاں کمپیوٹر بنانے اور  فروخت کرنے والے اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔  

کمپیوٹر سیلر
 کمپیوٹر کی فروخت ایک ایسا شعبہ ہے جو براہِ راست کمپیوٹر کے آپریشن سے تعلق نہیں رکھتا تاہم اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ جو شخص کمپیوٹر فروخت کر رہا ہو وہ کمپیوٹر کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتا ہو۔ مارکیٹنگ کی تربیت اس کام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سے واقفیت اور اس سے متعلق کسی شعبے کا تھوڑا سا تجربہ مفید ہوتا ہے۔                 
      
مندرجہ بالا بنیادی شعبوں کے علاوہ کمپیوٹر کے مزید بے شمار شعبے اور ہیں مگر وہ انہی چار بنیادی شعبوں کی ذیلی شاخیں ہیں۔          
           
کمپیوٹر کی تعلیم
 ہمارے ملک میں مختلف جامعات اور ادارے کمپیوٹر کے ڈگری ، ڈپلومہ اور سر ٹیفکیٹ کورسز کروا رہے ہیں۔نجی شعبے میں بھی کئی کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ قائم ہیں جہاں کمپیوٹر پروگرامنگ اور ڈیٹا اینٹری آپریٹر کے1 سال، 6 ماہ اور3 ماہ کے سر ٹیفکیٹ کورسز کروائے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ انسٹیٹیوٹ متعلقہ صوبے کے بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن سے منظور شدہ ہوتے ہیں۔کمپیوٹر ڈپلومہ اور سر ٹیفکیٹ کورسز کے لیے تعلیمی قابلیت میٹرک ،F.Sc اورF.A. ہے۔ داخلہ لیتے وقت طلباء کو اس چیز کو مد ِنظر رکھنا چاہئے کہ آیا یہ ادارے متعلقہ صوبے کے فنی تعلیمی بورڈ سے منظورشدہ ہیں یا نہیں؟                                    
       
ڈگری پروگرامز

B.S. کمپیوٹر ٹیکنالوجی
 B.S.کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں داخلے کے لیے اُمیدوار کی بنیادی اہلیت پری انجینئرنگ کے ساتھ F.Sc میں کامیابی ضروری ہے۔ داخلہ میرٹ کی بنیاد پر اور مختلف طبقوں کی مخصوص نشستوں پر دیاجاتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس میں B.S. کی ڈگری کے حامل نوجوان کمپیوٹر ہارڈ ویئر سے متعلق اُمور انجام دیتے ہیں۔ جن میں کمپیوٹر ڈیزائننگ ، آپریشن ، دیکھ بھال اور مرمت ، تنصیب وغیرہ کے اُمور شامل ہیں۔   
                               
اس کے علاوہ مختلف جامعات کمپیوٹر سائنس میں بی ای  یا بی ایس کی ڈگری بھی دیتی ہیں۔ اسکے لیے بھی بنیادی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ (سائنس)ہونا ضروری ہے۔ یہ 3 سالہ کورس ہے جس کے بعد بی سی ایس یا بی ایس کمپیوٹر سائنس کی ڈگری دی جاتی ہے۔
                    
MS کمپیوٹر سائنس
کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس کا نصاب2سال پر مبنی ہے۔ یہ نصاب سافٹ ویئر سے متعلق اُمور پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں کمپیوٹر لینگویج ، ان کی مختلف اقسام ، کمپیوٹر کی زبان ، ان کے پروگرام اورتھیوری و عملی مضامین شامل ہیں۔ ایم ایس کمپیوٹر سائنس میں داخلہ کی بنیادی اہلیت کمپیوٹر سائنس، ریاضی ، شماریات ، طبیعیات میں سے کسی ایک مضمون میںBS ہے۔ دیگر مضامین میں B.A. ، B.Sc کی ڈگری کے حامل اورB.Comکی ڈگری کے حامل ایسے اُمیدوار بھی داخلے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں، جنھوں نے ریاضی میں سر ٹیفکیٹ کورس کیا ہو یا شماریات میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کر رکھا ہو۔B.E. اور B.Tech کے کامیاب اُمیدوار بھی داخلے کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔ داخلہ اہلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

 ملک میں جس تیزی سے کمپیوٹر کا استعمال بڑھ رہا ہے اس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ ذہین اور منطقی سوچ کے حامل نوجوانوں کے لیے اس شعبے میں روزگار کے شاندار مواقع موجود ہیں۔ 

٭…٭

کیا ہم جانور ہیں؟

کسی مہا پُرش نے کہا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔بعض اوقات جب میں مختلف جانوروں کے بارے میں سوچتا ہوں تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔

کبھی کتے کو دیکھا ہے؟۔۔۔۔جب وہ باؤلا ہوتا ہے تو کیسے بھونکتا ہے؟۔۔۔۔آپ کا باس یا کوئی بلند مرتبہ شخص جب آپ پر برس رہا ہوتا ہے ،وہ کیسا محسوس ہوتا ہے؟ ؟؟ ۔۔۔۔وہ مسلسل آپ پر گرج رہا ہوتا ہے اور آپ گردن جھکا کر چپ چاپ سن رہے ہوتے ہیں اور اُسے خود پر حاوی ہونے دیتے ہیں۔ لیکن اگر وہ شخص آپ کے ہم پلہ یا ہم عمر ہو تو آپ اس کی گھن گرج کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ اب ذرا موازنہ کریں!۔۔۔۔ کیا آپ نے کبھی دو کتوں کو آپس میں لڑتے دیکھا ہے؟وہ کس طرح ایک دوسرے پر بھونک رہے ہوتے ہیں؟ ۔۔۔۔اسی طرح دو  وکلاء کی آپس میں تکرار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

اگر کوئی موٹا شخص کسی پر چِلائے تو کیا وہ "بل ڈاگ" کی یاد نہیں دلاتا؟۔۔۔۔اور اس سَمے دوسرا شخص خود کو لینڈی کتا محسوس نہیں کرتا؟

جب ہم کسی موٹے آدمی یا عورت کو دیکھتے ہیں تو کیا وہ گینڈا یا ہتھنی محسوس نہیں ہوتے ؟۔۔۔ بڑی بات ہے اگر وہ خود بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہوں۔ ہم کسی دراز قد آدمی کو زرافہ یا اونٹ کیوں کہتے ہیں؟ ۔۔۔۔اس لیے کہ ہم جانوروں سے مشابہہ ہیں؟


آخر ایک دلیر شخص کو چِیتا یا شیر کیوں کہا جاتا ہے؟۔۔۔۔جب دو عورتیں ایک دوسرے کی غیبتیں یا برائیاں کرتی ہیں یا ساس بہو کی یا بہو ساس کی برائیاں کرتی ہے تو کیا وہ زہریلے سانپوں کی مانند دکھائی نہیں دیتیں؟ ۔۔۔۔۔جب کوئی کسی سے مدد لینے کے لیے یا اپنا کام نکلوانے کے لیے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے  اس کی خوشامد کرتا ہے تو وہ لومڑ محسوس نہیں ہوتا؟۔۔۔۔چالاک لومڑ!۔۔

بارش کے موسم میں برساتی مینڈک اُچھل کود کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کیا وہ گلیوں میں کھیلتے شرارتی بچے معلوم نہیں ہوتے؟ ۔۔۔یا پھر وہ دروازوں پر کھڑی لڑتی جھگڑتی پڑوسنیں معلوم نہیں ہوتیں؟۔۔۔۔۔۔رنگین مینڈک!!!۔۔

آج کل کے بچے ضدی خچروں کی طرح نہیں ہوگئے ہیں؟ ۔۔۔۔جس بات پر اَڑ گئے سو اَڑ گئے!۔۔۔۔۔یوں بھی آپ نے بچوں کو ایک دوسرے کو گدھا یا گدھی کہتے تو سنا ہی ہوگا!۔۔ 

مسابقت کے اس دور میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایسے کہ جیسے گھوڑوں کی ریس ہورہی ہو!۔۔۔

کبھی منحوس بلی دیکھی ہے آپ نے؟۔۔۔۔جب وہ غصے میں ہوتی ہے تو پنجے مارتی ہے۔ بالکل  کسی مظلوم شوہر کی بیوی کی طرح۔۔۔۔!!!۔۔

کچھ آدمی آدم بیزار ہوتے ہیں۔ لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر دیتے ہیں۔ لوگوں میں گھلنے ملنے سے زیادہ اپنی خواب گاہ میں ٹیلی ویژن دیکھنے یا کتابی کیڑابنے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو کس جانور سے تشبیہ دی جا سکتی ہے؟۔۔۔۔ہمم۔۔۔۔۔جی ہاں!۔۔۔۔۔شتر مرغ!!!۔۔

اور یہ چھوٹے چھوٹے شریر بچے تو مجھے بندروں کی یاد تازہ کراتے ہیں۔ ایک جگہ آرام سے بیٹھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ ہر چیز کو ہاتھ لگانا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ ۔۔۔اور الامان و الحفیظ!۔۔۔۔جب کسی چیز کی ضد کرنے لگ جاتے ہیں تو شور مچا مچا کر پورا گھر سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل بندروں کی طرح!!!۔۔

چنانچہ اے پیارے قاری!۔۔۔۔ہم خود کو انسان کہلوانے پر کیوں بضد ہیں؟۔۔۔ جب کہ ہم جانور ہیں!!!۔۔۔

جاتے جاتے یاد آیا!۔۔۔۔ناپسندیدہ شخص کوہم کیا کہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔جی ہاں۔۔۔۔ "الو کا پٹھا"۔۔۔!!!۔۔

(ڈان اخبار کے ایک مضمون کا ترجمہ کچھ مرچ مصالحے اور تڑکے کے بعد)
ترجمہ : شعیب سعید شوبی

چند بےترتیب خیالات (1)

٭.... مشاہدہ  ایک نعمت ہے۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو سمجھنے کے لیے مشاہدہ بہت ضروری ہے۔ انسان کو ان تلخ حقیقتوں سے آنکھیں چرانے کی بجائے ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیئے۔ ان سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔ 

٭.... بعض لوگوں کو جب تک احساس نہیں دلایا جائے ، انھیں احساس نہیں ہوتا۔

٭.... تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔ جب دوسروں کے رویے اور منفی برتاؤ ایک حد سے تجاوز کر جائیں تو انسان کے اندر کا لاوا قوت برداشت سے باہر نکل ہی آتا ہے۔ ظاہر ہے کوئی انسان فرشتہ نہیں ہوتا۔

2 جون 2013ء کو میری ڈائری میں لکھے گئے میرے چند بےترتیب خیالات ۔۔۔۔

جرنلزم

جرنلزم صرف ایک کیریئر ہی نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ ایسا مشن جو آپ میں تخلیقی صلاحیت بڑھاتا ہے ۔ آپ میں معاشرے کے مسائل حل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ نام و شہرت کے ساتھ آپ میں زندگی کی دشواریوں کو سمجھنے ،اوراُن کے لیے بہتر حل اور متبادل پیش کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔                                                                              
          
پرنٹ میڈیا میں کیریئر کے مواقع
میڈیا کا اولین ذریعہ پرنٹ میڈیا ہے۔ آج بھی یہ میڈیا کا ایک بہت ہی طاقتور اورمؤثر ذریعہ ہے۔ آج بھی ملک بھر میں ہر سال سینکڑوں چھوٹے بڑے اور اوسط درجے کے اخبارات و رسائل ڈی سی او آفس میں ڈیکلیئریشن داخل کرتے ہیں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شعبہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ملازمت و کیریئر کے بہترین مواقع پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔
                                    
رپورٹنگ کے علاوہ اخبارات اور رسائل میں اور بھی بہت سے شعبے ہیں جن کے ذریعے اس فیلڈ میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بحیثیت فوٹوگرافر، آرٹسٹ ایڈیٹر، کمپیوٹر آپریٹر ، لائبریرین، کارٹونسٹ وغیرہ۔ ایسے نوجوا ن جن میں بہتر تحریری صلاحیت، زبان پر مہارت، فوٹو یا گرافک ڈیزائننگ کی صلاحیت ،تجسس اور پختہ ارادی و خود اعتمادی ہو اور تعلیمی اعتبار سے بھی تربیت یافتہ ہوں ، وہ اس شعبہ میں ضرور کامیاب ہو سکتے ہیں۔اس پروفیشن کے چند شعبوں کے حوالے سے مختصر معلومات اس مضمون میں پیش کی جا رہی ہیں۔  
     
ایڈیٹنگ
ایڈیٹنگ کا مطلب شائع ہونے والے تمام مواد کی منصوبہ بندی کرنا اور اس کی تیاری کی نگہبانی کرنا۔ ہر اخبار میں ایڈیٹرز ہوتے ہیںجو اخبار کے قوانین سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ انھیں نئے اور جدید طریقے سے اپنے پورے اسٹاف کی صلاحیت کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔ اپنے اخبار یا میگزین کی منفرد پہچان کے لیے ہمیشہ نئے انداز اور نئی سوچ و فکر کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ ایک کامیاب ایڈیٹر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری ٹیم کا بھروسہ حاصل کرے۔ ان میں بہتر ربط و ضبط پیدا کرے ۔ کاموں کو ٹیم کی صلاحیت کے مطابق تقسیم کرے۔ بڑے اخبارات میں ایسوسی ایٹ یا اسسٹنٹ ایڈیٹرز بھی ہوتے ہیں جو مخصوص شعبوں جیسےاسپورٹس ، بین الاقوامی خبریں، مقامی خبریں یا دیگر مخصوص صفحات کے لیے ایڈیٹنگ کرتے ہیں۔ ایڈیٹر کے انتظامی فرائض میں مضامین جمع کرنا ، بجٹ پلان کرنا، فری لانس مضمون نگار سے مضامین لکھوانا وغیرہ ہوتے ہیں۔     
                                                        
بہت سے اخبارات میں ایڈیٹر کی مدد کے لیے سب ایڈیٹرز ہوتے ہیں ، جن کا خاص کام رپورٹرز کے ذریعے جمع شدہ خبروں کو آخری شکل دینا ہوتا ہے۔ ایک کامیاب اخبار کے لیے بہترین سب ایڈیٹر کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ان کے کام میں مختلف رپورٹس کو ان کے صحیح انداز میں پیش کرنا شامل ہے۔ اس کام کے دوران سب ایڈیٹر کو اپنے اخبار کی نیوز پالیسی کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے۔ ان میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ شک و شبہ والی یا غیر مصدقہ خبروں کی نشاندہی بھی کر سکیں اور تحریری غلطیوں پر بھی نظر رکھ سکیں۔

رپورٹنگ
اخبارات یا میگزین کی رپورٹنگ کا مطلب مقامی، صوبائی ، قومی اور بین الاقوامی واقعات پر رپورٹس تیار کرنا۔ ان رپورٹس کو پیش کرتے وقت مختلف زاویوں اور نظریے سے سوچنا ، حالات  ِ حاضرہ پر کڑی نظر رکھنا ایک اچھے رپورٹرکی خوبی ہے۔ ذمہ دار افراد کے بیانات کو سمجھنا ۔  با اختیار افراد، سیاستداں، سرکاری و غیر سرکاری محکموں کے ذمہ داروں کے اعلانات و بیانات کو واضح کرناوغیرہ…اخبارات مختلف خبروں کو جمع کرنے کے لیے مختلف مقامات بشمول بیرون ملک اپنے نمائندگان بھیجتے ہیں یا انھیں اس کام کے لیے متعین کیا جاتا ہے کہ کسی مخصوص مقام، موضوع یا معاملہ پر خبر بنائیں۔    

فری لانسنگ
 ایک کامیاب مضمون نگار بحیثیت فری لانسر جرنلسٹ کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ یہ جرنلسٹ کسی مخصوص اخبار ، میگزین یا آرگنائزیشن کے باقاعدہ ملازم نہیں ہوتے بلکہ ان کے مختلف مضامین ، اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے ہیں ، جن کے لیے اخبار یا آرگنائزیشن سے انھیں معاوضہ ملتا ہے۔                      
                                                                   
کالم نویس
اخبارات مخصوص کالم نگاروں کو منتخب کرتے ہیں ۔ ان کالم نگاروں سے اخبار کے لیے مخصوص موضوعات پر کالمز لکھوائے جاتے ہیں ۔ ان کے کالمز سہہ روزہ ، ہفتہ واری یا ماہانہ شائع کیے جاتے ہیں۔         
                                                         
کارٹونسٹ
سیاسی معاملات ہوں یا قومی تہوار، بین الاقوامی معاملات ہوں یا حالات حاضرہ کا کوئی مخصوص واقعہ …ان تمام معاملات میں کارٹونسٹ واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کارٹون بناتے ہیں۔ مشہور کارٹونسٹ جاوید اقبال کوتوآپ جانتے ہوں گے۔ جو کارٹونسٹ فری لانسر ہوتے ہیں وہ عام طور پر اپنی فنی صلاحیتوں کے ساتھ مختلف موقعوں پراپنے کارٹونز اخبارات و رسائل میں روانہ کرتے ہیں۔       
                                                                                                        
کمرشل آرٹسٹ
 کمرشل آرٹسٹ اپنے مخصوص چارٹس ، گراف ، تصاویر اور اشکال کے ذریعہ اخبارات و رسائل کو دلچسپ اور دلکش بناتے ہیں۔           
                                                                                                                      
فوٹو جرنلزم
 فوٹو جرنلزم ایسا فن ہے جس میں مختلف تصاویر کے ذریعے واقعات یا خبروں کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایسے نوجوان جنہیں فوٹوگرافی کا شوق ہے اور ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ تصاویر کو خبروں سے جوڑ سکیں ، فوٹو جرنلسٹ بن سکتے ہیں۔                 
          
ایک جرنلسٹ پرنٹ میڈیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا مختلف طریقوں سے منوا سکتا ہے ۔ پرنٹ میڈیا کے کئی ضمنی شعبے ہیں ۔جیسے اخبار، میگزین ، خبر رساں ایجنسیاں نیز انٹرنیٹ کی نیوز پورٹل ویب سائٹس وغیرہ۔پرنٹ میڈیا میں مندرجہ ذیل عہدے ہوتے ہیں۔
 ٹرینی اسٹاف رپورٹر ، رپورٹر ، سینئر رپورٹر ، چیف رپورٹر وغیرہ…

خبر رساں ایجنسیوں میں کام کرنے کے لیے بہت سخت ’’ڈیڈلائن‘‘ ہوتی ہے۔ دن کے ختم ہونے تک نہیں بلکہ دیے گئے گھنٹوں یا منٹوں میں خبر رساں ایجنسیوں میں خبریں یا واقعات بہت صاف ، واضح اور بالکل ’’ ٹو دی پوائنٹ‘‘ تیار کی جاتی ہیں۔ ان خبروں کے بدلنے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی۔ نیوز ایجنسیز میں کام 24 گھنٹے جاری رہتا ہے، ان کے دفاتر کبھی بند نہیں ہوتے خواہ یوم آزادی ، تہوار ، ہڑتال،چھٹیاں یا کوئی بھی معاملہ ہو…اس کے علاوہ اخبارات میںمخصوص اوقات میں کام ہوتا ہے۔

غرض جرنلزم وہ شعبہ ہے جو آپ سے پختہ ارادی اور مستعدی کا تقاضا کرتا ہے اور اگر آپ تخلیقی اور انقلابی ذہن رکھتے ہیں تو جرنلزم سے زیادہ پرکشش شعبہ اور کوئی نہیں…!...
  ٭…٭

کیا آپ صحافی بننا چاہتے ہیں؟

کسی بھی اخبار کے لیے ’’ صحافت ‘‘ کے فرائض انجام دینا ایک دلچسپ مگر بہت زیادہ محنت طلب کا م ہے ۔ اگر آپ صحافی بننا چاہتے ہیں تو آپ کو چند باتیں معلوم ہونا ضروری ہیں۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں۔                                      

صحیح فیصلہ کریں
 سب سے پہلے فیصلہ کریںکہ آپ کس زبان کے اخبار میں صحافت کے فرائض انجام دینا چاہتے ہیں۔ یعنی اخبار انگریزی ہے یا اُردو ، سندھی  وغیرہ … ؟                                           

تعلیمی قابلیت
 بہت سے نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ صحافت کے لیے کوئی خاص تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ غلط سوچ ہے ۔ اس شعبے میں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ تعلیم یافتہ اور باشعور آدمی ہی صحیح طرح صحافت کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ ویسے تو متعدد مضامین کے ساتھ گریجویشن یا ماسٹر ڈگری یافتہ نوجوان اس پیشے کے لیے موزوں تصور کیے جاتے ہیں مگر عصر حاضر میں مقابلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ’’ ابلاغ  ِ عامہ ‘‘ (Mass Communication) میں ڈگری یافتہ نوجوانوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔
                                                                                                          
زبان پر عبور
 زبان پر عبور نہایت ضروری ہے۔ اگر آپ اُردو اخبار میں کام کر رہے ہیں تو اُردو زبان پر عبور ضروری ہے۔ اگر آپ انگریزی اخبار میں کام کر رہے ہیں تو انگریزی زبان میں مہارت بے حد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا انگریزی سے اُردو میں اور اُردو سے انگریزی زبان میں یا دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کے فن سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔      
                                   
سماجی تعلقات 
 اس شعبے میں وہ نوجوان بہت کامیاب رہتے ہیں جن کے سماجی تعلقات ہوں، جن کا حلقہ احباب بہت وسیع ہو ، کیونکہ صحافیوں کو بہت سے لوگوں سے میل جول رکھنا ہوتا ہے، اس طرح بہت سے واقعات یا باتوں کا علم ہو جاتا ہے جس کی خبر بن سکتی ہے۔ تعلقات کی بدولت بہت سے لوگ خبریں فراہم کر دیتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ میل جول رکھنے والے ہوں۔          
         
بہترین یاداشت، مضبوط قوت ِ حافظہ
 اس شعبے میں وہ نوجوان بہت کامیاب رہتے ہیںجو بہترین یاداشت اور مضبوط قوت ِحافظہ کے مالک ہوں کیونکہ اخبار میں ہر وقت خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ روزانہ ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جنھیں خبر کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر حافظہ بہترین ہوگا تو ہی آپ اسے ذہن میں محفوظ رکھ سکیں گے اور وقت ِ ضرورت اس کو بازیافت (Recall) کر سکیں گے۔       
                                                                             
قوت ِ مشاہدہ 
 تیز قوت ِ مشاہدہ کے مالک نوجوان اس شعبے کے لیے موزوں ہیں۔ اس لیے اگر آپ بہترین قوت ِ مشاہدہ رکھتے ہیں تو اس شعبے میں طبع آزمائی ضرور کریں۔   

کام کرنے کا جنون
 ایسے نوجوان جو جنونی انداز سے کام کرنے کے عادی ہوں ، جو اپنے کام کو فوری پایہ تکمیل تک پہنچا دیں، جو ’’موڈ کے غلام ‘‘ نہ ہوں وہ اس شعبے کے لیے بہترین ہیں۔ دیکھنے میںآیا ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوان ’’موڈ کے غلام‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر موڈ ہوگا تو کام کریں گے ، موڈ نہیں ہوگا تو پھر کام کا اللہ ہی حافظ ہے۔اس شعبے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔اس لیے موڈ کو نظر انداز کرنا بے حد ضروری ہے۔       
                                                                                 
احساس  ِ ذمہ داری
اس شعبے کے لیے  احساس  ِ ذمہ داری بہت ضروری ہے ۔ ویسے تو یہ ہر شعبے کے لیے ہی بہت ضروری ہے مگر صحافت میںتو بہت زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اس شعبے میں آپ کو بہت کا م کرنا پڑتا ہے۔جب آپ کو کام سونپا جا رہا ہے تو ذمہ داری کے ساتھ اس کی ادائیگی کریں۔ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ اور غفلت اخبار میں ہر گز برداشت نہیں کی جا سکتی ۔      
                       
ہر قسم کے ماحول میں ڈھلنے والے نوجوان
 جو نوجوان ہر قسم کے ماحول میں ڈھل جاتے ہوں ، ہر قسم کے ماحول میں آرام سے کام کر لیتے ہوں ، ایسے نوجوان اس شعبے میں با آسانی کام کر سکتے ہیں۔   
                                                                      
اس مضمون میں ہم نے ان چند باتوں کا احاطہ کیا ہے ، جو صحافی بننے کے لیے جاننا ضروری ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ یہ کام کر سکتے ہیں تو اس پیشے کو ضرور اختیار کیجئے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس شعبے میں شہرت تو بہت زیادہ ہے مگر محنت اور جدوجہد کی بھی ضرورت ہے ۔ اگر آپ محنت اور جدو جہد سے نہ گھبراتے ہوں اور کام ، کام اور صرف کام کے عادی ہوں تو پھر آپ اچھے صحافی بن سکتے ہیں۔               

اگلے مضمون میں ہم جرنلزم پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالیں گے۔۔۔۔۔

ٹیکسٹائل ڈیزائننگ

کپڑا ہر دوراور ہر زمانے میں زندگی کی بڑی ضرور ت رہا ہے اور دنیا کی ہر بڑی تہذیب کے ارتقاء میں اس کی اہمیت مسلمہ رہی ہے۔ کپڑا تاریخِ بشریت کے ہر دور میں مہذب انسان کی اہم ترین ضرورت رہا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اس کی اہمیت اور افادیت کافی بڑھ گئی ہے کیونکہ آج کا زمانہ نت نئے فیشنوں کا زمانہ ہے، اس لیے اب نت نئے انداز ، ڈیزائننگ ، رنگ سازی، آمیزی اور طرح طرح کی کٹنگ کا بھی چلن ہوگیا ہے۔ بچوں سے لے کر نوجوانوں بلکہ بڑوں تک میں فیشن کا رواج ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کپڑے کی بناوٹ ، میٹیریل ، ڈیزائن ، رنگ اور کٹنگ ہر ایک میں ہنر مندی کامظاہرہ ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ فنکاری اور ہنر مندی اپنے آپ سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ اس کے پیچھے فنکاری ، صنعت کاری ، دماغ سوزی اور صلاحیت کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ یہ سب ٹیکسٹائل انجینئروں کی ہنرمندی اور علم کا ہی کرشمہ ہوتا ہے کہ کپڑوں میں روزانہ نئی نئی نوعیت کی اختراع ہوتی رہتی ہے۔ آج کے فیشن پسند دور میں ہر دم  نت نئے ڈیزائنوں اور نت نئے فیشنوں کی دھوم مچی رہتی ہے۔
                                         
زمانہ قدیم سے ہی برصغیر پاک و ہند میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی شاندار روایت رہی ہے۔آج بھی دنیا بھر میں ٹیکسٹائل انجینئرز اور فیشن ڈیزائنرز غیر ملکی فلم انڈسٹری سے لے کراسپورٹس وغیرہ کے نت نئے ڈھنگ کے کپڑے تیار کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے ہیں۔ ہمارے خطےمیں ٹیکسٹائل انجینئروں اور ڈیزائنروں کی دنیا بھر میں مانگ بڑھتی جارہی ہے۔ اس لیے ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرکے اندرون  ِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون  ِ ملک بھی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں خود روزگاری اور سرکاری و غیر سرکاری ، ملکی و غیر ملکی تجارتی کمپنیوں میں بھی پر کشش ملازمتوں کے امکانات ہوتے ہیں۔


ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم
ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم بڑی اہمیت اور افادیت کی حامل ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کے لیے طلباء کا کم سے کم ہائی اسکول پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ڈگری کورس کے لیے اُمیدوار کا انٹرمیڈیٹ پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ کا ڈپلومہ کورس 3 سالہ ہوتا ہے۔ جبکہ ڈگری کورس کے لیے 4 سال کی مدّت درکار ہوتی ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ یا ڈگری کورس کرنے والے امیدواروں کے لیے کپڑوں سے متعلق باریکیوں جیسے کپڑے کے ریشے ، اس کی بنائی کا طریقہ ، پروسیسنگ ، رنگوں کی پہچان ، رنگ سازی اور رنگ آمیزی کے طریقوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔ کپڑوں کی نت نئی ڈیزائنوں کی اختراع کے لیے طلباء میں تخلیقی صلاحیت اور جدّت پسندی کا بھی ہونا ضروری ہے ۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ ہولڈر ٹیکنیشن کا اصل کام یہ ہے کہ مشینیں بلا رُکاوٹ کام کرتی رہیں ، تمام آلات رواں رہیں اور مشینوں کی وقت پر دیکھ بھال ہوتی رہے۔ مختلف قسم کے کپڑے کی تیاری سے پہلے مشینوں کو کسی خاص قسم کے کپڑے کے لیے ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔اگر دھاگہ یا کپڑا صحیح تیار نہ ہورہا ہو یا مشین بند ہوجائے تو نقص کو تلاش کرنا اور دور کرنا ٹیکنیشن کی ذمہ داری ہے۔ جدید مشینیں کمپیوٹر کی مدد سے کام کرتی ہیں، اس لیے آج کے دور کے ٹیکسٹائل ٹیکنیشن کو کمپیوٹرائزڈ مشینوں اور الیکٹرونک انجینئرنگ سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔  ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈگری ڈپلومہ ہولڈروں کی اس صنعت سے متعلق مختلف عہدوں،ریڈی میڈ ہوزری اور گارمنٹس کی بڑی بڑی کمپنیوں میں فیشن ڈیزائنر ، فیشن کو آرڈینیٹر ، سِلک مینیجر ، مارکیٹنگ اور کنٹرولر کے عہدوں کے لیے اچھی ملازمت کے علاوہ خود روزگاری کے بھی بہتر امکانات ہوتے ہیں۔ کپڑوں کے فیشن میں روز بروز ہونے والی تبدیلی نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں انقلاب آفریں مواقع پیدا کر دیے ہیں۔
٭…٭

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.