پیشے (Professions)

ہم اپنے آس پاس بے شمار لوگ دیکھتے ہیں، جو شکل و صورت، عادت و اطوار اور رہن سہن کے علاوہ اپنے اپنے ذریعہ روزگار میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔لوگوں کے اسی ذریعہ روزگار کو ’’پیشہ‘‘کہا جاتا ہے۔ ’’پیسہ ‘‘ میں ’’سین‘‘ پر تین نقطے لگا دینے سے ’’پیشہ‘‘بن جاتا ہے۔ گویا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ’’پیشہ‘‘ سے ’’پیسہ‘‘ ملتا ہے۔ چنانچہ ہم پیشہ کی اس طرح تعریف کر سکتےہیں:-۔۔
"وہ ذریعہ، جس کی مدد سے انسان پیسہ کماتا ہے، پیشہ کہلاتا ہے۔"

"نوٹ کریں کہ" پیشہ پیسہ کے راست متناسب ہوتا ہے۔

 حسابی شکل میں

پیشہ            پیسہ

یا انگریزی میں
Profession is directly proportional to  money


OR
Profession    Money

پیشوں کی اقسام 
(Types of Professions)
 پیشے دو طرح کے ہوتے ہیں، یا ان کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔
الف) منفی پیشے                        (ب)مثبت پیشے)

الف) منفی پیشے) 

اس قسم کے پیشے تعداد میں تو بہت کم ہیں ، مگر انھیں اپنانے سے فائدہ زیادہ اور نقصان کم ہوتا ہے… پاکستان جیسے ملک میں تو فائدہ ہی فائدہ ہے… پیسہ ہی پیسہ ہے۔انھیں ’’ناجائز پیشے‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے…بلکہ سب کچھ کہا جاسکتا ہے۔یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کون سا نام دیتا ہے۔یہ پیشے کئی ایک ہیں۔ہم یہاں چیدہ چیدہ بیان کرتے ہیں۔

الف) اسمگلنگ)
یہ ایک بہت مشہور اور منظّم پیشہ ہے۔ اسمگلنگ کہیں چھُپ چھُپ کر اور کہیں کھلے عام ہوتی ہے۔ اگر کامیابی سے ہوجائے تو اتنا پیسہ ملتا ہے کہ سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس پیشے سے وابستہ شخص کو ’’اسمگلر‘‘ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ لطیفہ ملاحظہ کریں۔

جج(ملزم سے): تم پر اسمگلنگ کا الزام ہے؟
ملزم : جی حضور!
جج: مگر تفتیش اور چھاپے کے دوران تو تمہارے ٹرک سے کچھ برآمد نہ ہوا۔
ملزم: وہ جی میں ٹرک ہی اسمگل کرتا ہوں۔

ب) رہزنی)

رہزنی، چوری،ڈاکہ ، یہ سب ایک ہی نوع کے پیشے ہیں۔اس میں اگر کامیابی سے ’’بڑا ہاتھ‘‘ مارا جائے تو پھر وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔رہزنی کے بعد رقم گننے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اگلے دن کے اخبار ات میں پڑھی جاسکتی ہے۔رہزنی کا پیشہ اپنانے والے کو ’’رہزن‘‘ یا ’’ڈاکو‘‘ کہا جاتا ہے۔ ڈاکوئوں کو بلا وجہ برا بھلا کہا جاتا ہے، جبکہ ایک مصنف نے ڈاکوئوں کے مندرجہ ذیل فائدے گنوائے ہیں۔

گھروں میں عریانی کا خاتمہ، کیونکہ ڈاکو اپنی کا روائی کے ذریعے بطور خاص ٹی وی اور وی سی آر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

روزگار وغیرہ کے حصول کے لیے حکومت پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ اپنے لیے خود روزگار حاصل کرتے ہیں۔

کئی سرکاری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گھروں کے چولہے انھی ڈاکوئوں کے وجود سے جل رہے ہیں، جو ان کے خلاف’’تحقیقات‘‘ کرتے ہیں۔

ج) گداگری)

اس پیشے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ مکروفریب سے کام لیا جائے ۔ مثال کے طور پر جعلی لنگڑا لولا بنا جائے یا پھر اندھا بنا جائے۔مشہور ہے کہ ایک آدمی کا ایک ہاتھ نہیں تھا اور وہ بھیک مانگ رہا تھا۔ ایک شخص نے اُسے چند سکے دیے اور آگے چلا گیا۔ کچھ آگے جاکر اس نے پلٹ کر دیکھا تو بھکاری اپنے دونوں ہاتھوں سے سکے گن رہا تھا۔ بھکاریوں کو آواز لگانا یا صدا دینا بھی آنا چاہئے۔ جیسے ایک بھکاری آواز لگاتا تھا۔
"اللہ روٹی کھائے گا …دال روٹی کھائے گا"
اس طرح وہ مانگتا اللہ کے لیے تھا، مگر بعد میں دیکھو تو خود کھا رہا ہوتا تھا۔

ب) مثبت پیشے)

اس قسم کے پیشے ہیں تو بے شمار مگر انھیں اپنانے کے بعد محنت بہت کرنی پڑتی ہے اور پیسے بھی بہت کم ملتے ہیں۔ انھیں ’’جائز پیشے‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔ مگر بعض لوگ اپنی ’’عقلمندی‘‘ اور ’’قابلیت‘‘ سے انھیں بھی ’’ناجائز ‘‘پیشے بنا لیتے ہیں۔ اس کے لیے وہ رشوت، دھاندلی، سود، ذخیرہ اندوزی، کرپشن ،جھوٹ، منافقت وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں۔ اس سے ان کی دنیا تو ضرور سنور جاتی ہے۔ البتہ آخرت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ ان پیشوں میں ڈاکٹری، وکالت، مہندس(انجینئر)،  دمنشی(بینکر)، دکانداری، ٹیچنگ (معلّمی) وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ ان سے سب اچھی طرح واقف ہیں اس لیے ان پر روشنی ہم نہیں ڈالیں گے۔ آپ چاہیں تو آپ ان پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ موم بتی سے ڈالنی ہے یا ٹیوب لائٹ سے ، اس کا فیصلہ بھی آپ نے کرنا ہے۔

مندرجہ بالا موازنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر محتاط رہا جائے تو منفی پیشے زیادہ بہتر اور مفید ہیں۔ آپ بھی اپنی ذمہ داری پر انھیں اپنا سکتے ہیں۔

تحریر: شعیب سعید شوبی

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

پیشے (Professions) پہ 4 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. پیسہ سے پیشہ تو آپ نے خوب بنایا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ تین نقطے آئے کہاں سے

    جواب دیںحذف کریں
  2. شاکر بھائی ٹائپ کی سہو ہو گئی تھی اب ایڈٹ کر دیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. افتخار صاحب تین نقطوں کا معاملہ فی الوقت سپریم کورٹ میں زیربحث ہے۔ :-)

    جواب دیںحذف کریں

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.