January 2016

برکت کیا ہے؟

برکت کو بیان نہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی ٹینشن کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وه دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وه کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ ره جاتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وه تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔ وه اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں  (مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیره) نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔

برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔

یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیاده اور نتیجہ خیز کام کر سكيں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

کم کھانا، زیاده افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیاده آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’اسپيشل انعام‘‘ ہے.

برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی ساده لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔

(منقول )

طبیب بندر کی عجیب کہانی

جنگل کے جانوروں نے سوچا کہ ہم میں سے بھی کسی کو طبیب (ڈاکٹر) ہونا چاہیئے۔ مشورہ کرنے کے بعد بندر کو طب (میڈیکل) کی تعلیم حاصل کرنے بھیج دیا گیا۔ بندر جب واپس آیا تو لومڑی بیمار ہوگئی۔ بندرکو اس کا علاج کرنے بلایا گیا۔ چنانچہ وہ آیا اور درختوں کی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگانے لگا۔ تین چار شاخیں ٹاپنے تک لومڑی مر گئی۔

سب بولے: "ڈاکٹر صاحب! مریضہ تو مر گئی!"

بندر نے جواب دیا: ’’دیکھئے!بھاگ دوڑ تو میں نے بہت کی مگر شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔‘‘

🙈🙉🙊

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء کا کردار

زید حامد کی کئی باتوں سے اختلاف کے باوجود اس کے اس مطالبہ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی کہ تبلیغی جماعت اور خصوصاً مولانا طارق جمیل صاحب کو واشگاف انداز میں اور openly ٹی ٹی پی (طالبان) کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے اور ان سے اظہار لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے. جس طرح جنید جمشید کے معاملے میں انھوں نے اظہارِ لاتعلقی ظاہر کیا تھا.

مولانا طارق جمیل صاحب کے بہت سارے فالوورز ہیں  خصوصاً نوجوان نسل ان سے بہت متاثر ہے اور ان کے بیانات بہت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں. نوجوانوں کو مذہب کی طرف راغب کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے. چنانچہ ان جیسے علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس فکری کنفیوژن سے بھی نکالیں کہ تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر "اسلام" کے نام پر جو دہشت گردانہ کاروائیاں ہو رہی ہیں اور معصوم و بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دینِ اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں اور اس قسم کے حملوں میں استعمال ہونے والے کم عمر خودکش حملہ آور ہرگز ہرگز شہادت کا مرتبہ نہیں پار ہے بلکہ حرام موت مر رہے ہیں.

یہ صحیح ہے کہ تبلیغی جماعت ایک غیر سیاسی جماعت ہے مگر یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے سیاسی معاملہ قرار دے کر ٹالا اور نظر انداز کیا جاتا رہے کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے.

اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کس طرح کم عمر اور کچے ذہنوں کو گمراہ کر کے اور ان کی برین واشنگ کر کے خودکش حملوں کو متاثرکن اور  glorify  کر کے اور انھیں جنت اور حوروں کا لالچ دے کر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے بھیجا جاتا ہے.

  اگر مان بھی لیا جائے کہ ہمارے علماء اس قسم کی کوئی برین واشنگ نہیں کرتے بلکہ دہشت گرد ہمیشہ کی طرح عالمی سازش کے تحت بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے تربیت لے کر ایسا کام کرتے ہیں پھر بھی علماء کا فرض بنتا ہے کہ اس کے تدارک کے لیے اگر عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی تقریروں اور بیانات میں تو اس کی مذمت کریں.

تبلیغ کے لیے وقت نکالنا ، نماز و روزہ کی تلقین اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احیاء بہت ضروری کام ہے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن موجودہ صورتحال میں یہ بھی بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کے معاملہ پر چپ نہ رہا جائے اور عوام خصوصاً نوجوانوں کی کاؤنٹر برین واشنگ (دماغ سازی) کی جائے تاکہ کچے ذہن ان گمراہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بے وقوف نہ بنیں جنھوں نے جنت کا حصول اتنا آسان بنا دیا ہے کہ خودکش جیکٹ پہن کر کسی بھی اسکول اور کالج میں گھس جاؤ اور معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے آخر میں خود کو بھی بم سے اُڑا لو!

علماء میں یہ اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ بار بار بلکہ ہر بار دہشت گردی کی سختی کے ساتھ مذمت کریں اور اس عمل کو اسلام کی صریحاً خلاف وردی قرار دیں. صرف فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اکیلے اس ناسور کا خاتمہ نہیں کر سکتے.

تحریر : شعیب سعید شوبی

دھچکے یا setback سے کیسے نکلا جائے؟

آج کل جب بھی کسی سے خیریت پوچھی جائے کہ بھائی کیا حال ہے تو آج کل ہر ایک کا جواب ہوتا ہے کہ “اللہ کا شکر ہے” “مالک کا احسان ہے” وغیرہ وغیرہ. مگر جب کوئی مشکل یا آزمائش سامنے آتی ہے تو بندے کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ واقعی ان الفاظ کی لاج رکھتا ہے یا نہیں؟

بعض دفعہ ہر قسم کی پیشگی منصوبہ بندی اور پلاننگ کے باوجود بھی ایسے دھچکے درپیش آتے ہیں جو انسان کے بس سے باہر ہوتے ہیں لیکن وہ آزمائش ہی کیا جس میں آزمائش نہ ہو؟ بس یہیں تو بندے کی آزمائش ہوتی ہے کہ وہ اس ناگہانی آزمائش کو اللہ کی رضا کے لیے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرے اور ایک نئی امنگ اور ولولے کے ساتھ ازسرنو اپنی زندگی کا آغاز کرے. یقیناً اللہ اپنے نیک بندوں کی ہی آزمائش کرتا ہے. ویسے بھی کچھ چیزوں کا اجر ہمیں آخرت پر بھی چھوڑ دینا چاہیے.

افتخار اجمل بھوپال صاحب کی تحریر ” میری زندگی کا نچوڑ “ پر تبصرہ کرتے ہوئے  میں نے فرمائش کی تھی:

کسی دن اس پر بھی اپنے تجربات کی روشنی میں ضرور لکھیئے کہ کیریئر کے دوران اچانک آنے والے دھچکے یا set back سے کس طرح نکلا جائے؟ مایوسی کو خود پر حاوی ہونے سے کس طرح بچا جائے؟ بعض اوقات کسی مصلحت کی وجہ سے شاید اللہ تعالٰی کے یہاں بھی فوری شنوائی نہیں ہوتی ۔ عبادت میں بھی دل نہیں لگتا ۔ اس کا کیا حل ہے؟

افتخار اجمل صاحب نے اس پر مندرجہ ذیل جواب مضمون اپنے بلاگ پر پوسٹ کیا. اس مضمون کو ان کے شکریے کے ساتھ اپنے بلاگ پر مفادِ عامہ کے لیے دوبارہ پوسٹ کر رہا ہوں.

کار و بار ہو یا ملازمت ۔ چلتے چلتے اگر کوئی رکاوٹ آ جائے تو دھچکا لگتا ہے ۔ اگر سکون سے کام چل رہا تھا تو دھچکا زیادہ محسوس ہو گا ۔ اگر پہلے دھچکے کا تجربہ نہ ہو تو دھچکے کا دورانیہ بہت طویل محسوس ہو گا ۔ دھچکا لگنا کوئی بڑی بات نہیں ۔ زیادہ تر لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں البتہ کچھ کو کبھی کبھار لگتا ہے اور کچھ کو بار بار ۔ بار بار دھچکا لگنے سے انسان پُختہ یا عادی یا تجربہ کار ہو جاتا ہے اور پھر دھچکے اس پر بُرا اثر نہیں ڈالتے ۔ اصل مُشکل یا مُصیبت دھچکا نہیں بلکہ دھچکے کا اثر محسوس کرنا ہے جو ہر آدمی اپنی اپنی سوچ کے مطابق کرتا ہے ۔ جھٹکے مالی ہو سکتے ہیں اور نفسیاتی بھی

چلتی گاڑی میں سفر کرنے والا یا چلتے کارخانے میں کام کرنے والا یا چلتے کار و بار کو چلانے والا عام طور پر جھٹکوں سے بچا رہتا ہے لیکن وہ کچھ سیکھ نہیں پاتا ۔ ماہر وہی بنتا ہے جس نےکارخانہ بنایا ہو یا کوئی نئی مصنوعات بنا ئی ہوں یا نیا دفتر قائم کر کے چلایا ہو یا نیا کار و بار شروع کیا ہو اور پیش آنے والی مُشکلات کا دلیرانہ مقابلہ کیا ہو ۔ دوسرے معنی میں زندگی کے نشیب و فراز دیکھے ہوں یعنی دھچکے کھائے ہوں

پہلی جماعت سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک بہت سے امتحانات دیئے جاتے ہیں ۔ کسی امتحان کا نتیجہ توقع سے بہتر آتا ہے ۔ کسی کا توقع کے مطابق اور کسی کا توقع سے خراب ۔ وہاں ممتحن انسان ہوتے ہیں تو توقع سے خراب نتیجہ آنے پر ہم اپنی خامیاں تلاش کرتے اور مزید محنت کرتے ہیں ۔ لیکن معاملہ اللہ کا ہوتا ہے تو ہم کہتے ہیں ”اللہ بھی بے کسوں کی نہیں سُنتا“۔

کیا یہ ہمارا انصاف ہے ؟

آجکل جھٹکوں کا سبب زیادہ تر انسان کی تبدیل شدہ اس عادت کا شاخسانہ ہوتا ہے کہ وہ مُستقبل کی مناسب منصوبہ بندی نہیں کرتا ۔

محاورے اور ضرب المثل کسی زمانہ میں تاکید کے ساتھ پڑھائے جاتے تھے ۔ یہ انسان کیلئے مشعلِ راہ بھی ہوتے تھے ۔ جب سے جدیدیت نے ہمں گھیرا ہے ہمارا طریقہءِ تعلیم ہی بدل گیا ہے اور محاوروں کی اہمیت ختم ہو گئی ہے ۔ ایک ضرب المثل تھی ”اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو اور بُرے وقت کیلئے پس انداز کرو“۔ چیونٹیوں کو کس نے نہیں دیکھا کہ سردیوں اور بارشوں کے موسم سے قبل اپنے بِلوں میں اناج اکٹھا کرتی ہیں ۔ ہم انسان ہوتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اخراجات بڑھاتے چلے جاتے ہیں اور بُرے وقت کیلئے پس انداز نہیں کرتے ۔ پھر جب تنگی یا کوئی رکاوٹ آئے تو ہمارے ہاتھ پاؤں پھُول جاتے ہیں

اللہ پر یقین کا دَم تو سب ہی بھرتے ہیں لیکن دھچکا لگنے پر اصلیت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ پر کتنا یقین ہے ۔ دھچکے کی شدت کا تناسب اللہ پر یقین سے مُنسلک ہے ۔ اگر اللہ پر یقین کامل ہے تو دھچکا لگنے کے بعد احساس یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے شاید اس میں میرے لئے کوئی بہتری رکھی ہے ۔ اور آدمی اپنی خامیاں تلاش کرتا اور انہیں دُور کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ساتھ ہی محنت جاری رکھتا ہے ۔ ایسا کرنے والا سکون میں رہتا ہے

صرف اس دنیا کا ہی نہیں کُل کائنات کا نظام چلانے والا صرف اللہ ہے ۔ کون ایسا مُسلمان ہے جو سورت اخلاص نہ جانتا ہو ؟ اس کے ترجمہ پر غور کیجئے ” کہو کہ وہ اللہ ایک ہے ‏۔ معبود برحق جو بےنیاز ہے ۔ نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں“۔

‏اللہ نے انسان کیلئے چند اصول وضع کر رکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے ۔ سورت 53 النّجم آیت 39 ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

اللہ اپنے بندوں کو آزماتا بھی ہے ۔ سورت 29 العنکبوت آیت 2 ۔ کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

جب آدمی کسی مُشکل میں گرفتار ہوتا یا اسے جھٹکا لگتا ہے تو یہی وقت ہوتا ہے انسان کے بِدک جانے کا یا درُست راہ کو مضبوطی سے پکڑ لینے کا ہر پریشانی کا سبب ایک طرف مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کا فُقدان یا غلط منصوبہ بندی اور دوسری طرف اللہ پر بھروسے میں فقدان یا نامکمل بھروسہ ہوتا ہے.

(افتخار اجمل بھوپال)

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.