July 2014

رمضان اور ہمارا نفس

چلتے ہوئے پنکھے کو بند کر دینے سے پنکھا فوراً بند نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ سست ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ رک جاتا ہے.

اسی طرح سال کے گیارہ ماہ شیطان کی کمپنی میں انجوائے کرنے کے بعد جب رمضان میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے تو ہمارا نفس شیطان کی کمپنی کو مِس کرتا ہے اور اس عارضی جدائی کا غم غلط کرنے کے لیے ہمیں رمضان میں بھی گناہوں اور معصیت کے کاموں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے.

رمضان کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ رمضان کے اس تربیتی پروگرام کو رمضان کے بعد بھی فالو کرتے رہیں تاکہ اگلے برس جب رمضان آئے تو ہمارا نفس اتنا تربیت یافتہ ہو چکا ہو کہ وہ پنکھے کی طرح گناہوں سے نہ رکے بلکہ بلب کی طرح فیوز ہو کر فوراً گناہوں سے رک جایا کرے. (انشاءاللہ)

پاؤں نہیں سر

جلال الدین ملک شاہ سلجوقی نے عمر خیام کو لکھا.....

"میرے پاؤں میں موچ آ گئی ہے اور میں کوئی کام نہیں کر سکتا. اُمورِ سلطنت رُک گئے ہیں. برائے مہربانی کسی اچھے سے طبیب کا پتہ بتائیے."

عمر خیام نے بادشاہ کو خط میں جواب لکھا....

''ظلّ ِ الٰہی! آپ اُمورِ سلطنت سے نمٹنے کے لیے اپنا پاؤں نہیں سر استعمال کریں."

************************************************

ہم زندگی میں مختلف حیلے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس فلاں ڈگری ہوتی تو آج ہم کامیاب انسان ہوتے. اگر کسی کی سفارش ہوتی تو ہم بھی کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہوتے. اگر کسی امیر ماں باپ کے گھر پیدا ہوتے تو ہمیں زندگی میں اتنی جدوجہد نہیں کرنی پڑتی. وغیرہ وغیرہ

بے شک ہر انسان ایک سا نہیں ہوتا. ہر ایک انسان کو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ صلاحیتوں، حالات، شخصیت، وسائل یہاں تک کہ الگ الگ مقدر سے نوازا ہے. مگر اللہ نے ہر انسان کو اتنی عقل اور سمجھ ضرور عطا فرما دی ہے کہ وہ اپنے حال اور مستقبل کی بہتری کے لیے خود سے فیصلے کر سکے اور پھر ان پر درست خطوط میں عمل درآمد کر سکے. ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی معذوری یا وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بجائے ہم اپنے دماغ کا استعمال کریں اور اپنے دستیاب وسائل و حالات کے اندر رہتے ہوئے کوشش کرتے رہیں. اللہ بھی انھی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرنا جانتے ہوں.

شعیب سعید شوبی

میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

ہر کسی سے کرب کا اظہار ، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اِک بڑا احسان ہے لوگوں کے سَر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار میں روزے سے ہوں

میں نے ہر "فائل" کی دُمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے میری بیوی مرے رَستے سے کچھ کترا کے چل
اے میرے بچو! ذرا ہشیار میں روزے سے ہوں

شام کو میں آپ کے گھر آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کر لیں ، دوست، رشتہ دار میں روزے سے ہوں

(سیّد ضمیر جعفری)

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.