میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

ہر کسی سے کرب کا اظہار ، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اِک بڑا احسان ہے لوگوں کے سَر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار میں روزے سے ہوں

میں نے ہر "فائل" کی دُمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے میری بیوی مرے رَستے سے کچھ کترا کے چل
اے میرے بچو! ذرا ہشیار میں روزے سے ہوں

شام کو میں آپ کے گھر آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کر لیں ، دوست، رشتہ دار میں روزے سے ہوں

(سیّد ضمیر جعفری)

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

میں روزے سے ہوں پہ 2 تبصرے ہو چکے ہیں

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.