August 2014

ابّو آگئے

نورا: ابّو ابّو دیکھیں! عمّی اور قادری مجھے کھیلنے نہیں دے رہے.
عمّی: ابّو نورے کو بولیں مجھے بھی کھلائے.
قادری: ابّو میرے کو بھی کھیلنا ہے.
راحیل صاحب: بس بچو! شور مت کرو! آپ کے ابو اب آگئے ہیں نا!
نورا، عمّی اور قادری: ابووّو آ گئےےےےے! ابووّو آ گئےےےے!

*******

خوبصورت الفاظ کی تلاش

خوبصورت الفاظ بھی ایک خوبرو دوشیزہ کی طرح ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے آنے والے ترسے ہوئے مرد کو خوب نخرے دکھاتے ہیں. عشق کے کئی امتحان لیتے ہیں.ان کے لیے کئی اداس تنہا جنگل اور منہ زور دریا عبور کرنے پڑتے ہیں. جس نے ان کے نخرے برداشت کر لیے وہ سکندر ٹھہرا، وگرنہ یہ الفاظ بھی زندگی کی طرح مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں. ان کی تلاش کا سفر بھی اس وقت ختم ہوتا ہے جب زندگی خود اپنے انجام کو پہنچتی ہے. مرنا بذات خود ایک تجربہ ہے، چاہے آخری ہی سہی. دیکھتے ہیں کہ لفظوں اور زندگی کی یہ تلاش کب تک جاری رہتی ہے؟
رؤف کلاسرا کی کتاب "آخر کیوں" سے اقتباس

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.