2014

کراچی

کراچی
ایک ایسی بیسوا ہے
جس کے ساتھ
پہاڑوں، میدانوں اور صحراؤں سے آنے والا
ہر سائز کے بٹوے کا آدمی
رات گزارتا ہے
اور صبح اُٹھتے ہی
اُس کے داہنے رُخسار پر
ایک تھپّڑ رسید کرتا ہے
اَور دُوسرے گال کی توقع کرتے ہُوئے
کام پر نکل جاتا ہے
اگلی رات کے نشے میں سرشار!...

(پروین شاکر)

بدلتے لہجے، بدلتے موسم

گرمی جا رہی ہے...
بدلتے لہجے
اور
بدلتے موسم
دونوں ہی انسان کے لیے مناسب نہیں ہوتے
بہت کچھ بدل جاتا ہے
انداز
لہجہ
پہناوا
چال چلن
سوچ
جذبے
چاہتیں
محبتیں
قربابیاں
سپنے
نزدیکیاں
فاصلے
خواہشیں
اور
بہت کچھ ...

اپنا خیال رکھیے
اور اپنے سے جڑے رشتوں کا بھی
خوش رہیے
نیا موسم انجوائے کیجئے
بہت ساری مونگ پھلیوں  اور نیک خواہشات کے ساتھ

ایک آرزو

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﮐﺘﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺭﺏ
ﮐﯿﺎ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ

ﺷﻮﺭﺵ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﮞ ، ﺩﻝ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺍﯾﺴﺎ ﺳﮑﻮﺕ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﺑﮭﯽ ﻓﺪﺍ ﮨﻮ
ﻣﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﭘﺮ ، ﯾﮧ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ
ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮦ ﮐﮯ ﺍﮎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ﮨﻮ
ﺁﺯﺍﺩ ﻓﮑﺮ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ ، ﻋﺰﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻏﻢ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ
ﻟﺬﺕ ﺳﺮﻭﺩ ﮐﯽ ﮨﻮ ﭼﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﭽﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﭼﺸﻤﮯ ﮐﯽ ﺷﻮﺭﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺟﺎ ﺳﺎ ﺑﺞ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﮔﻞ ﮐﯽ ﮐﻠﯽ ﭼﭩﮏ ﮐﺮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺩﮮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ
ﺳﺎﻏﺮ ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﻤﺎ ﮨﻮ
ﮨﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺳﺮﮬﺎﻧﺎ ﺳﺒﺰﮮ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺑﭽﮭﻮﻧﺎ
ﺷﺮﻣﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﻠﻮﺕ ، ﺧﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺩﺍ ﮨﻮ
ﻣﺎﻧﻮﺱ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮨﻮ ﺻﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﻠﺒﻞ
ﻧﻨﮭﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮭﭩﮑﺎ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﺍ ﮨﻮ
ﺻﻒ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﻮﭨﮯ ﮨﺮﮮ ﮨﺮﮮ ﮨﻮﮞ
ﻧﺪﯼ ﮐﺎ ﺻﺎﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﮨﻮ ﺩﻝ ﻓﺮﯾﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﺴﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﺭﮦ
ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺝ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﺍﭨﮫ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮ
ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺳﺒﺰﮦ
ﭘﮭﺮ ﭘﮭﺮ ﮐﮯ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﭼﻤﮏ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺟﮭﮏ ﺟﮭﮏ ﮐﮯ ﮔﻞ ﮐﯽ ﭨﮩﻨﯽ
ﺟﯿﺴﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮ
ﻣﮩﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺟﺐ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﺩﻟﮭﻦ ﮐﻮ
ﺳﺮﺧﯽ ﻟﯿﮯ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﮨﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﻗﺒﺎ ﮨﻮ
ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﮭﮏ ﮐﮯ ﺟﺲ ﺩﻡ
ﺍﻣﯿﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮨﻮ
ﺑﺠﻠﯽ ﭼﻤﮏ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﭩﯿﺎ ﻣﺮﯼ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﮮ
ﺟﺐ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﭘﮧ ﮨﺮ ﺳﻮ ﺑﺎﺩﻝ ﮔﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ
ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﮩﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﻞ ، ﻭﮦ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﻣﺆﺫﻥ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺍ ﮨﻮﮞ ، ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﻢ ﻧﻮﺍ ﮨﻮ
ﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﮨﻮ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﯾﺮ ﻭﺣﺮﻡ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﮞ
ﺭﻭﺯﻥ ﮨﯽ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﮐﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺳﺤﺮ ﻧﻤﺎ ﮨﻮ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ ﺟﺲ ﺩﻡ ﺷﺒﻨﻢ ﻭﺿﻮ ﮐﺮﺍﻧﮯ
ﺭﻭﻧﺎ ﻣﺮﺍ ﻭﺿﻮ ﮨﻮ ، ﻧﺎﻟﮧ ﻣﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﮨﻮ
ﺍﺱ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻧﺎﻟﮯ
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﺩﺭﺍ ﮨﻮ
ﮨﺮ ﺩﺭﺩﻣﻨﺪ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺭﻭﻧﺎ ﻣﺮﺍ ﺭﻻ ﺩﮮ
ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﺟﻮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ، ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺟﮕﺎ ﺩﮮ
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻗﺒﺎﻝ

اُردو میں بچوں کی تعلیمی موبائل ایپ

انٹرنیٹ  پر بچوں کے لیے اُردو زبان میں کارٹون، کہانیوں اور نظموں کی تلاش کی جائے تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک باراس پُرمشقت تلاش کے بعد جب بمشکل چند گنتی کی چیزیں سامنے آئیں تو یہ مایوس کن حقیقت سامنے آئی کہ اس ضمن میں ابھی تک سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ جب کہ انٹرنیٹ کے اس دور میں اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ اردو زبان کی میراث کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیےجدید ذرائع کو بروئے کار لایا جائے اوراینی میٹڈ کارٹونز یا متحرک تصویری اورصوتی اثرات سے مزین اردو کہانیوں اور نظموں  کے ذریعے بچوں میں اردو زبان سیکھنے کے لیے دلچسپی پیدا کی جا ئے تاکہ اردو زبان کو انٹرنیٹ پر اس کاجائز مقام مل سکے۔

اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ایک ویب سائٹ کی بنیاد ڈالی۔اس ویب سائٹ میں بچوں کے لیے اردو زبان میں مختلف ویڈیوز اپلوڈ کی جاتی ہیں۔اس ویب سائٹ میں موجود تمام مواد مفت دستیاب ہے ۔ بچوں کی کہانیاں اور نظمیں پڑھنا کسے نہیں پسند؟ اس ویب سائٹ میں انھی کہانیوں اور نظموں کو آواز اور تصویر کے دلچسپ آہنگ کے ساتھ ویڈیوز کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ تفریح سے بھرپور یہ ملٹی میڈیا ویڈیوز بچوں کو اردو حروف اور الفاظ سے خصوصی اور اردو زبان سے عمومی طور پر روشناس کرانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ویب سائٹ پر اردو زبان میں مختلف گیمز یا مشقیں بھی موجود ہیں جن سے بچے کھیل کے ساتھ ساتھ سیکھ بھی سکتے ہیں۔

آج کل اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا دور ہے۔زیادہ سے زیادہ لوگ اب انٹرنیٹ تک رسائی ان چھوٹی چھوٹی ڈیوائسز کے ذریعےکرتے ہیں۔ اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں اسمارٹ فونز کے مقبول پلیٹ فارم اینڈرائیڈ کے لیے ایک ایپ تخلیق کی گئی ہے،جس کی مدد سے اب اس ویب سائٹ پر موجود تما م ویڈیوز اینڈرائیڈ موبائل پر بھی باآسانی  دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ موبائل ایپ بھی بالکل مفت دستیاب ہے۔

یہ ایک متحرک اور فعال ویب سائٹ ہے ، چنانچہ اس ویب سائٹ میں آپ بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ آپ بھی بچوں کی کوئی دلچسپ کہانی، نظم یا کارٹون اسٹوری شیئر کر سکتے ہیں جو اگر دلچسپ ہوئی تو اسے آواز اور متحرک تصاویر کے امتزاج کے ساتھ ویب سائٹ پر شائع کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹ پر شامل ہوتے ہی وہ خودکار طریقے سے اینڈرئیڈ ایپ میں بھی شامل ہو جاتی ہے اور اس کا نوٹیفیکیشن اسی وقت آپ کے موبائل میں موصول ہوجاتا ہے۔ آپ اگر اچھی آواز کے مالک ہیں تو اپنی آواز میں کوئی نظم یا کہانی ریکارڈ کر کے بھیج سکتے ہیں۔ براہِ کرم اس ضمن میں ضرور رابطہ کریں تاکہ ہم اُردو زبان کی میراث کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر سکیں!

اس ویب سائٹ کا ایڈریس یہ ہے:

www.shobi.co.nr

شوبی ٹی وی - مفت اینڈرئیڈ ایپ کا حصول

شوبی ٹی وی مفت اینڈرئیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یا اس کے متعلق مزید معلومات کے لیے اس ربط پر کلک کریں۔ اس ایپ کو اپنے اینڈرئیڈ موبائل پر ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کرنے کے بعد اپنی قیمتی آراء یا تبصروں سے ضرور آگاہ فرمائیں۔۔۔شکریہ!۔۔۔

ملّا دو پیازہ کے لطیفے

ایک بچے نے ملّا دو پیازہ سے پوچھا: جناب ایک بات تو بتائیں کہ انڈے میں سے چوزہ کیسے نکل آتا ہے؟
ملّا دو پیازہ جواباً بولے: میاں، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انڈے کے اندر چوزہ گھس کیسے جاتا ہے؟

******
ملّا دو پیازہ کی بیگم نے ایک روز کہا: آج ہماری شادی کو خیر سے دس برس ہوگئے. کیا ہی اچھا ہو کہ ایک بکرے کا صدقہ کر دیا جائے.
ملّا دو پیازہ جواباً بولے: چلو میں تو قصوروار ہوں کہ تم سے شادی کر کے سزا بھگت رہا ہوں لیکن بھلا بے چارے بکرے نے کیا کیا ہے کہ وہ بلاوجہ اپنی جان سے جائے؟

*******
ایک روز لوگوں نے دیکھا کہ ملّا دو پیازہ سڑک پر دوڑے چلے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے ایک شخص دوڑ رہا ہے اور کہتا جا رہا ہے: بس ایک اور سن لیجئیے.
ایک شخص نے ملا جی کو روک کر پوچھا: کیا معاملہ ہے ملا جی! وہ شخص آپ کو کیا سنانا چاہتا ہے؟
ملّا دو پیازہ جواباً بولے: ارے بھائی! وہ شاعر ہے اور آخری شعر، آخری شعر کہہ کر اب تک بیس غزلیں سنا چکا ہے.
( ملّا دو پیازہ اور بیربل کے لطیفے سے لیے گئے)

تضاد

سگنل پر جب گاڑی روکی
ننھے روفی نے پوچھا
ابو! آخر ایسا کیوں ہے؟
بازو والی لمبی کار میں دو بیٹھے ہیں
اور اپنی سوزوکی پِک اَپ میں
ہم ہیں بارہ لوگ
بیٹا! تم کو کیا سمجھاؤں؟
جب تم میرے اتنے ہوگے
فرق سمجھ میں آ جائے گا!

(محسن بھوپالی)

سُننے والے کہاں ہیں؟

ہمارے بیشتر مسائل صرف اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم دوسروں کی بات کو توجہ سے نہیں سنتے. انھیں وہ جذباتی گرمجوشی یا سہارا مہیا نہیں کرتے جو دل و دماغ کی صحت کے لیے ضروری ہے. مسائل کا حل تو بعد کی بات ہے، آدھی پریشانیاں تو صرف اپنے جذبات دوسروں سے بانٹ کر یا شیئر کر کے ہی دور ہو جاتی ہیں.

چنانچہ بات سننے کی عادت ڈالیں. دوسروں کی تنہائیوں میں شریک ہوں. اپنے پیاروں کو جذباتی اور اُلفت بھری آکسیجن پہنچائیں.اگر کسی فرد کی بات کو غور سے سن کر، اُسے ہمت و حوصلہ دے کر، آپ اس میں جینے کی اُمنگ اور گرمی بیدار کرتے ہیں تو اس عمل سے پیدا ہونے والے احساس سے آپ کے اپنے اعصاب بھی سکون حاصل کرتے ہیں.

(مسرت جبیں)

ابّو آگئے

نورا: ابّو ابّو دیکھیں! عمّی اور قادری مجھے کھیلنے نہیں دے رہے.
عمّی: ابّو نورے کو بولیں مجھے بھی کھلائے.
قادری: ابّو میرے کو بھی کھیلنا ہے.
راحیل صاحب: بس بچو! شور مت کرو! آپ کے ابو اب آگئے ہیں نا!
نورا، عمّی اور قادری: ابووّو آ گئےےےےے! ابووّو آ گئےےےے!

*******

خوبصورت الفاظ کی تلاش

خوبصورت الفاظ بھی ایک خوبرو دوشیزہ کی طرح ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے آنے والے ترسے ہوئے مرد کو خوب نخرے دکھاتے ہیں. عشق کے کئی امتحان لیتے ہیں.ان کے لیے کئی اداس تنہا جنگل اور منہ زور دریا عبور کرنے پڑتے ہیں. جس نے ان کے نخرے برداشت کر لیے وہ سکندر ٹھہرا، وگرنہ یہ الفاظ بھی زندگی کی طرح مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں. ان کی تلاش کا سفر بھی اس وقت ختم ہوتا ہے جب زندگی خود اپنے انجام کو پہنچتی ہے. مرنا بذات خود ایک تجربہ ہے، چاہے آخری ہی سہی. دیکھتے ہیں کہ لفظوں اور زندگی کی یہ تلاش کب تک جاری رہتی ہے؟
رؤف کلاسرا کی کتاب "آخر کیوں" سے اقتباس

رمضان اور ہمارا نفس

چلتے ہوئے پنکھے کو بند کر دینے سے پنکھا فوراً بند نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ سست ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ رک جاتا ہے.

اسی طرح سال کے گیارہ ماہ شیطان کی کمپنی میں انجوائے کرنے کے بعد جب رمضان میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے تو ہمارا نفس شیطان کی کمپنی کو مِس کرتا ہے اور اس عارضی جدائی کا غم غلط کرنے کے لیے ہمیں رمضان میں بھی گناہوں اور معصیت کے کاموں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے.

رمضان کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ رمضان کے اس تربیتی پروگرام کو رمضان کے بعد بھی فالو کرتے رہیں تاکہ اگلے برس جب رمضان آئے تو ہمارا نفس اتنا تربیت یافتہ ہو چکا ہو کہ وہ پنکھے کی طرح گناہوں سے نہ رکے بلکہ بلب کی طرح فیوز ہو کر فوراً گناہوں سے رک جایا کرے. (انشاءاللہ)

پاؤں نہیں سر

جلال الدین ملک شاہ سلجوقی نے عمر خیام کو لکھا.....

"میرے پاؤں میں موچ آ گئی ہے اور میں کوئی کام نہیں کر سکتا. اُمورِ سلطنت رُک گئے ہیں. برائے مہربانی کسی اچھے سے طبیب کا پتہ بتائیے."

عمر خیام نے بادشاہ کو خط میں جواب لکھا....

''ظلّ ِ الٰہی! آپ اُمورِ سلطنت سے نمٹنے کے لیے اپنا پاؤں نہیں سر استعمال کریں."

************************************************

ہم زندگی میں مختلف حیلے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس فلاں ڈگری ہوتی تو آج ہم کامیاب انسان ہوتے. اگر کسی کی سفارش ہوتی تو ہم بھی کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہوتے. اگر کسی امیر ماں باپ کے گھر پیدا ہوتے تو ہمیں زندگی میں اتنی جدوجہد نہیں کرنی پڑتی. وغیرہ وغیرہ

بے شک ہر انسان ایک سا نہیں ہوتا. ہر ایک انسان کو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ صلاحیتوں، حالات، شخصیت، وسائل یہاں تک کہ الگ الگ مقدر سے نوازا ہے. مگر اللہ نے ہر انسان کو اتنی عقل اور سمجھ ضرور عطا فرما دی ہے کہ وہ اپنے حال اور مستقبل کی بہتری کے لیے خود سے فیصلے کر سکے اور پھر ان پر درست خطوط میں عمل درآمد کر سکے. ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی معذوری یا وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بجائے ہم اپنے دماغ کا استعمال کریں اور اپنے دستیاب وسائل و حالات کے اندر رہتے ہوئے کوشش کرتے رہیں. اللہ بھی انھی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرنا جانتے ہوں.

شعیب سعید شوبی

میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

ہر کسی سے کرب کا اظہار ، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اِک بڑا احسان ہے لوگوں کے سَر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار میں روزے سے ہوں

میں نے ہر "فائل" کی دُمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے میری بیوی مرے رَستے سے کچھ کترا کے چل
اے میرے بچو! ذرا ہشیار میں روزے سے ہوں

شام کو میں آپ کے گھر آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کر لیں ، دوست، رشتہ دار میں روزے سے ہوں

(سیّد ضمیر جعفری)

فضائل رمضان

ماہِ رمضان جب قریب آیا
آپ نے یہ زباں سے فرمایا

ہے مہینہ یہ برکتوں والا
ربّ عالم کی نعمتوں والا

وہ توجہ سے دیکھتے ہیں تمھیں
رحمتوں کا نزول کرتے ہیں

درگزر کر کے سب خطاؤں کو
ہر دعا کو قبول کرتے ہیں

وہ تنافس کو دیکھتے بھی ہیں
اور ملائک سے فخر کرتے ہیں

یعنی اک شان ِ کبریائی سے
وہ تمھارا بھی ذکر کرتے ہیں

تم بھی نیکی خدا کو دکھلاؤ
نُور اس کا جہاں میں پھیلاؤ

رحمتوں سے جو اس مہینے کی
عظمتوں سے جو اس مہینے کی

ہائے محروم رہ گیا جو شخص
کس قدر بدنصیب ہے وہ شخص

(حدیث کا منظوم ترجمہ)
از ریحانہ تبسم فاضلی (روشنی کے سلسلے)

بندر کے ہاتھ میں استرا

روزانہ کی بنیاد پر ایک سے بڑھ کر ایک فتنہ منظر عام پر آرہا ہے۔ ہر روز ایک نیا واقعہ رونما ہوتا ہے اور اسلام کی تضحیک کا باعث بنتا ہے۔ اسلام کی اصل تعلیمات اور دین کا اصل چہرہ لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ نئی سے نئی بدعت اور فتنے اسلام کے نام پر منظر عام پر آرہے ہیں۔ لوگ کنفیوژن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں کہ کیا چیز دین میں جائز ہے اور کیا چیز ناجائز؟  مخالفین کو  اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کا موقع ہم اپنے ہاتھوں سے دے رہے ہیں اور اس کے سدّباب کے لیے ہماری جانب سے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ گویا سب کسی نجات دہندہ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ بندروں کے ہاتھ میں استرا دیں گے تو یہی کچھ تماشا ہوگا۔ عامر لیاقت جیسے لوگ "مذہبی اسکالر" بن جائیں گے۔ ماڈلز اور اداکارائیں رمضان کی "ایمان افروز" نشریات کریں گی۔ امجد صابری جیسے بھانڈ اور گویے مارننگ شوز میں کھی کھی کر کے خوبرو فی میل اینکرز سے باتیں بھی کریں گے اور بعد میں جعلی شادیوں میں گستاخانہ الفاظ پر مبنی "منقبتیں" پیش کر کے ہمارے ایمان میں حسب توفیق اضافہ بھی کریں گے۔ مزاروں میں مخلوط "دھمال" ڈالے جائیں گے۔ بجلی والے بابے بجلی کے جھٹکے مار مار کر ہمیں سلوک کی منازل طے کروائیں گے۔ جعلی پیر ہمارے "جن" اتاریں گے اور تعویزات سے ہمارے محبوبوں کو ہمارے قدموں میں نچھاور کروائیں گے۔

میری ناقص عقل میں یہی وجہ نظر آتی ہے کہ یہ سب بے جا آزادی دیے جانے کے ششکے ہیں۔ خدا کی قسم سعودی وہابی ہم سے لاکھ درجہ بہتر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے پردہ فرمانے سے قبل ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ پچھلی امتوں کی طرح میرے بعد میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لینا۔ خدانخواستہ۔۔۔۔۔ خدانخواستہ۔۔۔۔۔ اگر پاکستانیوں کے ہاتھ میں مکہ مدینہ کا انتظام و اقتدار ہوتا تو حقیقت میں ہم نے ایسا ہی کرنا تھا۔

اللہ کریم ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا کرے اور ہم اسلام کو مزید بدنام کرنے سے باز آجائیں۔ آمین

اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

بچپن میں سعودی عرب سے شائع ہونے والے اردو اخبار "اردو نیوز" میں ہم نے چند لطائف اور تصویر بھیجی تھی جو 1998ء میں تین قسطوں میں وقتاً فوقتاً شائع ہوئے۔ اس وقت ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کے بعد نونہال، روحانی ڈائجسٹ اور جنگ وغیرہ میں بھی ہم "شائع" ہوئے مگر جو خوشی بچپن میں پہلی بار اپنا نام اخبار میں دیکھ کر ہوئی تھی وہ زندگی کی خوشگوار یادوں میں سے ایک ہے۔

تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے کے لیے تصویر پر رائٹ کلک کریں اور نئے ٹیب میں کھولیں۔

تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے کے لیے تصویر پر رائٹ کلک کریں اور نئے ٹیب میں کھولیں۔
تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے کے لیے تصویر پر رائٹ کلک کریں اور نئے ٹیب میں کھولیں۔
٭----٭

آہ! ساری عمر ضائع کر دی!

محمد عامر ہاشم خاکوانی نے فیس بک پر مولانا مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ کا یہ واقعہ شیئر کیا ہے۔ مزید لکھتے ہیں۔۔۔۔۔
ایک دوست کے پوسٹ کو شئیر کر رہا ہوں، یہ بات کہیں اور بھی پڑھی تھی، ویسے مجھے لگتا ہے کہ حضرت کاشمیری نے یہ بات بطور انکسار کہی، ان کا کام بہت بڑا ہے اور میرا نہیں خیال کہ وہ صرف فقہ حنفی کے چکر میں پڑے رہے، ہاں اس سے یہ سیکھا جا سکتا ہے کہ اصل توجہ اور فوکس کہاں رکھنا چاہیے اور اپنا مقصد بڑا رکھنا چاہیے۔



سُرساتھ سویرا

سُر ساتھ سویرا ایک مارننگ شو ہے جو ایکسپریس انٹرٹینمینٹ چینل سے ہر پیر سے جمعہ تک صبح 9 سے 11 بجے تک ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے۔ دیگر مارننگ شوز کے مقابلے میں یہ کافی مختلف ہے۔دوسرے مارننگ شوز میں سوائے شادی اور جادو ٹونے کے اور کوئی موضوع نہیں ہوتا۔ فضول قسم کی بے ہودہ گفتگو اور گلیمر سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سُر ساتھ سویرا میں سادگی ہے اور ہلکا پھلکا طنز و مزاح ہے۔ ہر پروگرام میں کسی خاص موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے اور مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔  اس پروگرام کی میزبان دعا ملک ہیں۔ ان کے علاوہ دو کمیڈینز برکت علی اور عزمی بھی اس پروگرام میں اپنے فن کے ذریعے پروگرام میں بوریت پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ پروگرام کے دوران فیس بک کے ذریعے براہ راست شرکت بھی کی جا سکتی ہے۔ پروگرام کے فیس بک پیچ پر پروگرام کے دوران جو کمنٹس کی جاتی ہیں انھیں پروگرام میں لائیو چلایا جاتا ہے۔ تاہم یہ قسمت کی بات ہے کہ آپ کی رائے پروگرام میں شامل ہوتی ہے یا نہیں۔


جمعرات 27 مارچ 2014ء کو پروگرام کا موضوع "تو تڑاق، طلاق اور پھر" تھا۔ اس پروگرام میں میں نے پروگرام کے فیس بک پیج پر جو کومنٹ کیا اس کا اسکرین شاٹ پیش ہے۔



 اگرچہ میں اس سے پہلے بھی پروگرام کے فیس بک پیج پر کومنٹ کر کے قسمت آزمائی کر چکا تھا مگر کامیابی نہیں ملی۔ خوش قسمتی سے اس پروگرام میں میرے کومنٹ کو انھوں نے پروگرام میں شامل کیا اور پروگرام کے دوران دو دفعہ اسے چلایا گیا۔ اس کی اسکرین شاٹ پیش ہے۔



نیٹ پر تھوڑی سی تلاش کے بعد اس پروگرام کی مکمل ویڈیو بھی مل گئی جسے میں نے ڈاؤن لوڈ کر کے اس میں سے مطلوبہ پورشن کو کاٹ کر اپلوڈ کیا ہے جو پیش خدمت ہے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ :-)





سب کا بھلا سب کی خیر

میں اور ممتاز مفتی ایک بار ایک ایسے سفر پر گئے جب ہمیں ایک صحرا سے گذرنا پڑا ۔ ہمیں وہاں  ایک بڑی مشکل ہو گئی ۔ نہ پانی تھا نہ کھانے کو کچھ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ممتاز مفتی مجھے کوسنے لگا اور میں ان سے کہنے لگا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ یہ راستہ اختیار نہ کرو بہر حال ہم چلتے گئے  اور اس جانب چلے  جہاں دور ایک جھونپڑی دکھائی پڑتی تھی ۔ ہم تھکے ہارے اس جھونپڑی میں پہنچے  تو وہاں ایک سندھی ٹوپی پہنے کندھوں پر شال پہنے ایک بڑی عمر کے شخص بیٹھے تھے ۔ ان کی خستہ حالی تو ہم پر عیاں  ہو رہی تھی مگر ان میں ایک عجیب طرح کا اعتماد تھا ۔ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ دبا دبا کے گلے ملے ۔ کنستر سے پانی کا لوٹا بھرا ہمارے منہ ہاتھ دھلائے ۔ ان کی جھونپڑی میں ایک صف سے بچھی تھی ۔ اس پر ہمیں ایسے بٹھایا کہ جیسے ہمارا انتظار کر رہے ہوں ۔ ہم نے ان سےکہا: بڑے میاں آپ اس بیابان میں کیسے رہ رہے ہیں؟
وہ بولے:کیا خدا نے اپنی مخلوق سے رزق کا وعدہ نہیں کر رکھا؟
ہم نے یک زبان ہو کرکہا: ہاں کر رکھا ہے۔

ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟
وہ کہنے لگےکہ ا  س کے خیال میں اس کا ذریعہ معاش دوسرا آدمی ہے۔
میں ہر نماز کے وقت اٹھتے بیٹھتے اپنے پروردگار سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب مجھے کبھی اس کیفیت میں نہ رکھنا کہ میں اکیلا کسی وقت کھانا کھاؤں ۔ آپ مجھ پر اپنی رحمت کرنا اور جب بھی کھانے کا وقت ہو تو دوسرا تیرا بندہ بھی ہو جس کے ساتھ بیٹھ کر میں کھانا کھاؤں۔
 اس نے بتایا کہ اسے یاد نہیں پڑتا  کہ کبھی اس نے اکیلا کھانا کھایا ہو ۔ کھانے کے وقت کوئی نہ کوئی انسان ضرور آ جاتا ہے ۔ آج کھانے کا وقت نکلا جا رہا تھا اور میں پریشان تھا کہ آج میں اکیلا کھانا کیسے کھاؤں گا ۔ اس نے دو تین سوکھی سی روٹیاں نکالیں گھڑے کا پانی لایا  اور کھانا شروع کر دیا ۔ میں نے ممتاز مفتی کو کہنی ماری کہ اپنا سودا نکالو۔
ہم نے چلتے وقت  بُھنے  ہوئے چنے رکھ  لیے تھے ۔ کہ وہ بوقت ضرورت کام آئیں ۔ اس نے روٹیاں نکالیں ۔ ہم نے چنے نکالے  اور سب نے مزے سے باتیں کرتے ہوئے کھانا کھایا ۔
خواتین و حضرات ! آپ یقین کریں کہ اس کھانے میں ایک روٹی بچ گئی ۔ اور ہمارے چنے بھی کافی سارے بچ گئے ۔ اور ہم سیر شکم ہو گئے ۔ اس شخص نے بتایا کہ یہاں سے شہر زیادہ دور نہیں ہے ۔ چند کوس کے فاصلے پر ہے ۔ یہاں سے اونٹ چرانے والوں کے قافلے گذرتے ہیں  آپ ان کے ساتھ چلے جائیے گا ۔ ہم نے اپنے باقی چنے وہیں چھوڑ دیے اور قافلے کے ساتھ شہر پہنچ گئے ۔
بچو ! یہ بھی دعا تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی دوسرے کے رزق کے باعث اس شخص کو بھی کھانا میسر ہوتا ہو ۔ ممتاز مفتی مجھ سے کہنے لگا کہ یہ شخص بڑا سیانا ہے کسی کے لیے دعا مانگتا ہے اور کھانا خود مزے سے کھاتا ہے ۔  ہم صرف اپنے لیے ہی دعا کرتے ہیں اور پھر بھی بھوکے مرتے ہیں ۔

اشفاق احمد

چڑیا رانی (بچوں کی نظم)

ایک پیاری سی چڑیا کی پیاری سی متحرک (اینی میٹڈ) نظم جو "کام ، کام اور کام" کے مقولے پر یقین رکھتی ہے۔  :-)

ہر وقت کام کرنے کی اسی دُھن کی وجہ سے اس نظم میں چڑیا کو "پرندوں کی رانی" کا خطاب دیا گیا ہے۔


نظم کے بول پیش خدمت ہیں۔۔۔

چڑیا رانی چڑیا رانی
تم پرندوں کی ہو رانی
صبح سویرے اٹھ جاتی ہو
نہ جانے کیا گاتی ہو
کیا تم بھی پڑھنے جاتی ہو؟
یا نوکری کرنے جاتی ہو؟

شام سے پہلے آتی ہو
بچوں کا دانہ لاتی ہو
بھر بھر چونچ کھلاتی دانہ
چوں چوں چہکتی گاتی گانا
چڑیا رانی چڑیا رانی
تم پرندوں کی ہو رانی




چالاک لومڑی (بچوں کی کہانی)

ایک چالاک لومڑی کی دلچسپ اور سبق آموز کہانی جس نے اپنی چالاکی سے ایک مشکل صورتحال سے نجات حاصل کی۔

اس کہانی سے تین سبق ملتے ہیں:

1۔ چوری کرنا جُرم ہے اور بے حد برا فعل ہے۔
2۔ چالاک لوگوں پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ وہ ہمیشہ آپ کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرینگے۔
3۔ لالچ بُری بلا ہے۔




غرور کا انجام (بچوں کی سبق آموز کہانی)

یہ کہانی ہے ایک غریب لکڑہارے کی، جو امیر ہونے کے بعد مغرور ہوگیا تھا۔

یہ کہاوت تو سب نے سنی ہوگی کہ غرور کا سر نیچا۔ غرور یا بے جا فخر کرنا کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنے سے غریب اور مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیئے۔ برا وقت کبھی بتا کر نہیں آتا۔ کیا خبر کہ خدانخواستہ کل ان کی جگہ ہم ہوں اور ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت پڑ جائے؟



خوارج اور طالبان

حال ہی میں زیب ملیح آبادی کی تصنیف سیرتِ حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں خوارج کا باب پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ خوارج کی بے حسی، مذہبی جنونیت، ظلم و ستم، افعال و کردار اور ظاہری وضع قطع پڑھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ فتنہ اب طالبان کی صورت میں دوبارہ سر اُٹھا رہا ہے۔ ذرا ان اقتباسات کو پڑھ کر سچے دل سے بتائیں کیا طالبان خارجیوں ہی کی ایک قسم تو نہیں؟ جنھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بخشا اور ان پر نعوذ باللہ کفر کے فتوے لگا دیے، ان سے آخر کس خیر کی توقع کی جا سکتی ہے؟ ہرچند کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذاکرات کے ذریعے انھیں سمجھانے کی پوری کوشش کی مگر آخرکار انھیں جنگ (آپریشن) کا آپشن ہی اختیار کرنا پڑا۔ 

 خوارج کے بارے میں ذیل کے اقتباسات پڑھیے اور بتائیے کہ کیا اب بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کرنے کا وقت نہیں آیا؟








پانچ چوہے (بچوں کی سدا بہار نظم)


صوفی غلام مصطفٰی تبسم کی یہ وہ سدا بہار نظم ہے جو بچپن میں ہم یاد کر کے گایا کرتے تھے۔ آج بھی یہ اتنی ہی مشہورہے جتنی پہلے تھی۔ اس نظم کو کچھ اینی میٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُمید ہے  بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے بڑوں کو بھی پسند آئے گی اور ان کے بچپن کی یاد تازہ کرے گی۔ اپنی رائے سے آگاہ ضرور کیجئے گا۔ شکریا



نظم کے بول متن کی صورت میں پیش خدمت ہیں۔۔

ﭘﺎﻧﭻ ﭼﻮﮨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ
ﮐﺮﻧﮯ ﭼﻠﮯ ﺷﮑﺎﺭ
ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﭘﯿﭽﮭﮯ
ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﭼﺎﺭ

ﭼﺎﺭ ﭼﻮﮨﮯ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ
ﻟﮕﮯ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﺑﯿﻦ
ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﮯ ﮐﻮ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ
ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺗﯿﻦ

ﺗﯿﻦ ﭼﻮﮨﮯ ﮈﺭ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ
ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﮒ ﭼﻠﻮ
ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﯽ
ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺩﻭ

ﺩﻭ ﭼﻮﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﻧﯿﮏ
ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﮯ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﯽ ﺑﻠﯽ
ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﯾﮏ

ﺍﮎ ﭼﻮﮨﺎ ﺟﻮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﻗﯽ
ﮐﺮﻟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ
ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻠﯽ ﻟﮍﺍﮐﺎ
ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ

اللہ کے احکام کو کون قبول کرتا ہے؟

قلب ِ انسانی کی تین قسمیں ہیں:
١۔ قلبِ سلیم: وہ دل کو ہمیشہ نیکی کی طرف مائل رہتا ہے۔
٢۔ قلبِ اَشیم: جو ہمیشہ گناہوں کی راہ اختیار کرتا ہے۔
٣۔ قلبِ منیب: رجوع ہونے والا دل جو اگر کبھی بھٹکتا ہے تو فی الفور نیکی کی طرف رجوع ہو جاتا ہے۔

قلبِ سلیم تو ہر وقت نیکی کے راستے کی تلاش و جستجو میں رہتا ہے اور اس کو وہی راہ پسند آتی ہے جو نیک ہو۔

قلبِ اشیم نیکی کی طرف آتا ہی نہیں۔ اس کو نیکی ناگوار، تلخ اور ہر برائی اچھی اور صحیح معلوم ہوتی ہے اور وہ گناہ کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔


قلبِ منیب یعنی رجوع ہونے والا دل جو اگر کبھی صحیح راہ پر چلتے چلتے غلطی کا مرتکب ہو جاتا ہے  تو فی الفور ضمیر ملامت کرتا ہے اور پھر وہ نیک راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ قلبِ منیب ہی کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ اس لیے کہ یہ دل انسان کو غلط راستے پر جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو پھر صحیح راستے پر لے آتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ  کے حکم پر عمل پیرا رہنے کی راہ ہموار کر دیتا ہے۔

چنانچہ قلبِ سلیم اور قلبِ منیب ہی اللہ کے احکام کو قبول کرتے اور اطاعت، فرمانبرداری اور اللہ کی خوشنودی پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ قلبِ اشیم سے پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ یہ ایسا دل ہے جو ہمیشہ گناہ کی طرف مائل رہتا ہے اور صحیح راہ اور احکامِ الٰہی کو ماننے، سننے اور قبول کرنے سے انکار کرتا ہےاور گمراہ ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ کبھی راہِ مستقیم پر نہیں آتا کیونکہ وہ شیطان کا مسکن بن جاتا ہے جس پر اس کا مکمل قبضہ ہے۔

"صراطِ حق" مصنفہ: عرشیہ علوی

مال بن گیا وبال

چھوٹی سی زندگی  میں  دولت  بہت سمیٹی
اللہ کی راہ میں مگر دیتا نہیں تھا مال

آخر میں مر گیا جب تو قبر میں شعیب
جوڑا تھا مال جو بھی وہ  بن گیا  وبال




میرے بچے مجھے سکھاتے ہیں

میری اُنگلی پکڑ کے چلتے تھے
اب مجھے راستہ دکھاتے ہیں

اب مجھے کس طرح سے جینا ہے؟
میرے بچے مجھے سکھاتے ہیں



<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.