پاؤں نہیں سر

جلال الدین ملک شاہ سلجوقی نے عمر خیام کو لکھا.....

"میرے پاؤں میں موچ آ گئی ہے اور میں کوئی کام نہیں کر سکتا. اُمورِ سلطنت رُک گئے ہیں. برائے مہربانی کسی اچھے سے طبیب کا پتہ بتائیے."

عمر خیام نے بادشاہ کو خط میں جواب لکھا....

''ظلّ ِ الٰہی! آپ اُمورِ سلطنت سے نمٹنے کے لیے اپنا پاؤں نہیں سر استعمال کریں."

************************************************

ہم زندگی میں مختلف حیلے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس فلاں ڈگری ہوتی تو آج ہم کامیاب انسان ہوتے. اگر کسی کی سفارش ہوتی تو ہم بھی کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہوتے. اگر کسی امیر ماں باپ کے گھر پیدا ہوتے تو ہمیں زندگی میں اتنی جدوجہد نہیں کرنی پڑتی. وغیرہ وغیرہ

بے شک ہر انسان ایک سا نہیں ہوتا. ہر ایک انسان کو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ صلاحیتوں، حالات، شخصیت، وسائل یہاں تک کہ الگ الگ مقدر سے نوازا ہے. مگر اللہ نے ہر انسان کو اتنی عقل اور سمجھ ضرور عطا فرما دی ہے کہ وہ اپنے حال اور مستقبل کی بہتری کے لیے خود سے فیصلے کر سکے اور پھر ان پر درست خطوط میں عمل درآمد کر سکے. ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی معذوری یا وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بجائے ہم اپنے دماغ کا استعمال کریں اور اپنے دستیاب وسائل و حالات کے اندر رہتے ہوئے کوشش کرتے رہیں. اللہ بھی انھی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرنا جانتے ہوں.

شعیب سعید شوبی

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

پاؤں نہیں سر پہ 4 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. محترم ۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی پاؤں ہیں جن کے بغیر ریلی نہیں نکالی جا سکتی ۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا دوسرا مسئلہ زبان ہے جس پر ہمیں قابو نہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. کام نہ کرنا ہو تو بہانے ہزار ۔۔۔۔ بہت اچھی تحریر

    جواب دیںحذف کریں
  3. افتخار صاحب؛ جی ہاں باکل. اسی بات کا تو رونا ہے. ہم شور زیادہ مچاتے ہیں کام کم کرتے ہیں.

    جواب دیںحذف کریں

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.