ہوٹل مینجمنٹ

کھانا اور کھلانا، مہمانوں کی تواضع کرنا اور مسافروں کے آرام کا بندوبست کرنا ، دنیا کی قدیم ترین روایات میں شامل ہیں۔ جب یہ تمام کام تجارتی بنیاد پر کیے جائیں تو ایک فن اور پیشہ بن جاتے ہیں اور اسی فن اور پیشے کو آج کے جدید دور نے ہوٹل مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ دنیا بھر میں ہوٹلز کی صنعت کے فروغ سے ہر کوئی واقف ہے ۔ اس شعبے میں بہترین اور پرکشش ملازمتوں کے مواقع بھی بے حد وسیع ہیں۔ جن شعبوں میں انسانی وسائل کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، ان میں ہوٹل مینجمنٹ کا شعبہ بھی ایک اہم ترین شعبہ ہے۔

کھانا پکانے میں شیف (خانساماں) کی مدد کرنے والے معاون سے لے کر کسی اعلیٰ درجے کے فائیو اسٹارہوٹل کے منتظم اعلیٰ تک کے عہدے تک سینکڑوں افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم جو ہوٹل کے انتظامات اور مہمانوں کی دیکھ بھال کے لیے مستعد رہتی ہے ، کے لیے ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں…اگر آپ اس جانب ذرا بھی دلچسپی رکھتے ہیں تو یقینا اپنی صلاحیتوں اور قابلیت سے مطابقت رکھنے والا کوئی نہ کوئی شعبہ آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کر ا لے گا۔ اس مضمون سے آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ ہوٹل مینجمنٹ کے شعبے میں کس نوعیت کی ذمہ داریاں لوگوں پر ہوتی ہیں اور اس قسم کے کام کے لیے کس قسم کے افراد کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔
                             
ہوٹل مینیجر: گیسٹ ہائوس، ریسٹورنٹ ، کلب یا ہوٹل وغیرہ میں اس ادارے کی پوری دیکھ بھال کرنے والا شخص مینیجر کہلاتا ہے۔ 

کیٹرنگ مینیجر: کیٹرنگ مینیجر کو مشروبات اور کھانے کی اشیاء سے متعلق اُمور کی نگرانی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے فرائض میں خوردنی اشیاء کی خریداری ، کھانوں کی تیاری اور تیار اشیاء کی فروخت یا انھیں مہمانوں کے سامنے پیش کرنے تک کے کاموں کی دیکھ بھال شامل ہے۔   

                                                                                                                    
ہاؤس کیپر:ہاؤس کیپر کے فرائض میں ہوٹل ، اسپتال ، کلب ، تعلیمی اداروں کے ہوسٹلز یا رہائشی اُمور کی دیکھ بھال ، انتظام و نگرانی شامل ہے۔               
                                                                                                                  
شیف: شیف ، کُک یا باورچی کا کام تو ایک ہی ہے لیکن کام کرنے کے اداروں کی نوعیت کے اعتبار سے انھیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے باورچی خانوں میں کھانا پکانے کے عمل کی نگرانی کرنے والے کو شیف اور ہاسٹلز، اسپتال میں یہی ذمہ داری انجام دینے والے کو کُک کہتے ہیں۔     
                                                                                    
کچن اسسٹنٹ: کچن کا معاون ، کھانا پکانے میں کُک کی مدد کرتا ہے۔ اسے مختلف نوعیت کے بے شمار غیر ہنرمندانہ کام کرنے ہوتے ہیں۔ جن میں کچن کی صفائی، برتنوں کی دُھلائی اور سامان کی دُھلائی سے کُک کی ہدایت کے مطابق کھانا تیار کرنے تک کے کام شامل ہیں۔ یہ معاون پکنے سے پہلے سبزی ترکاری ، گوشت ، اجناس کی صفائی کرتا ہے۔ انھیں کاٹتا ہے اور دھوتا ہے۔   
                           
کاؤنٹر سروس اسسٹنٹ: اسنیک بار، کافی شاپ، سیلف سروس، ریسٹورنٹ اور کینٹین وغیرہ میں کھانا خود کائونٹر سے لینا ہوتا ہے…اس جگہ میں کام کرنے والے کو کاؤنٹر سروس اسسٹنٹ کہتے ہیں۔                

ریسیپشنسٹ: ہوٹل میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے استقبالیہ سے واستہ پڑتا ہے۔ یہ جگہیں عام طور پر ہوٹل کے صدر دروازے کے نزدیک ترین ہوتی ہیں اور ہوٹل میں آنے اور رخصت ہونے والے مہمان سب سے پہلے اور سب سے آخر میں استقبالیہ کے کارکنوں سے ملاقات کرتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ اس کے لیے خوش شکل، خوش لباس، خوش گفتار اور بااخلاق و متواضع ہونا ضروری ہے۔             
                                                                                 
روم اٹینڈینٹ: یہ کمروں کو صاف کرتے ہیں اور مہمانوں کے بلانے پر انھیں ضرورت کی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ 

پورٹر: ہوٹل پورٹر مہمانوں کے لیے دروازہ کھولنے ، ان کا سامان اُٹھانے ، سامان کمروں تک یا کمروں سے گاڑی تک پہچانے ، ہوٹل کے رجسٹر میں اندراج میں اسقبالیہ کی مدد کرنے ، مہمانوں کے لیے ٹیکسی یا کرائے کی گاڑی فراہم کرنے کے کام سر انجام دیتے ہیں۔   
   
درکار صلاحیتیں:                   
ہوٹل اور ریسٹورینٹ کی صنعت بنیادی طور پر مہمان نوازی اور خدمت کی صنعت ہے۔ اس میں کام کرنے والے افراد کو دوسرے افراد کے آرام اور سہولت کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور انھیں مختلف اشیاء اور خدمات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ ہوٹل مینیجر سے ایک معمولی پورٹر تک ، بیشتر کارکنوں کا مہمانوں سے براہ راست یا بلا واسطہ تعلق رہتا ہے۔ خوش گفتاری، خوش مزاجی ، لوگوں سے میل جول میں دلچسپی ، شائستہ ، مہذب اور با اخلاق ہونا وہ بنیادی خصوصیات ہیں جو اس پیشے میں آنے والے کی اوّلین ضرورت ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف کاموں کی نوعیت کے اعتبار سے انتظامی صلاحیت کے حامل، کام منظم طور پر کرنے والے بہتر منصوبہ ساز اور اپنے کام سے دلچسپی رکھنے والے افراد  اس پیشے میں کامیاب رہتے ہیں۔ پورٹر اور ویٹر کی ذمہ داریاں انجام دینے والے کو جسمانی طور پر بھی مضبوط ہونا چاہیئے۔ 

تربیتی ادار ے:
ہوٹل مینیجمنٹ اور اس کے متعلقہ شعبوں کی باقاعدہ تربیت فراہم کرنے والا ایک ادارہ جو کہ ’’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینیجمنٹ ‘‘ کے نام سے معروف ہے، یہ ادارہ وزارت سیاحت حکومت پاکستان کے زیرِ اہتمام کام کرتا ہے۔اس وقت اس ادارے میں ہوٹل مینیجمنٹ اور ٹورزم کے 17 مختلف شعبوں کے تربیت یافتہ افراد کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ ہوٹل کی صنعت کے حوالے سے پی آئی ٹی ایچ ایم کا اندازہ ہے کہ آئندہ دس سالوں میں اس صنعت میں ہر سال پندرہ سو افراد کی ضرورت ہو گی۔   
                                   
اندرون  ِ ملک ملازمت کے مواقع کے علاوہ اس شعبے میں بیرون ملک ملازمت کے بھی مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر مڈل ایسٹ کے ممالک اس صنعت کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ اس شعبے میں ذاتی کاروبار کے مواقع بھی خاصے ہیں۔ اسنیک بار، فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ اور کیٹرنگ سروس ایسے شعبے ہیں جہاں مناسب سرمائے کے ساتھ اپنا کام کیا جا سکتا ہے۔   
                                        
ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی صنعت میں ہمارے ہاں تنخواہوں کا کوئی بنیادی اسکیل موجود نہیں ۔ عام طور پر تنخواہیں گفتگو کے ذریعے طے کی جاتی ہیں۔                     
                                                                                                         
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینیجمنٹ کے تربیتی پروگرام کے علاوہ مختلف ہوٹل انٹرن شپ کے تحت ہوٹلنگ کے مختلف شعبوں میں اُمیدواروں کو 3 سال کی تربیت دیتے ہیں۔ اس تربیتی پروگرام کے داخلوں کے اشتہار اخبارات میں شائع کیے جاتے ہیں۔ 
رو

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

ہوٹل مینجمنٹ پہ 6 تبصرے ہو چکے ہیں

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.