شارٹ کٹ

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی بھی گزارتے رہیں، دنیا کے بھرپور مزے بھی لیتے رہیں، دنیاوی مفاد کے لیے حرام کو حلال بھی کرتے رہیں اور اس کی "تلافی" کے لیے ساتھ ہی ساتھ تھوڑی بہت نفل عبادات کا سہارا لیتے رہیں تو انھیں جنّت کا ٹکٹ ترجیحی بنیادوں پر مل جائے گا، وہ درحقیقت احمقوں کی جنّت میں رہتے ہیں!

جنّت محض تسبیح کے دانے گھماتے رہنے اور نفل نمازیں پڑھتے رہنے سے نہیں ملے گی بلکہ پوری زندگی میں پیش آنے والی آزمائشوں پر خنداپیشانی سے پورا اُترنے اور اپنے نفس کو مکمل طور پر اللہ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق ڈھالنے سے ملے گی.

جنّت میں پہنچنے کا کوئی شارٹ کٹ یا آسان راستہ نہیں ہے!

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

شارٹ کٹ پہ 2 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. محترم


    بجا فرمایا آپ نے کہ تھوڑی بہت نفل عبادت کا سہارا لے کر حرام حلال سب دھڑلے سے کرتے رہیں تو ترجیہی بنیاد پر جنت کا ٹکٹ موجود رہے گا. دین کو اتنا آسان اور سستا سمجھا ہوا ہے لوگوں نے.

    اگر دین واقعی اتنا آسان اور شارٹ کٹ کا ہوا ہوتا تو ابوجہل و ابولہب کوئی اتنے بے وقوف نہیں تھے کہ ایمان نہ لے آتے. وہ بھی دین کے علمبردار ہوئے ہوتے.

    آپ زرا اور کھل کر تنقید فرماتے اور لوگوں کو جھنجوڑتے کہ دین اور دین کے مطالبات کو سمجھیں اور اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی لائین.


    نازنین خان

    جواب دیںحذف کریں

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.