کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

ایک تو ویسے ہی بم دھماکوں میں ہماری جانیں جا رہی ہیں. اوپر سے ہم نے یہ "تو گستاخ! نہیں تو گستاخ!" کا نیا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے. کوئی نہیں ہے جو اس خونی کھیل کو آگے بڑھ کر روکے. علماء کرام کو اپنی جانوں کے لالے پڑے ہیں. اسی لیے کوئی صاحب جنت کی حسین و جمیل حوروں کے دلکش نقوش بیان کرنے میں مصروف ہیں تو کوئی صاحب "ایک چُپ سو سُکھ اور خاموشی کے فضائل" بتانے میں مشغول ہیں.

آج جب کہ سرزمینِ پاکستان میں ایک طرف خوارج خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف چند نام نہاد عاشقانِ رسول دین کے ٹھیکیدار بن کر ایک دوسرے کو گستاخ قرار دے کر اسلام کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں، ہمارے علماء کرام لمبی تانے سو رہے ہیں۔ اے اللہ کے بندو! اٹھو! کچھ بولو اور کچھ کرو! اب نہیں کچھ کرو گے تو کب کرو گے؟ کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟ پہ 3 تبصرے ہو چکے ہیں

  1. جی


    محترم


    آپ نے جو کچھ لکھا بالکل سچ لکھا... سولہہ آنے درست... نام نہاد جنت کے ٹھیکے داروں کا عقیدہ یہی ہونا چاہیئے.


    نازنین خان

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. نوازش۔۔۔ شاید جنت میں داخل ہونے کے لیے بھی ہمیں
      ان ٹھیکیداروں سے پرمٹ جاری کروانا پڑے گا
      ورنہ ان لوگوں نے جنت کا گھیراؤ کر لینا ہے۔

      حذف کریں

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.