شریف اور شرافت

ایک ڈاکو کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے نے سوچا... 

کہ وہ کوئی ایسا کام کرے کہ لوگ اس کے باپ کو عزت سے یاد کریں.


بہت سوچنے کے بعد اس نے یہ کیا کہ لوگوں کو لوٹنے کے بعد ان کے کپڑے بھی اُتار لیتا.

کچھ ہی دنوں بعد اس علاقے کے لوگ کہنے لگے:

"اللہ بخشے اس کے والد کو، اتنے شریف اور نیک تھے کہ صرف مال و اسباب لوٹا کرتے تھے، اس کی طرح کمینے نہیں تھے !"


*****

نوٹ: یہ محض ایک غیر سیاسی لطیفہ ہے. موجودہ ملکی حالات سے اس کا موازنہ اتفاقیہ ہو سکتا ہے جس کی ذمہ داری مصنف نہیں لیتا.

اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.