سفر آخرت (حصہ ششم)

اس کے بعدسورۃ الملک چلی گئی ۔ میری قبر میں بدستور وہ روشنی باقی تھی جو میرے والد کی دعا کی برکت سے آئی تھی اور میں انتظار کرتا رہا جیسے کہ میں جیل کے اندرکوئی قیدی ہوں۔ مجھے وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا کیونکہ نہ یہاں گھڑی تھی، نہ نماز، نہ کھانا پینا اور نہ کوئی اورمصروفیت۔ دعائیں مانگنا اور ذکرواذکار کرنا بھی لاحاصل۔ بعض اوقات لوگوں کے قدموں کی آوازیں سن لیتا تو اندازہ ہوتا کہ شاید کسی کا جنازہ ہے۔ بعض اوقات لوگوں کے ہنسنے کی آوازیں آ جاتی تھیں تو مجھے تعجب ہوا کرتا تھا کہ ان کو اندازہ نہیں ہے کہ ہم کس صورتحال سے دوچار ہیں اور یہ دنیا میں مگن ہیں۔


ایک روز اچانک میرے جسم کی گرمی بڑھنی شروع ہوئی اور میں چیخنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ایک تندور کے اندر ہوں۔ میرے خوف میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ لیکن پھر اچانک گرمی کم ہونی شروع ہوگئی یہاں تک کہ بالکل غائب ہوگئی۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

اس کے بعد ایک بار پھر سورۃ الملک کی روشنی آگئی اور مجھے سے بولی: تمھیں مبارک ہو! میں نے کہا: کیا ہوا؟

اس نے کہا: خوابوں کا فرشتہ تمھاری بیوی کو خواب میں آیا اور تمھاری بیوی نے خواب میں تمھیں ایک سیڑھی پر چڑھتے ہوئے دیکھا کہ سات سیڑھیاں باقی ہیں ، تم پریشان کھڑ ےہو اور آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ پھر وہ فجر کی نماز سے پہلے اٹھی۔ تمھاری یاد میں روئی اور صبح ہوتے ہی ایک عورت سے رابطہ کیا جو خوابوں کی تفسیر بیان کرتی ہے اور اسے اپنا خواب سنایا۔ اس عورت نے کہا: اے بیٹی! تمھارا شوہر قبر میں تکلیف میں مبتلا ہے کیونکہ اس پر کسی کے 1700ریال قرض ہیں۔

تمھاری بیوی نے پوچھا: کس کا قرض ہے اور ہم کیسے ادا کریں؟

اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ اس بارے میں علماء سے معلوم کرو۔

پھر تیری بیونی نے ایک شیخ کی اہلیہ سے رابطہ کیا اور اسے ساری بات بتا دی تاکہ وہ شیخ سے جواب پوچھ لے۔شیخ نے اسے بتایا: مرحوم کی طرف سے صدقہ کر دے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول کر کےمرحوم کا عذاب دور کر دے۔

تمھاری بیوی کے پاس سونا تھا جس کی مالیت چار ہزار ریال تھی۔ اس نے وہ سونا تمھارے والد کے حوالے کر دیا اور تمھارےوالد نے اس میں کچھ مزید رقم شامل کر کے صدقہ کر دیا اور یوں تمھارامسئلہ حل ہوگیا۔

میں نے کہا: الحمداللہ مجھے اس وقت کوئی تکلیف نہیں ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور تمھارے تعاون سے ہوا۔

سورۃ الملک نے کہا: الحمداللہ! اب اعمال والے فرشتے تمھارے پاس آئیں گے۔

میں نے پوچھا: کیا اس کے بعد بھی میرے لیے کوئی خطرہ ہے؟

اس نے کہا: سفر بہت طویل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں کئی سال لگ جائیں لہٰذا اس کے لیے تیار رہو۔

کئی سال والی بات نے میری پریشانی میں اضافہ کر دیا۔

سورۃ الملک نے بتایا: بہت سارے لوگ صرف اس وجہ سے اپنی قبروں میں عذاب جھیل رہے ہیں کہ وہ بعض باتوں کو معمولی سمجھتے تھے، جبکہ اللہ کے نزدیک وہ معمولی نہیں تھیں۔

میں نے پوچھا: کون سی باتیں؟

اس نے کہا: بہت سارے لوگوں پر قبروں میں اس لیے عذاب جاری ہے کہ وہ پیشاب سے نہیں بچتے تھے اور گندگی کی حالت میں اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے تھے۔ اسی طرح چغلی، چوری، سود اور یتیم کا مال غصب کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب ہو رہا ہے۔کچھ لوگوں پر عذابِ قبر اس لیے ہے تاکہ قیامت آنے سے پہلے ان کا کھاتہ صاف ہو جائے اور کچھ لوگوں پر قیامت تک عذاب رہے گا اور پھر جہنم میں انھیں داخل کردیا جائے گا۔

میں نے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کی کوئی سبیل ہے؟

سورۃ الملک نے کہا: عمل تو تمھارا منقطع ہو چکا ہے البتہ تین کام ایسے ہیں جو تمھیں اب بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

میں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟

اس نے کہا: اہل و عیال کی تمھارے حق میں دعا اور صدقات۔ اس کے علاوہ کوئی ایساکام تم نے دنیا میں کیا ہو جو انسانوں کے لیے نفع بخش ہو مثلاََ مسجد کی تعمیر تو اس سے تم مرنے کے بعد بھی مستفید ہو سکتے ہو۔اسی طرح اگر علم کی نشر و اشاعت میں تم نے حصہ لیا ہو تو وہ اب بھی تمھارے لیے نفع بخش ہے۔

میں نے سوچاکہ میں کتنا بدبخت ہوں ! دنیا میں نیک اعمال کرنے کے کتنےمواقع تھے جن سے میں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور آج بے یارومددگار قبر میں پڑا ہوں۔
میرا دل چاہا کہ میں چیخ چیخ کر لوگوں کو پکاروں : اے لوگو! قبر کے لیے تیاری کر لو۔ خدا کی قسم اگر تم لوگوں نے وہ کچھ دیکھ لیا جو میں نے دیکھا ہے تو مسجد سے باہر نہیں نکلو گے اور اللہ کی راہ میں سارا مال لگا دو گے۔

سورۃ الملک نے کہا: مرجانے والوں کی نیکیاں عام طور پر شروع کے دنوں میں بہت ہوتی ہیں لیکن اس کے بعد رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی جاتی ہیں۔

میں نے پوچھا: کیا یہ ممکن ہے کہ میرے گھر والے اور میرے رشتہ دار مجھے بھول جائیں گے؟ مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ وہ اتنی جلدی مجھے فراموش کر دیں گے؟

اس نے کہا: نہیں ایسا ضرور ہوگا! بلکہ تم دیکھو گے کہ شروع میں تمھاری قبر پر تمھارے اہل و عیال زیادہ آئیں گے لیکن جب دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہونگے تو تمھاری قبر پر آنے والاایک بندہ بھی نہیں ہوگا!

مجھے یاد آیا کہ جب ہمارے دادا کا انتقال ہوا تھا تو ہم ہر ہفتے ان کی قبر پر جایا کرتے تھے۔ پھر مہینے میں ایک بار جانے لگے اور پھر سال میں ایک دفعہ۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ہم انھیں بھول گئے۔جب میں زندہ تھا تو مرحومین کو بھول جاتا تھا لیکن آج میں خود اس حالت کو پہنچ چکا تھا۔ دن، ہفتے اور مہینے گزرتے گئے اور میری مدد کے لیے کوئی نہ تھا۔ سوائے چند نیک اعمال (صدقہ جاریہ)کے جو مجھے پہنچتے تھے۔ یا میرے والد، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کا میری قبر پر ایصالِ ثواب کے لیےآنا جو رفتہ رفتہ کم ہوتا گیا۔ زیادہ تر مجھے اپنی والدہ کی دعا پہنچتی تھی جو وہ تہجد میں میرے لیے کرتی تھیں۔ بخدا وہ دعا میرے لیے طمانیت کا باعث ہوتی تھی۔

ساتواں اور آخری حصہ پڑھیے ۔۔۔۔۔


<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.