سفر آخرت (حصہ سوم)


میں نے پوچھا: کون ہیں؟ وہ بولے جبرائیل علیہ السلام  اور عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور یہ کبھی اللہ کے حکم کی سرتابی نہیں کیا کرتے۔

لا یعصون اللہ ما امرھم و یفعلون ما یؤمرون۔(وہ اللہ کے دیے ہوئے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں)۔

 اس کے بعد ہم مزید اوپر چڑھتے گئے، یہاں تک کہ ہم آسمانِ دنیا پہنچ گئے۔ میں اس وقت ایک خوف اور کرب کے عالم میں تھا کہ اللہ جانے آ گے کیا ہوگا؟

میں نے آسمان کو بہت بڑا پایا ۔ اس کے اندر دروازے تھے جو بند تھے اور ان دروازوں پر رحمت کے فرشتے تعینات تھے، جن کے جسم بہت بڑے تھے۔ میرے ساتھی فرشتوں نے کہا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ اور ان کے ساتھ میں نے بھی یہی الفاظ دہرائے۔ دوسرے فرشتوں نے جواب دیا: وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ! اھلا و سھلا ضرور یہ مسلمان ہی ہوگا۔ میرے ساتھی فرشتوں نے کہا: ہاں یہ مسلمان ہے۔ دروازے پر معین رحمت کے فرشتوں نے کہا: تم اندر آسکتے ہو کیونکہ آسمان کے دروازے صرف مسلمانوں کے لیے کھلتے ہیں۔ کافروں کے بارے میں اللہ کا حکم ہے: لا تفتح لھم ابواب السمائ۔ ان (کافروں) کے لیے آسمان کے دروازے نہیںکھولے جائیں گے)۔

ہم اندر گئے تو بہت ساری عجیب چیزیں دیکھیں۔ پھر ہم آگے بڑھے اور اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ دوسرا، تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا اور آخرکار ساتویں آسمان پر جا پہنچے۔ یہ آسمان باقی تمام آسمانوں سے بڑا نظر آیا جیسے ایک بہت بڑا سمندر۔ فرشتے کہہ رہے تھے: اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام۔

مجھ پراس وقت شدید ہیبت طاری ہوگئی۔میں نے سر نیچے کیا اورمیری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں حکم صادر فرمایا: میرے اس بندے کا اعمال نامہ علیین میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے انھیں زمین سے پیدا کیا۔ اسی میں ان کی واپسی ہوگی اور ایک بار پھر اسی زمین سے انھیں اٹھاؤں گا۔شدید مرعوبیت، ہیبت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے سرشارہوکرمیں نے کہا: پروردگار! تو پاک ہے لیکن ہم نے تیری وہ بندگی نہیں کی جو ہونی چاہیئے تھی: سبحانك ما عبدناك حق عبادتك۔

فرشتے مجھے لے کر واپس زمین کی طرف روانہ ہوئے۔وہ جہاں جہاں سے گزرتے گئے، دوسرے فرشتوں کو سلام کرتے گئے۔ میں نے راستے میں ان سے پوچھا: کیا میں اپنے جسم اور گھر والوں کے متعلق جان سکتا ہوں؟

انھوں نے کہا: اپنے جسم کو عنقریب تم دیکھ لوگے لیکن جہاں تک تمھارے گھر والوں کا تعلق ہے۔ ان کی نیکیاںتمھیں پہنچتی رہیں گی لیکن تم انھیں دیکھ نہیں سکتے۔

اس کے بعد وہ مجھے زمین پر لے آئے اور کہا: اب تم اپنے جسم کے ساتھ رہو۔ ہمارا کام ختم ہوگیا۔ اب قبر میں تمھارے پاس دوسرے فرشتے آئیں گے۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ کیا میں پھر کبھی آپ کو دیکھ سکوں گا؟ انھوں نے کہا: قیامت کے دن! یہ کہتے ہوئے ان پر ایک ہیبت طاری تھی۔ پھر انھوں نے کہا: اگر تم اہل جنت میں سے نکلے تو ہم ساتھ ساتھ ہوں گے، انشاء اللہ۔ میں نے پوچھا جو کچھ میں نے دیکھا اور   سنا ،کیا اس کے بعد بھی میرے جنت میں جانے میں کوئی شک رہ گیا ہے؟  انھوں نے کہا: تمھارے جنت میں جانے کے بارے میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تمھیں جو عزت و اکرام ملا وہ اس لیے ملا کہ تم مسلمان مرے ہو لیکن تمھیں اعمال کی پیشی اور میزان سے ضرور سابقہ پیش آنا ہے۔

مجھے اپنے گناہ یاد آئے اور میں نے چاہا کہ میں زور زور سے روؤں۔ انھوں نے کہا: اپنے رب سے نیک گمان رکھو کیونکہ وہ کسی پر ظلم ہرگز نہیں کرتا۔ اس کے بعد انھوں نے سلام کیا اور بڑی تیزی سے اوپر کی طرف اٹھ گئے۔

میں نے اپنے جسم پر نظر دوڑائی۔ میری آنکھیں بند تھیں اور میرے ارد گرد میرے بھائی اور والد صاحب رو رہے تھے۔ اس کے بعد میرے جسم پر پانی ڈالا گیا تو مجھے پتہ چلا کہ مجھے غسل دیا جارہا ہے۔ ان کے رونے سے مجھے تکلیف ملتی تھی اور جب میرے والد دعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے تو ان کی یہ بات مجھے راحت پہنچاتی تھی۔ اس کے بعد میرے جسم کو سفید کفن پہنایا گیا۔

میں نے اپنے دل میں کہا: افسوس میں اپنے جسم کو اللہ کی راہ میں قربان کرتا۔ کاش میں شہید مرتا۔کاش میں ایک گھڑی بھی اللہ کے ذکر، نماز یا عبادت کے بغیر نہ گزارتا۔ کاش میں شب و روز اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا۔ افسوس صد افسوس!
اتنے میں لوگوں نے میرا جسم اٹھایا۔ میں اپنے جسم کو دیکھ رہا تھا لیکن نہ تو اس کے اندر جا سکتا تھا اور نہ دور ہو سکتا تھا۔ ایک عجیب سی صورتحال سے دوچار تھا۔مجھے جب اٹھایا گیا تو جو چیز میرے لیے اس وقت نہایت تکلیف دہ تھی، وہ میرے گھر والوں کا رونا تھا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اپنے ابا سے کہہ دوں: ابا جان پلیز رونا بند کر دیں بلکہ میرے لیے دعا کریں کیونکہ آپ کا رونا مجھے تکلیف دے رہا ہے۔ میرے رشتہ داروں میں اس وقت جو کوئی میرے لیے دعا کرتا تھاتو اس سے مجھے راحت ملتی تھی۔

مجھے مسجد پہنچایا گیا اور وہاں میرا جنازہ اتارا گیا۔ میں نے سنا کہ لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔ مجھے شدید خواہش ہوئی کہ میں بھی ان کے ساتھ نماز میں شریک ہوجاؤں۔ میں نے سوچا کہ کتنے خوش قسمت ہیں یہ لوگ کہ نیکیاں کما رہے ہیں جبکہ میرا اعمال نامہ بند ہوگیا ہے۔

حصہ چہارم پڑھیے۔۔۔۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.