اصلاح ِ معاشرہ کا درست طریقہ

جب کوئی فرد اصلاح ِ معاشرہ کی بات کرتا ہے تو اس کی عقل و شعور اُسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصلاح کا عمل پہلے اپنی ذات سے شروع کیا جائے۔ افرادِ معاشرہ کی اصلاح کے لیے زبانی دعوے اور نصیحتیں کارگر نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لیے انسان کو سراپا اخلاق اور مہرومروّت بن کر رہنا پڑتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’لوگوں کے معلّم اور ہدایت کنندہ بنو! زبان سے نہیں ، بلکہ اپنے اعمال، رفتار اور کردار سے۔‘‘

اسلام دین و دنیا کی وحدت اور ہمہ گیر توازن کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں جو علم اور عقل کے معیار پر پوری نہ اُترتی ہو۔ اسلام کے نزدیک ہر نفس اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔ اسلام نے باہمی تعلّقات اور معاشرے کی اصلاح و سدھار کے لیے حقوق و فرائض کے جو دائرے متعین کیے ہیں ان کی بنیاد احسان اور حسن ِ سلوک پر رکھی گئی ہے تاکہ معاشرے میں زبانی نصیحت و وعظ کے بجائے عملی طور پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنے احوال کی اصلاح کریں۔

اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ پیار و محبت، ایثار و قربانی اور عزت و احترام کا دائرہ ہم محض مسلمانوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ تمام انسانوں کے علاوہ حیوانات اور ہر ذی حیات کو اس سے راحت و آرام پہنچائیں۔ یہی اسلام کا مقصدِ عظیم ہے۔

نوٹ: میرا مندرجہ بالا مضمون روحانی ڈائجسٹ کے جنوری 2008 عیسوی کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.