سفر آخرت (حصہ چہارم)

نماز ختم ہوئی تو موذن نے نماز جنازہ کے لیے لوگوں کو پکارا۔ امام صاحب میرے قریب آگئے اور نماز جنازہ شروع کی۔ میں حیران ہوا کہ وہاں بہت سارے فرشتے آگئے جو ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے کہ نماز پڑھنے والے کتنے لوگ ہیں اور ان میں سے کتنے موحد ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے؟

چوتھی تکبیر میں میں نے دیکھا کہ فرشتے کچھ لکھ رہے ہیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ لوگوں کی دعائیں لکھ رہے ہوں گے۔اس وقت میرے دل میں شدید خواہش ہوئی کہ امام اس رکعت کو مزیدلمبی کر دے کیونکہ لوگوں کی دعاؤں سے مجھے عجیب سی راحت اور سرور مل رہا تھا۔


نماز ختم ہوئی اور مجھے اٹھا کر قبرستان کی طرف لے جایا گیا۔ راستے میں کچھ لوگ دعائیں مانگ رہے تھے اور کچھ رو رہے تھے اور میں حیران و پریشان تھا کہ نہ معلوم میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟مجھے اپنے تمام گناہ ، خطائیں اور غفلت کی گھڑیاں جو میں نے دنیا میں گزاری تھیں، ایک ایک کر کے یاد آرہی تھیں۔ ایک شدید ہیبت کا عالم تھا جس سے میں گزر رہا تھا۔ الغرض قبرستان پہنچ کر مجھے اتارا گیا۔ اس وقت مختلف قسم کی آوازیں سننے میں آئیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ جنازے کو راستہ دو۔ کوئی کہہ رہا تھاکہ فلاں طرف لے جاؤ۔ کوئی کہتاکہ قبر کے قریب رکھ دو۔ یا اللہ! میں نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ معاملات کبھی میرے ساتھ بھی پیش آ سکتے ہیں؟

مجھے قبر میں روح اور جسم کے ساتھ اتارا گیا لیکن لوگوں کو صرف میرا جسم نظر آرہا تھا، روح نظر نہیں آرہی تھی۔اس کے بعد میری لحد کو بند کرنا شروع کر دیا گیا۔ میرا دل چاہا کہ چیخ چیخ کر کہوں کہ مجھے یہاں نہ  چھوڑو، معلوم نہیں میرے ساتھ کیا ہوگا لیکن میں شدید خواہش کے باوجود بول نہیں سکتا تھا۔

الغرض میری قبر میںمٹی ڈالی جاتی رہی حتیٰ کہ قبر میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔ لوگوں کی آوازیں بند ہوتی چلی گئیں لیکن میں ان کے قدموں کی آوازیں سن رہا تھا۔ ان میں سے جو کوئی میرے لیے دعا کرتا تو اس سے مجھے سکون ملتا تھا۔
اچانک قبر مجھ پرتنگ ہوگئی اور ایسا لگا کہ میرے پورے جسم کو کچل دے گی۔ اور قریب تھا کہ میں ایک زوردار چیخ نکالتا۔ لیکن قبرپھر دوبارہ اپنی اصل حالت میں آگئی۔

اس کے بعد میں نےدونوں جانب دیکھنے کی کوشش کی کہ اچانک دو ہیبت ناک قسم کے فرشتے نمودار ہوئے۔ جن کے بڑے بڑے جسم،کالی رنگت اور نیلی آنکھیں تھیں۔ ان کی آنکھوں میں بجلی جیسی چمک تھی اور ان میں سے ایک کے ہاتھ میں گرز تھا۔ اگر اسے پہاڑ پر مارے تو اسے ریزہ ریزہ کر دے۔

ان میں سے ایک نے مجھے کہا: بیٹھ جاؤ تو میں فوراََ بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا:    من ربک (تمھارا رب کون ہے؟)۔ جس کے ہاتھ میں گرز تھا، وہ مجھے بغور دیکھ رہا تھا۔ میں نے جلدی سے کہا: ربی اللہ (میرا رب اللہ ہے)۔ جواب دیتے وقت مجھ پرکپکپی طاری تھی۔ اس لیے نہیں کہ مجھے جواب میں کوئی شک تھا بلکہ ان کے رعب کی وجہ سے ایسا ہو رہا تھا۔ پھر اس نے مزید دو سوال کیے کہ تمھارا نبی کون ہے اور تمھارا دین کون سا ہے؟ اور الحمداللہ میں نے ٹھیک جوابات دے دیے۔
انھوں نے کہا: اب تم قبر کے عذاب سے بچ گئے۔ میں نے پوچھا: کیا تم  منکر و نکیر ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں اور اگر تم صحیح جوابات نہیں دیتے تو ہم تمھیں اس گرز سے مارتے اور تم اتنی شدیدچیخیں نکالتے کہ اسے زمین کی تمام مخلوقات سن لیتیں، سوائے انسانوں اور جنوں کے اور اگر جن و انس اسے سن لیں تو وہ بے ہوش ہو جائیں۔

میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اس مصیبت سے بچا لیا۔ اس کے بعد وہ چلے گئے اور ان کے جانے سے مجھے قدرے اطمینان حاصل ہوا،مگر ساتھ ہی مجھے سخت گرمی محسوس ہوئی اور مجھے لگا کہ میرا جسم جلنے والا ہے گویا جہنم کی کوئی کھڑکی کھولی گئی ہو۔

اتنے میں دو اور فرشتے آگئے اور سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔انھوں نے کہا: ہم فرشتے ہیں اور قبر میں تمھارے اعمال تمھیں پیش کرنے آئے ہیں تاکہ قبر میں قیامت تک تمھیں اپنی نیکیوں کا جو بدلہ ملنا چاہیئے، وہ مل جائے۔ میں کہا: اللہ کی قسم جس سختی اور اذیت سے میں اس وقت دوچار ہوں، میں نے کبھی اس کے متعلق سوچا بھی نہیں تھا۔

پھر میں نے پوچھا: کیا میں ایک سوال کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: کر لو۔ میں نے پوچھا: کیا میں اہل جنت میں سے ہوں اور کیا اتنی ساری تکلیفیں  جھیلنے کے بعد بھی میرے لیے جہنم میں جانے کا خطرہ ہے؟

انھوں نےکہا: تم ایک مسلمان ہو۔ اللہ اور اس کے رسولﷺپر ایمان لائے ہو۔ لیکن جنت میں جانے کا علم اللہ کے سواکسی کو نہیں ہے۔ بہرحال اگر تم جہنم چلے بھی گئے تو وہاں ہمیشہ نہیں رہو گے کیونکہ تم موحد ہو۔

یہ سن کرمیری آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور میں نے کہا: اگر اللہ نے مجھے دوزخ میں ڈال دیاتو پتا نہیں میں وہاں کتنا عرصہ رہوں گا؟

انھوں نے کہا: اللہ سے اچھی اُمید رکھو کیونکہ وہ بہت کریم ہے اور اب ہم تمھارے اعمال پیش کر رہے ہیں۔ تمھارے وقتِ بلوغت سے تمھارے روڈ ایکسیڈنٹ کے وقت تک۔

انھوں نے کہا: سب سے پہلے ہم نماز سے شروع کرتے ہیں کیونکہ کافر اور مسلمان کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے لیکن فی الحال تمھارے سارے اعمال معلق ہیں۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا: میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے نیک اعمال کیے ہیں، آخر میرے اعمال معلق کیوں ہیں؟ اوراس وقت جو میں اپنے جسم میں دنیا جہان کی گرمی محسوس کر رہا ہوں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

انھوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تمھارے اوپر قرضہ ہے جو تم نے مرنے سے پہلے ادا نہیں کیا ہے۔

میں رو پڑا اور ان سے پوچھا: کیسے؟ اور یہ جو میرے اعمال معلق ہیں، کیا اس کی وجہ بھی یہی ہے؟


حصہ پنجم پڑھیے ۔۔۔۔۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.