سفر آخرت (آخری حصہ)

نیک اعمال کا آنا کم ہوتا چلا گیا۔ نہ معلوم کیا وجہ تھی کہ سورۃ الملک کا آنا بھی موقوف ہو گیا۔ میری قبر میں پھر اندھیرا چھا گیا۔ مجھے بعض گناہ یاد آئے جو میں نے کیے تھے۔ ایک ایک دن اور ایک ایک گھڑی یاد آرہی تھی ۔ مجھے اپنے گناہ پہاڑ کے برابر لگ رہے تھے۔ میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا۔ کتنے گناہ تھے جو میں نے دیدہ دلیری سے کیے تھے۔ کتنی نمازیں تھیں جو میں نے ادا نہیں کی تھیں۔ کتنی فجر کی نمازیں تھیں جو میں نے غفلت کی وجہ سے نہیں پڑھیں۔

یہ سارے گناہ یاد کر کے میں نجانے کتنا روتا رہا؟ اگر میں کہہ دوں کہ مہینوں رویا ہوں گا تو مبالغہ نہیں ہوگا۔

ایک دن اچانک ایسی روشنی آئی جیسے سورج نکل چکا ہو اور میں نے فرشتوں کی آوازیں سنیں کہ وہ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے کہ اچانک میرے پاس سورۃ الملک آئی اور خوشخبری سنانے لگی: رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا ہے اور اس میں بہت سارے مرحومین مسلمانوں کی دعاؤں کی برکت سے نجات پا لیتے ہیں۔ میں بہت خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں پر کتنا مہربان ہے لیکن انسان ہے کہ گمراہی پر تُلا ہوا ہے۔

سورۃ الملک نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو آگ میں نہیں ڈالنا چاہتا لیکن یہ انسانوں کی اپنی حماقت ہوتی ہے کہ وہ ایسے گناہ کر جاتے ہیں جو ان کی سزا کا موجب بن جاتے ہیں۔
پھر اس نے کہا: اب تھوڑی دیر بعد مسلمان نماز پڑھیں گے اور تم ان کی آواز بھی سنو گے۔سورۃ الملک چلی گئی۔ میری قبر کی روشنی بدستور موجود تھی۔میں نے قبر میں پہلی بار مسجد سے آنے والی آواز سنی۔ اپنی زندگی کو یاد کیا ۔ مجھے نماز تراویح کی یاد آگئی۔میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میں نے سنا کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور پھر میں نے امام کی دعا سنی۔ وہ دعا مانگ رہے تھے:


اللهم لا تدع لنا في مقامنا هذا ذنبا الا غفرته ولاهما الا فرجته ولا كربا الا نفستهولا مريضا الا شفيته ولا مبتليً الا عافيته ولا ميتا الا رحمته برحمتك يا ارحم الراحمين۔


اس دعا سے مجھے بہت سکون ملا اور میں نے تمنا کی کہ کاش امام دعا کو طویل کر دے۔ میں نے محسوس کیا کہ امام صاحب کی دعا فوری قبول ہورہی ہے کیونکہ مجھے اس سے کافی خوشی اور راحت مل رہی تھی۔ میں روتا جا رہا تھا اور ساتھ ساتھ آمین پڑھتا جا رہا تھا۔ اس طرح رمضان کا سارا مینہ بہت سکون اور آرام سے گزرا۔

ایک دن میری قبر میں انسان کی شکل میں ایک آدمی آیا جس سے بہت تیز خوشبو آ رہی تھی۔ میں حیران ہوا کیونکہ مرنے کے بعد یہ پہلا انسان تھا جو میں دیکھ رہا تھا۔ اس نے مجھے سلام کیا اور میں نے اسے سلام کا جواب دیا۔ اس نے کہا: میں تمھیں بشارت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے گناہ معاف کر دیے ہیں۔

میں نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ کون ہیں؟ میں پہلی دفعہ قبر میں انسان کی شکل دیکھ رہا ہوں۔ اس نے کہا: میں انسان نہیںہوں۔ میں نے پوچھا: کیا آپ فرشتے ہیں۔ اس نے کہا: نہیں بلکہ میں تمھارا نیک عمل ہوں۔ تمھاری نمازیں، تمھارے روزے، حج، انفاق فی سبیل اللہ، صلہ رحمی وغیرہ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے اس شکل میں تمھارے پاس بھیجا ہے۔

میں بہت خوش ہوا اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر اس سے پوچھا: تم اتنی تاخیر سے کیوں آئے؟

اس نے کہا: تمھارے گناہ اور تمھارے قرضے میری راہ میں رکاوٹ تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے معافی کا اعلان کر دیا تو میرے لیے راستہ کھل گیا۔

میں نے پوچھا: تو کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر ے گا؟

اس نے کہا: یہ بات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔قیامت کے روز اس بات کا تعین ہوگا کہ تم جنت میں جاؤ گے یا دوزخ میں۔

اس کے بعد عمل صالح نے کہا: تمھارے کچھ نیک اعمال بالکل زندگی کی آخری گھڑیوں میں آگئے۔ میں نے پوچھا: وہ کیسے؟

اس نے کہا: اگر تمھیں یاد ہو کہ مرتے وقت اللہ تعالیٰ نے تمھیں توفیق دی تھی اور تم نے کلمہ شہادت پڑھاتھا۔تمھیں اندازہ نہیں ہے کہ فرشتوں کو اس بات کی کتنی خوشی ہوئی کہ تمھاری زندگی کا خاتمہ توحید پر ہوا جبکہ شیطان لعین تمھیں نصرانیت اور یہودیت کی تلقین کر رہا تھا۔ اس وقت تمھارے ارد گرد دو قسم کے فرشتے موجود تھے۔ ایک وہ جو مسلمانوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں۔جب تم نے کلمہ پڑھا تو وہ فرشتے چلے گئے جو کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں اور وہ ٹھہر گئے جو مسلمانوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اور انھوں نے ہی تمھاری روح قبض کی۔

میں نے پوچھا: اس کے علاوہ بھی کوئی نیکی ہے؟

اس نے کہا: ہاں جب تم نے ڈرائیور کو سگریٹ چھوڑنے کی نصیحت کی تو آج جو خوشبو تم محسوس کر رہے ہو، یہ اس نصیحت کی بدولت ہے۔
اس کے علاوہ اپنی والدہ کو جو تم نے فون کیا اور ان کے ساتھ تم نے جو بھی باتیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بات کے بدلے تمھارے لیے نیکیاں لکھ دیں۔

مجھے وہ باتیں یاد آئیں جو میں نے والدہ سے کی تھیں۔ میں نے دل میں سوچا کہ اگر مجھے پتا ہوتا تو میں ان باتوں میں گھنٹے لگا دیتا۔

پھر عمل صالح نے مجھے بتایا: زندگی کے آخری وقت میں ایک گناہ بھی تمھارے کھاتے میں لکھا گیا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا: وہ کون سا؟ اس نے جواب دیا: تم نے اپنی بچی سے کہاتھا کہ میں تھوڑی دیر میں آجاؤنگا۔ اس طرح تم نے اسے جھوٹ بولا۔ کاش مرنے سے پہلے تم توبہ کر لیتے۔

میں رویا اور پھر اسے بتایا: اللہ کی قسم میرا ارادہ جھوٹ کا نہیں تھا بلکہ میں میرا ارادہ اسے مطمئن کرنے کا تھا تاکہ وہ میری واپسی تک صبرکر لے مگر ایسا نہ ہو سکا۔

اس نے کہا: جو بھی ہو۔ آدمی کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں کو پسند کرتا ہے اور جھوٹ بولنے والوں کو ناپسند کرتا ہے، مگر افسوس لوگ اس معاملے میں بہت تساہل اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

پھر اس نے بتایا: تمھاری وہ بات بھی گناہ کے کھاتے میں لکھ دی گئی تھی، جو تم نے ایئر پورٹ میں کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے شخص سے کہی تھی کہ اللہ تمھارا حساب کر دے۔ اس طرح تم نے ایک مسلمان کا دل دکھایاتھا۔ میں حیران ہوگیا کہ اتنی معمولی باتیں بھی ثواب اور گناہ کا باعث بنتی ہیں!

عمل صالح نے مزید بتایا: یہ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ جب وہ ایک نیکی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے 10 گناہ بلکہ 700 گنا بڑھا دیتا ہے مگر ایک گناہ کو ایک ہی شمار کرتا ہے اور بہترین اعمال وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔

میں نے پوچھا: پنج وقتہ نماز کے بارے میں کیا خیال ہے؟

عمل صالح نے بتایا: نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ تو فرائض ہیں۔میں ان کے علاوہ بھی تمھیں ایسے اعمال بتاؤنگا جو اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب ہیں۔

میں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟

اس نے بتایا: تمھاری عمر جب بیس برس تھی تو تم عمرے کے لیے رمضان کے مہینے میں گئے تھے اور تم نے وہاں سو ریال کی افطاری خرید کر لوگوں میں تقسیم کی تھی، اس کا بہت زیادہ اجر تم نے کمایا ہے۔

اسی طرح ایک بار ایک بوڑھی عورت کو تم نے کھانا کھلایا تھا۔ وہ بوڑھی ایک نیک عورت تھی۔ اس نے تمھیں جو دعا دی اس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تمھیں بہت اجر و ثواب عطا کیا ہے۔

اسی طرح ایک بار تم مدینہ جا رہے تھے کہ راستے میں تمھیں ایک آدمی کھڑا ہوا ملا، جس کی گاڑی خراب تھی۔ تم نے اس کی مدد کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو تمھاری وہ نیکی بہت پسند آئی اور تمھیں اس کا بہت زیادہ اجر ملا ہے۔

اس کے بعد میری قبر کھل گئی اور اس میں بہت زیادہ روشنی آگئی ۔ مجھے فرشتوں کے گروہ درگروہ آسمان سےاُترتے ہوئے دکھائی دیے۔ عمل صالح نے بشارت دی: آج لیلۃ القدر ہے!

٭۔۔۔ ۔٭

 ذرا سوچئے!

یہ کہانی عبرت کے لیے لکھی گئی ہے ،لیکن احادیث مبارکہ کے بیان کے عین مطابق ہے۔

1۔ کیا یہ کہانی پڑھنے کے بعد بھی ہم آخرت کے لیے فکرمند نہیں ہوں گے؟

2۔ کیا اب بھی ہم گناہ کریں گے؟

3۔ کیا اب بھی ہم فجر کی نماز میں اللہ کے حضور غیر حاضر رہیں گے؟

4۔ کیا مسجد کی باجماعت نماز ہمارے لیے باعث رحمت نہیں ہے، جہاں وقتا فوقتا اسی طرح کے ایمان افروز اور عبرت انگیز تذکرے سننے کو ملتے ہیں؟

أقول قولي هذا ـ ایها الاخوة ـ و أستغفر الله تعالی لي ولكم فاستغفروه إنه هو الغفور الرحيم، وادعوه یستجب لکم۔۔

ختم شد

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.