وحی

عجیب موسم تھا وہ بھی ، جب کہ
عبادتیں کور چشم تھیں
اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں
خود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے
خیروبرکت کی نعمتیں لوگ مانگتے تھے!
مگر وہ اِک شخص
جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا
عجیب اُلجھن میں مبتلا تھا
یہ وہ نہیں ہیں، وہ کون ہوگا کا کرب ِ بے نام چکھ رہا تھا!
سو اپنےان نارسا دُکھوں کی صلیب اُٹھائے
غموں کی نایافت شہریت کو تلاش کرتے
وہ شہرِ آزر سے دُور
اپنے تمام لمحے
حرا کے غاروں کے خواب آسا سکوت کو سونپنے لگا تھا
یہ سوچ کا اعتکاف بھی تھا
اور ایک اَن دیکھی رُوح ِ کُل کے وجود کا اعتراف بھی تھا
وہ رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی
جبکہ لمحہ بھر کو
فضا پہ سناٹا چھا گیا
اور ہواؤں کی سانس رُک گئی تھی
ستارہ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی
گریز پا ساعتیں تحیر زدہ تھیں
جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو!
یکایک اِک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر
فضا میں گونجی
“پڑھو!“
“میں پڑھ نہیں سکوں گا!“
“پڑھو!“
“میں پڑھ نہیں سکوں گا!“
“پڑھو!“
“(مگر) میں کیا پڑھوں؟“
پڑھو۔۔۔۔تم اپنے (عظیم) پروردگار کا نام لے کے
جو سب کو خلق کرتا ہے
جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے
پڑھو (کہ) تمھارا پروردگار بے حد کریم ہے
(اور) جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی
اُسی نے بتائیں انسان کو وہ باتیں
کہ جن کو وہ جانتا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔“
فضائے بے نطق جیسے اقراء کا ورد کرنے لگی تھی
وہ سارے لفظ ، جو
تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے
پھر روشنی کی لہروں میں
واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے
دریچہ بے خیال میں
آگہی کے سُورج اُتر رہے تھے
اس ایک پل میں
وہ میرا اُمی
مدینہ العلم بن چکا تھا!
*******

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.