کمزوروں کا تحفظ

نبی کریم ﷺ کی دو احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
    ایک سیاہ فام غریب شخص مسجد میں جھاڑو لگایا کرتا تھا۔ اس کا انتقال ہو گیا تو صحابہ نے اس کی تدفین کر دی۔

    ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اسے موجود نہ پایا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ لوگوں نے کہا کہ وہ تو فوت ہو گیا۔
    آپ ﷺ نے فریایا؛
    مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟
    راوی کا بیان ہے کہ لوگوں نے اس کے انتقال کو ایک معمولی واقعہ سمجھتے ہوئےآپ ﷺ کو اطلاع نہ دی تھی۔
    آپ ﷺ نے فرمایا؛
    مجھے اس کی قبر بتلاؤ، لوگوں نے قبر بتلائی۔ آپ نے قبر پر پہنچ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
    (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔۔۔۔۔۔۔۔مسلم۔ کتاب الجنائر۔ح۔2215 )

مزید فرمایا:
    حضرت مصعب بن سعد رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛

    تمہیں ضعیفوں اور کمزوروں کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور روزی ملتی ہے۔
  (بخاری۔ح۔2896 )

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.