سنہ ہجری کی ابتدا کیسے ہوئی؟

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ  کے دین کی دعوت عام کرنے پر اللہ تعالیٰ  کے دین کے دشمنوں نے طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی راہ میں کانٹے بچھائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکلیف و مشقت برداشت کرتے ہوئے دشمنان اسلام کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ  نے آپ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے وطن کا سفر کرنے کو اسلام کی اصطلاح میں ہجرت  کہتے ہیں۔ اسلامی سال کو ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا سال کہا جاتا ہے اور یہ سال ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ کرتا ہے۔

تقویم سنہ ہجری کی ابتدا خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے نہ سنہ تھا نہ سال۔ مسلمان کسی نہ کسی خاص واقعہ سے سال کا حساب لگایا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ہاتھیوں کے حملے کے حوالے سے عام الفیل وغیرہ۔۔۔غرض مہینے مقرر تھے مگر سنہ نہ تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سنہ ١٦ میں ایک دستاویز دستخط کے لئے آپ کے سامنے پیش کی گئی۔ اس پر تاریخ کی جگہ صرف شعبان کا لفظ لکھا ہوا تھا۔ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کھٹکی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیوں کر معلوم ہو کہ اس سے گزرا ہوا شعبان سمجھا جائے یا موجودہ شعبان؟  آپ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت مجلس شوریٰ  بلائی اور اس کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا۔ سب نے طے کیا کہ تاریخ، مہینہ اور سال سب ہونا چاہیئے۔ لیکن ایک بات پھر رہ گئی کہ سنہ کی ابتدا کب سے کی جائے؟ سب نے اپنی اپنی رائے دی لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کو سب نے قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ اسے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے شروع کیا جائے۔ اس طرح سنہ ہجری کی ابتدا ہوئی۔

اس طرح ہر نیا اسلامی سال ہمیں  ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیئے کہ سنہ عیسوی (انگریزی) کے ساتھ ساتھ اسلامی مہینوں کے نام بھی یاد رکھیں اور اپنی خط و کتابت میں سنہ ہجری لکھنا بھی یاد رکھیں!

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.