کلمئہ حق

حجاج بن یوسف اپنے محل کے دریچے میں بیٹھا ہوا تھا کچھ عراق کے معزز لوگ بھی اس کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ایک نو عمر لڑکا وہاں سے گزرا اور اس نے محل کو دیکھ کر کہا کہ کیا اونچی اونچی عمارتیں بناتے ہو بے فائدہ اور مضبوط قلعےبناتےہو اس خیال سے کہ ہمیشہ جیتے رہو گے؟

حجاج نے لڑکے کو بلا لیا اور کہا کہ تو عقل مند اور ذہین معلوم ہوتا ہے مجھے کچھ نصیحت کر۔

لڑکے نے قرآن کی ایک آیت پڑھی اذا جاء نصراللہوالفتح و رایت الناس یخرجون من دین اللہ افواجا جس کا ترجمہ تھا کہ جب خدا کی مدد اور فتح آئی تو دیکھا کہ لوگ دین سے فوج در فوج نکلتے جا رہے ہیں۔

حجاج نے کہا تو نے آیت کو غلط پڑھا ، یخرجون من دین نہیں ہے یدخلون فی دین ہے کہ دین میں داخل ہو رہےہیں۔
لڑکے نے جواب دیا کہ بے شک پہلے داخل ہی ہوتے تھے مگر اب تیرے دور میں تیری وجہ سے، اس لیے میں نے یخرجون کا لفظ استعمال کیا۔

حجاج نے کہا کہ تو جانتا ہے کہ میں کون ہوں؟

لڑکے نے جواب دیا ہاں میں جانتا ہوں کہ میں ثقیف کے شیطان سے مخاطب ہوں۔

حجاج نے کہا کہ تو دیوانہ اور قابل علاج معلوم ہوتا ہے امیر المومنین کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟

لڑکے نے جواب دیا کہ اللہ ابو الحسن (حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہہ ) پر رحمت کرے۔

حجاج نے کہا کہ میں نے عبدالمالک بن مروان کے بارے میں پوچھا ہے۔

لڑکے نے جواب دیا کہ اس کے تو اتنے گناہ ہے کہ زمین و آسمان میں بھی نہیں سما سکتے۔

حجاج نے کہا کہ میں بھی تو سنوں کے اس نے کونسے گناہ کیے ہیں؟

لڑکے نے جواب دیا کہ اس کا ایک گناہ تو یہ ہے کہ تجھ جیسے ظالم کو حکمران بنایا جو رعایا کے مال کو مباح اور خون کو حلال سمجھتا ہے۔

حجاج نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ اس لڑکے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

سب نے کہا کہ یہ واجب القتل ہے کیونکہ یہ اطاعت پزیر جماعت سے الگ ہو گیا۔

لڑکے نے جواب دیا کہ تم سے اچھے تو فرعون کے ساتھی تھے جنہوں نے کہا تھا کہ حضرت موسی اور انکے بھائی کے قتل کے بارےمیں جلدی نہ کرو اور تم لوگ محض خوشامند کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے میرے قتل کا فتویٰ دے رہے ہو۔

حجاج نے سوچا کہ اس معصوم لڑکے کے قتل سے کہیں سورش ہی برپا نہ ہو جائے اس لیے اسکے قتل کا ارادہ ملتوی کیا اور اسے خوف دلانے کی بجائے نرمی سے کام لیا اور کہا اے لڑکے تمیز سے بات کر اور اپنی زبان کو قابو رکھ ۔ جا میں نے تیرے واسطے چار ہزار درہم کا حکم دیا ۔ جا اپنی ضرورتیں پوری کر۔

لڑکے نے جواب دیا کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں اللہ تیرا منہ سفید اور ٹخنہ اونچا کرے۔

حجاج نے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کی بات کا مطلب سمجھے؟ سب نے کہا کہ نہیں تو اس نے کہا کہ اس نے مجھے بددعا دی ہے کہ مجھے برص ہو اور مجھے سولی لٹکا دیا جائے۔

حجاج نے لڑکے سے کہا کہ جا میں نے تجھے تیری دلیری، بہادری اور ذہانت کی وجہ سے معاف کیا ۔ لڑکا وہاں سے چلا گیا۔

حجاج نے کہا کہ میں نے آج تک اتنا ذہین اور دلیر بچہ نہیں دیکھا۔

منتخب موتی جلد 5 صفحہ 241

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.