انگلش میڈیم استاد اور استانیاں

اماں جیراں اکثر کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر میرے پاس آتی رہتی ہے‘ اس بار بھی وہ منہ بنائے بیٹھی تھی‘ پتا چلا کہ اس کی بیٹی نبیلہ پھر نویں جماعت کے امتحان میں فیل ہوگئی ہے‘ ماسی نے پہلے تو نبیلہ کو کوسا‘ پھر مجھے کہنے لگی ’’اے بیٹا! کچھ کر کرا کے پاس نہیں ہوسکتی؟؟؟
میں نے سرہلایا۔۔۔’’ہوسکتی ہے۔۔۔ایک طریقہ ہے!!!‘‘
اماں خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔’’وہ کیا؟‘‘
’’وہ یہ کہ تمہاری بیٹی دوبارہ سے امتحان دے۔۔۔‘‘ میں نے اطمینان سے کہا۔
اماں کا پھر منہ بن گیا۔۔۔’’وہ سو دفعہ بھی امتحان دے لے تو پاس نہیں ہوگی‘نکمی کہیں کی۔۔۔‘‘ اماں نے جلی کٹی سنادیں اور برقعہ سنبھال کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ایک ہفتے بعد میری دوبارہ اماں سے ملاقات ہوئی‘ میں نے پوچھا’’سناؤ اماں! نبیلہ کا کیا بنا؟۔۔۔دوبارہ امتحان دیا؟‘‘
’’نہیں پُتر! اس کے ابے نے اسے سکول سے ہی اٹھوا لیا ہے‘ وہ کہتا ہے پڑھائی اِس کے نصیب میں ہی نہیں۔۔۔‘‘
میں نے افسوس کیا۔۔۔’’اماں یہ ظلم نہ کرو۔۔۔کچھ پڑھ جائے گی تو کہیں نہ کہیں نوکری ہی مل جائے گی‘ چا ر پیسے آجایا کریں گے۔‘‘
اما ں خوش ہوکر بولی۔۔۔’’نوکری تو اسے مل بھی گئی۔‘‘
میں حیرت سے اچھل پڑا۔۔۔’’نوکری بھی مل گئی۔۔۔لیکن کہاں؟‘‘
اماں اطمینان سے بولی۔۔۔’’الحمد للہ ۔۔۔اگلی گلی والے انگلش میڈیم سکول میں ساڑھے سات سو روپے مہینے پر استانی لگ گئی ہے اور دسویں جماعت کو پڑھا رہی ہے۔‘‘
***
آپ کے اِردگرد بھی ایسی کئی استانیاں ’’فروغ علم‘‘ میں مصروف ہوں گی‘ یہ ایسی استانیاں ہوتی ہیں جو ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتی ہیں اور دو ہزار روپے ماہانہ میک اپ پر لگا دیتی ہیں۔گلی گلی میں کھلے انگلش میڈیم سکول‘ انگلش ٹوتھ پیسٹ کی طرح ہیں تو بہت سستے لیکن ان کے دعوے آسمانوں سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔میں نے ایک ڈیڑھ مرلے کے انگلش میڈیم سکول کے باہر لکھا دیکھا کہ ’’یہاں بچوں کو کمپیوٹر کی عملی تربیت بھی دی جاتی ہے‘‘۔ مجھے بہت تجسس ہوا‘ میں نے پرنسپل صاحبہ سے پوچھا کہ کمپیوٹر ہے کہاں؟ وہ مجھے بڑے فخر سے سیڑھیوں کے نیچے بنی ’’کمپیوٹر لیب‘‘ میں لے آئیں جہاں سی پی یو کے بغیر صرف ایک مانیٹر پڑا تھا۔چونکہ کمپیوٹر کے متعلق میری معلومات بھی چنگیز خان جتنی ہیں لہذا میں نے تعریفی نظروں سے مانیٹر کی طرف دیکھا اورمرعوب ہوکر پوچھا’’میڈم! کیا یہ پینٹی ایم فورہے؟‘‘
وہ کچھ دیر سوچتی رہیں ‘ پھر اٹھلا کر بولیں۔۔۔’’نہیں نہیں۔۔۔یہ تو پینٹی ایم سیون‘‘ ہے۔میں نے مزید متاثر ہوکر پوچھا’’ بچوں کو اس کی عملی تربیت کیسے دی جاتی ہے؟‘‘ وہ اطمینان سے بولیں۔۔۔’’پہلے تو دو ماہ تک بچوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہی کمپیوٹر ہے۔۔۔پھر دو ماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ بجلی سے چلتا ہے‘پھر اگلے دوماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگر بجلی چلی جائے تو یہ نہیں چلتا۔۔۔پھر اگلے دوماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ دوبارہ بجلی آنے پر یہ دوبارہ چل پڑتاہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ اگر یہ زمین پر گرے تو ٹوٹ بھی سکتا ہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ اگر یہ زمین پر نہ گرے تو بالکل نہیں ٹوٹتا۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کمپیوٹر سیکھ لیا ہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ کے بعد انہیں سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتاہے۔

ایسی کسی اُستانی سے اگر آپ پوچھیں کہ آپ میٹرک فیل ہیں؟ تو وہ کبھی ہاں میں جواب نہیں دے گی بلکہ کہے گی‘ نہیں! میں نویں پاس ہوں۔اس نوح میں مرد اساتذہ بھی شامل ہیں جو ایسے ہی انگلش میڈیم سکول میں ایک مہینہ اپنی قابلیت دکھا کر ڈیفنس کے سکول میں پرنسپل کی سیٹ کے لیے اپلائی کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ایسا ہی ایک نویں پاس اُستاد برطانیہ کا ویزہ لگوانے کے لیے ایمبیسی پہنچا‘وہاں ویزہ افسر نے پوچھا کہ کیا تمہیں انگلش آتی ہے؟ ۔۔۔فوراً بولا۔۔۔’’جناب کیسی بات کرتے ہیں‘ میں انگلش میڈیم سکول کا سینئر ٹیچر ہوں۔‘‘

افسر نے کہا ۔۔۔’’ٹھیک ہے‘ ابھی ٹیسٹ کرلیتے ہیں‘ میں کچھ چیزوں کے نام لیتا ہوں‘ تم نے ان کا الٹ بتانا ہے۔‘‘استاد صاحب نے سر ہلایا اور تیار ہوگئے۔

افسر نے کہا ۔۔۔بلیک (Black)
جواب آیا۔۔۔وائٹ(white)
افسر نے کہا۔۔۔لیفٹ(Left)
جواب آیا۔۔۔رائٹ(Right)
افسر نے کہا۔۔۔اگلی(Ugly)
جواب آیا۔۔۔پچھلی۔۔۔!!!
***

میں ایسے استاد اور استانیوں کی بڑی قدر کرتا ہوں جو اپنے علم سے کہیں زیادہ تعلیم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض اوقات بچوں کو ایسی ایسی انوکھی باتوں سے روشناس کراتے ہیں کہ کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیمی ادارہ بھی یہ کام نہیں کر سکتا۔مثلاً میرے محلے میں ایک کمرے کا ہوٹل ہے جو دن کے وقت بطور انگلش میڈیم سکول استعمال ہوتاہے۔اس سکول کے ایک ذہین طالبعلم سے میں نے پوچھا کہ’’ بتاؤ اسلامی تاریخ کا وہ کون سا نیک اور خوبصورت انسان تھا جس کو اس کے بھائیوں نے کنوئیں میں دھکا دے دیا تھا؟

کچھ سوچ کر بولا۔۔۔’’ہریتک روشن‘‘
میں نے دانت پیس کر کہا۔۔۔’’میں ہندو کی نہیں‘ مسلمان کی بات کر رہا ہوں۔‘‘
جلدی سے بولا۔۔۔’’سوری۔۔۔شاہ رخ خان‘‘
میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پوچھا۔۔۔’’یہ بتاؤ صبح اٹھ کر پہلا کام کیا کرنا چاہیے؟‘‘
کچھ سوچ کر بولا۔۔۔’’ممی ڈیڈی کا آشیر باد لینا چاہیے۔۔۔‘‘
میں نے گہرا سانس لے کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنے منہ پر تھپڑ دے مارا۔
***
گل نوخیز اختر

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.