ایک کرکٹر کی آپ بیتی


میں ایک عظیم کرکٹر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ اور آج اپنے شاندار ماضی کے ایام یاد کر کے اور ٹھنڈی آہیں بھر کے وقت گزارتا ہوں۔

مجھے بچپن ہی سے کر کٹ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ ۔ ۔ خوابوں میں ، میں خود کو جاوید میانداد ، عمران خان اور وسیم اکرم تصور کرتا تھا۔ ۔ ۔ ہم لوگ ویسے تو متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے مگر ہمارے والد صاحب کے کئی زمینداروں،وڈیروں اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ چنانچہ کہاں میں گلیوں میں ٹیپ بال سے کھیلا کرتا تھا مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں انڈر 16 ٹیم میں شامل ہوگیاکرکٹ سے والہانہ لگاؤ اور والد صاحب کے تعلقات کی بدولت میں انڈر 19 میں جا پہنچا۔یہ دور بڑا ہی سخت دور تھا اورمجھے نہایت سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔دن کا زیادہ تر وقت پریکٹس میںگزارنا پڑتا تھا۔

ایک دفعہ ہمارا انگلینڈ کا دورہ ہوا۔اس دورے میں ، میں نے نہایت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سلیکٹرز میری پر فارمنس سے نہایت متاثر ہوئے اور انھوں نے مجھے قومی کرکٹ ٹیم کی طرف سے ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع دے دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ والد صاحب کی کوششیں بھی اس میں شامل تھیں۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ٹیسٹ میچ میں ، میں نے ایک نصف سینچری اسکور کر ڈالی۔تین وکٹیں بھی خوش قسمتی سے حاصل کیں ۔ 

اس طرح میں قومی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کراتا رہا۔ میری پرفارمنس خراب بھی رہتی تو پھر بھی سلیکٹرز مجھے ڈراپ کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ والد صاحب کی کافی ’’اُوپر‘‘ تک پہنچ تھی۔

میں نے تین ورلڈ کپ بھی کھیلے ، جس میں سے ایک میں ، میں نے کپتانی بھی کی۔ جس میں ہماری ٹیم کو بری طرح شکست ہوگئی۔ ۔ ۔ بس یہ میرے کیرےئر کا گویا اختتا م تھا کیونکہ اس کے بعد مجھ پر سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے الزامات لگنا شروع ہوگئے۔ میری کرکٹ جاری تو رہی مگر اب میں پہلے جیسا بہترین کھلاڑی نہ رہا تھا۔ کچھ عرصہ بعد وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ مجھ پر الزامات ثابت ہوگئے ۔ مجھے ناصرف ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا بلکہ ۵۰ لاکھ روپے کرکٹ بورڈ کو جرمانہ کے طور پر بھی ادا کرنے پڑے۔(اُن پیسوں سے میرا ایک فیکٹری کھولنے کا ارادہ تھا)۔ میں نے اپنے ساتھی کرکٹرز کے ساتھ مل کر اور انھیں بھرپور اعتماد میں لے کر سٹے باز سے بات کی تھی، مگر وہ مشہور مقولہ ہے نا ۔ ۔ ۔ ’’گھر کا بھیدی ، لنکا ڈھائے‘‘ ۔ ۔ ۔ بس یہی کچھ ہوا اور میرے ساتھیوں نے (خدا اُنھیں غارت کرے)عدالت کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔

۔ ۔ ۔ چنانچہ میں بدنام ہو کر رہ گیا۔ آج بھی میں اس وقت کو کوستا ہوں، جب میں نے چند روپوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچ دیا اور عزت ، دولت اور شہرت ہر چیز سے محروم ہوگیا۔ ۔ ۔ میرے دل سے تو بس یہی دعا نکلتی ہے۔


کسی کو خدا نہ برے دن دکھائے
برے وقت میں ہوتے ہیں اپنے، پرائے


٭۔ ۔ ۔ ٭

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.