عقل بڑی یا بھینس

پٹھانوں کے گاؤں میں ندی پر پل بنایا گیا۔ انجینیئر نے پل کا افتتاح کیا اور واپس چلا گیا۔

ایک سال بعد وہ واپس گاؤں گیا تو ہر شخص پل اور انجینیئر کی تعریف کر رہا تھا۔ وہ پل کے اوپر گیا تو دیکھا کہ پل تو بالکل نیا کا نیا ہے جیسے کہ کبھی استعمال ہی نہ کیا گیا ہو۔


اس نے حیرانی سے گاؤں والوں سے پوچھا کہ آپ لوگ پل استعمال تو کرتے نہیں پھر میری تعریف کیوں کر رہے ہیں؟

گاؤں والوں نے جواب دیا کہ نہیں جناب! پہلے ہم دھوپ میں ندی پار کرتے تھے۔ اب پل کی پل کی چھاؤں میں پار کرتے ہیں۔

یہ سن کر انجینیئر نے ندی میں کود کر جان دے دی۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.