تنقید برائے تنقید

مجھے لگتا ہے ہم میں ہر کوئی ایک مخصوص گروہ یا دائرے کے اندر رہنا پسند کرتا ہے اور اس سے باہر نکلنا اپنی انا کے خلاف سمجھتا ہے۔ ہر گروہ کی اول تو یہ دعا یا خواہش رہتی ہے کہ کوئی ایسا واقعہ اس کے مخالف گروہ کے خلاف رونما ہو جائے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ خوشی سے بغلیں بجائے اور بے جا تنقید کا ننگا ناچ شروع کر دے۔ اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مخالف گروہ کو اس واقعہ کی آڑ میں پوری طرح زچ کر دے۔ بعض لوگ اپنی اس کوشش میں اپنی نفسانی خواہشات سے مجبور ہو کر مخالف فرد کی ذاتیات پر اُتر آتے ہیں اور اس کی ماں بہن ایک کر دیتے ہیں۔

کچھ دن بعد واقعہ پرانا ہو جاتا ہے۔ اس دوران مخالف گروہ انتقام کی آگ میں سلگتا رہتا ہے اور اب مخالف گروہ بڑی بے چینی سے ایسے واقعہ کا انتظار کرنے لگتا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی انا کے کرچی کرچی ہونے کا بدلہ لے سکے اور وہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔

لاجک، اخلاقیات اور دانشوری کا اس تنقید میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اب ہمیں ماننا پڑے گا کہ تنقید برائے تنقید کا یہ کھیل ہم سب اپنی انا اور نفسانی خواہشات اور اپنے اپنے گروہوں کی بقا کے لیے کھیلتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر تنقید برائے تنقید کے رجحان کے پیشِ نظر لکھا گیا۔

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.