قرآن سے رشتہ توڑ دیا!


یہ دور ہے افراتفری کا
اور وقت ہے نفسانفسی کا
کچھ ہوش نہیں انسانوں کو
خطرہ ہے سب کی جانوں کو
دھارے سب اُلٹے بہتے ہیں
انسان پریشان رہتے ہیں
اِک خوف سا سب پہ چھایا ہے
چہرہ چہرہ مُرجھایا ہے
جانے کب وہ وقت آئے گا؟
ابن ِ آدم  مسکرائے گا!
یہ سوچ لگی سی رہتی ہے
اور دل کو اذیت دیتی ہے
کیوں دنیا میں اندھیرا ہے؟
کیوں ظلم نے سب کو گھیرا ہے؟
آواز یہ دل سے آتی ہے
اور راز مجھے بتلاتی ہے
دین ہم نے اپنا چھوڑ دیا
قرآن سے رشتہ توڑ دیا!

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.