مال بن گیا وبال

چھوٹی سی زندگی  میں  دولت  بہت سمیٹی
اللہ کی راہ میں مگر دیتا نہیں تھا مال

آخر میں مر گیا جب تو قبر میں شعیب
جوڑا تھا مال جو بھی وہ  بن گیا  وبال




میرے بچے مجھے سکھاتے ہیں

میری اُنگلی پکڑ کے چلتے تھے
اب مجھے راستہ دکھاتے ہیں

اب مجھے کس طرح سے جینا ہے؟
میرے بچے مجھے سکھاتے ہیں



کس نے بنایا؟ (بچوں کی نظم)

ہم سب کو کس نے بنایا؟

 بچوں کی معصومانہ اردو نظم جو اردو کے چاہنے والے "بڑے" بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ میٹھی حمد باری تعالیٰ اس اُمید کے ساتھ پیش ِ خدمت ہے کہ آپ کو ضرور پسند آئے گی۔ انشاءاللہ!۔۔۔

اپنی رائے سے آگاہ کرنا ہرگز نہ بھولیے گا!۔۔۔شکریہ






نظم کے بول متن کی صورت میں پیش خدمت ہیں۔۔

کس نے بنایا پھولوں کو؟
اللہ نے بنایا پھولوں کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا تتلی کو؟
اللہ نے بنایا تتلی کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا مچھلی کو؟
اللہ نے بنایا مچھلی کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا سورج کو؟
اللہ نے بنایا سورج کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا چاند کو
اللہ نے بنایا چاند کو
ہم سب کے لیے

کس نے بنایا ہم سب کو؟
اللہ نے بنایا ہم سب کو
ہم سب کے لیے

اللہ تعالیٰ کا ذکر بڑا اچھا کام ہے

(ترجمہ) "اور اللہ کا ذکر بڑا اچھا کام ہے۔"

اللہ کے ذکر سے بہتر اور کوئی کام نہیں ہے اور ذکر سے مقصد اللہ کی یاد ہے۔ اس کو یاد کرتے رہنا اور ہر وقت اللہ کا خیال رکھنا تاکہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ جس قدر ہم اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیں گے، اسی قدر گناہوں سے بچیں گے اور گمراہ نہیں ہو سکیں گے۔

ہم اپنے گھروں میں مجلسیں آباد کرتے ہیں مگر اپنے دل کی بستی کی کچھ بھی خبر نہیں۔ چراغاں کرتے ہیں مگر دل کی اندھیاری کو دُور کرنے کے لیے کوئی چراغ روشن نہیں کرتے!...... پھولوں کے ہار اور گلدستے سجاتے ہیں لیکن ہمارے اعمالِ حسنہ کے پھول جو مُرجھا رہے ہیں، ان کی فکر نہیں کرتے!.....عرقِ گلاب اور عطر سے دیواروں اور کپڑوں کو معطر کرتے ہیں مگر دینِ اسلام کی عطر بیری سے روح محروم ہے۔

اللہ کا ارشاد ہے:

(ترجمہ) "اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔"  (سورہ القصص)

(ترجمہ) "اور اس خدائے زندہ پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔"

(ترجمہ)"اللہ پر بھروسہ رکھو، تم تو حقِ صریح پر ہو۔"

اور حقِ صریح پر رہنے والے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کے لیے یہ آیت اللہ نے نازل کی۔ اس لیے شمعِ ہدایت کی اتباع ہی "حقِ صریح" اور "صراطِ حق" ہے۔

"صراطِ حق" مصنفہ: عرشیہ علوی

چند مجرب نسخے

قوت ِ دل، دمہ و سانس کے مرض، شوگر، بواسیر، بلڈ پریشر اور ہر قسم کے درد کے لیے چند مُجرب دعائیں ۔۔۔۔ 

 
 *******




اے میرے نکتہ چینو!

(خلیل جبران ۔۔۔۔۔ بیسویں صدی کا عظیم شاعر اور فلسفی۔ روح کی وہ آواز جو لبنان کی سرزمین سے اُبھری اور ہر انسان کی روح تک جا پہنچی۔ ایک فکر جس نے ہر ذی حس انسان کو جھنجھوڑ کے جگا دیا اور جس کا فن روح کے اندر جذب ہو کر امر ہوگیا۔

زیر نظر اقتباسات خلیل جبران کے شہہ پاروں سے ماخوذ ہیں جو ایک طرف تو ہمیں متعدد حقائق سے آگاہی بخشتے ہیں اور دوسری طرف خلیل جبران کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔ بلاشبہ "تخلیقاتِ خلیل جبران" دنیائے ادب میں بے مثال ہے ) ۔

٭------٭

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ تمھیں اس محبت کی قسم جو تمھاری روح کو تمھارے محبوب سے ملا دیتی ہے۔ اس جذبہ کی قسم جو ماں کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے اور تمھارے دلوں کو ایک مقدس پیار عطا کرتا ہے۔ مجھے چھوڑ دو میرے حال پر۔ مجھے تنگ نہ کرو۔ مجھے میرے روتے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑ دو۔ مجھے میرے خوابوں کے سمندر میں تیرنے دو۔ کل کا انتظار کرو۔ اس لیے کہ کل میرے ساتھ جو وہ چاہے کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔ تمھاری عیب جوئی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ یہ تمھارے ذہنی تضاد کا نتیجہ ہے اور اس کا انجام خرابی کے سوا کچھ نہیں۔ 


میں اپنے پہلو کے اندر ایک چھوٹا سا دل رکھتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے اس کے قید خانہ سے باہر نکال کر اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھوں تاکہ اس کا گہرا مطالعہ کر سکوں اور اس کے راز معلوم کر سکوں۔ اس پر اپنے اعتراضات کے تیر مت چلاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ڈر کر غائب ہو جائے، قبل اس کے کہ وہ اپنے رازوں کو عیاں کر دے جو اسے حسن اور محبت نے عطا کیے ہیں۔ سورج نکل رہا ہے اور بلبل گا رہا ہے اور فضا میں مستی بکھر گئی ہے۔ میں مصنوعی ضابطوں اور اُصولوں کے جھمیلوں سے بھاگنا چاہتا ہوں۔

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔مجھے اس کام سے روکنے کی کوشش مت کرو۔ مجھے جنگل کے شیروں اور وادی کے سانپوں کا خوف نہ دلاؤ، کیونکہ میری روح اس زمین پر خوف کے نام سے بھی آشنا نہیں اور کسی برائی کے سلسلہ میں کوئی تنبیہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک کہ واقعی برائی کا خطرہ موجود نہ ہو۔ مجھے کوئی ہدایت مت کرو۔ اس لیے کہ مصائب نے میرے دل کو کھول دیا ہے اور آنسوؤں نے میری آنکھیں صاف کر دی ہیں اور غلطیوں نے مجھے دل کی زبان سکھا دی ہے۔

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔پابندیوں کا کوئی تذکرہ نہ کرو۔ اس لیے کہ ضمیر میرا منصف ہے۔ اگر میں صحیح راستہ پر ہوں تو وہ میرے فعل کو جائز قرار دے گا اور میری حفاظت کرے گا۔ اور اگر میں مجرم ہوں تو مجھے سزا دے گا۔ 

محبت کا جلوس چل رہا ہے۔ حسن اپنے جھنڈے لہرا رہا ہے۔ جوانی مسرت کے ڈھول پیٹ رہی ہے۔ میرے نکتہ چین!۔۔۔۔میں اس نظارے میں محو ہوں۔ مجھے چھیڑ کر میری یکسوئی کا خاتمہ نہ کرو۔ مجھے چلنے دو کیونکہ یہ راستہ پھولوں سے سجا ہوا ہے اور صاف ہوا سے معطر ہے۔ 

مجھے دولت اور عظمت کی کہانیاں مت سناؤ، کیونکہ میرا دل قناعت اور سکون کی دولت سے مالا مال ہے اور خدا کی عظمت سے میرا دل بھی فیضیاب ہے۔

میرے سامنے قوموں کی داستانیں بیان مت کرو۔ مجھے اُصول اور قانون کی باتیں مت سناؤ۔ میرے سامنے حکومتوں کا تذکرہ نہ کرو کیونکہ سارا جہان میرا وطن ہے اور تمام انسان میرے بھائی ہیں۔

 آؤ اس انسانیت کی بات کریں جو انسان کو جنم دے کر بانجھ ہوگئی ہے۔ جو دور پھٹے چیتھڑوں میں ملبوس اپنے بچوں کو پکار رہی ہے۔ وہ بچے جو انسان سے زیادہ قوم بن گئے ہیں۔

اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔میرے پاس سے چلے جاؤ۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں۔ تم مجھ سے میری حیات کے لوازمات چھین لینا چاہتے ہو اور مجھے  بے فائدہ باتوں میں اُلجھانا چاہتے ہو۔ اس لیے اے میرے نکتہ چین۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو!۔۔۔!۔

تخلیقات خلیل جبران

بے چاری آنکھ

ایک دن آنکھ نے کہا۔
"مجھے ان وادیوں کے پرے نیلگوں دھند سے ڈھکے ہوئے پہاڑ نظر آ رہے ہیں۔ کیا وہ خوب صورت نہیں؟"
کان نے اس بات کو سنا اور تھوڑی دیر تک غور کرنے کے بعد بولا۔
"لیکن پہاڑ کہاں ہے؟۔۔۔۔۔ مجھے تو اس کی آواز سنائی نہیں دیتی؟"
ہاتھ نے کان کی تائید کی۔
"یہاں کوئی پہاڑ نہیں ہے۔ میں اسے چھونے اور محسوس کرنے کی کوشش کر چکا ہوں لیکن یہاں کوئی پہاڑ نہیں۔"
ناک کہنے لگی۔
"یہاں کوئی پہاڑ نہیں۔ میں اس کی بو نہیں سونگھ سکتی۔"
آنکھ یہ سن کر دوسری طرف متوجہ ہوگئی۔ باقی تینوں کان، ناک اور ہاتھ آنکھ کی کم عقلی کا ماتم کرنے لگے۔
انھوں نے کہا.
"بے چاری آنکھ دیوانی ہوگئی ہے۔“

تخلیقات خلیل جبران

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.