کس نے بنایا؟ (بچوں کی نظم)
ہفتہ, دسمبر 28, 2013 Shoaib Saeed Shobi 4
ہم سب کو کس نے بنایا؟ بچوں کی معصومانہ اردو نظم جو اردو کے چاہنے والے "بڑے" بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ میٹھی حمد باری تعالیٰ اس اُمید کے ساتھ پیش ِ خدمت ہے کہ آپ کو ضرور پسند آئے گی۔ انشاءاللہ!۔۔۔
اپنی رائے سے آگاہ کرنا ہرگز نہ بھولیے گا!۔۔۔شکریہ
نظم کے بول متن کی صورت میں پیش خدمت ہیں۔۔
کس نے بنایا پھولوں کو؟
اللہ نے بنایا پھولوں کو
ہم سب کے لیے
کس نے بنایا تتلی کو؟
اللہ نے بنایا تتلی کو
ہم سب کے لیے
کس نے بنایا مچھلی کو؟
اللہ نے بنایا مچھلی کو
ہم سب کے لیے
کس نے بنایا سورج کو؟
اللہ نے بنایا سورج کو
ہم سب کے لیے
کس نے بنایا چاند کو
اللہ نے بنایا چاند کو
ہم سب کے لیے
کس نے بنایا ہم سب کو؟
اللہ نے بنایا ہم سب کو
ہم سب کے لیے
اللہ تعالیٰ کا ذکر بڑا اچھا کام ہے
اللہ کے ذکر سے بہتر اور کوئی کام نہیں ہے اور ذکر سے مقصد اللہ کی یاد ہے۔ اس کو یاد کرتے رہنا اور ہر وقت اللہ کا خیال رکھنا تاکہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ جس قدر ہم اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیں گے، اسی قدر گناہوں سے بچیں گے اور گمراہ نہیں ہو سکیں گے۔
ہم اپنے گھروں میں مجلسیں آباد کرتے ہیں مگر اپنے دل کی بستی کی کچھ بھی خبر نہیں۔ چراغاں کرتے ہیں مگر دل کی اندھیاری کو دُور کرنے کے لیے کوئی چراغ روشن نہیں کرتے!...... پھولوں کے ہار اور گلدستے سجاتے ہیں لیکن ہمارے اعمالِ حسنہ کے پھول جو مُرجھا رہے ہیں، ان کی فکر نہیں کرتے!.....عرقِ گلاب اور عطر سے دیواروں اور کپڑوں کو معطر کرتے ہیں مگر دینِ اسلام کی عطر بیری سے روح محروم ہے۔
اللہ کا ارشاد ہے:
(ترجمہ) "اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔" (سورہ القصص)
(ترجمہ) "اور اس خدائے زندہ پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔"
(ترجمہ)"اللہ پر بھروسہ رکھو، تم تو حقِ صریح پر ہو۔"
اور حقِ صریح پر رہنے والے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کے لیے یہ آیت اللہ نے نازل کی۔ اس لیے شمعِ ہدایت کی اتباع ہی "حقِ صریح" اور "صراطِ حق" ہے۔
"صراطِ حق" مصنفہ: عرشیہ علوی
"صراطِ حق" مصنفہ: عرشیہ علوی
اے میرے نکتہ چینو!
بدھ, دسمبر 18, 2013 Shoaib Saeed Shobi 0
(خلیل جبران ۔۔۔۔۔ بیسویں صدی کا عظیم شاعر اور فلسفی۔ روح کی وہ آواز جو لبنان کی سرزمین سے اُبھری اور ہر انسان کی روح تک جا پہنچی۔ ایک فکر جس نے ہر ذی حس انسان کو جھنجھوڑ کے جگا دیا اور جس کا فن روح کے اندر جذب ہو کر امر ہوگیا۔
زیر نظر اقتباسات خلیل جبران کے شہہ پاروں سے ماخوذ ہیں جو ایک طرف تو ہمیں متعدد حقائق سے آگاہی بخشتے ہیں اور دوسری طرف خلیل جبران کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔ بلاشبہ "تخلیقاتِ خلیل جبران" دنیائے ادب میں بے مثال ہے ) ۔
٭------٭
اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ تمھیں اس محبت کی قسم جو تمھاری روح کو تمھارے محبوب سے ملا دیتی ہے۔ اس جذبہ کی قسم جو ماں کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے اور تمھارے دلوں کو ایک مقدس پیار عطا کرتا ہے۔ مجھے چھوڑ دو میرے حال پر۔ مجھے تنگ نہ کرو۔ مجھے میرے روتے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑ دو۔ مجھے میرے خوابوں کے سمندر میں تیرنے دو۔ کل کا انتظار کرو۔ اس لیے کہ کل میرے ساتھ جو وہ چاہے کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔ تمھاری عیب جوئی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ یہ تمھارے ذہنی تضاد کا نتیجہ ہے اور اس کا انجام خرابی کے سوا کچھ نہیں۔
میں اپنے پہلو کے اندر ایک چھوٹا سا دل رکھتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے اس کے قید خانہ سے باہر نکال کر اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھوں تاکہ اس کا گہرا مطالعہ کر سکوں اور اس کے راز معلوم کر سکوں۔ اس پر اپنے اعتراضات کے تیر مت چلاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ڈر کر غائب ہو جائے، قبل اس کے کہ وہ اپنے رازوں کو عیاں کر دے جو اسے حسن اور محبت نے عطا کیے ہیں۔ سورج نکل رہا ہے اور بلبل گا رہا ہے اور فضا میں مستی بکھر گئی ہے۔ میں مصنوعی ضابطوں اور اُصولوں کے جھمیلوں سے بھاگنا چاہتا ہوں۔
اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔مجھے اس کام سے روکنے کی کوشش مت کرو۔ مجھے جنگل کے شیروں اور وادی کے سانپوں کا خوف نہ دلاؤ، کیونکہ میری روح اس زمین پر خوف کے نام سے بھی آشنا نہیں اور کسی برائی کے سلسلہ میں کوئی تنبیہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک کہ واقعی برائی کا خطرہ موجود نہ ہو۔ مجھے کوئی ہدایت مت کرو۔ اس لیے کہ مصائب نے میرے دل کو کھول دیا ہے اور آنسوؤں نے میری آنکھیں صاف کر دی ہیں اور غلطیوں نے مجھے دل کی زبان سکھا دی ہے۔
اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔پابندیوں کا کوئی تذکرہ نہ کرو۔ اس لیے کہ ضمیر میرا منصف ہے۔ اگر میں صحیح راستہ پر ہوں تو وہ میرے فعل کو جائز قرار دے گا اور میری حفاظت کرے گا۔ اور اگر میں مجرم ہوں تو مجھے سزا دے گا۔
محبت کا جلوس چل رہا ہے۔ حسن اپنے جھنڈے لہرا رہا ہے۔ جوانی مسرت کے ڈھول پیٹ رہی ہے۔ میرے نکتہ چین!۔۔۔۔میں اس نظارے میں محو ہوں۔ مجھے چھیڑ کر میری یکسوئی کا خاتمہ نہ کرو۔ مجھے چلنے دو کیونکہ یہ راستہ پھولوں سے سجا ہوا ہے اور صاف ہوا سے معطر ہے۔
مجھے دولت اور عظمت کی کہانیاں مت سناؤ، کیونکہ میرا دل قناعت اور سکون کی دولت سے مالا مال ہے اور خدا کی عظمت سے میرا دل بھی فیضیاب ہے۔
میرے سامنے قوموں کی داستانیں بیان مت کرو۔ مجھے اُصول اور قانون کی باتیں مت سناؤ۔ میرے سامنے حکومتوں کا تذکرہ نہ کرو کیونکہ سارا جہان میرا وطن ہے اور تمام انسان میرے بھائی ہیں۔
آؤ اس انسانیت کی بات کریں جو انسان کو جنم دے کر بانجھ ہوگئی ہے۔ جو دور پھٹے چیتھڑوں میں ملبوس اپنے بچوں کو پکار رہی ہے۔ وہ بچے جو انسان سے زیادہ قوم بن گئے ہیں۔
اے میرے نکتہ چینو۔۔۔۔میرے پاس سے چلے جاؤ۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں۔ تم مجھ سے میری حیات کے لوازمات چھین لینا چاہتے ہو اور مجھے بے فائدہ باتوں میں اُلجھانا چاہتے ہو۔ اس لیے اے میرے نکتہ چین۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو!۔۔۔!۔
تخلیقات خلیل جبران
بے چاری آنکھ
جمعہ, دسمبر 13, 2013 Shoaib Saeed Shobi 2
"مجھے ان وادیوں کے پرے نیلگوں دھند سے ڈھکے ہوئے پہاڑ نظر آ رہے ہیں۔ کیا وہ خوب صورت نہیں؟"
کان نے اس بات کو سنا اور تھوڑی دیر تک غور کرنے کے بعد بولا۔
"لیکن پہاڑ کہاں ہے؟۔۔۔۔۔ مجھے تو اس کی آواز سنائی نہیں دیتی؟"
ہاتھ نے کان کی تائید کی۔
"یہاں کوئی پہاڑ نہیں ہے۔ میں اسے چھونے اور محسوس کرنے کی کوشش کر چکا ہوں لیکن یہاں کوئی پہاڑ نہیں۔"
ناک کہنے لگی۔
"یہاں کوئی پہاڑ نہیں۔ میں اس کی بو نہیں سونگھ سکتی۔"
آنکھ یہ سن کر دوسری طرف متوجہ ہوگئی۔ باقی تینوں کان، ناک اور ہاتھ آنکھ کی کم عقلی کا ماتم کرنے لگے۔
انھوں نے کہا.
"بے چاری آنکھ دیوانی ہوگئی ہے۔“
تخلیقات خلیل جبران
Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
نمایاں پوسٹ
اردو ای قاعدہ 2.0 مفت ڈاؤن لوڈ کریں
اردو ای- قاعدہ ابتدائی اسکول کے بچوں کے لئے ایک انٹریکٹو، تفریح سے بھرپور اور تعلیمی سافٹ ویئر ہے اور بچوں کو اردو حروف سکھانے اوراردو زبا...
فیس بک پیج لائیک کریں
میرا ویڈیو چینل دیکھیں
گزشتہ تحریریں
-
2015
(35)
- دسمبر (10)
- نومبر (7)
- اکتوبر (3)
- ستمبر (6)
- اگست (1)
- جولائی (2)
- اپریل (2)
- مارچ (1)
- فروری (2)
- جنوری (1)
-
2014
(26)
- دسمبر (1)
- نومبر (2)
- اکتوبر (2)
- ستمبر (2)
- اگست (2)
- جولائی (3)
- جون (1)
- مئی (1)
- اپریل (2)
- مارچ (5)
- فروری (3)
- جنوری (2)
نمایاں تحریریں
-
ایک چالاک لومڑی کی دلچسپ اور سبق آموز کہانی جس نے اپنی چالاکی سے ایک مشکل صورتحال سے نجات حاصل کی۔ اس کہانی سے تین سبق ملتے ہیں: 1۔...
-
یہ کہانی ہے ایک غریب لکڑہارے کی، جو امیر ہونے کے بعد مغرور ہوگیا تھا۔ یہ کہاوت تو سب نے سنی ہوگی کہ غرور کا سر نیچا۔ غرور یا بے جا فخر کرن...
-
شوگر کی بیماری سے آج کل بہت سارے لوگ بالخصوص ضعیف خواتین و حضرات زیادہ دوچار ہوجاتے ہیں۔تبوک ،سعودی عرب کورٹ کے سپریم قاضی (جج) شیخ صال...
-
تعارف مطالعہ کرنے کے لیے اور امتحان کی تیاری کرنے کے لیے کئی طرح کی حکمت عملی یا تدابیر ہوتی ہیں جو کہ کسی بھی طالب علم کی ذاتی پسند یا ...
-
حال ہی میں زیب ملیح آبادی کی تصنیف سیرتِ حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں خوارج کا باب پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ خوارج کی بے حسی، مذہبی جنونیت، ظل...
-
بچوں کے لیے ایک بوڑھے کسان کی سبق آموز آڈیو ویڈیو کلاسیکل کہانی جس نے اپنے تین بیٹوں کی نااتفاقی کو دور کرنے کے لیے ایک انوکھی ترکیب آزمائ...
-
بچوں کے لیے ایک مغرور خرگوش کی کلاسیکی کہانی جو ایک سست رفتار خرگوش کا مزاق اڑایا کرتا تھا۔ انٹرنیٹ پر اردو زبان میں بچوں کی آڈیو ویڈیو کہ...
-
صوفی غلام مصطفٰی تبسم کی یہ وہ سدا بہار نظم ہے جو بچپن میں ہم یاد کر کے گایا کرتے تھے۔ آج بھی یہ اتنی ہی مشہورہے جتنی پہلے تھی۔ اس نظم کو...
-
ایک بچے نے ملّا دو پیازہ سے پوچھا: جناب ایک بات تو بتائیں کہ انڈے میں سے چوزہ کیسے نکل آتا ہے؟ ملّا دو پیازہ جواباً بولے: میاں، میں تو ی...
-
ہم اپنے آس پاس بے شمار لوگ دیکھتے ہیں، جو شکل و صورت، عادت و اطوار اور رہن سہن کے علاوہ اپنے اپنے ذریعہ روزگار میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ...













