امتحانات

امتحانات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بیک وقت کئی طالبعلموں کے درمیان اُس شخص کو تلاش کیا جائے جو معلومات اور علمیت کے لحاظ سے باقیوں پر فوقیت رکھتا ہو۔ بعض لوگوں کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امتحانات کے ذریعے طالبعلموں کو ڈپریشن کا مریض بنایا جاتا ہے تاکہ ملک کے ماہرین ِ نفسیات کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔

٭ امتحانات کے نزدیک مساجد کی رونق دوبارہ لوٹ آتی ہے۔ بعض نمازیوں کے مطابق اِس سے زیادہ رونق ماہِ رمضان میں ہوتی ہے۔


٭ امتحانات کا ایک عمومی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو کتابیں سال بھر فالتو پڑی مٹّی کھاتی ہیں، اُن کی صفائی ہو جاتی ہے۔ طالب علم اُنھیں نا صرف صاف کرتے ہیں بلکہ اُن سے مستفید بھی ہوتے ہیں۔


٭ امتحانات کے دنوں میں بُک شاپس میں بڑی رونق دیکھنے میں آتی ہے۔ گیس پیپرز کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پانچ سالہ پرچہ جات اور دیگر امدادی کُتب کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔


٭ امتحانات کے نزدیک لوگوں کے گھروں کے بجلی کے بِلز زیادہ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس کی وجہ بچوں کا رات دیر تک ’’پڑھنا‘‘ بتائی جاتی ہے۔


٭ ماہرین کے مطابق امتحانات کے نزدیک ہر طالب علم کو ایک عدد طوطا پال لینا چاہئے۔ پھر جس طرح وہ رَٹے ، طالب علم بھی رَٹنا شروع کر دے۔ اللہ نے چاہا تو وہ ضرور کامیاب ہو گا!
٭۔ ۔ ۔ ٭

مسکرانا زندگی ہے!

مسکراہٹ زندگی کا اور زندہ رہنے کے احساس کا دوسرا نام ہے۔ ۔ ۔ لہٰذا ہنسیں اور خوب مسکرائیے!۔ ۔ ۔ زندگی کے مسائل سے نظریں چرانے کی بجائے انھیں ہنستے ہوئے خوشدلی کے ساتھ حل کریں۔


مسکرانا زندگی ہے اور مسکراتے چہرے زندگی کی علامت ہیں۔ ۔ ۔ اس لیے زندگی کو خوشدلی اور زندہ دلی کے ساتھ گزاریں ۔ ۔ ۔ ہر حال میں خوش رہیں۔ ۔ ۔ آپ خود محسوس کریں گے کہ زندگی کی رنگینیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ ۔ ۔ مسائل کو اپنے اوپر طاری کرنے کی بجائے مسکراتے ہوئے سامنا کریں۔ ۔ ۔ زندگی خود بخود سہل محسوس ہونے لگے گی۔

اور جب آپ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اپنی مسکراہٹ سے جینے کا حوصلہ بخشیں گے تو پھر اس سے بڑھ کر عبادت اور کیا ہوگی؟۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے بندوں کو راحت اور سکون پہنچاتے ہیں۔

زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں؟

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق کیسا عقیدہ رکھنا چاہیے؟

سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
تم میں کچھ مشابہت عیسیٰ  ؑ کی ہے، ان سے یہودیوں نے بغض رکھا یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان لگایا اور نصاریٰ نے ان سے محبت کی یہاں تک کہ ان کو اس مرتبہ پر پہنچا دیا جس پر وہ نہ تھے۔
پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےفرمایا :
میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک محبت میں غلو کرنے والا،  جو میری ایسی تعریف کرے گا کہ مجھ میں نہیں ہے، دوسرا بغض رکھنے والا کہ میری عداوت اس کو میرے اوپر بہتان لگانے پر آمادہ کرے گی۔ (مسند امام احمد)۔
نہج البلاغۃ (شیعہ کتاب)جلد اول صفحہ 261 میں سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
"عنقریب میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک محبت کرنے والااور حد سے بڑھ جانے والا، جس کو محبت خلاف حق کی طرف لے جائے۔ دوسرا بغض رکھنے والا حد سے کم کرنے والا جس کو بغض خلاف حق کی طرف لے جائےاور سب سے بہتر حال میرے متعلق درمیانی گروہ کا ہے جو نہ زیادہ محبت کرے ، نہ بغض رکھے، پس اس درمیانی حالت کو اپنے لیے ضروری سمجھو اور سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کے ساتھ رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور خبردار جماعت سے علیحدگی نہ اختیار کرنا کیونکہ جو انسان جماعت سے الگ ہو جاتا ہےوہ شیطان کے حصہ میں جاتا ہے، جیسے کہ گلہ سے الگ ہونے والی بکری بھیڑیے کا حصہ بنتی ہے۔آگاہ ہو جاؤ جو شخص تم کو جماعت سے الگ ہونے کی تعلیم دے اس کو قتل کر دینا اگرچہ وہ میرے اس عمامہ کے نیچے ہو۔"
نہج البلاغۃ (شیعہ کتاب)جلددوم صفحہ354 میں بھی ہے:
میرے بارے میں دو شخص ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت کرنے والا حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا بہتان لگانے والا مفتری۔
اسی طرح َ نہج البلاغۃ (شیعہ کتاب)میں یہ بھی ہے:
میرے بارے میں دو شخص ہلاک ہو گئے، ایک محبت کرنے والا جو محبت میں زیادتی کرے، دوسرا بغض رکھنے والا ، نفرت کرنے والا۔
اے اللہ!۔۔۔ہم مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ اور سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے مطابق ان دونوں گروہوں کے علاوہ جو ہلاک ہونے والے ہیں صرف اس گروہ میں سے ہونے کی توفیق عطا فرما۔۔۔جو تیرے نزدیک پسندیدہ ہے۔ نیز اتباع و پیروی رسول ﷺ کی توفیق اور نور ایمان عطا فرما۔ آمین!

اصلاح ِ معاشرہ کا درست طریقہ

جب کوئی فرد اصلاح ِ معاشرہ کی بات کرتا ہے تو اس کی عقل و شعور اُسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصلاح کا عمل پہلے اپنی ذات سے شروع کیا جائے۔ افرادِ معاشرہ کی اصلاح کے لیے زبانی دعوے اور نصیحتیں کارگر نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لیے انسان کو سراپا اخلاق اور مہرومروّت بن کر رہنا پڑتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’لوگوں کے معلّم اور ہدایت کنندہ بنو! زبان سے نہیں ، بلکہ اپنے اعمال، رفتار اور کردار سے۔‘‘

اسلام دین و دنیا کی وحدت اور ہمہ گیر توازن کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں جو علم اور عقل کے معیار پر پوری نہ اُترتی ہو۔ اسلام کے نزدیک ہر نفس اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔ اسلام نے باہمی تعلّقات اور معاشرے کی اصلاح و سدھار کے لیے حقوق و فرائض کے جو دائرے متعین کیے ہیں ان کی بنیاد احسان اور حسن ِ سلوک پر رکھی گئی ہے تاکہ معاشرے میں زبانی نصیحت و وعظ کے بجائے عملی طور پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنے احوال کی اصلاح کریں۔

اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ پیار و محبت، ایثار و قربانی اور عزت و احترام کا دائرہ ہم محض مسلمانوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ تمام انسانوں کے علاوہ حیوانات اور ہر ذی حیات کو اس سے راحت و آرام پہنچائیں۔ یہی اسلام کا مقصدِ عظیم ہے۔

نوٹ: میرا مندرجہ بالا مضمون روحانی ڈائجسٹ کے جنوری 2008 عیسوی کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔

شش۔ ۔ ۔ ش۔ ۔ ۔ کوئی ہے!!!

بَلا کی سرداور گھُپ اندھیری رات تھی۔بارش کی بوندیں رہ رہ کر گِر رہی تھیں۔ شہر کے ایک مکان میں احتشام صاحب کتاب پڑھنے میں مصروف تھے۔ ان کی بیگم کڑھائی بھی کرتی جاتی تھیں اور ان سے باتیں بھی کر رہی تھیں۔ وہ صرف ’’ہاں‘‘ ، ’’ہوں‘‘ سے بیگم کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔

عین اُسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ ۔ ۔ رات کا وقت اور دروازے پر دستک؟۔ ۔ ۔ بیگم احتشام کو ایک دَم یاد آیا۔ ۔ ۔ ’’ہاں! بالکل ایسی ہی کالی اور بھیانک رات تھی اور دروازے پر ایسی ہی دستک ہوئی تھی۔ ان کا اکلوتا بیٹا فخر دروازہ کھولنے گیا تھا۔ دروازہ کھولتے ہی اس نے نجانے کیا دیکھا تھا کہ چیخ مار کر وہیں گِر پڑا تھا۔ میاں بیوی دونوں دوڑے دوڑے دروازے کی جانب لپکے تھے۔ لیکن انھوں نے جو منظر دیکھا‘‘۔ ۔ ۔ یہ سوچتے ہی بیگم احتشام کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ ’’ہائے!کس قدر خوفناک منظر تھا!۔ ۔ ۔ فخر ،ان کا اکلوتا اور عزیز بیٹا۔ ۔ ۔ غائب تھا۔ ۔ ۔ خون کے جابجا نشانات فرش کو سرخ کر رہے تھے۔‘‘

’’نہیں!!!۔ ۔ ۔ ‘‘بیگم احتشام چلائیں۔

احتشام صاحب چونک کر اُٹھے اور بیگم کو دِلاسا دینے لگے۔عین اُسی لمحے دروازے پر ایک اور دستک ہوئی۔دونوں میاں بیوی سہم کر رہ گئے۔

’’دیکھیں کوئی دروازے پر ہے!‘‘بیگم احتشام بولیں۔

’’ارے نہیں!کوئی چوہا ہے!‘‘احتشام صاحب ڈرتے ہوئے بولے۔

’’فخر ۔ ۔ ۔ مم۔ ۔ ۔ میرا بیٹا!‘‘بیگم احتشام بڑبڑائیں۔پھر اپنے شوہر سے مخاطب ہوکر بولیں:’’یہ فخر ہے!میرا دل کہتا ہے یہ فخر ہے!‘‘

’’خدا کے واسطے اسے اندر نہ آنے دینا۔‘‘احتشام صاحب خوف سے چلائے۔

’’اب آپ اپنے بچّے سے ڈرتے ہیں؟‘‘بیگم بولیں۔

پھر وہ اُٹھیں اور دروازے کی جانب بڑھیں۔دروازے پر ایک اور زوردار دستک ہوئی۔بیگم احتشام پہلے پہل تو گھبرائیں مگر پھرہمّت کرتے ہوئے بولیں۔

’’میں آرہی ہوں فخر بیٹا۔ ۔ ۔ میں آرہی ہوں!‘‘

احتشام صاحب نے روکنے کی کوشش کی اور بولے:’’دیکھو!پچھلی بارجب ایسی دستک ہوئی تھی تو ہمارا فخر ہم سے جُدا ہو گیا تھا۔اس بار بھی کوئی خطرناک بات ہوگی۔‘‘

مگر وہ نہ مانیں اور تیزی سے دروازے کی جانب لپکیں۔دروازے کے پاس چونکہ بلب خراب تھا، اس لیے وہاں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔دروازے کی کنڈی لگی ہوئی تھی۔انھوں نے ٹٹول ٹٹول کر تلاش کی۔کنڈی کچھ سخت تھی،ان سے کھل نہ سکی۔

اتنے میں احتشام صاحب دوڑ کر دروازے کی طرف بھاگے اور بیگم کا ہاتھ کنڈی سے کھینچ کر ہٹا دیا۔بیگم نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی،مگر کامیاب نہ ہوسکیں۔

احتشام صاحب بولے:’’آخر تم دوسری بار کیوں اپنا نقصان کروانا چاہتی ہو؟‘‘

بیگم نے احتشام صاحب کو دھکا دے کر ہاتھ چھڑا لیا اور کنڈی کو بجلی کی سی تیزی سے زور دے کر کھول دیا۔احتشام صاحب دھکا کھا کر دیوار سے ٹکرائے۔ان کا سر چکرانے لگا۔مگر وہ ہمّت کر کے اُٹھے اور دروازے کی جانب چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ بڑھنے لگے۔مگر ان کی بیگم دروازہ کھول چکی تھیں۔

باہر دو آدمی کھڑے تھے۔اندھیرے کی وجہ سے ان کی شکلیں واضح نظر نہ آتی تھیں۔ایک کے ہاتھ میں شاید بریف کیس تھا۔بیگم احتشام بولیں:’’کون؟!!!‘‘

بریف کیس والے نے جواب دیا۔’’جی ہم نیب کی طرف سے آئے ہیں،احتشام صاحب کو بلادیجئے!‘‘

بیگم احتشام کے لیے بس اتنا سننا ہی کافی تھا۔انھوں نے پلٹ کر شوہر کی طرف دیکھا۔احتشام صاحب اپنے سر کی چوٹ تو برداشت کر گئے تھے،مگر اس بات کا صدمہ برداشت نہ کر سکے تھے اور زمین پر بے ہوش گرے ہوئے تھے۔
٭۔ ۔ ۔ ٭

بے جا تنقید کا سامنا کیسے کریں؟

کچھ بے وقوف تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو بھی برا بھلا کہہ دیتے ہیں ،جو خالق و مالک اور پالنہار ہے، جو سب کو روزی دیتا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر ہم اور آپ ، جو خطاکار ہیں،غلطیاں کرتے رہتے ہیں، کی کیا حیثیت؟ ہمیں تو لوگوں کی بے جا برائی اور تنقید کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ ہمیں برباد کرنے کے منصوبے بنیں گے، جان بوجھ کر اہانت کی جائے گی۔ جب تک آپ دے رہے ہیں، بنا رہے ہیں، موثر ہیں، ترقی کر رہے ہیں تب تک لوگ آپ پر تنقید سے نہ چوکیں گے۔ سوائے اس کے کہ آپ زمین میں سما جائیں یا آسمان پر چڑھ جائیں اور ان کی نظروں سے دور ہو جائیں۔ جب تک آپ ان کے بیچ ہیں آپ کو اذیت پہنچتی رہے گی ، آنسو نکلیں گے، نیند اُڑے گی۔ جوزمین پر بیٹھا ہوا ہے، وہ نہیں گرا کرتا:
ع           گرتے ہیں شہہ سوا ر ہی میدانِ جنگ میں
لوگ آپ پر اسی لیے تو ناراض ہوتے ہیں کہ آپ علم ، صلاحیت، اخلاق یا مال میں ان سے بڑھ گئے ہیں۔ وہ آپ کو معاف کر ہی نہیں سکتے جب تک آپ کی صلاحتیں ختم نہ ہو جائیں اور اللہ کی نعمتیں آپ سے چھن نہ جائیں، آپ ساری اچھائیوں اور خوبیوں سے تہی دامن نہ ہو جائیں۔ پلید و کند ذہن، بے کار اور صفر ہو کر نہ رہ جائیں۔ یہی وہ چاہتے ہیں!لہٰذا آپ کوان کی بے جا تنقید، نارواباتوں اور تحقیر کو برداشت کرنا ہوگا۔ احد پہاڑ کی طرح جم جائیے، ایسی چٹان بن جائیے جس پر اولے پڑتے ہیں اور ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں مگر چٹان اپنی جگہ جمی رہتی ہے۔ اگر آپ نے لوگوں کی تنقیدوں کو اہمیت دے دی تو آپ کی زندگی کو مکدر کر دینے کی ان کی منہ مانگی مراد پوری ہو جائے گی ۔ لہٰذا بہتر طور پر درگزر کیجئے ۔ ان سے اعراض کیجئے اور ان کی باتوں میں نہ آئیے۔ ان کی فضول برائی سے آپ کا درجہ بلند ہوگا۔ پھر جتنا بھی آپ کا وزن ہوگا، اتنا ہی ہنگامہ اور شور و شغب آپ کے خلاف ہوگا۔ آپ کس کس کے منہ کو بند کریں گے ؟ لیکن اگر ان سے صرف نظر کریں گے ، ان کے حال پر چھوڑ دینگے تو آپ ان کی تنقیدوں سے بچ سکتے ہیں۔
 اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں کہہ دو تم اپنے غصہ میں مرو الله کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں۔اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے توانہیں بری لگتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو ان کے فریب سے تمہارا کچھ نہ بگڑے گا بے شک الله ان کے اعمال پر احاطہ کرنے والا ہے۔(سورة آل عِمرَان 119-120)

یہی نہیں بلکہ اپنے فضائل و محاسن میں اور اضافہ کرکے ، اپنی خامیوں کو دور کر کے آپ ان کی زبانوں میں تالا ڈال سکتے ہیں۔ ہاں اگر آپ یہ چاہیں گےکہ دنیا کے نزدیک تمام عیوب سے بری ہو جائیں اور سبھی لوگوں میں مقبول ہو جائیں تو یہ ناممکن کی آرزو ہے اور دور کی اُمید!
٭…٭
{لا تحزنDon't Be Sad  غم نہ کریں، صفحہ ۲۷}
(مئولف : ڈاکٹر عائض القرنی، ترجمہ : غطریف شہباز ندوی)

القلم تاج نستعلیق ریلیز (اعلان)

تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول
[IMG]
تحریر: شاکر القادری

بہت عرصہ پہلے مرزا جمیل احمد صاحب نے نوری نستعلیق کے ترسیمے متعارف کروا کر نوری کتاب کے ذریعہ ایک انقلاب بر پا کیا۔ یہ ترسیمے ایک طویل عرصہ تک تجارتی بنیادوں پر استعمال ہوتے رہے اور ہر کس و ناکس کی دسترس سے باہر۔ امجد حسین علوی اور جمیل نستعلیق ٹیم نے ان کو بطور مفت فانٹ متعارف کرواکر ایک اور اہم سنگ میل عبور کیا اس کے باوجود ایک لاہوری طرز کے فانٹ کی ضرورت باقی رہی اسی دوران ہندوستان سے ان پیج نامی سافٹ ویئر کے ساتھ فیض نستعلیق آیا یہ بھی تجارتی بنیادوں پر استعمال ہونے والا فونٹ ہے گو کہ اب یہ بھی یونی کوڈ فانٹ کی صورت میں دستیاب ہے لیکن اس کے باوجود یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ لاہوری طرز کے ایسے ترسیمے تیار کیے جائیں جن کے ذاتی اور نجی استعمال پر کوئی اخلاقی اور قانونی قدغن نہ ہو۔ اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تین سال قبل استاد تاج الدیں زریں رقم کے مرقع زریں سے استفادہ کرتے ہوئے ترسیموں کی تیاری کا آغاز کیا گیا۔ اور بالآخر تین سال کی شبانہ روز محنت کے بعد تقریبا تیس ہزار ترسیمے تیار کر لیے گئے۔
ہمارے لیے یہ بات اتہائی مسرت اور دلی اطمینان کا باعث ہے کہ اب یہ ترسیمے حکیم الامت شاعر مشرق کے یوم ولادت کے موقع پر ۹ نومبر ۲۰۱۲ کو اردو کمیونٹی کی نذر کیے جا رہے ہیں۔یہ ہماری جانب سے حکیم الامت حضرت علامہ اقبال رحمہ اللہ علیہ کو ایک حقیر سا خراج عقیدت ہے
گرقبول افتد زہے عزو شرف
[IMG]

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے والے فانٹس تجارتی استعمال کے لیے تھے اور ان کے مفت استعمال پر پابندی تھی جبکہ القلم تاج نستعلیق کے ترسیموں کو بلا خوف و خطر بالکل بلا معاوضہ ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے البتہ اسکا تجارتی استعمال ممنوع ہے۔ اس فانٹ کے جملہ حقوق محفوظ کروائے گئے ہیں اور کسی بھی کمرشل سافٹ ویئر کے ساتھ استعمال کے لیے اس کے خالق سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا بصورت دیگر قانونی کارروائی کا حق محفوظ ہے۔
[IMG]

ہمارا بنیادی مقصد اردو کمیونٹی کو استعمال کرنے کے لیے ان ترسیمہ جات کی فراہمی تھی ۔ تاہم ان ترسیموں کو ایک فونٹ کی شکل میں ریلیز کیا جا رہا ہے۔ تاکہ یہ فوری طور پر قابل استعمال بھی ہوں۔ القلم تاج نستعلیق کے اس آزمائشی نسخہ میں (جوکہ بلا معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے ) کشیدہ کی سہولت موجود نہیں ہے جبکہ القلم تاج نستعلیق کے لیے تیار کیے گئے کیریکٹر بیس فانٹ میں کشیدہ کی سہولت بہرحال موجود ہے جس کی جھلکیاں آپ نے القلم تاج نستعلیق کے مختلف نمونوں میں دیکھی ہونگی فی الحال کشیدہ کی سہولت کو مزید بہتر بنائے جانے پر کا ہو رہا ہے اس لیے کشیدہ کی سہولت فراہم نہیں کی جا سکی۔


گوکہ یہ ان ترسیموں کا نقش اول ہے اور اس میں بہت ساری خامیاں موجود ہوگی تاہم امید ہے کہ آپ کو یہ ترسیمے پسند آئیں گے۔ ہمیں اس سلسلہ میں آپ کی آرا کا شدت سے انتظار ہوگا۔ اگر آپ کسی ترسیمہ میں بہتری کی گنجائش دیکھیں یا کوئی نیا ترسیمہ شامل کرانا چاہیں تو اس کی نشاندہی ضرور کریں یہ نشاندہی آپ یہاں پر تبصرہ کی صورت میں کر سکتے ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ القلم تاج نستعلیق کے ترسیموں کو آپ کی آرأ کی روشنی میں بہتر سے بہتر بنایا جا سکے اس لیے اس سلسلہ میں آپ بلا تکلف اپنی ارأ ہم تک پہنچا سکتے ہیں جس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہونگے۔
[IMG]


احساس تشکر!
بار امانت سے سبکدوش ہونے کے بعد میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں اپنے ان تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے قدم بقدم میری حوصلہ افزائی کی اور میرے حوصلوں کے لیے مہمیز کا کام کرتے رہے۔ اردو محفل کے نبیل آپ کا شکریہ! آپ نے میری بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی اس کے جواب میں میں اپنی محبت کا اظہار اس کے سوا اور کیا کر سکتا ہوں کہ میں اس فانٹ کو القلم فورم کی بجائے اردو محفل کے پلیٹ فارم سے ریلیز کر رہا ہوں یہ اردو محفل سے میری محبت کا ایک ادنی سا اظہاریہ ہے اور شاید آپ کو میرا یہ انداز محبت پسند آجائے، اشتیاق علی قادری میں آپ کا شکریہ نہیں ادا کرونگا بلکہ شکرگزاری کے ان احساسات میں آپ میرے ساتھ اسی طرح شامل ہیں جس طرح آپ ترسیمہ جات کی تیاری میں میرے شانہ بشانہ تھے۔علوی لاھوری نستعلیق کے خالق امجد حسین علوی کی تیکنیکی معاونت اور مخلصانہ مشاورت کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ترسیمہ جات کو فانٹ میں شامل کرنا اور ہر ترسیمے کو فعال اور قابل استعمال بنانے کے لیے پروگرامنگ کے ذریعہ ہدایات لکھنا ایک طویل ، صبر آزما اور پیچیدہ عمل تھا جس کو اگر عمومی انداز میں کیا جاتا تو شاید بہت زیادہ وقت لگتا اور بے تحاشا غلطیاں بھی ہوتیں اور فانٹ کو کئی مرتبہ پروف خوانی کے عمل سے گزارنا پڑتا لیکن اردو محفل کے منتظم سید نبیل حسن نقوی اور اردو محفل و القلم کے رکن ابرارحسین نے شب و روز کام کر کے یہ تمام کام خود کار انداز میں انجام دینے کے لیے ضروری اطلاقیے تیار کر کے دیےاور فانٹ سازی کے عمل میں آسانیاں پیدا کرنے کا موجب بنے۔ ان اطلاقیوں کی تیاری کےسلسلہ میں برادرم عبدالمجید اور عارف کریم کی مشاورت بھی شامل حال رہی وہ بھی ہمارے خصوصی شکریے کے مستحق ہیں۔ القلم تاج نستعلیق کی ریلیز کے لیے ایک مناسب اور موزوں لائسنس کی ضرورت تھی جس کے تحت اس فونٹ کے ذاتی استعمال کے فروغ اور تجارتی استعمال کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے تجسس اردو سائنس فورم کےمنتظم محمد سعد نے شبانہ روز محنت کی اور پہلے سے موجود آزاد سافٹ وئیر لائسنسز کا جائزہ لے کر ان میں سے مناسب ترین کا انتخاب کیا۔ اور چند مخصوص شقوں کو شامل کرنے کے علاوہ کچھ شقوں میں جزوی ترمیم کے ساتھ القلم تاج نستعلیق اوپن سورس فونٹ لائسنس تیار کیا اس لائسنس کی تیاری کے سلسلہ میں انہیں اردو محفل کے سعادت اور الف نظامی کی مشاورت حاصل رہی جب کہ قانونی معاملات کے سلسلہ میں شعیب صفدر نے قیمتی مشاورت فراہم کی میں ان سب کا بھی شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں اس لائسنس کی اردو تلخیص فیصل آباد کے محمد شاکر عزیز (دوست) نے فراہم کی وہ بھی ہمارے شکریہ کے خصوصی مستحق ہیں۔ القلم تاج نستعلیق کے لیے بینرز اور لوگو باسم نے تیار کیئے میں ان کا بھی شکر گزار ہوں۔سسٹر مہوش علی نے بھی اس فانٹ کی تیاری کے سلسلہ میں اکسانے کی حد تک میری حوصلہ افزائی کی آج کل بہت کم نظر آتی ہیں شاید کہیں کسی فورم پر علمی مباحث میں الجھی ہوئی ہوں لیکن وہ اس ریلیز پر بہت خوش ہونگی، ان کا بھی شکریہ۔ القلم کے تیکنیکی مشیر عبدالرؤف اعوان کی شبانہ روز محنت کی داد نہ دینا بھی بخل ہوگا کیونکہ انہوں نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ نہ صرف القلم تاج انسٹالر پیکج تیار کیا بلکہ تاج نستعلیق کی آفیشل سائٹ کو بنانے اور سنوارنے کا کام بھی انتہائی حسن و خوبی سے انجام دیا اور تاج نستعلیق کی ریلیز کے تمام مراحل میں وہ ہمارے ہم قدم رہے ہم انکے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ آخر میں ہم ان تمام ساتھیوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے دامے درمے قدمے سخنے کسی بھی طور ہمارے پروجیکٹ کی حوصلہ افزائی کی اور ہمارے عزائم کو بلند کیا ۔ اللہ کریم سب کو اجر خیر عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔


[IMG]

نوٹ: اس مراسلہ کو ایم ایس ورڈ سے اٹھا کر پیسٹ کیا گیا ہے اور اس پر القلم تاج نستعلیق فونٹ اپلائی کیا گیا تھا اگر آپ کو کچھ گڑ بڑ نظر آرہا ہو تو فونٹ انسٹال کرنے کے بعد ٹھیک ہو جائے گا

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.