آج میرا بچپن کے کھیلوں کے بارے میں لکھنے کا دل چاہ رہا ہے۔ ایسا کرتے ہیں کہ آج میں آپ کو بچپن کے ایک کھیل کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ۔ ۔
چھپن چھپائی
’’چھپن چھپائی‘‘کا کھیل تو آپ نے بھی اپنے بچپن میں ضرور کھیلا ہوگا۔جس میں ایک بچہ چور بنتا ہے،اس کی آنکھیں بند ہونے پر باقی سب بچے چھپ جاتے ہیں۔اب چور بچے کے ذمہ انھیں ڈھونڈ نکالنا ہوتا ہے،جو بچہ سب سے پہلے پکڑا جاتا ہے اگلی مرتبہ اسے چور بنایا جاتا ہے۔پہلی بار چور بننے کے لیے سب بچے تین تین کے گروپ میں مل کر ’’پگنے‘‘ کا ایک کھیل کھیلتے ہیں۔آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر وہ فوراً اپنے اپنے ہاتھ سیدھے یا الٹے جوڑ لیتے ہیں۔جن دو بچوں کے ہاتھ ایک انداز میں سیدھے یا الٹے جڑتے ہیں،وہ پھر سے کسی تیسرے فرد کو شامل کر کے یہی عمل دہراتے ہیں۔ہاتھ مختلف طریقے سے جوڑنے والا بچہ پگ کر کھیلنے والی ٹیم میں شامل ہو جاتا ہے۔اس طرح ہوتے ہوتے آخر میں ایک بچہ ایسا رہ جاتا ہے جو پگنے سے رہ جاتا ہے،اسی کو چور بننا پڑتا ہے۔
اس کھیل میں اکثر بڑی دھاندلیاں یا ’’بے ایمانیاں ‘‘ہوتی ہیں۔اوّل تو چور بنانے کے لیے شروع ہی میں بڑی ڈنڈی ماری جاتی ہے۔ چالاک بچے آپس میں آنکھوں ہی آنکھوں میں گٹھ جوڑ کر کے ہاتھوں کو سیدھا اور الٹا رکھنے کا طے کر کے کسی ایک بچے کو چور بننے پر مجبور کر دیتے ہیں۔پھر کھیل کے دوران بھی جس کسی کو اگلا چور بنانے کا فیصلہ ہو جائے ، اس کے پکڑے جانے تک باقی بچوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتاہے۔
٭ اس وقت کوئی ڈرامہ مثلاً ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ تو نہیں آرہا؟۔ ۔ ۔
٭ کہیں لائٹ تو نہیں چلی گئی؟۔ ۔ ۔
٭ آپ کو پڑھنا تو آتا ہے نا!۔ ۔ ۔
اگر ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی ہو تو یہ مضمون نہ پڑھیں۔ ۔ ۔ پہلے ڈرامے اور دوسرے کاموں سے فارغ ہو
لیں پھر اس مضمون کا مطالعہ کریں!۔ ۔ ۔ شکریا
آج کے دور میں ٹی وی نہ صرف گھریلو تفریح کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کی حیثیت گھر کے ایک فرد جیسی ہو چکی ہے۔جس کے بغیر گھر نامکمل سا لگتا ہے۔ایک طرف اگر دنیا جہاں کی معلومات گھر بیٹھے ملتی ہیں تو دوسری طرف اس کے تفریحی پروگرام کسی طرح بھی طلسم ہوشربا سے کم نہیں۔آج ملک کے شہری علاقوں کی متوسّط درجے کی ہر فیملی کے گھر میں شام سات بجے سے گیارہ بجے تک خواتین اور اکثر مرد حضرات بھی ٹی وی کے سامنے بغیر پلکیں جھپکائے بیٹھے رہتے ہیں، وہیں کھاتے ہیں، وہیں پیتے ہیں،غرض یہ کہ لیٹرین جانے کی ضرورت بھی پیش آئے تو وقفہ آنے کا انتظار کرتے ہیں۔کبھی کبھی تو ٹیلی فون یا دروازے کی گھنٹی گھنٹوں بجتی ہے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
ایک خاتون تو ڈراموں کے دوران بچے ّکو سیریلیکس کھلاتے کھلاتے کئی بار چمچہ اس کی ناک اور کان میں ڈال چکی ہیں۔معصوم بچہ ّ بھی اب اِن حادثات کا اتنا عادی ہوگیا ہے کہ چمچے کا رُخ غلط سمت دیکھ کر خود ہی ہاتھ سے پکڑ کر سیدھا کر لیتا ہے۔
ان ڈراموں کا رنگ ہماری زندگی پر اتنا چھونے لگا ہے کہ ہر لڑکی اپنے آپ کو ’’کشش‘‘، ہر بہو اپنے آپ کو ’’پاروتی‘‘ اور ہر ساس اپنے آ پ کو ’’تُلسی‘‘ سمجھنے لگی ہے۔شادی کے لیے اب لڑکی والوں کو لڑکا ’’سوجل‘‘(اب تُشال) جیسا چاہئے ہوتا ہے اور لڑکے والوں کو لڑکی ’’کُم کُم‘‘جیسی۔آج بچے ّ کسی شادی میں جاتے ہیں تو پوچھتے ہیں ’’یہ کیسی شادی ہے؟ ۔ ۔ ۔ نہ ’’ڈانڈیاں‘‘کھیلی گئیں، نہ ’’پھیرے‘‘ لگے؟‘‘۔ ۔ ۔ کچھ بچے ّ تو ایک دوسرے کو’’دل‘‘ دیتے بھی پائے گئے۔اب کسی بچے ّ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہی کہ ویلن ٹائن ڈے کیا ہوتا ہے؟اُسے خود پتا ہوتا ہے۔
پہلے فیشن برسوں میں بدلتا تھا۔ اب اسٹار پلس کے ہر ڈرامے کے ساتھ روز بدلتا ہے۔ پہلے مرد ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنتے تھے،اب خواتین پہنتی ہیں۔بازاروں میں ’’کُم کُم ‘‘ کی چوڑیاں، ’’کشش‘‘ کی سینڈیلیں اور ’’تُلسی‘‘ کی ساڑھیاں تک ملنے لگی ہیں۔بائی دا وے۔۔۔۔ میں نے تو ’’کُم کُم‘‘ چھالیہ بھی کھائی ہوئی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اسٹار پلس کے ڈرامے جہاں ’’رنگین ‘‘ اور ’’گلیمر‘‘ سے بھرپور ہوتے ہیں وہیں ہندوانہ مذہبی شعائر کے اعلیٰ تربیتی مراکز بھی ہیں۔ان میں نہ صرف ہندومت کے نظریات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ گھر بیٹھے لوگوں کو مفت ہندوانہ مذہبی رسومات کی تربیت دی جارہی ہے۔ ان کے شاندار نتائج سے روگردانی بھی نہیں کی جاسکتی ۔ ان ڈراموں کا ہی اثر ہے جو اب آہستہ آہستہ ہم لوگ اپنے اسلامی دنوں کو تو بھولتے جارہے ہیں مگر ہمیں ہند ؤوں کے خاص دن یاد رہتے ہیں۔
شاید ہم نے اس پر کبھی غور نہیں کیا ۔ہم نے اگر اب بھی نہ سوچا، اب بھی نہ سمجھا اور اب بھی نہ جانا تو شاید میڈیا کے ذریعے پھیلتا ہوا یہ ثقافتی زہر ہمارے معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر جائے گا۔آج اگر ایک ناپختہ ذہن بچہ ہندوانہ مذہبی رسومات کومعمولاتِ زندگی سمجھ کرسیکھ رہا ہے تو کل وہ کس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کراپنا ’’اسلامی تشخّص ‘‘ تلاش کرے گا؟
میرا خیال ہے کافی لمبا ’’جلسہ‘‘ ہوگیا۔ اب مجھے اجازت دیں۔میں نے ابھی ’’کیوں کہ ساس بھی کبھی بہو تھی ‘‘ بھی دیکھنا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون اسٹار پلس کریز (پاگل پن) زمانے کی یادگار ہے اور پرانے بلاگ کی بیک اپ سے حاصل ہوا ہے۔ اب تو اسٹار پلس کا زمانہ لد چکا۔۔!۔
میں ایک عظیم کرکٹر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ اور آج اپنے شاندار ماضی کے ایام یاد کر کے اور ٹھنڈی آہیں بھر کے وقت گزارتا ہوں۔
مجھے بچپن ہی سے کر کٹ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ ۔ ۔ خوابوں میں ، میں خود کو جاوید میانداد ، عمران خان اور وسیم اکرم تصور کرتا تھا۔ ۔ ۔ ہم لوگ ویسے تو متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے مگر ہمارے والد صاحب کے کئی زمینداروں،وڈیروں اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ گہرے روابط تھے۔ چنانچہ کہاں میں گلیوں میں ٹیپ بال سے کھیلا کرتا تھا مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں انڈر 16 ٹیم میں شامل ہوگیاکرکٹ سے والہانہ لگاؤ اور والد صاحب کے تعلقات کی بدولت میں انڈر 19 میں جا پہنچا۔یہ دور بڑا ہی سخت دور تھا اورمجھے نہایت سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔دن کا زیادہ تر وقت پریکٹس میںگزارنا پڑتا تھا۔
ایک دفعہ ہمارا انگلینڈ کا دورہ ہوا۔اس دورے میں ، میں نے نہایت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سلیکٹرز میری پر فارمنس سے نہایت متاثر ہوئے اور انھوں نے مجھے قومی کرکٹ ٹیم کی طرف سے ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع دے دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ والد صاحب کی کوششیں بھی اس میں شامل تھیں۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ٹیسٹ میچ میں ، میں نے ایک نصف سینچری اسکور کر ڈالی۔تین وکٹیں بھی خوش قسمتی سے حاصل کیں ۔
اس طرح میں قومی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کراتا رہا۔ میری پرفارمنس خراب بھی رہتی تو پھر بھی سلیکٹرز مجھے ڈراپ کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ والد صاحب کی کافی ’’اُوپر‘‘ تک پہنچ تھی۔
میں نے تین ورلڈ کپ بھی کھیلے ، جس میں سے ایک میں ، میں نے کپتانی بھی کی۔ جس میں ہماری ٹیم کو بری طرح شکست ہوگئی۔ ۔ ۔ بس یہ میرے کیرےئر کا گویا اختتا م تھا کیونکہ اس کے بعد مجھ پر سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے الزامات لگنا شروع ہوگئے۔ میری کرکٹ جاری تو رہی مگر اب میں پہلے جیسا بہترین کھلاڑی نہ رہا تھا۔ کچھ عرصہ بعد وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ مجھ پر الزامات ثابت ہوگئے ۔ مجھے ناصرف ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا بلکہ ۵۰ لاکھ روپے کرکٹ بورڈ کو جرمانہ کے طور پر بھی ادا کرنے پڑے۔(اُن پیسوں سے میرا ایک فیکٹری کھولنے کا ارادہ تھا)۔ میں نے اپنے ساتھی کرکٹرز کے ساتھ مل کر اور انھیں بھرپور اعتماد میں لے کر سٹے باز سے بات کی تھی، مگر وہ مشہور مقولہ ہے نا ۔ ۔ ۔ ’’گھر کا بھیدی ، لنکا ڈھائے‘‘ ۔ ۔ ۔ بس یہی کچھ ہوا اور میرے ساتھیوں نے (خدا اُنھیں غارت کرے)عدالت کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔
۔ ۔ ۔ چنانچہ میں بدنام ہو کر رہ گیا۔ آج بھی میں اس وقت کو کوستا ہوں، جب میں نے چند روپوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچ دیا اور عزت ، دولت اور شہرت ہر چیز سے محروم ہوگیا۔ ۔ ۔ میرے دل سے تو بس یہی دعا نکلتی ہے۔
رحیم شاہ کا یہ گانا سمجھ میں نہ آنے کے باوجود بھی بہترین لگ رہا ہے۔ مجھے تو یہ رحیم شاہ کے اردو گانوں سے بھی لاکھ درجہ بہتر لگا ہے۔ ویڈیو بھی بہت اچھی ہے اس گانے کی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
اس گانے کے پشتو بول (لیرکس) اور اس کا ترجمہ جناب تلخابہ (ابوسعد) صاحب نے مجھے لکھ کر دے دیے ہیں۔(ابوسعد !۔۔۔۔آپ کا بے انتہا شکریہ!)۔۔۔۔۔۔۔نیلے رنگ میں گانے کا ترجمہ ہے۔ اب گانا سننے میں یقینا لطف آئے گا
اسلام علیکم ! رحیم شاہ دہ کراچی نہ ، یوسف دہ لندن نا، جواد اور شاہ جہان دا جرمن نہ زکہ راغلی وہ چہ دہ ماما دہ زوی وادہ وہ۔
ماما دے
چہ خاندی خوشالیگی پہ جامو کے نہ زائیگی
دہ خپلو خورایانوں سرہ ہر زائے تہ رسیگی
چہ خاندی خوشالیگی پہ جامو کے نہ زائیگی
دہ خپلو خورایانوں سرہ ہر زائے تہ رسیگی
ماما دے
اوکنا ،
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
نظر ساتی پہ ہر سڑی بیدارہ وی ہر وختے
خوری و سرہ ولاڑ وی لکہ خستہ دہ چنار لختے
کہ ضد دی ورسرہ وکڑو نو بیا بہ ترنا تختے
اللہ دی ورتہ خیر کڑی دا زل نمبر دہ چا دے
ماما دے ۔۔۔۔
اوکنا ،
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
پہ اسٹائل او انداز کے پہ مزہ مزہ روان وی
سلور واڑہ چی یو زی شی بیا گورہ شاہ زادگان وی
بیا داسے معلومیگی چی ہوم دوی زمونگ پیران وی
خو خیال کوہ پہ ٹولو کے انداز دہ دہ جدا دے
ماما دے
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
یو خبرہ واورہ چی ہوم دے دہ کار سڑے دے
پہ عمر کے بہ زیات وی خو پہ زڑہ باندے زلمے دے
چہ گوتے ورتہ نہ کڑی بیا لمبہ اخلی لیتکے دے
زمونگ دہ ٹولو یار دے او دہ ہر سڑی آشنا دے
ماما دے
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
ماما دے ماما دے ماما دے ماما دے ماما
زندہ باد خوریانو زندہ باد اسلام علیکم ! رحیم شاہ کراچی سے ، یوسف لندن سے ، جواد اور شاہ جہان جرمنی سے اس لیے آئے تھے کیوں کہ ان کے ماموں کے بیٹے کی شادی تھی۔ ماموں ۔ جب ہنستے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے اپنے بھانجوں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں جب ہنستے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے اپنے بھانجوں کے ساتھ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں ماموں ۔ بالکل جی ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ہر کسی پر نظر رکھتے ہیں ، ہر وقت چوکس رہتے ہیں بھانجے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں چنار کی لکڑیوں کی طرح اگر ان کے ساتھ آڑ گئے تو پھر بھاگنا پڑے گا اللہ اس پر رحم کرے جس کی اس بار باری ہے ماموں بالکل جی ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں خاص اسٹائل اور انداز میں دھیرے دھیرے چلتے ہیں جب چاروں ملتے ہیں تو شہزادے لگتے ہیں پھر ایسے لگتا ہے جیسے یہی ہمارے پیر ہوں لیکن انداز میں یہ سب سے جدا ہے ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کام کا آدمی ہے عمر میں زیادہ لیکن دل سے جوان ہے چھیڑنا نہیں ورنہ آگ کی طرح بھڑک اٹھے گا یہ ہم سب کے یار اورہر کسی کا دوست ہے ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں ماموں ، ماموں ماموں ، ماموں ماموں زندہ باد میرے بھانجوں زندہ باد
تاریخ میں اتنی شہرت شاید ہی کسی قاری کو ملی ہو، جتنی کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے قاری عبد الباسط کے نصیب میں لکھی۔ مصر سے تعلق رکھنے
والے یہ عظیم قاری 1988ء میں آج ہی کے دن، یعنی 30 نومبر کو، ہم سے بچھڑ
گئے۔ آپ کی آواز میں اللہ کی آخری کتاب "قرآن مجید" کی خوبصورت تلاوت آج
بھی دنیا میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔دلنشیں آواز اور منفرد
اندازکے حامل قاری عبد الباسط کا پورا نام عبد الباسط بن محمد بن عبد الصمد
بن سلیم تھا اور دنیائے عرب میں آپ عبد الباسط عبد الصمد کے نام سے جانے
جاتے تھے۔ آپ 1951ء میں ریڈیو قاہرہ پر تلاوت پیش ہوتے ہی ملک بھر میں
مشہور ہو گئے اور پھر آہستہ آہستہ دنیا بھر کے مسلم ممالک میں آپ کی تلاوت
نے لوگوں کے دل موہ لیے اور حکومت مصر نے آپ کو "کتاب اللہ کا سفیر" کا
خطاب دیا۔
قاری عبد الباسط ہی کی وجہ سے عرب و عجم کے نوجوانوں
میں قرآن مجید کی قرات کا شوق پیدا ہوا اور مقابلہ حسن قرات کی روایت زور
پکڑتی چلی گئی۔ آپ واحد قاری تھے جنہوں نے 1970ء کی دہائی میں تین مرتبہ
عالمی مقابلہ حسن قرات جیتا اور آپ اُن اولین حفاظ کرام میں سے تھے جنہوں
نے اپنی قرات کی کمرشل ریکارڈنگ کروائی۔
آپ کو حرمین شریفین یعنی
مسجد حرام اور مسجد نبوی کے علاوہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ، دمشق میں
اموی مسجد اور پاکستان میں بادشاہی مسجد سمیت دنیا بھر کے ممالک میں تلاوت
قرآن مجید کا شف ملا اور جہاں بھی گئے فرزندانِ توحید کے دلوں کو اپنی آواز
سے گداز کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کئی
ممالک کے دورے بھی کیے۔
آپ کو حکومت مصر کے علاوہ شام، ملائیشیا، پاکستان اور سینی گال کی جانب سے اعلیٰ قومی اعزازات سے نوازا گیا۔
قاری عبد الباسط کی زندگی کے آخری ایام ذیابیطس اور جگر کے عارضے میں
گزرے، یہاں تک کہ آپ 30 نومبر 1988ء کو مصر میں انتقال کر گئے۔
آپ کی نماز جنازہ سرکاری سطح پر ادا کی گئی اور کئی مسلم ممالک کے سفیروں
حتیٰ کے سربراہان مملکت نے بھی آپ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے۔ دین ہمیں ورثے میں ملا۔ لیکن یہی امر اس وقت ہماری بد قسمتی بن جاتا ہے جب ہم صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ ہم پیدائشی مسلمان ہیں۔ جنت میں جانا ہمارا حق ہے۔ حالانکہ اپنی زندگی ایک نظم و ضبط سے گزارنے کے لیے، اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے ہمیں اس دین ِ بر حق کوخود سمجھنا چاہئے،قر آن پاک کا خود مطالعہ کرنا چاہئے، اس کے مفاہیم تک ہماری اپنی رسائی ہونی چاہئے۔ احادیث نبوی ﷺ ہمیں خود پڑھنا چاہئیں، ان کے معانی اور تشریح تک ہمیں خود پہنچنا چاہئے۔ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے، پاپائیت نہیں ہے۔ مذہبی امور جیسے دوسرے مذاہب میں پادریوں اور پنڈتوں پر چھوڑ دیے جاتے ہیں، ہمارے دین میں ایسا نہیں ہے۔ ہر مسلمان کو اپنے اعمال کا جواب خود دینا ہے۔ اپنا حساب خود چکانا ہے۔
٭تاثرات از محمود شام٭
مطالعہ قرآن (حصہ اول)مفتی حافظ قاری محمد حسام اللہ شریفی صفحہ ۷