فضائل رمضان

ماہِ رمضان جب قریب آیا
آپ نے یہ زباں سے فرمایا

ہے مہینہ یہ برکتوں والا
ربّ عالم کی نعمتوں والا

وہ توجہ سے دیکھتے ہیں تمھیں
رحمتوں کا نزول کرتے ہیں

درگزر کر کے سب خطاؤں کو
ہر دعا کو قبول کرتے ہیں

وہ تنافس کو دیکھتے بھی ہیں
اور ملائک سے فخر کرتے ہیں

یعنی اک شان ِ کبریائی سے
وہ تمھارا بھی ذکر کرتے ہیں

تم بھی نیکی خدا کو دکھلاؤ
نُور اس کا جہاں میں پھیلاؤ

رحمتوں سے جو اس مہینے کی
عظمتوں سے جو اس مہینے کی

ہائے محروم رہ گیا جو شخص
کس قدر بدنصیب ہے وہ شخص

(حدیث کا منظوم ترجمہ)
از ریحانہ تبسم فاضلی (روشنی کے سلسلے)

بندر کے ہاتھ میں استرا

روزانہ کی بنیاد پر ایک سے بڑھ کر ایک فتنہ منظر عام پر آرہا ہے۔ ہر روز ایک نیا واقعہ رونما ہوتا ہے اور اسلام کی تضحیک کا باعث بنتا ہے۔ اسلام کی اصل تعلیمات اور دین کا اصل چہرہ لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ نئی سے نئی بدعت اور فتنے اسلام کے نام پر منظر عام پر آرہے ہیں۔ لوگ کنفیوژن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں کہ کیا چیز دین میں جائز ہے اور کیا چیز ناجائز؟  مخالفین کو  اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کا موقع ہم اپنے ہاتھوں سے دے رہے ہیں اور اس کے سدّباب کے لیے ہماری جانب سے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ گویا سب کسی نجات دہندہ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ بندروں کے ہاتھ میں استرا دیں گے تو یہی کچھ تماشا ہوگا۔ عامر لیاقت جیسے لوگ "مذہبی اسکالر" بن جائیں گے۔ ماڈلز اور اداکارائیں رمضان کی "ایمان افروز" نشریات کریں گی۔ امجد صابری جیسے بھانڈ اور گویے مارننگ شوز میں کھی کھی کر کے خوبرو فی میل اینکرز سے باتیں بھی کریں گے اور بعد میں جعلی شادیوں میں گستاخانہ الفاظ پر مبنی "منقبتیں" پیش کر کے ہمارے ایمان میں حسب توفیق اضافہ بھی کریں گے۔ مزاروں میں مخلوط "دھمال" ڈالے جائیں گے۔ بجلی والے بابے بجلی کے جھٹکے مار مار کر ہمیں سلوک کی منازل طے کروائیں گے۔ جعلی پیر ہمارے "جن" اتاریں گے اور تعویزات سے ہمارے محبوبوں کو ہمارے قدموں میں نچھاور کروائیں گے۔

میری ناقص عقل میں یہی وجہ نظر آتی ہے کہ یہ سب بے جا آزادی دیے جانے کے ششکے ہیں۔ خدا کی قسم سعودی وہابی ہم سے لاکھ درجہ بہتر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے پردہ فرمانے سے قبل ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ پچھلی امتوں کی طرح میرے بعد میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لینا۔ خدانخواستہ۔۔۔۔۔ خدانخواستہ۔۔۔۔۔ اگر پاکستانیوں کے ہاتھ میں مکہ مدینہ کا انتظام و اقتدار ہوتا تو حقیقت میں ہم نے ایسا ہی کرنا تھا۔

اللہ کریم ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا کرے اور ہم اسلام کو مزید بدنام کرنے سے باز آجائیں۔ آمین

اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

بچپن میں سعودی عرب سے شائع ہونے والے اردو اخبار "اردو نیوز" میں ہم نے چند لطائف اور تصویر بھیجی تھی جو 1998ء میں تین قسطوں میں وقتاً فوقتاً شائع ہوئے۔ اس وقت ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کے بعد نونہال، روحانی ڈائجسٹ اور جنگ وغیرہ میں بھی ہم "شائع" ہوئے مگر جو خوشی بچپن میں پہلی بار اپنا نام اخبار میں دیکھ کر ہوئی تھی وہ زندگی کی خوشگوار یادوں میں سے ایک ہے۔

تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے کے لیے تصویر پر رائٹ کلک کریں اور نئے ٹیب میں کھولیں۔

تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے کے لیے تصویر پر رائٹ کلک کریں اور نئے ٹیب میں کھولیں۔
تصویر کو بڑا کر کے دیکھنے کے لیے تصویر پر رائٹ کلک کریں اور نئے ٹیب میں کھولیں۔
٭----٭

آہ! ساری عمر ضائع کر دی!

محمد عامر ہاشم خاکوانی نے فیس بک پر مولانا مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ کا یہ واقعہ شیئر کیا ہے۔ مزید لکھتے ہیں۔۔۔۔۔
ایک دوست کے پوسٹ کو شئیر کر رہا ہوں، یہ بات کہیں اور بھی پڑھی تھی، ویسے مجھے لگتا ہے کہ حضرت کاشمیری نے یہ بات بطور انکسار کہی، ان کا کام بہت بڑا ہے اور میرا نہیں خیال کہ وہ صرف فقہ حنفی کے چکر میں پڑے رہے، ہاں اس سے یہ سیکھا جا سکتا ہے کہ اصل توجہ اور فوکس کہاں رکھنا چاہیے اور اپنا مقصد بڑا رکھنا چاہیے۔



سُرساتھ سویرا

سُر ساتھ سویرا ایک مارننگ شو ہے جو ایکسپریس انٹرٹینمینٹ چینل سے ہر پیر سے جمعہ تک صبح 9 سے 11 بجے تک ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے۔ دیگر مارننگ شوز کے مقابلے میں یہ کافی مختلف ہے۔دوسرے مارننگ شوز میں سوائے شادی اور جادو ٹونے کے اور کوئی موضوع نہیں ہوتا۔ فضول قسم کی بے ہودہ گفتگو اور گلیمر سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سُر ساتھ سویرا میں سادگی ہے اور ہلکا پھلکا طنز و مزاح ہے۔ ہر پروگرام میں کسی خاص موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے اور مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔  اس پروگرام کی میزبان دعا ملک ہیں۔ ان کے علاوہ دو کمیڈینز برکت علی اور عزمی بھی اس پروگرام میں اپنے فن کے ذریعے پروگرام میں بوریت پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ پروگرام کے دوران فیس بک کے ذریعے براہ راست شرکت بھی کی جا سکتی ہے۔ پروگرام کے فیس بک پیچ پر پروگرام کے دوران جو کمنٹس کی جاتی ہیں انھیں پروگرام میں لائیو چلایا جاتا ہے۔ تاہم یہ قسمت کی بات ہے کہ آپ کی رائے پروگرام میں شامل ہوتی ہے یا نہیں۔


جمعرات 27 مارچ 2014ء کو پروگرام کا موضوع "تو تڑاق، طلاق اور پھر" تھا۔ اس پروگرام میں میں نے پروگرام کے فیس بک پیج پر جو کومنٹ کیا اس کا اسکرین شاٹ پیش ہے۔



 اگرچہ میں اس سے پہلے بھی پروگرام کے فیس بک پیج پر کومنٹ کر کے قسمت آزمائی کر چکا تھا مگر کامیابی نہیں ملی۔ خوش قسمتی سے اس پروگرام میں میرے کومنٹ کو انھوں نے پروگرام میں شامل کیا اور پروگرام کے دوران دو دفعہ اسے چلایا گیا۔ اس کی اسکرین شاٹ پیش ہے۔



نیٹ پر تھوڑی سی تلاش کے بعد اس پروگرام کی مکمل ویڈیو بھی مل گئی جسے میں نے ڈاؤن لوڈ کر کے اس میں سے مطلوبہ پورشن کو کاٹ کر اپلوڈ کیا ہے جو پیش خدمت ہے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ :-)





سب کا بھلا سب کی خیر

میں اور ممتاز مفتی ایک بار ایک ایسے سفر پر گئے جب ہمیں ایک صحرا سے گذرنا پڑا ۔ ہمیں وہاں  ایک بڑی مشکل ہو گئی ۔ نہ پانی تھا نہ کھانے کو کچھ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ممتاز مفتی مجھے کوسنے لگا اور میں ان سے کہنے لگا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ یہ راستہ اختیار نہ کرو بہر حال ہم چلتے گئے  اور اس جانب چلے  جہاں دور ایک جھونپڑی دکھائی پڑتی تھی ۔ ہم تھکے ہارے اس جھونپڑی میں پہنچے  تو وہاں ایک سندھی ٹوپی پہنے کندھوں پر شال پہنے ایک بڑی عمر کے شخص بیٹھے تھے ۔ ان کی خستہ حالی تو ہم پر عیاں  ہو رہی تھی مگر ان میں ایک عجیب طرح کا اعتماد تھا ۔ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ دبا دبا کے گلے ملے ۔ کنستر سے پانی کا لوٹا بھرا ہمارے منہ ہاتھ دھلائے ۔ ان کی جھونپڑی میں ایک صف سے بچھی تھی ۔ اس پر ہمیں ایسے بٹھایا کہ جیسے ہمارا انتظار کر رہے ہوں ۔ ہم نے ان سےکہا: بڑے میاں آپ اس بیابان میں کیسے رہ رہے ہیں؟
وہ بولے:کیا خدا نے اپنی مخلوق سے رزق کا وعدہ نہیں کر رکھا؟
ہم نے یک زبان ہو کرکہا: ہاں کر رکھا ہے۔

ہم نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟
وہ کہنے لگےکہ ا  س کے خیال میں اس کا ذریعہ معاش دوسرا آدمی ہے۔
میں ہر نماز کے وقت اٹھتے بیٹھتے اپنے پروردگار سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب مجھے کبھی اس کیفیت میں نہ رکھنا کہ میں اکیلا کسی وقت کھانا کھاؤں ۔ آپ مجھ پر اپنی رحمت کرنا اور جب بھی کھانے کا وقت ہو تو دوسرا تیرا بندہ بھی ہو جس کے ساتھ بیٹھ کر میں کھانا کھاؤں۔
 اس نے بتایا کہ اسے یاد نہیں پڑتا  کہ کبھی اس نے اکیلا کھانا کھایا ہو ۔ کھانے کے وقت کوئی نہ کوئی انسان ضرور آ جاتا ہے ۔ آج کھانے کا وقت نکلا جا رہا تھا اور میں پریشان تھا کہ آج میں اکیلا کھانا کیسے کھاؤں گا ۔ اس نے دو تین سوکھی سی روٹیاں نکالیں گھڑے کا پانی لایا  اور کھانا شروع کر دیا ۔ میں نے ممتاز مفتی کو کہنی ماری کہ اپنا سودا نکالو۔
ہم نے چلتے وقت  بُھنے  ہوئے چنے رکھ  لیے تھے ۔ کہ وہ بوقت ضرورت کام آئیں ۔ اس نے روٹیاں نکالیں ۔ ہم نے چنے نکالے  اور سب نے مزے سے باتیں کرتے ہوئے کھانا کھایا ۔
خواتین و حضرات ! آپ یقین کریں کہ اس کھانے میں ایک روٹی بچ گئی ۔ اور ہمارے چنے بھی کافی سارے بچ گئے ۔ اور ہم سیر شکم ہو گئے ۔ اس شخص نے بتایا کہ یہاں سے شہر زیادہ دور نہیں ہے ۔ چند کوس کے فاصلے پر ہے ۔ یہاں سے اونٹ چرانے والوں کے قافلے گذرتے ہیں  آپ ان کے ساتھ چلے جائیے گا ۔ ہم نے اپنے باقی چنے وہیں چھوڑ دیے اور قافلے کے ساتھ شہر پہنچ گئے ۔
بچو ! یہ بھی دعا تھی ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی دوسرے کے رزق کے باعث اس شخص کو بھی کھانا میسر ہوتا ہو ۔ ممتاز مفتی مجھ سے کہنے لگا کہ یہ شخص بڑا سیانا ہے کسی کے لیے دعا مانگتا ہے اور کھانا خود مزے سے کھاتا ہے ۔  ہم صرف اپنے لیے ہی دعا کرتے ہیں اور پھر بھی بھوکے مرتے ہیں ۔

اشفاق احمد

چڑیا رانی (بچوں کی نظم)

ایک پیاری سی چڑیا کی پیاری سی متحرک (اینی میٹڈ) نظم جو "کام ، کام اور کام" کے مقولے پر یقین رکھتی ہے۔  :-)

ہر وقت کام کرنے کی اسی دُھن کی وجہ سے اس نظم میں چڑیا کو "پرندوں کی رانی" کا خطاب دیا گیا ہے۔


نظم کے بول پیش خدمت ہیں۔۔۔

چڑیا رانی چڑیا رانی
تم پرندوں کی ہو رانی
صبح سویرے اٹھ جاتی ہو
نہ جانے کیا گاتی ہو
کیا تم بھی پڑھنے جاتی ہو؟
یا نوکری کرنے جاتی ہو؟

شام سے پہلے آتی ہو
بچوں کا دانہ لاتی ہو
بھر بھر چونچ کھلاتی دانہ
چوں چوں چہکتی گاتی گانا
چڑیا رانی چڑیا رانی
تم پرندوں کی ہو رانی




<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.