کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

ایک تو ویسے ہی بم دھماکوں میں ہماری جانیں جا رہی ہیں. اوپر سے ہم نے یہ "تو گستاخ! نہیں تو گستاخ!" کا نیا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے. کوئی نہیں ہے جو اس خونی کھیل کو آگے بڑھ کر روکے. علماء کرام کو اپنی جانوں کے لالے پڑے ہیں. اسی لیے کوئی صاحب جنت کی حسین و جمیل حوروں کے دلکش نقوش بیان کرنے میں مصروف ہیں تو کوئی صاحب "ایک چُپ سو سُکھ اور خاموشی کے فضائل" بتانے میں مشغول ہیں.

آج جب کہ سرزمینِ پاکستان میں ایک طرف خوارج خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف چند نام نہاد عاشقانِ رسول دین کے ٹھیکیدار بن کر ایک دوسرے کو گستاخ قرار دے کر اسلام کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں، ہمارے علماء کرام لمبی تانے سو رہے ہیں۔ اے اللہ کے بندو! اٹھو! کچھ بولو اور کچھ کرو! اب نہیں کچھ کرو گے تو کب کرو گے؟ کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

مقدس مقامات اور سیلفی جنون

اسلام امن اور باہمی رواداری کا مذہب ہےاور ہر رنگ، نسل اور عقیدےکے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اسلام میں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ۔ اسلام کی نظر میں سب انسان برابر اسلام امن اور باہمی رواداری کا مذہب ہےاور ہر رنگ، نسل اور عقیدےکے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اسلام میں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ۔ اسلام کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے یعنی اسلام کی نظر میں صرف وہی شخص عزت اور مرتبہ میں بڑا ہے جو خالص اللہ کی عبادت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری رسول مانتے ہوئے ان کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال میں اسلام پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور ہر رنگ، نسل اور زبان کے لوگ اس میں شامل ہیں اور اسلام کے مرکز حجاز مقدس کے سفر کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور زندگی کی سب سے بڑی خواہش سمجھتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ سفر ہفتوں ، مہینوں یا شاید سالوں پر محیط ہوتا تھا مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر نہایت آسان اور مختصر ہوچکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان زائرین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو اس مقدس مقام کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔

مذہبی رسومات آج بھی اسی طرح انجام دی جا رہی ہیں جس طرح پہلے انجام دی جاتی تھیں۔ ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فونز نے بلاشبہ زائرین کواس سفر میں کئی طرح کی آسانیاں بہم پہنچائی ہیں مگر موجودہ زمانے کے سب سے مشہور فیشن "سیلفیاں" لینےنے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ حجاز مقدس کے متبرک مقامات پر اپنی تصویریں اُتارنے کا "جنون" اب معمول کی بات بنتی جا رہی ہے بلکہ کسی وبائی مرض کی طرح تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔

سیلفی لینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص باور کروا سکے کہ وہ اس مقام پر موجود تھا۔ یہ "مرض" زائرین میں شاید کسی حج سے شروع ہوا تھا مگر اب شاید ہر مقام پراس مرض میں مبتلا مریض دیکھے جا سکتے ہیں۔زائرین کی ایک بڑ ی تعداد اب طوافِ کعبہ کے دوران رُک رُک کر سیلفیاں لیتے دیکھی جا سکتی ہے یہاں تک کہ کئی لوگوں کو کعبہ کے گرد گھومتے ہوئے ویڈیو بناتے اور براہِ راست ویڈیو کال کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔یہ عمل ٹھیک ہے یا غلط اور اس عمل سے زائر کی عبادت متاثر ہوتی ہے یا نہیں، یہ ایک علیحدہ بحث ہےلیکن اس بات سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ اس عمل سے دوسرے زائرین کی عبادات لازمی متاثر ہوتی ہیں یا کم از کم ان کی توجہ ضرور بھٹکتی ہے۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب اسمارٹ فونز یاکیمرے والے موبائل فونز کا وجود نہیں تھا اور حرم شریف کے اندر کیمرہ لے جانا ممنوع تھا۔ حرم شریف کے باہر صحن میں ضرور لوگ چھپ کر چپکے سے تصاویر اُتار لیا کرتے تھے مگر اگر کسی سیکورٹی والے کی نظر پڑ جاتی تھی تو ان کے کیمرے ضبط کر لیے جاتے تھے یا انھیں تنبیہ کر کے چھوڑ دیا جاتا تھا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ "سیلفی جنون" کی وجہ سے نہ صرف طوافِ کعبہ کی روانی متاثر ہوتی ہےبلکہ سیلفی لینے والے کے اچانک رُک جانے کی وجہ سےپیچھے آنے والے زائرین ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں یا انھیں راستہ بدل کر گزرنا پڑتا ہے۔ اس طرح اس عمل سے ناصرف سیلفی لینے والے کی توجہ متاثر ہوتی ہے بلکہ دوسرے زائرین کی عبادت کا بھی خشوع و خضوع رخصت ہو جاتا ہے۔

سیلفیاں لینے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ یہ "بے ضرر" عمل صرف اس زیارت کو محفوظ اور یادگار بنانے کے لیے انجام دیتے ہیں تاکہ واپس جا کر اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ شیئر کر سکیں مگروہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اس عمل سے دوسرے زائرین کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ مقدس مقامات میں ویسے ہی لوگوں کا رش ہوتا ہےاور پھر جب کوئی شخص طواف یا سعی کے دوران سیلفی لینے کے لیے اچانک رُک جاتا ہے تو پیچھے آنے والے افراد کو بھی رُکنا پڑ جاتا ہے اور اس طرح لوگوں کی آمدورفت کی روانی متاثر ہوتی ہے۔بعض لوگ اخلاقیات سے اس قدر عاری ہوتے ہیں کہ گزرنے والے شخص کو ہاتھ سے روک کر اس کا رخ دوسری جانب موڑ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے سیلفی لینے کے"بے ضرر" عمل کو خشوع و خضوع سے انجام دے سکیں۔ یوں بھی سیلفی لینے سے پس منظر میں گزرنے والے غیر محرم خواتین و حضرات بھی تصویر کا حصہ بن جاتے ہیں جو کہ سراسر غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ 

سیلفیاں لینے والے لوگوں کو خود سوچنا چاہیئے کہ کہیں ان کا یہ عمل کسی دوسرے کی عبادت تو متاثر نہیں کر رہا ؟ اگر سیلفی لینا اتنا ہی ضروری ہے تو کم از کم کسی ایسے مقام پر کھڑے ہوکر سیلفی لیں جہاں لوگوں کا رش کم ہو اور ان کے اس عمل سے کسی دوسرے کو کسی قسم کی دشواری یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 
  

ہمارا معیار اور لوگ

لوگوں کو اپنے معیار پر جانچنے سے سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا کیونکہ قدرتی طور پر ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔



شارٹ کٹ

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی بھی گزارتے رہیں، دنیا کے بھرپور مزے بھی لیتے رہیں، دنیاوی مفاد کے لیے حرام کو حلال بھی کرتے رہیں اور اس کی "تلافی" کے لیے ساتھ ہی ساتھ تھوڑی بہت نفل عبادات کا سہارا لیتے رہیں تو انھیں جنّت کا ٹکٹ ترجیحی بنیادوں پر مل جائے گا، وہ درحقیقت احمقوں کی جنّت میں رہتے ہیں!

جنّت محض تسبیح کے دانے گھماتے رہنے اور نفل نمازیں پڑھتے رہنے سے نہیں ملے گی بلکہ پوری زندگی میں پیش آنے والی آزمائشوں پر خنداپیشانی سے پورا اُترنے اور اپنے نفس کو مکمل طور پر اللہ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق ڈھالنے سے ملے گی.

جنّت میں پہنچنے کا کوئی شارٹ کٹ یا آسان راستہ نہیں ہے!

برکت کیا ہے؟

برکت کو بیان نہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی ٹینشن کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔

اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وه دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وه کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ ره جاتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وه تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔

برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔ وه اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں  (مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیره) نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔

برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔

یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیاده اور نتیجہ خیز کام کر سكيں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔

کم کھانا، زیاده افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیاده آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔

یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’اسپيشل انعام‘‘ ہے.

برکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔

بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی ساده لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔

(منقول )

طبیب بندر کی عجیب کہانی

جنگل کے جانوروں نے سوچا کہ ہم میں سے بھی کسی کو طبیب (ڈاکٹر) ہونا چاہیئے۔ مشورہ کرنے کے بعد بندر کو طب (میڈیکل) کی تعلیم حاصل کرنے بھیج دیا گیا۔ بندر جب واپس آیا تو لومڑی بیمار ہوگئی۔ بندرکو اس کا علاج کرنے بلایا گیا۔ چنانچہ وہ آیا اور درختوں کی ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگانے لگا۔ تین چار شاخیں ٹاپنے تک لومڑی مر گئی۔

سب بولے: "ڈاکٹر صاحب! مریضہ تو مر گئی!"

بندر نے جواب دیا: ’’دیکھئے!بھاگ دوڑ تو میں نے بہت کی مگر شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔‘‘

🙈🙉🙊

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء کا کردار

زید حامد کی کئی باتوں سے اختلاف کے باوجود اس کے اس مطالبہ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی کہ تبلیغی جماعت اور خصوصاً مولانا طارق جمیل صاحب کو واشگاف انداز میں اور openly ٹی ٹی پی (طالبان) کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے اور ان سے اظہار لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے. جس طرح جنید جمشید کے معاملے میں انھوں نے اظہارِ لاتعلقی ظاہر کیا تھا.

مولانا طارق جمیل صاحب کے بہت سارے فالوورز ہیں  خصوصاً نوجوان نسل ان سے بہت متاثر ہے اور ان کے بیانات بہت ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں. نوجوانوں کو مذہب کی طرف راغب کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے. چنانچہ ان جیسے علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس فکری کنفیوژن سے بھی نکالیں کہ تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر "اسلام" کے نام پر جو دہشت گردانہ کاروائیاں ہو رہی ہیں اور معصوم و بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دینِ اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں اور اس قسم کے حملوں میں استعمال ہونے والے کم عمر خودکش حملہ آور ہرگز ہرگز شہادت کا مرتبہ نہیں پار ہے بلکہ حرام موت مر رہے ہیں.

یہ صحیح ہے کہ تبلیغی جماعت ایک غیر سیاسی جماعت ہے مگر یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے سیاسی معاملہ قرار دے کر ٹالا اور نظر انداز کیا جاتا رہے کیونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے.

اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کس طرح کم عمر اور کچے ذہنوں کو گمراہ کر کے اور ان کی برین واشنگ کر کے خودکش حملوں کو متاثرکن اور  glorify  کر کے اور انھیں جنت اور حوروں کا لالچ دے کر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے بھیجا جاتا ہے.

  اگر مان بھی لیا جائے کہ ہمارے علماء اس قسم کی کوئی برین واشنگ نہیں کرتے بلکہ دہشت گرد ہمیشہ کی طرح عالمی سازش کے تحت بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے تربیت لے کر ایسا کام کرتے ہیں پھر بھی علماء کا فرض بنتا ہے کہ اس کے تدارک کے لیے اگر عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی تقریروں اور بیانات میں تو اس کی مذمت کریں.

تبلیغ کے لیے وقت نکالنا ، نماز و روزہ کی تلقین اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احیاء بہت ضروری کام ہے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن موجودہ صورتحال میں یہ بھی بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کے معاملہ پر چپ نہ رہا جائے اور عوام خصوصاً نوجوانوں کی کاؤنٹر برین واشنگ (دماغ سازی) کی جائے تاکہ کچے ذہن ان گمراہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بے وقوف نہ بنیں جنھوں نے جنت کا حصول اتنا آسان بنا دیا ہے کہ خودکش جیکٹ پہن کر کسی بھی اسکول اور کالج میں گھس جاؤ اور معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے آخر میں خود کو بھی بم سے اُڑا لو!

علماء میں یہ اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ بار بار بلکہ ہر بار دہشت گردی کی سختی کے ساتھ مذمت کریں اور اس عمل کو اسلام کی صریحاً خلاف وردی قرار دیں. صرف فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اکیلے اس ناسور کا خاتمہ نہیں کر سکتے.

تحریر : شعیب سعید شوبی

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.