ابّو آگئے

نورا: ابّو ابّو دیکھیں! عمّی اور قادری مجھے کھیلنے نہیں دے رہے.
عمّی: ابّو نورے کو بولیں مجھے بھی کھلائے.
قادری: ابّو میرے کو بھی کھیلنا ہے.
راحیل صاحب: بس بچو! شور مت کرو! آپ کے ابو اب آگئے ہیں نا!
نورا، عمّی اور قادری: ابووّو آ گئےےےےے! ابووّو آ گئےےےے!

*******

خوبصورت الفاظ کی تلاش

خوبصورت الفاظ بھی ایک خوبرو دوشیزہ کی طرح ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے آنے والے ترسے ہوئے مرد کو خوب نخرے دکھاتے ہیں. عشق کے کئی امتحان لیتے ہیں.ان کے لیے کئی اداس تنہا جنگل اور منہ زور دریا عبور کرنے پڑتے ہیں. جس نے ان کے نخرے برداشت کر لیے وہ سکندر ٹھہرا، وگرنہ یہ الفاظ بھی زندگی کی طرح مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں. ان کی تلاش کا سفر بھی اس وقت ختم ہوتا ہے جب زندگی خود اپنے انجام کو پہنچتی ہے. مرنا بذات خود ایک تجربہ ہے، چاہے آخری ہی سہی. دیکھتے ہیں کہ لفظوں اور زندگی کی یہ تلاش کب تک جاری رہتی ہے؟
رؤف کلاسرا کی کتاب "آخر کیوں" سے اقتباس

رمضان اور ہمارا نفس

چلتے ہوئے پنکھے کو بند کر دینے سے پنکھا فوراً بند نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ سست ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ رک جاتا ہے.

اسی طرح سال کے گیارہ ماہ شیطان کی کمپنی میں انجوائے کرنے کے بعد جب رمضان میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے تو ہمارا نفس شیطان کی کمپنی کو مِس کرتا ہے اور اس عارضی جدائی کا غم غلط کرنے کے لیے ہمیں رمضان میں بھی گناہوں اور معصیت کے کاموں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے.

رمضان کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ رمضان کے اس تربیتی پروگرام کو رمضان کے بعد بھی فالو کرتے رہیں تاکہ اگلے برس جب رمضان آئے تو ہمارا نفس اتنا تربیت یافتہ ہو چکا ہو کہ وہ پنکھے کی طرح گناہوں سے نہ رکے بلکہ بلب کی طرح فیوز ہو کر فوراً گناہوں سے رک جایا کرے. (انشاءاللہ)

پاؤں نہیں سر

جلال الدین ملک شاہ سلجوقی نے عمر خیام کو لکھا.....

"میرے پاؤں میں موچ آ گئی ہے اور میں کوئی کام نہیں کر سکتا. اُمورِ سلطنت رُک گئے ہیں. برائے مہربانی کسی اچھے سے طبیب کا پتہ بتائیے."

عمر خیام نے بادشاہ کو خط میں جواب لکھا....

''ظلّ ِ الٰہی! آپ اُمورِ سلطنت سے نمٹنے کے لیے اپنا پاؤں نہیں سر استعمال کریں."

************************************************

ہم زندگی میں مختلف حیلے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس فلاں ڈگری ہوتی تو آج ہم کامیاب انسان ہوتے. اگر کسی کی سفارش ہوتی تو ہم بھی کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہوتے. اگر کسی امیر ماں باپ کے گھر پیدا ہوتے تو ہمیں زندگی میں اتنی جدوجہد نہیں کرنی پڑتی. وغیرہ وغیرہ

بے شک ہر انسان ایک سا نہیں ہوتا. ہر ایک انسان کو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ صلاحیتوں، حالات، شخصیت، وسائل یہاں تک کہ الگ الگ مقدر سے نوازا ہے. مگر اللہ نے ہر انسان کو اتنی عقل اور سمجھ ضرور عطا فرما دی ہے کہ وہ اپنے حال اور مستقبل کی بہتری کے لیے خود سے فیصلے کر سکے اور پھر ان پر درست خطوط میں عمل درآمد کر سکے. ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی معذوری یا وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بجائے ہم اپنے دماغ کا استعمال کریں اور اپنے دستیاب وسائل و حالات کے اندر رہتے ہوئے کوشش کرتے رہیں. اللہ بھی انھی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرنا جانتے ہوں.

شعیب سعید شوبی

میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

ہر کسی سے کرب کا اظہار ، میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اِک بڑا احسان ہے لوگوں کے سَر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار میں روزے سے ہوں

میں نے ہر "فائل" کی دُمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

اے میری بیوی مرے رَستے سے کچھ کترا کے چل
اے میرے بچو! ذرا ہشیار میں روزے سے ہوں

شام کو میں آپ کے گھر آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کر لیں ، دوست، رشتہ دار میں روزے سے ہوں

(سیّد ضمیر جعفری)

فضائل رمضان

ماہِ رمضان جب قریب آیا
آپ نے یہ زباں سے فرمایا

ہے مہینہ یہ برکتوں والا
ربّ عالم کی نعمتوں والا

وہ توجہ سے دیکھتے ہیں تمھیں
رحمتوں کا نزول کرتے ہیں

درگزر کر کے سب خطاؤں کو
ہر دعا کو قبول کرتے ہیں

وہ تنافس کو دیکھتے بھی ہیں
اور ملائک سے فخر کرتے ہیں

یعنی اک شان ِ کبریائی سے
وہ تمھارا بھی ذکر کرتے ہیں

تم بھی نیکی خدا کو دکھلاؤ
نُور اس کا جہاں میں پھیلاؤ

رحمتوں سے جو اس مہینے کی
عظمتوں سے جو اس مہینے کی

ہائے محروم رہ گیا جو شخص
کس قدر بدنصیب ہے وہ شخص

(حدیث کا منظوم ترجمہ)
از ریحانہ تبسم فاضلی (روشنی کے سلسلے)

بندر کے ہاتھ میں استرا

روزانہ کی بنیاد پر ایک سے بڑھ کر ایک فتنہ منظر عام پر آرہا ہے۔ ہر روز ایک نیا واقعہ رونما ہوتا ہے اور اسلام کی تضحیک کا باعث بنتا ہے۔ اسلام کی اصل تعلیمات اور دین کا اصل چہرہ لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ نئی سے نئی بدعت اور فتنے اسلام کے نام پر منظر عام پر آرہے ہیں۔ لوگ کنفیوژن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں کہ کیا چیز دین میں جائز ہے اور کیا چیز ناجائز؟  مخالفین کو  اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کا موقع ہم اپنے ہاتھوں سے دے رہے ہیں اور اس کے سدّباب کے لیے ہماری جانب سے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ گویا سب کسی نجات دہندہ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ بندروں کے ہاتھ میں استرا دیں گے تو یہی کچھ تماشا ہوگا۔ عامر لیاقت جیسے لوگ "مذہبی اسکالر" بن جائیں گے۔ ماڈلز اور اداکارائیں رمضان کی "ایمان افروز" نشریات کریں گی۔ امجد صابری جیسے بھانڈ اور گویے مارننگ شوز میں کھی کھی کر کے خوبرو فی میل اینکرز سے باتیں بھی کریں گے اور بعد میں جعلی شادیوں میں گستاخانہ الفاظ پر مبنی "منقبتیں" پیش کر کے ہمارے ایمان میں حسب توفیق اضافہ بھی کریں گے۔ مزاروں میں مخلوط "دھمال" ڈالے جائیں گے۔ بجلی والے بابے بجلی کے جھٹکے مار مار کر ہمیں سلوک کی منازل طے کروائیں گے۔ جعلی پیر ہمارے "جن" اتاریں گے اور تعویزات سے ہمارے محبوبوں کو ہمارے قدموں میں نچھاور کروائیں گے۔

میری ناقص عقل میں یہی وجہ نظر آتی ہے کہ یہ سب بے جا آزادی دیے جانے کے ششکے ہیں۔ خدا کی قسم سعودی وہابی ہم سے لاکھ درجہ بہتر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے پردہ فرمانے سے قبل ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ پچھلی امتوں کی طرح میرے بعد میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لینا۔ خدانخواستہ۔۔۔۔۔ خدانخواستہ۔۔۔۔۔ اگر پاکستانیوں کے ہاتھ میں مکہ مدینہ کا انتظام و اقتدار ہوتا تو حقیقت میں ہم نے ایسا ہی کرنا تھا۔

اللہ کریم ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا کرے اور ہم اسلام کو مزید بدنام کرنے سے باز آجائیں۔ آمین

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.