جگنو (متحرک اُردو نظم)

کسی کو وہ گرم موسم کی راتیں یاد ہیں جب کھیت ، کھلیانوں اور باغات میں رات کے اندھیرے کو جگنو اپنی روشنی سےدور ،کیا کرتے تھے؟ جگنو وہ خوبصورت، پر اسرار اور جادوئی کیڑا ہے جسے تلاش کرنے اور پکڑنے کی بچپن میں کوششیں کی جاتی تھیں۔ یہ قدرت کی وہ انوکھی تخلیق ہے جو قدرتی طور پر اپنی روشنی خود پیدا کرتی ہے۔

 بدقسمتی سے یہ جگنو پوری دنیا میں آہستہ آہستہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ متحرک اُردو نظم ان خوبصورت حشرات الارض کو یاد رکھنے اور ان کی حفاظت کرنے کے پیغام کو عام کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ اُمید ہے پسند آئے گی۔

Facebook:
Jugnu (Firefly) - (Urdu Poem for Kids) - جگنو
Remember watching fireflies light up your yard on hot summer nights? Fireflies are beautiful, mysterious, and magical—and for many of us, catching and spotting them is an important part of summer. Fireflies is the animal that naturally generates its own light. Unfortunately, fireflies are disappearing all over the world. This Urdu Poem is a little initiative to remember & help protect this mysterious & magical insect. #Jugnu #Firefly #Fireflies #UrduPoem #جگنو Shobi TV features Cartoon Animations, Stories, Rhymes & Poems mainly in Urdu Language. Please Like & Share!
Posted by Shobi TV on Thursday, 15 October 2015



Dailymotion:





YouTube:






نظم کا متن

گھاس میں چمکے جو تارا سا
اور پکڑیں تو ہاتھ نہ آئے

اگلے پل میں انگارا سا
جلتا بجھتا اُڑ جائے

اب پودوں کی شاخ پہ بیٹھے
اور پیاری سی آگ جلائے

تاریکی کو چمکا دے
لیکن فوراََ ہی بجھ جائے

یہ جگنو  ، یہ جان ننھی سی
کس کے لیے یوں باغ میں آئے

کس سےکھیلے آنکھ مچولی 
کس کو بلا کر خود چھپ جائے
  

اتفاق میں برکت ہے (اردو کہانی)

بچوں کے لیے ایک بوڑھے کسان کی سبق آموز آڈیو ویڈیو کلاسیکل کہانی جس نے اپنے تین بیٹوں کی نااتفاقی کو دور کرنے کے لیے ایک انوکھی ترکیب آزمائی اور کامیاب رہا۔ 

اگرچہ زیادہ پزیرائی کی امید نہیں بہرحال ہم سے جتنا ہو سکے گا ہم انٹرنیٹ پر بچوں کے لیے اردو میں زیادہ سے زیادہ مواد تیار کرکے اپنے حصہ کی روشنی جلاتے رہیں گے۔ انشاءاللہ!


ڈیلی موشن:




یوٹیوب:




عاجزانہ گزارش: کم سے کم شیئر ہی کر دیا کریں!

تنقید برائے تنقید

مجھے لگتا ہے ہم میں ہر کوئی ایک مخصوص گروہ یا دائرے کے اندر رہنا پسند کرتا ہے اور اس سے باہر نکلنا اپنی انا کے خلاف سمجھتا ہے۔ ہر گروہ کی اول تو یہ دعا یا خواہش رہتی ہے کہ کوئی ایسا واقعہ اس کے مخالف گروہ کے خلاف رونما ہو جائے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ خوشی سے بغلیں بجائے اور بے جا تنقید کا ننگا ناچ شروع کر دے۔ اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مخالف گروہ کو اس واقعہ کی آڑ میں پوری طرح زچ کر دے۔ بعض لوگ اپنی اس کوشش میں اپنی نفسانی خواہشات سے مجبور ہو کر مخالف فرد کی ذاتیات پر اُتر آتے ہیں اور اس کی ماں بہن ایک کر دیتے ہیں۔

کچھ دن بعد واقعہ پرانا ہو جاتا ہے۔ اس دوران مخالف گروہ انتقام کی آگ میں سلگتا رہتا ہے اور اب مخالف گروہ بڑی بے چینی سے ایسے واقعہ کا انتظار کرنے لگتا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی انا کے کرچی کرچی ہونے کا بدلہ لے سکے اور وہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔

لاجک، اخلاقیات اور دانشوری کا اس تنقید میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اب ہمیں ماننا پڑے گا کہ تنقید برائے تنقید کا یہ کھیل ہم سب اپنی انا اور نفسانی خواہشات اور اپنے اپنے گروہوں کی بقا کے لیے کھیلتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر تنقید برائے تنقید کے رجحان کے پیشِ نظر لکھا گیا۔

کچھوا اور خرگوش (بچوں کی کہانی)

بچوں کے لیے ایک مغرور خرگوش کی کلاسیکی کہانی جو ایک سست رفتار خرگوش کا مزاق اڑایا کرتا تھا۔ انٹرنیٹ پر اردو زبان میں بچوں کی آڈیو ویڈیو کہانیوں کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے ناچیز کی ایک چھوٹی سی کاوش۔ میرا خیال ہے کہ اردو زبان میں ایسی چیزوں کا بہت زیادہ اضافہ ہونا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ شیئر فرما کر ثواب ِ دارین حاصل کیجئے۔ :P


ڈیلی موشن




یوٹیوب


>



یوم دفاع پاکستان (اینی میشن)

یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے کل ایک چھوٹی سی اینی میشن (متحرک فلم) بنانے کی کوشش کی تھی جو کل بلاگ پر پیش نہیں کر سکا۔ آج اسے اپنے بلاگ پر پوسٹ کر رہا ہوں۔ اُمید ہے پسند آئے گی۔ 

پس منظر کی موسیقی: ایئر وولف تھیم ایکسٹینڈڈ

ڈیلی موشن:




یوٹیوب:


آپ کی آراء کا انتظار رہے گا!۔۔۔۔شکریہ

مچھلی کا بچہ (بچوں کی متحرک نظم)

کافی دنوں بعد بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی دلچسپ اور آسانی سے یاد ہو جانے والی متحرک نظم حاضر خدمت ہے۔ اس نظم کا متن بھی ساتھ پیش ہے۔ اُمید ہے پسند آئے گی۔ براہ کرم اگر اپنی رائے دینے کا وقت نہ ملے تو کم از کم اس نظم کو سماجی ویب سائٹس پر ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچ سکے۔ شکریہ۔


نظم کا متن
 مچھلی کا بچہ

انڈے سے نکلا

پانی میں پھسلا

ابو نے پکڑا

امی نے کاٹا

باجی نے پکایا

سب نے کھایا

بڑا مزا آیا

ڈیلی موشن
 


یو ٹیوب



بچوں کی ایسی مزید نظموں کے لیے میری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
 

شوہر برائے فروخت

بازار میں ایک نئی دکان کھلی ،جہاں شوہر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام بازار کی طرف چل پڑا ۔ سبھی  خواتین دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں۔ دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا ۔

"اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے "

پھر نیچے ہدایات دی گئی تھیں ۔۔

 اس دکان کی چھ منزلیں ہیں۔ ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا۔ جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی ،شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور اگر اس منزل پر کوئی پسند نہ آئے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے ۔مگر ایک بار اوپر جانےکے بعد پھر سے نیچے نہیں آ سکتی سوائے باہر نکل جانے کے۔

ایک خوبصورت لڑکی کو  دکان میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا ۔
"اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں اور الله والے ہیں"

لڑکی آگے بڑھ گئی۔دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔
"اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں اور بچوں کو پسند کرتے ہیں"

لڑکی پھر آگے بڑھ گئی۔تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا ۔
" اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں"
یہ پڑھ کر لڑکی کچھ دیر کے لئے رک گئی ‘ مگر پھریہ سوچ کر کہ چلو ایک منزل اور اوپر جا کر دیکھتے ہیں۔

وہ اوپر چلی گئی۔چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھا
” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ خوبصورت ہیں اور گھر کےکاموں میں مدد بھی کرتے ہیں “

یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ‘ کیا ایسے بھی مردہیں دنیا میں ؟ وہ سوچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور گھر چلی جائے ، مگر اس کا دل نہ مانا اور وہ ایک منزل اوراوپر چل دی۔ وہاں دروازہ پر لکھا تھا ۔

" اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ بیحد خوبصورت ہیں ‘ گھر کےکاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں "

اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے – وہ سوچنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتاہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا اور وہ آخری منزل پر چلی آئی۔ یہاں بورڈ پر لکھا تھا.

" آپ اس منزل پر آنے والی 3338 ویں خاتوں ہیں – اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے – یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے"

ہمارے سٹور پر آنے کا شکریہ! ۔۔۔۔۔ یہ سیڑھیاں باہر کی طرف جاتی ہیں۔


(وٹس ایپ پر موصول ہوا)

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.