مچھلی کا بچہ (بچوں کی متحرک نظم)

کافی دنوں بعد بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی دلچسپ اور آسانی سے یاد ہو جانے والی متحرک نظم حاضر خدمت ہے۔ اس نظم کا متن بھی ساتھ پیش ہے۔ اُمید ہے پسند آئے گی۔ براہ کرم اگر اپنی رائے دینے کا وقت نہ ملے تو کم از کم اس نظم کو سماجی ویب سائٹس پر ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچ سکے۔ شکریہ۔


نظم کا متن
 مچھلی کا بچہ

انڈے سے نکلا

پانی میں پھسلا

ابو نے پکڑا

امی نے کاٹا

باجی نے پکایا

سب نے کھایا

بڑا مزا آیا

ڈیلی موشن
 


یو ٹیوب



بچوں کی ایسی مزید نظموں کے لیے میری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
 

شوہر برائے فروخت

بازار میں ایک نئی دکان کھلی ،جہاں شوہر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام بازار کی طرف چل پڑا ۔ سبھی  خواتین دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں۔ دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا ۔

"اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے "

پھر نیچے ہدایات دی گئی تھیں ۔۔

 اس دکان کی چھ منزلیں ہیں۔ ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا۔ جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی ،شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا ۔خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور اگر اس منزل پر کوئی پسند نہ آئے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے ۔مگر ایک بار اوپر جانےکے بعد پھر سے نیچے نہیں آ سکتی سوائے باہر نکل جانے کے۔

ایک خوبصورت لڑکی کو  دکان میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا ۔
"اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں اور الله والے ہیں"

لڑکی آگے بڑھ گئی۔دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔
"اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں اور بچوں کو پسند کرتے ہیں"

لڑکی پھر آگے بڑھ گئی۔تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا ۔
" اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں"
یہ پڑھ کر لڑکی کچھ دیر کے لئے رک گئی ‘ مگر پھریہ سوچ کر کہ چلو ایک منزل اور اوپر جا کر دیکھتے ہیں۔

وہ اوپر چلی گئی۔چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھا
” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ خوبصورت ہیں اور گھر کےکاموں میں مدد بھی کرتے ہیں “

یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ‘ کیا ایسے بھی مردہیں دنیا میں ؟ وہ سوچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور گھر چلی جائے ، مگر اس کا دل نہ مانا اور وہ ایک منزل اوراوپر چل دی۔ وہاں دروازہ پر لکھا تھا ۔

" اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ بیحد خوبصورت ہیں ‘ گھر کےکاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں "

اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے – وہ سوچنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتاہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا اور وہ آخری منزل پر چلی آئی۔ یہاں بورڈ پر لکھا تھا.

" آپ اس منزل پر آنے والی 3338 ویں خاتوں ہیں – اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے – یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے"

ہمارے سٹور پر آنے کا شکریہ! ۔۔۔۔۔ یہ سیڑھیاں باہر کی طرف جاتی ہیں۔


(وٹس ایپ پر موصول ہوا)

جازا سے کارٹون بنانا سیکھیں

ایڈوبی فلیش پر آج کل مجھےکارٹون اینی میشن سیکھنے کا بہت شوق ہے اور میں زیادہ سے زیادہ کارٹون اینیمیشن سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔

اسی کوشش کے دوران یوٹیوب پر ایک چینل دریافت کیا ہے جس کا نام ہے۔۔۔۔
یہ ایک آسٹریلین نوجوان کا یوٹیوب چینل ہے جس میں وہ ویڈیو ٹیوٹوریلز کی مدد سے فلیش میں کارٹون بنانا سکھاتے ہیں۔ میں نے بہت سے ٹیوٹوریلز دیکھے ہیں مگر کارٹون اسمارٹ کے بعد اس نوجوان کے ٹیوٹوریلز سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ مجھ سے کئی لوگ کارٹون بنانا سکھانے کا کہتے ہیں حالانکہ میں ایک پروفیشنل اینیمیٹر نہیں ہوں اور خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔  ایک پروفیشنل اینی میٹر ہی بہتر طور پر آپ کو کارٹون اینی میشن سکھا سکتا ہے۔

اس یوٹیوب چینل کو آپ سبسکرائب کر کے بہترین اور پروفیشنل لیول پر کارٹون بنانا سیکھ سکتے ہیں۔
 
میرے  بلاگ کے بور ٹیوٹوریلز سے آپ اتنا نہیں سیکھ سکتے جتنا ان ویڈیو ٹیوٹوریلز سے سیکھ سکتے ہیں۔ صرف سیکھنے کا شوق  اور وقت نکالنا ہوگا۔ آزمائش شرط ہے۔۔۔۔!۔ 

ڈاکٹر عبدالکلام بمقابلہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان
سابق بھارتی صدر ڈاکٹر عبدالکلام کی وفات پر بھارتی قوم افسوس و صدمے سے دوچار ہے اور ہر کوئی انھیں اچھے الفاظ میں یاد کر رہا ہے.

آج بھارتیوں کی اپنے سابق صدر سے والہانہ محبت دیکھ کر مجھے ہمارے قابل فخر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت یاد آئے. ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ بلی کا بکرا بنا کر اور ان کی بے عزتی کر کے انھیں سائڈ لائن کر دیا گیا. ان جیسی غیر متنازعہ اور ہر دل عزیز شخصیت کو صدر پاکستان بنانے کے بجائے آصف زرداری جیسے شخص کو ملک کا سب سے بڑا عہدہ دے دیا گیا.

جو قوم اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہے ان کا وہی حشر ہوتا ہے جو آج ہمارا ہے. بھارت اسی لیے ہم سے آگے ہے کیونکہ بھارتی قوم اپنے محسنوں کو ان کی زندگی ہی میں عزت اور اکرام سے نوازتی ہے اور ہم اپنے محسنوں کو مرنے کے بعد یاد کرتے ہیں.

عالمِ برزخ میں فیس بکیوں کا حال

استغفراللہ!۔۔۔۔عالمِ برزخ میں فیس بکیوں کا حال کچھ یوں ہوگا!۔۔۔۔۔مزید کچھ کہنے کی حاجت نہیں!۔۔۔


رائٹ برادران سے رجب علی بیگ سرور تک

ﺻﺎﺣﺒﻮ ! ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮨﯽ ﮐﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﭘﺮ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺮﺭ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ۔ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮨﯽ ﺳﻮﺩﺍؔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮؔ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﭼﮭﭩﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﻮﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮؔ ﺗﮭﮯ، ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻣﯿﺮ ﺩﺭﺩؔ ﺗﮭﮯ، ﺁﺗﺶؔ ﺗﮭﮯ ، ﺳﻮﺯﻭﮔﺪﺍﺯ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺧﺪﺍﺑﮭﻼ ﮐﺮﮮ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮔﻮﺭﺩﯾﺎﻝ ﺳﻨﮕﮫ ﺗﮭﻮﮌٰﯼ ﺳﺎﺋﯿﻨﺲ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺗﺼﻮﺭ ﺍﯾﺼﺎﻝ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﻮﺕﺍﻧﺎﺑﯿﺐ ﺷﻌﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺎﺗﯿﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺎﺭﻥ ﮨﺎﺋﯿﭧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮑﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺟﮭﻮﻡ ﺟﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﻨﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﻻﻧﺎ ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﺴﺌﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮍﻧﺎ، ﻣﯿﻦ ﻣﯿﮑﮫ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﺭﮨﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺧﻼ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻠﻢ ﺍﻟﮑﻼﻡ ﮐﮯ ﺭﻣﻮﺯ ﺗﻮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﺣﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ نہ  ﺑﺘﺎﯾﺎ۔

ﺟﺐ ﮐﭙﻠﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﯿﻠﯿﻮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮕﻠﯽ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔۔ ۔ ﮨﻢ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺟﺐ ﻭﺍﭦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭩﯿﻔﻦ ﺑﮭﺎﭖ ﮐﻮ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔۔ ۔ ﺷﺎﮦ ﻧﺼﯿﺮ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺎﻓﯿﮧ ﺑﻨﺪﮬﻨﮯ ﺳﮯ نہ  ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺟﺐ ﺍﯾﮉﯾﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﮐﻮﻧﯽ ﺑﺮﻕ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﮯ ﺩﯾﻮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﯿﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔۔ ۔ ﮨﻢ ﺷﻌﺮﯼ ﮔﻠﺪﺳﺘﮯ ﻓﺘﻨﮧؔ ﺍﻭﺭ ﻋﻄﺮ ﻓﺘﻨﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﺐ ﺭﺍﺋﭧ ﺑﺮﺍﺩﺭﺍﻥ ﮐﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﮌ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔۔ ﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﺭﺟﺐ ﻋﻠﯽ ﺑﯿﮓ ﺳﺮﻭﺭ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﻃﻮﻃﺎ ﻣﯿﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮨﺮ ﻣﺼﺮﻉ ﺳﮯ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮑﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺱ ﻧﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺑﻨﺎ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺍﺧﺘﺮ ﺷﻨﺎﺱ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺘﺮﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﻟﻨﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﻮﭨﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻻ ﺧﺎﻧﮯ ﻋﻄﺎﺋﯽ ﻣﻌﺎﻟﺠﻮﮞ ، ﮨﺮﮌ ﭘﻮﭘﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺑﺎﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﺒﺎﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﯽ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺟﺎﮔﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﺲ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﯽ ﮨﮯ ، ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﻗﺼﯿﺪﮦ
ﮔﻮ ﻭ ﺳﻮﺧﺖ ﮔﻮ، ﻗﺎﻓﯿﮧ ﭘﯿﻤﺎ، ﻣﻨﺸﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﻗﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺸﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﺟﺎﮦ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻮﭘﺮ ﻧﯿﮑﺲ ، ﻭﺍﭦ ، ﺍﯾﮉﯾﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭﮐﻮﻧﯽ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﯽ ، ﻣﺸﺎﻋﺮﮦ ﺑﺮﭘﺎ ﮐﯿﺎ، ﮔﻠﺪﺳﺘﮧ ﺳﺨﻦ ﻧﮑﺎﻻ، ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻧﺌﮯ ﻓﺮﻗﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺌﮯ ، ﻣﻘﻠﺪ ﻭ ﻏﯿﺮ ﻣﻘﻠﺪ ﮐﯽ ﺑﺤﺜﯿﮟ ﭼﻠﯿﮟ ، ﺁﻣﯿﻦ ﺑﺎﻟﺠﮩﺮ ﭘﺮ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺋﮯ ، ﺫﺑﯿﺤﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺋﺖ ﮨﻼﻝ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺳﻔﯿﻨﮧ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻟﮕﺎ۔

ﺍﯾﻤﺴﭩﺮﮈﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﻟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮈﭘﺎﺭﭨﻤﻨﭩﻞ ﺍﺳﭩﻮﺭ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮉﮮ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺸﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﮈﻝ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﮯ ﮐﮧ ﭘﺴﭩﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﺌﯿﺮ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺍﺑﺮ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ، ﮨﻮﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔۔۔ ۔۔ﯾﮩﯽ ﺍﻟﺘﺰﺍﻡ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺭﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﯾﺎﺭﻭ ! ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﻗﺼﮯ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔ ﻓﺎﺭﺱ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ، ﺟﺎﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺭ ﻣﻨﯿﺮ ﮐﻮ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺭﻭﺅ ﮔﮯ؟

ﻣﯿﺮ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺯﺭﯼ ﮐﺎ ﻧﮧ ﮐﺮ ﮔﻠﮧ ﻏﺎﻓﻞ
ﺭﮐﮫ ﺗﺴﻠﯽ ﮐﮧ ﯾﻮﮞ ﻣﻘﺪﺭ ﺗﮭﺎ

ﮐﺐ ﺗﮏ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﺌﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﮐﻮﺭﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ؟ ﺳﮑﻨﺪﺭﺗﻮ ﺟﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﺐ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ، ﺗﻢ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻮ۔ ﻏﺎﻟﺐ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﻓﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟﺁﺋﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺣﻠﻘﮧ ﺩﺍﻡ ﺧﯿﺎﻝ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﺍﺱ ﺷﺎﻋﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﺌﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﺭﯾﮧ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﻟﻮﮒ ﺟﯿﭧ ﮨﻮﺍﺋﯽ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻭﯾﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﮮ ﺻﺎﺣﺒﻮ ! ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﻣﺼﺎﺣﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻧﺎﺅ ﻧﻮﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﻣﺠﺮﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺎﻋﺮﮮ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ، ﮐﭽﮫ ﻏﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﭽﮫ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺻﺪﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺌﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ 1947 ﮐﮯ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩ ﺳﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ، ﺳﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﮨﻢ 1857 ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﺟﻮ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺭﻗﻢ ﮐﺌﮯ ﺟﺐ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﺭﺍﺝ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻧﺼﻒ ﺍﻟﻨﮩﺎﺭ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﮨﻢ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺩﺳﺖ ﻭ ﺑﺎﺯﻭ ﺑﮭﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺫﮨﻦ ﮐﯽ ﺟﻮﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﮎ ﺫﺭﺍ یہ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺯ ﮔﺪﺍﺯ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﺪﺕ ﺍﻟﻮﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺍﻋﺎۃ ﺍﻟﻨﻈﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺭﻭیت ﮨﻼﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺒﺎﺣﺚ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ-----!-

ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻧﺎﻣﮧ " ﺁﻭﺍﺭﮦ ﮔﺮﺩ ﮐﯽ ﮈﺍﺋﺮﯼ " ﺳﮯ ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ

سچے اور کھرے لوگ

منافق، جھوٹے ، بدعنوان ، دوغلے اور غاصب لوگوں کی اس دنیا میں، بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی آئینے کی طرح شفاف ہے. جن کے چہروں پر ریاکاری کا میل نہیں ہے. جو جھوٹی شان اور رعونت کے پیچھے نہیں بھاگتے.

ایسے لوگ جب دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو دل سے آواز آتی ہے:

"سچے اور کھرے لوگ اتنی جلدی کیوں مر جاتے ہیں؟"

*******

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.