ایک آرزو

ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﮐﺘﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺭﺏ
ﮐﯿﺎ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺑﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ

ﺷﻮﺭﺵ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﮞ ، ﺩﻝ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺍﯾﺴﺎ ﺳﮑﻮﺕ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﺑﮭﯽ ﻓﺪﺍ ﮨﻮ
ﻣﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﭘﺮ ، ﯾﮧ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ
ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﮦ ﮐﮯ ﺍﮎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ﮨﻮ
ﺁﺯﺍﺩ ﻓﮑﺮ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ ، ﻋﺰﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻏﻢ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺳﮯ ﮐﺎﻧﭩﺎ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ
ﻟﺬﺕ ﺳﺮﻭﺩ ﮐﯽ ﮨﻮ ﭼﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﭽﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﭼﺸﻤﮯ ﮐﯽ ﺷﻮﺭﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺟﺎ ﺳﺎ ﺑﺞ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﮔﻞ ﮐﯽ ﮐﻠﯽ ﭼﭩﮏ ﮐﺮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺩﮮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ
ﺳﺎﻏﺮ ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﻤﺎ ﮨﻮ
ﮨﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺳﺮﮬﺎﻧﺎ ﺳﺒﺰﮮ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺑﭽﮭﻮﻧﺎ
ﺷﺮﻣﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﻠﻮﺕ ، ﺧﻠﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺩﺍ ﮨﻮ
ﻣﺎﻧﻮﺱ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮨﻮ ﺻﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﻠﺒﻞ
ﻧﻨﮭﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮭﭩﮑﺎ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﺍ ﮨﻮ
ﺻﻒ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﻮﭨﮯ ﮨﺮﮮ ﮨﺮﮮ ﮨﻮﮞ
ﻧﺪﯼ ﮐﺎ ﺻﺎﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻟﮯ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﮨﻮ ﺩﻝ ﻓﺮﯾﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﺴﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﺭﮦ
ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺝ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮫ ﺍﭨﮫ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮ
ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺳﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺳﺒﺰﮦ
ﭘﮭﺮ ﭘﮭﺮ ﮐﮯ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﭼﻤﮏ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ
ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺟﮭﮏ ﺟﮭﮏ ﮐﮯ ﮔﻞ ﮐﯽ ﭨﮩﻨﯽ
ﺟﯿﺴﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮ
ﻣﮩﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺟﺐ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﺩﻟﮭﻦ ﮐﻮ
ﺳﺮﺧﯽ ﻟﯿﮯ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﮨﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﻗﺒﺎ ﮨﻮ
ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﮭﮏ ﮐﮯ ﺟﺲ ﺩﻡ
ﺍﻣﯿﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮨﻮ
ﺑﺠﻠﯽ ﭼﻤﮏ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﭩﯿﺎ ﻣﺮﯼ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﮮ
ﺟﺐ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﭘﮧ ﮨﺮ ﺳﻮ ﺑﺎﺩﻝ ﮔﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ
ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﮩﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﻞ ، ﻭﮦ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﻣﺆﺫﻥ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺍ ﮨﻮﮞ ، ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﻢ ﻧﻮﺍ ﮨﻮ
ﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﮨﻮ ﻧﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﯾﺮ ﻭﺣﺮﻡ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﮞ
ﺭﻭﺯﻥ ﮨﯽ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﮐﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺳﺤﺮ ﻧﻤﺎ ﮨﻮ
ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ ﺟﺲ ﺩﻡ ﺷﺒﻨﻢ ﻭﺿﻮ ﮐﺮﺍﻧﮯ
ﺭﻭﻧﺎ ﻣﺮﺍ ﻭﺿﻮ ﮨﻮ ، ﻧﺎﻟﮧ ﻣﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﮨﻮ
ﺍﺱ ﺧﺎﻣﺸﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻧﺎﻟﮯ
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﺩﺭﺍ ﮨﻮ
ﮨﺮ ﺩﺭﺩﻣﻨﺪ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺭﻭﻧﺎ ﻣﺮﺍ ﺭﻻ ﺩﮮ
ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﺟﻮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ، ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺟﮕﺎ ﺩﮮ
ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻗﺒﺎﻝ

اُردو میں بچوں کی تعلیمی موبائل ایپ

انٹرنیٹ  پر بچوں کے لیے اُردو زبان میں کارٹون، کہانیوں اور نظموں کی تلاش کی جائے تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک باراس پُرمشقت تلاش کے بعد جب بمشکل چند گنتی کی چیزیں سامنے آئیں تو یہ مایوس کن حقیقت سامنے آئی کہ اس ضمن میں ابھی تک سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ جب کہ انٹرنیٹ کے اس دور میں اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ اردو زبان کی میراث کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیےجدید ذرائع کو بروئے کار لایا جائے اوراینی میٹڈ کارٹونز یا متحرک تصویری اورصوتی اثرات سے مزین اردو کہانیوں اور نظموں  کے ذریعے بچوں میں اردو زبان سیکھنے کے لیے دلچسپی پیدا کی جا ئے تاکہ اردو زبان کو انٹرنیٹ پر اس کاجائز مقام مل سکے۔

اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ایک ویب سائٹ کی بنیاد ڈالی۔اس ویب سائٹ میں بچوں کے لیے اردو زبان میں مختلف ویڈیوز اپلوڈ کی جاتی ہیں۔اس ویب سائٹ میں موجود تمام مواد مفت دستیاب ہے ۔ بچوں کی کہانیاں اور نظمیں پڑھنا کسے نہیں پسند؟ اس ویب سائٹ میں انھی کہانیوں اور نظموں کو آواز اور تصویر کے دلچسپ آہنگ کے ساتھ ویڈیوز کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ تفریح سے بھرپور یہ ملٹی میڈیا ویڈیوز بچوں کو اردو حروف اور الفاظ سے خصوصی اور اردو زبان سے عمومی طور پر روشناس کرانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ویب سائٹ پر اردو زبان میں مختلف گیمز یا مشقیں بھی موجود ہیں جن سے بچے کھیل کے ساتھ ساتھ سیکھ بھی سکتے ہیں۔

آج کل اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا دور ہے۔زیادہ سے زیادہ لوگ اب انٹرنیٹ تک رسائی ان چھوٹی چھوٹی ڈیوائسز کے ذریعےکرتے ہیں۔ اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں اسمارٹ فونز کے مقبول پلیٹ فارم اینڈرائیڈ کے لیے ایک ایپ تخلیق کی گئی ہے،جس کی مدد سے اب اس ویب سائٹ پر موجود تما م ویڈیوز اینڈرائیڈ موبائل پر بھی باآسانی  دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ موبائل ایپ بھی بالکل مفت دستیاب ہے۔

یہ ایک متحرک اور فعال ویب سائٹ ہے ، چنانچہ اس ویب سائٹ میں آپ بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ آپ بھی بچوں کی کوئی دلچسپ کہانی، نظم یا کارٹون اسٹوری شیئر کر سکتے ہیں جو اگر دلچسپ ہوئی تو اسے آواز اور متحرک تصاویر کے امتزاج کے ساتھ ویب سائٹ پر شائع کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹ پر شامل ہوتے ہی وہ خودکار طریقے سے اینڈرئیڈ ایپ میں بھی شامل ہو جاتی ہے اور اس کا نوٹیفیکیشن اسی وقت آپ کے موبائل میں موصول ہوجاتا ہے۔ آپ اگر اچھی آواز کے مالک ہیں تو اپنی آواز میں کوئی نظم یا کہانی ریکارڈ کر کے بھیج سکتے ہیں۔ براہِ کرم اس ضمن میں ضرور رابطہ کریں تاکہ ہم اُردو زبان کی میراث کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر سکیں!

اس ویب سائٹ کا ایڈریس یہ ہے:

www.shobi.co.nr

شوبی ٹی وی - مفت اینڈرئیڈ ایپ کا حصول

شوبی ٹی وی مفت اینڈرئیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یا اس کے متعلق مزید معلومات کے لیے اس ربط پر کلک کریں۔ اس ایپ کو اپنے اینڈرئیڈ موبائل پر ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کرنے کے بعد اپنی قیمتی آراء یا تبصروں سے ضرور آگاہ فرمائیں۔۔۔شکریہ!۔۔۔

ملّا دو پیازہ کے لطیفے

ایک بچے نے ملّا دو پیازہ سے پوچھا: جناب ایک بات تو بتائیں کہ انڈے میں سے چوزہ کیسے نکل آتا ہے؟
ملّا دو پیازہ جواباً بولے: میاں، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انڈے کے اندر چوزہ گھس کیسے جاتا ہے؟

******
ملّا دو پیازہ کی بیگم نے ایک روز کہا: آج ہماری شادی کو خیر سے دس برس ہوگئے. کیا ہی اچھا ہو کہ ایک بکرے کا صدقہ کر دیا جائے.
ملّا دو پیازہ جواباً بولے: چلو میں تو قصوروار ہوں کہ تم سے شادی کر کے سزا بھگت رہا ہوں لیکن بھلا بے چارے بکرے نے کیا کیا ہے کہ وہ بلاوجہ اپنی جان سے جائے؟

*******
ایک روز لوگوں نے دیکھا کہ ملّا دو پیازہ سڑک پر دوڑے چلے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے ایک شخص دوڑ رہا ہے اور کہتا جا رہا ہے: بس ایک اور سن لیجئیے.
ایک شخص نے ملا جی کو روک کر پوچھا: کیا معاملہ ہے ملا جی! وہ شخص آپ کو کیا سنانا چاہتا ہے؟
ملّا دو پیازہ جواباً بولے: ارے بھائی! وہ شاعر ہے اور آخری شعر، آخری شعر کہہ کر اب تک بیس غزلیں سنا چکا ہے.
( ملّا دو پیازہ اور بیربل کے لطیفے سے لیے گئے)

تضاد

سگنل پر جب گاڑی روکی
ننھے روفی نے پوچھا
ابو! آخر ایسا کیوں ہے؟
بازو والی لمبی کار میں دو بیٹھے ہیں
اور اپنی سوزوکی پِک اَپ میں
ہم ہیں بارہ لوگ
بیٹا! تم کو کیا سمجھاؤں؟
جب تم میرے اتنے ہوگے
فرق سمجھ میں آ جائے گا!

(محسن بھوپالی)

سُننے والے کہاں ہیں؟

ہمارے بیشتر مسائل صرف اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم دوسروں کی بات کو توجہ سے نہیں سنتے. انھیں وہ جذباتی گرمجوشی یا سہارا مہیا نہیں کرتے جو دل و دماغ کی صحت کے لیے ضروری ہے. مسائل کا حل تو بعد کی بات ہے، آدھی پریشانیاں تو صرف اپنے جذبات دوسروں سے بانٹ کر یا شیئر کر کے ہی دور ہو جاتی ہیں.

چنانچہ بات سننے کی عادت ڈالیں. دوسروں کی تنہائیوں میں شریک ہوں. اپنے پیاروں کو جذباتی اور اُلفت بھری آکسیجن پہنچائیں.اگر کسی فرد کی بات کو غور سے سن کر، اُسے ہمت و حوصلہ دے کر، آپ اس میں جینے کی اُمنگ اور گرمی بیدار کرتے ہیں تو اس عمل سے پیدا ہونے والے احساس سے آپ کے اپنے اعصاب بھی سکون حاصل کرتے ہیں.

(مسرت جبیں)

ابّو آگئے

نورا: ابّو ابّو دیکھیں! عمّی اور قادری مجھے کھیلنے نہیں دے رہے.
عمّی: ابّو نورے کو بولیں مجھے بھی کھلائے.
قادری: ابّو میرے کو بھی کھیلنا ہے.
راحیل صاحب: بس بچو! شور مت کرو! آپ کے ابو اب آگئے ہیں نا!
نورا، عمّی اور قادری: ابووّو آ گئےےےےے! ابووّو آ گئےےےے!

*******

خوبصورت الفاظ کی تلاش

خوبصورت الفاظ بھی ایک خوبرو دوشیزہ کی طرح ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے آنے والے ترسے ہوئے مرد کو خوب نخرے دکھاتے ہیں. عشق کے کئی امتحان لیتے ہیں.ان کے لیے کئی اداس تنہا جنگل اور منہ زور دریا عبور کرنے پڑتے ہیں. جس نے ان کے نخرے برداشت کر لیے وہ سکندر ٹھہرا، وگرنہ یہ الفاظ بھی زندگی کی طرح مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں. ان کی تلاش کا سفر بھی اس وقت ختم ہوتا ہے جب زندگی خود اپنے انجام کو پہنچتی ہے. مرنا بذات خود ایک تجربہ ہے، چاہے آخری ہی سہی. دیکھتے ہیں کہ لفظوں اور زندگی کی یہ تلاش کب تک جاری رہتی ہے؟
رؤف کلاسرا کی کتاب "آخر کیوں" سے اقتباس

<<< پچھلا صفحہ اگلا صفحہ >>>

صفحات

Shoaib Saeed Shobi. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.